علی گڑھ یونیورسٹی اور جناح

سرسید احمد خان وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو سب سے پہلے ایک الگ قوم قرار دیا۔ لہٰذا بجا طور پر انھیں دو قومی نظریے کا بانی کہا جا سکتا ہے۔سرسید نے قوم کی فکری آبیاری کے لئے محض لفظوں کا ہی سہارا نہیں لیا بلکہ عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روشناس کرانے کے لئے 1857 میںعلی گڑھ سکول کی بنیاد رکھی۔ جسے 1875 میں کالج اور 1920میں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ وہ تعلیمی معیار کے حوالے سے اس ادارے کو آکسفورڈ اورکیمبرج کے خطوط پر استوار کرنا چاہتے تھے جس کا انھوں نے اپنے دورہ انگلستان میں تفصیلی جائزہ لیا تھا اور ان جامعات کا دورہ ہی دراصل علی گڑھ یونیورسٹی کے لئے تحریک کا باعث بنا۔ سرسید کی علمی خدمات کو نہ صرف مسلمان بلکہ ہندوؤں اور انگریزوں میں بھی پذیرائی حاصل ہوئی اور گاندھی نے تو سر سید کو''تعلیم کاپیغمبر'' قرار دیا۔اپنے قیام کے ابتدائی سالوں میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ انگریز، ہندو اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے زعماء نے بھی یونیورسٹی کو عطیات فراہم کئے۔ سرسید کی علی گڑھ تحریک ہی پاکستان کی تحریک کی بنیاد بنی۔ کیونکہ آئندہ برسوں میں مسلمانانِ برصغیر کو قیادت کی فراہمی اوران میں شعور کی بیداری کے لئے یہ ایک عظیم ادارہ ثابت ہوا۔ اس عہد میں مسلم لیگ کی بیشتر قیادت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباء کے ہاتھ میں ہی تھی۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان، پاکستانی سینیٹ کے پہلے چیئرمین خان حبیب اللہ خان مروت،سابق صدر پاکستان فضل الٰہی چودھری،سابق صدر جنرل ایوب خان، گورنر جنرل ملک غلام محمد اور گورنر جنرل او رپھر وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے خواجہ ناظم الدین سمیت برصغیر کی بہت سی نامی گرامی مسلم شخصیات نے یہیں سے تعلیم حاصل کی۔یہ یونیورسٹی سیاسی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہی۔سب سے پہلے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء نے قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے برصغیر کے طول و عرض میں لیگ کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔ قائد اعظم نے متعدد بار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا دورہ کیا کیونکہ یہ ادارہ تحریک پاکستان کا مرکز بن چکا تھا۔وہ اس یونیورسٹی کو اپنا سیاسی اسلحہ خانہ سمجھتے تھے۔صرف علی گڑھ ہی ایک ایسا شہر تھا جہاں قائد اعظم خاص طور پر طلباء سے خطاب کرنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے سب سے بڑے شہرعلی گڑھ میں واقع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی برصغیر میں اپنے مسلم تشخص کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے جہاں آج بھی پچھتر فیصد طلباء مسلمان ہیں۔ اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کم و بیش تیس ہزار طلباء زیرتعلیم ہیں اور اساتذہ کی تعداد لگ بھگ دوہزار ہے۔

 

تعلیمی ادارے یوں تو تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز ہوتے ہیں لیکن بھارت کی انتہا پسند حکومت'ہندوتوا'(Hindutva) کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس سے بھارت کی اقلیتوں پر تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیںاور تشدد کے ان واقعات نے اب تعلیمی اداروں کا رخ کر لیا ہے۔بی جے پی کے ایک مقامی رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم کی جانب سے یونیورسٹی کے طلباء یونین ہال میں لگی بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کی تصویر پر اعتراض اور اس کو وہاں سے ہٹانے کے مطالبے نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیا ہے۔سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں 'جناح فری اے ایم یو ' نامی ایک ہیش ٹیگ بھی دیکھا جارہا ہے اور خودستیش گوتم نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے اس کے متعلق اخباروں میں شائع خبریں اور ٹی وی فوٹیج پوسٹ کی ہیں۔تصویر کے خلاف ہندو احیا پسند تنظیموں ہندو جاگرن منچ، ہندو یووا واہنی اور بی جے پی کی طلباء شاخ اے بی وی پی کے کارکنوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گھسنے کی کوشش کی۔ان شرپسندوں نے محمد علی جناح اور یونیورسٹی کے وائس چانسلرکے پتلے نذر آتش کئے اور ان کے خلاف نعرے لگائے۔ان اشتعال انگیز نعروں میں 'اے ایم یو کے غداروں کو جوتے مارو'، بھارت میں جناح کا یہ سمّان (احترام) نہیں چلے گااور'بھارت میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہو گا'جیسے نعرے بھی شامل تھے۔جب یونیورسٹی کے طلباء نے واقعے کے خلاف احتجاج کیا تو پولیس نے ان کے خلاف لاٹھی چارج کیااور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد اب یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان کی تصویر کو لے کر ایک نیا تنازعہ پید اہو گیا ہے۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے مطابق راشٹریہ سیوک سَنگھ نے یونیورسٹی میں کیمپ لگانے کے لئے رجوع کیا تھا جسے مسترد کر دیاگیا اور یہ سارا تنازع اس کے بعد شروع ہواہے۔ اس سے بی جے پی کی گھٹیا طرز سیاست کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔یو پی کے ایک مسلمان سیاستدان اعظم خان کا کہنا ہے کہ آرایس ایس کا رویہ طالبان جیسا ہے جو بھارتی آئین کی عملداری پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا ایجنڈا انسان دشمن ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر طارق منصور نے کہا ہے کہ بمبئی ہائی کورٹ اور سابر متی آشرم سمیت کئی جگہوں پر جناح کی تصویر لگی ہے اور اب تک کسی کو ان تصویروں سے پریشانی نہیں ہوئی۔ یونیورسٹی میںجناح کی تصویر اس لئے لگی ہوئی ہے کیونکہ جناح یونیورسٹی کی طلبا یونین کے لائف ممبر تھے۔انھوں نے محمدعلی جناح کی تصویر کو لے کر کھڑے ہوئے تنازعے کو بے کار کا مدعا بتایا ہے۔ یونیورسٹی میں جناح کی تصویر 1938 سے لگی ہے۔ یہ تصویر (Kenny Hall)کی دیوار پر لگی تھی جو کیمپس کی بہت باوقار جگہ سمجھی جاتی ہے۔یکم مئی کو یہ تصویر غائب کر دی گئی۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ بی جے پی کے کسی متعصب کارکن کی کارستانی تھی۔یونیورسٹی کی یونین نے اب تک 35بڑے رہنماؤں کو لائف ممبر شپ دی ہے۔ جن میں مہاتما گاندھی، دلائی لاما، خان عبدالغفار خان، سروجنی نائیڈو، کماری امرت کور، برطانوی مصنف ای ایم فاسٹر، مولانا آزاد، سی وی رمن، وی وی گری، سی راج گوپال اچاریہ، جواہر لال نہرو، جمال عبدالناصر،بدرالدین طیب جی، جے پرکاش نارائن، کلدیپ نیئر، مدرٹریساوغیرہ شامل ہیں۔ان تمام شخصیات کی تصاویر یونیورسٹی کے ہال میں آویزاں ہیں۔ تعصب کی انتہا یہ ہے کہ اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لفظ مسلم ہٹانے کی تیاری ہے۔بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق سنٹرل یونیورسٹیوں کا آڈٹ کرنے والی ایک ٹیم نے مرکزی حکومت کو سفارشات دی ہیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے لفظ مسلم ہٹا دیا جائے تاکہ یونیورسٹی کا سیکولر کردار قائم کیا جاسکے حالانکہ رپورٹ نے یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی۔ چونکہ یہ معاملہ فی الحال بھارتی سپریم کورٹ میں بھی زیر غور ہے اس لئے اس سلسلے میں کوئی سفارشات بھی نہیں دی جاسکتیں۔ اس طرح کی اوچھی حرکتیں ہندوتوا کے ایجنڈے پر عمل پیرا مودی حکومت کی منشا کو ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت اے ایم یو پر سے مسلمانوں کا اثرو رسوخ پوری طرح ختم کرادے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلباء یونین کے سابق صدر زیڈ کے فیضان کے مطابق ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شرپسندوں کا ہد ف رہی ہے لیکن ملک میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد اس میں شدت آگئی ہے۔

 بھارت میں کسی بھی ایسے واقعے پر جس میں بھارت مخالف جذبات آتے ہوں، ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی کچھ اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی والے واقعے کے سلسلے میں کیا جارہا ہے۔ بھارت میں ''کشمیر بنے گا پاکستان'' کے بعد اب ''علی گڑھ یونیورسٹی بنے گی پاکستان''کے نعروں پر ماتم برپا ہے۔یہ کہنا بجا ہو گا کہ بی جے پی حکومت نے بھارت کے سیکولرازم اور نام نہاد جمہوریت کے چہرے سے نقاب اتار دیا ہے اور اگر یہی پالیسیاں جاری رہیں تو وہ وقت دور نہیں جب تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بھارت میں ایک اور پاکستان کی راہ ہموار ہو جائے۔

 

آج بھارت میں مسلمانوں کی تعداد بیس کروڑ کے لگ بھگ ہے لیکن بھارت کے حکومتی معاملات میں ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی ان کی عددی قوت کے اعتبار سے نہ ہونے کے برابر ہے۔ یو پی جہاں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے حالیہ انتخابات میں بی جے پی نے کسی مسلمان امیدوار کو وہاں ٹکٹ نہیں دیا۔ جبکہ پاکستان میں ہندو کمیونٹی محض پچیس لاکھ ہے لیکن پاکستان کے ایوان بالا میں تین سینیٹرز، ایوان زیریں میں سات ہندو ایم این اے اور صوبائی اسمبلیوں میں سے پنجاب اسمبلی میں ایک،کے پی اسمبلی میں ایک، بلوچستان اسمبلی میں ایک جبکہ سندھ اسمبلی میں نو ہندو ایم پی اے موجود ہیں۔اسی طرح متعدد ہندو پاکستان کے اعلیٰ اور نچلے درجے کے عہدوں پر بھی تعینات ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کو کس قدر ترجیح دیتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بی جے پی کی زیر سرپرستی بھارت میں اقلیتوں پرتشددکے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔چند ماہ قبل انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ راتھ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے کئے جانے والے جنگی جرائم کا دفاع کرنے پر بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کو مجرمانہ سوچ رکھنے والا شخص قرار دیا تھا۔ اس وقت پاکستان اور انڈونیشیا کے بعد سب سے زیادہ مسلمان آبادی بھارت میں ہے جو وہاں کی کل آبادی کا چودہ فیصد سے زائد ہے لیکن مودی حکومت کی ہندوتوا کے فروغ کی پالیسیوں کی بدولت بھارتی مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہیں۔بہت سے مسلمانوں کو نام نہاد ''گھر واپسی'' پروگرام کے تحت مختلف حیلے بہانوں اور ریاستی مشینری کے استعمال سے دوبارہ ہندو بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے بصورت دیگر ان کی شہریت ختم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔آسام میں تو یہ ایک معمول بن چکا ہے۔امریکی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق 2014 کے بعد سے ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں اور دلت ذات کے ہندوؤں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات میں انتہائی اضافہ ہوا ہے۔یو ایس کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCRIF)،جس کی رپورٹ کو یو ایس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سرکاری طور پر جاری کرتا ہے، کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم، ان کے سماجی بائیکاٹ اور زبردستی ان کے مذہب کی تبدیلی جیسے واقعات میں اضافہ ہورہاہے۔امریکی رپورٹ کے مطابق ''گھر واپسی'' پروگرام کے تحت مذہب تبدیل کرانے کے لئے طاقت کا استعمال، فراڈ یا ترغیب قابل تعزیر جرم نہیںہے۔دوسری طرف گاؤ کشی کے الزامات کے تحت مسلمانوں پر تشدد اور ان کا قتل معمول بن چکا ہے۔

 

بھارت میں ہندو تنظیمیں اس سے قبل دہلی کے جے این یو، حیدر آباد یونیورسٹی اور دہلی کے رامجس کالج کو نشانہ بنا چکی ہیں۔بھارتی حکومت کے متعصبانہ رویوں کی وجہ سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے بعد اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی بھارت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں نعرے لگ رہے ہیں جس نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔یہ ہندوؤں کا وتیرہ بن چکا ہے کہ کبھی وہ شاہ رخ کو پاکستان چلے جانے کا کہتے ہیں اور کبھی عامر خان کو، یہاں تک کہ مہیش بھٹ کو بھی نہیں بخشتے۔ بھارت میں کسی بھی ایسے واقعے پر جس میں بھارت مخالف جذبات آتے ہوں، ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی کچھ اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی والے واقعے کے سلسلے میں کیا جارہا ہے۔ بھارت میں ''کشمیر بنے گا پاکستان'' کے بعد اب ''علی گڑھ یونیورسٹی بنے گی پاکستان''کے نعروں پر ماتم برپا ہے۔یہ کہنا بجا ہو گا کہ بی جے پی حکومت نے بھارت کے سیکولرازم اور نام نہاد جمہوریت کے چہرے سے نقاب اتار دیا ہے اور اگر یہی پالیسیاں جاری رہیں تو وہ وقت دور نہیں جب تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بھارت میں ایک اور پاکستان کی راہ ہموار ہو جائے۔ جبکہ بہت سی بھارتی ریاستوں میں پہلے ہی آزادی کی تحریکیں زوروں پر ہیں۔ اس تناظر میں پاکستانی ریاست کے تمام سٹیک ہولڈرز کو آپس میں الجھنے کے بجائے لازوال اتحاد کا مظاہرہ کرنے اور بھارت کے خلاف مؤثر سفارتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میںپاکستانی میڈیا کوبھی اپنا بھر پور اور مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP