سیرت النبیۖ کے نمایاں پہلو

ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے لکھا گیا خصوصی مضمون

مکی زندگی

ایک لمحہ تصور کریں کہ جب معاشرے کی تمام اکائیاں باطل پر عمل پیرا ہوں۔ ناجائز امور کے سر انجام دینے میں حدود کو پھلانگا جارہا ہو۔ اخلاقیات کا گراف اس حد تک گرچکا ہو کہ بدکاری پر فخر ہونے لگے۔ قتل و غارت روز کا معمول ہو۔ ڈاکہ زنی شیوہ بن چکا ہو۔ جب لوگ برائی کو برائی سمجھتے ہی نہ  ہوں، تو ان کے دل و دماغ میں برائی سے نفرت پیدا کرنا اور حق کی صدا بلند کرنا جوئے شیر لانے سے بھی دشوار تر ہے۔ داعی حضرات جانتے ہیں یہی سب سے کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں معاشرے کی مخالفت مول لینی پڑے گی۔ اپنے بیگانے ہو جائیں گے۔ پرائے دشمنی پر کمر بستہ رہیں گے۔ تنقید کی بوچھاڑ تیروں کی مانند ہوگی۔ لوگ گمراہ بھی کہیں گے، دیوانہ اور احمق بھی کہلائو گے۔ جی ہاں! بالکل یہی کچھ ہوا جب اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی حکم نازل کیا: ''اے (محمدۖ) جو کمبل اوڑھے ہوئے ہو، اٹھیے، پس ڈرا یئے اور اپنے رب ہی کی کبریائی بیان کیجئے''۔ (سورة المدثر، ابتدائی آیات)

 

ظلم و شرک سے آلودہ معاشرے میں رسول اللہ ۖ کو اُٹھنے کا حکم ہوا۔ جہالت میں دھنسے ہوئے انسانوں کو راہِ راست پر لانے کی بھاری ذمہ داری آپۖ پر عائد ہوئی۔ توحید الٰہی کا پرچار کرنا گویا کہ سرکشوں کی 'کبریائی' پر ضرب لگانا ہے۔ اس ضرب لگانے کا ردعمل کیا ہوگا؟ آیئے ورقہ بن نوفل کی زبانی سنتے ہیں۔ امام بخاری نے صحیح بخاری میں بدء الوحی کے تحت یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جب سورة العلق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہۖ اضطراب کی کیفیت میں گھر آئے اور کمبل اوڑھ کر لیٹ گئے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو تسلی دی اور اپنے چچا کے بیٹے ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ بن نوفل زمانہ جاہلیت میں عیسائیت اختیار کرچکے تھے۔ آپ عبرانی زبان بھی جانتے تھے،اُس وقت ضعیف اور نابینا تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: ''اے چچا کے بیٹے! ذرا پنے بھتیجے کی بات سننا۔'' ورقہ نے رسول اللہۖ سے کہا: '' اے میرے بھائی کے بیٹے! آپ نے جو دیکھا وہ بتلائیے۔''  اللہ کے رسولۖ نے جو پیش آیا تھا وہ بیان کیا۔ اب ورقہ آپۖ کو مخاطب کرکے کہنے لگا: ''یہ تو وہی ناموس ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر اُتارا تھا۔ کاش! میں جوان ہوتا، کاش! میں اس وقت تک زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ آپۖ نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا: ''کیا یہ لوگ مجھے نکال دیںگے (حالانکہ میں تو ان میں معزز، سچا اور امانت دار معروف ہوں)؟'' ورقہ نے کہا: '' ہاں! ایسا ہی ہوگا کیونکہ جو شخص بھی آپۖ کی طرح حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہوگئے۔ اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ دور مل گیا تو میں ہر طرح سے آپ کی مدد کروں گا۔''

 

سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ ابتدائی تین سال تک اللہ کے رسولۖ نے دعوت کاسلسلہ خفیہ رکھا، یہاں تک کہ سورة الشعراء کی آیت نازل ہوئی: ''اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو (عذاب الٰہی سے) ڈرائو''۔ (الشعرائ: 214) تو رسول اللہۖ مروجہ ابلاغی طریقے کو استعمال میں لاتے ہوئے کوہِ صفا پر چڑھ گئے اور با آوازِ بلند ایک ایک قبیلے کو پکارنے لگے۔ ملکِ عرب کے دستور کے مطابق جب لوگ آ آ کر جمع ہوئے تو اللہ کے رسولۖ نے سب سے پہلے اپنے کردار پر گواہی طلب کی۔ قریش نے یک زبان ہوکر کہا کہ ہم نے کبھی آپ کو جھوٹا نہیں پایا۔ یہ جواب سن کر آپۖ نے فرمایا کہ میں تمہیں سخت عذاب سے ڈراتا ہوں، اللہ پر ایمان لائو تاکہ عذابِ الٰہی سے بچ جائو۔ یہ سنتے ہی قریش پھٹ پڑے۔ ابو لہب نے کہا ، ''تجھ پر ہلاکت ہو، کیا تونے اس لئے ہمیں جمع کیا تھا۔'' گویا کہ حق و باطل میں کشمکش کا آغاز ہوگیا۔ اب مکہ کے اطراف میںعلانیہ طور پر حق کی صدا گونجنے لگی اور ساتھ ہی اہلِ ایمان پر تکالیف و مصائب کا دور شروع ہوا۔ اب حکم آچکا تھا: ''آپ کو جس چیز کا حکم دیا جارہا ہے اسے صاف صاف کہہ دیجئے اور مشرکین کی پروانہ کیجئے''۔ (الحجر: 94)

 

مشرکینِ مکہ اپنے معبودانِ باطلہ کی مخالفت برداشت نہ کرسکے اور کھلم کھلا ٹکرائو کی راہ پر اتر آئے۔ وہ کسی صورت تیار نہ تھے کہ جن معبودوں کی اُن کے آباء صدیوں سے عبادت کرتے آرہے ہیں، انہیں چھوڑ کر صرف ایک اللہ کو پکارا جائے۔ ان کا ضمیر اس بات پر آمادہ نہ ہوا کہ اپنے آباء و اجداد کے گمراہ راستے کو ترک کردیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے آوازِ حق کو دبانے کے لئے محاذ آرائی کے مختلف انداز اختیارکئے۔ صفی الرحمن مبارک پوری نے الرحیق المختوم میں قریش کی ان سرگرمیوں کا نہایت بہترین خاکہ پیش کیا ہے۔ ذیل میں اختصار کے ساتھ ان پر روشنی ڈالتے ہیں۔

 

مشرکین قریش نے اسلامی دعوت کو غیر مؤثر بنانے کے لئے تحقیر اور استہزاء کا انداز اختیار کیا۔ سورة القلم میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس رویے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ''اور جب کفار اس قرآن کو سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ گویا آپ کے قدم اکھاڑ دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ یقینا پاگل ہے''۔ (القلم: 51) جب آپۖ کے پاس کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو موجود پاتے تو انہیں دیکھ کر مشرکین استہزا کرتے ہوئے کہتے: ''اچھا! یہی حضرات ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے!'' (الانعام53:)۔  اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو بددل کرکے ان کے حوصلے پست کردیئے جائیں۔

 

محاذ آرائی کی دوسری صورت یہ تھی کہ آپۖ کی تعلیمات کو مسخ قرار دیتے اور جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے شکوک و شبہات پیدا کرتے، تاکہ کسی کو آپ کی دعوت پر غور وفکر کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الفرقان میں مشرکین کا قول ذکر کرتے ہوئے فرمایا ''یہ محض جھوٹ ہے جسے اس نے گھڑلیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی اعانت کی ہے''۔ (الفرقان4:)

 

قریش نے تیسرا انداز یہ اختیار کیا کہ لوگوں کو قرآن کی تعلیمات سے دور رکھنے کے لئے گزرے ہوئے بادشاہوں کے واقعات اور قصے کہانیوں میں الجھائے رکھتے تھے۔ الرحیق المختوم میں ابن ہشام کے حوالے سے مذکور ہے کہ مشرکین میں سے نضر بن حارث حیرہ گیا اور وہاں کے بادشاہوں کے واقعات اور رستم و اسفند یار کے قصے سیکھے۔ پھر واپس آیا تو جب رسول اللہۖ کسی جگہ بیٹھ کر لوگوں کو واعظ و نصیحت کرتے اور اللہ کی پکڑ سے ڈراتے، تو آپ کے بعد یہ شخص وہاں پہنچ جاتا اور کہتا کہ بخدا! محمدۖ کی باتیں مجھ سے بہتر نہیں۔ یہ فارس کے بادشاہوں اور رستم و اسفندیار کے قصے سناتا اور کہتا کہ آخر کس بنا پر محمدۖ کی بات مجھ سے بہتر ہے۔

 

قریش نے چوتھی صورت یہ اختیار کررکھی تھی کہ وہ کوشش کرتے کہ اسلام اور جاہلیت دونوں بیچ راستے میں ایک دوسرے سے جا ملیں۔ یعنی کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر اپنی بعض باتیں مشرکین چھوڑ دیں اور بعض  باتیں نبیۖ چھوڑ دیں۔ قرآن میں اسی کے متعلق ارشاد ہے: ''وہ چاہتے ہیں کہ آپۖڈھیلے پڑجائیںتو وہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں''۔ (القلم9:)

 

جب ہر چال چلنے کے باوجود مشرکین ناکام ٹھہرے تو انہوں نے جبر و تشدد کا راستہ اپنا لیا۔ نبیۖ اور دور اولین کے مسلمانوں پر اذیت ناک مظالم ڈھائے گئے، لیکن ان کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ ہماری کیفیت یہ ہے کہ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں ان واقعات کو پڑھنے سے وقتی طور پر کانپ اٹھتے ہیں، لیکن ہمارے دلوں میں دائمی درد محسوس نہیں ہوتا۔ کیوںکہ اسلام کے لئے آل یاسر کی طرح تکالیف ہم نے برداشت نہیں کیں۔ بلال کی طرح تپتے صحرا میں ننگے بدن لیٹنے کی اذیت ہم نے نہیں جھیلی۔ عثمان بن عفان کی طرح چٹائی میں لپیٹ کر ہمیں پیٹا نہیں گیا۔ مصعب بن عمیرکی طرح ہم بھوکے ننگے نہیں رہے۔ خباب بن ارت کی طرح ہمارے بال نہیں نوچے گئے اور دہکتے انگاروں پر ہمیں لٹایا نہیں گیا۔ مہاجرین حبشہ کی طرح ہمارے لئے زمین تنگ نہیں کی گئی۔ ہمارا سماجی بائیکاٹ نہیں کیا گیا۔ رسول اللہۖ کی طرح گلے میں چادر ڈال کر ہمیں اینٹھا نہیں گیا۔ ہم پر اونٹ کی اوجھڑی نہیں ڈالی گئی۔ ہم پتھر کھا کھا کر لہو لہان نہیں ہوئے۔

 

ہم بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو جائے پناہ کے طور پر مدینہ کی سرزمین عطا کی۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس مقدس زمین کے عطاہونے سے قبل انہیں کس قدر مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ آزمائش میں مبتلا کئے گئے۔ ان کا کڑا امتحان لیا گیا۔ لیکن وہ ہر موڑ پر کامیاب ٹھہرے۔ جب بندہ آزمائش میںکامیاب ہو جائے تو وہ اپنی منزل پا لیتا ہے۔ وہ رب کے ہاں سرخ رُو رہتا ہے۔ اللہ نے اپنے مخلص بندوں کے لئے آسانی کے دروازے کھول دیے۔ اہل یثرب انصار بن کر وار دہوئے۔ ان سے رہا نہ گیا کہ کب تلک ہم اللہ کے رسولۖ اور صحابہ کرام کو مشرکین مکہ کے ظلم و ستم میں مبتلا دیکھتے رہیں گے۔ بس سمجھ لیں کہ سچی لگن اور تکالیف پر صبر ہی منزل کو قریب تر کرتا ہے۔

 

صحیح بخاری کتاب المناقب میںخباب بن ارت کا واقعہ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ وہ خدمت نبویۖ میں حاضر ہوئے آپ کعبہ کے سائے میں ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ خباب نے مشرکین کے ہاتھوں سختیاں جھیلنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ''کیوں نہ آپ اللہ سے دعا فرمائیں''۔ یہ سن کر آپۖ اٹھ بیٹھے، آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپۖنے فرمایا کہ ''جو لوگ تم سے پہلے تھے ان کے جسموں کے آروں سے دو ٹکڑے کئے گئے، لوہے کی کنگھیاں ان کے گوشت پر ہڈیوں تک پھیری گئیں۔ لیکن یہ سختیاں بھی انہیں دین سے باز نہ رکھتی تھیں''۔ پھر آپۖ نے فرمایا کہ ''اللہ اس امر کو( یعنی دین )کو مکمل کر کے رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک جائے گا اور اسے اللہ کے سواکسی کا خوف نہ ہوگا۔ لیکن تم لوگ جلدی کررہے ہو۔''

سیرت نبویۖ کے اس پہلو کا خلاصہ یہ ہے کہ حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ تکالیف پر صبر کرتے ہوئے لوگوں کی اصلاح کریں۔ ''یقینا یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی۔''  (الذٰریٰت:55)

 

مدنی زندگی

وہ منظر بھی نہایت تعجب خیز تھا جب صحابہ کرام اپنے گھر بار چھوڑ رہے تھے۔ اس لئے نہیں کہ وہ اچھی رہائش گاہ کی تلاش میں تھے۔ انہیں یہ تمنا بھی نہیں تھی کہ نئے شہر میں تجارت کے بہتر ذرائع میسر ہوںگے۔ وہ یہ آرزو بھی نہیں رکھتے تھے کہ لوگ ان کی تعریفیں کریں گے۔ انہیں انصار نے دعوت دی تھی کہ ہمارے دیس میں آئو۔ تم برسوں کے ستائے ہوئے ہو۔ تمہارے رہنے کے لئے مکہ کی کشادہ زمین تنگ کردی گئی۔ ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ تم پر مزید ظلم روا رکھا جائے۔ چلے آؤ ہماری طرف۔ ہم رہنے کے لئے جگہ دیںگے۔ اپنے بال بچوں سے زیادہ تمہاری حفاظت کریںگے۔ تمہارے دفاع میں ہماری تلواریں ہر وقت میانوںسے باہر رہیں گی۔

 

اللہ کے رسولۖ اور صحابہ کرام نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، لیکن مشرکین کو گوارہ نہ ہواکہ مسلمان امن و سکون سے زندگی بسر کریں۔ چنانچہ انہوں نے اب بھی پیچھا نہ چھوڑا۔ ان کے خلاف خفیہ و علانیہ سازشیں شروع کردیں۔ یہود اور منافقین کو مسلمانوں سے جنگ کے لئے ورغلایا۔ صحابہ کرام پر کعبةاللہ کے دروازے بند کردیئے۔ اسی پر بس نہ ہوا بلکہ مسلمانوں کو دھمکایا بھی کہ ''تم مغرورنہ ہونا کہ مکہ سے صاف بچ کر نکل آئے، ہم یثرب ہی پہنچ کر تمہارا

ستیا ناس کر دیتے ہیں''۔

اب مدینہ پر حملے کا اندیشہ رہنے لگا۔ مسلمانوں کے سروں پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے۔ ان حالات میں دفاع سے غافل رہنا خود اپنی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قتال کی اجازت مرحمت فرمادی: ''جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے انہیں بھی جنگ کی اجازت دی جاتی ہے کیوں کہ وہ مظلوم ہیں اور یقینا اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔'' (الحج:39) رسول اللہۖ نے قریش کے تجارتی راستوں پر چھاپہ مار دستوںکے ذریعے کارروائیوں کا آغاز کیا، تاکہ قریش اپنی معیشت کو خطرے میں دیکھتے ہوئے مدینہ پر چڑھائی کے ارادے سے باز رہیں۔ یہ مختصر دستے مدینہ کے اطراف میں روانہ ہوتے رہے بعض جگہوں پر دشمن سے سامنا بھی ہوا، لیکن اب تک فریقین میں سے کسی کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔ دوسری طرف مشرکین کے سینوں میں آگ کے شعلے بھڑکتے رہے۔ وہ دشمنی پر کمر بستہ تھے۔ قریش کی عداوت کا اندازہ کرز بن جابر فہری کی کارروائی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ربیع الاول2 ہجری میں کرز مشرکین کے ایک گروہ کو لے کر مکہ سے چلا اور مدینہ کے قریب پہنچ کر ایک چراگاہ پر حملہ آور ہوا اور یہاں سے مسلمانوں کے کچھ مویشی لوٹ کر بھاگ نکلا۔ رسول للہۖ کو جب اطلاع ملی تو آپۖ نے صحابہ کے ہمراہ اس کاتعاقب کیا اور بدر کے اطراف میں وادی صفوان تک تشریف لے گئے، لیکن دشمن نکل چکا تھا۔ سیرت نگار اس غزوے کو غزوہ صفوان یا بدر اولیٰ بھی کہتے ہیں۔ گویا کہ یہ مشرکین کی طرف سے صاف اور کھلی جنگ کا اعلان تھا۔ اب مسلمانوں کے لئے ضروری ہوگیا تھا کہ وہ مشرکین کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکیں اور اس خطرے کا  سد باب کریں۔

 

سیرت نگاروں کے مطابق قریش کے ساتھ مسلمانوں کا پہلا باقاعدہ معرکہ 17 رمضان 2 ہجری کو بدر کے مقام پر ہوا۔ اس غزوے کا سبب قریش کا ایک تجارتی قافلہ بنا۔ جب رسول اللہۖ کو معلوم ہوا کہ ایک بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں ملک شام سے مکہ جا رہا ہے جو کہ مدینہ کے قریب سے گزر ے گا۔ تو آپۖ نے اس قافلے کے راستے کو روکنا چاہا تاکہ قریش جان لیں کہ اہل مدینہ سے چھیڑ چھاڑ ان کے لئے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن مشرکین کی بربادی کے دن قریب آچکے تھے۔ انہوں نے مکہ میں بڑے مظالم ڈھائے تھے، جنہیں چکانے کا وقت آن پہنچا تھا۔ چنانچہ قریش مکہ کو اطلاع ملی اور وہ قافلے کی حفاظت کے لئے بدر کی طرف چل پڑے۔ وہ مصمم ارادہ کر چکے تھے کہ مسلمانوں کا خاتمہ کر کے رہیں گے۔ لیکن چشم فلک نے کچھ اور ہی منظر دیکھا ۔ آیئے جنگ بدر میں قریش مکہ کی درگت بنانے کا حال الرحیق المختوم کے صفحات سے ملاحظہ کرتے ہیں:

 

''ابن اسحاق کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جو شخص قریش کی شکست کی خبر لے کر مکہ میں وارد ہوا وہ حیسمان بن عبداللہ خزاعی تھا۔ لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ پیچھے کی کیا خبر ہے؟ اس نے عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوالحکم بن ہشام، امیہ بن خلف۔۔۔ اور مزید کچھ سرداروں کا نام لیتے ہوئے کہا۔۔۔ یہ سب قتل کر دیئے گئے۔ جب اس نے مقتولین کی فہرست میں اشراف قریش کو گنانا شروع کیا تو صفوان بن امیہ نے، جو حطیم میں بیٹھا تھا، کہا: خدا کی قسم! اگر یہ ہوش میں ہے تو اس سے میرے متعلق پوچھو۔ لوگوں نے پوچھا صفوان بن امیہ کا کیا ہوا؟ اس نے کہا' وہ تو وہ دیکھو! حطیم میں بیٹھا ہوا ہے۔ بخدا اس کے باپ اور اس کے بھائی کو قتل ہوتے ہوئے میں نے خود دیکھا ہے''۔

 

اب ظلم کی تاریک راتیں ڈھل رہی تھیں۔ صبح امن کے طلوع ہو نے کا وقت آچکا تھا۔ آزاد فضاؤں میں اللہ کی کبریائی کی صدائیں گونجنے لگی تھیں۔ کیوں کہ مدینہ میں اسلامی معاشرے کی بنیادیں پڑ چکی تھیں۔ اس نوزائیدہ مملکت میں قیام امن کی خاطر رسول اللہۖ نے یہودیوں سے بھی معاہدے کئے۔ دیگر قبائل سے بھی یہی مطالبہ تھا کہ ہنگامہ آرائی اور کشت و خون سے باز رہو۔ مدینہ پر بیرونی جارحیت کی صورت میں سب مل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ ہاں قریش کو پناہ نہیں دیںگے۔ کیونکہ وہ اول روز سے اسلام دشمنی میں پیش پیش تھے۔ وہ امن نہیں خون خرابے کے خواہش مند تھے۔ گویا کہ آپۖ کی جنگوں کا مقصد یہ تھا کہ فتنے کو جڑ سے کاٹ کر امن و امان کی فضا قائم کی جائے۔ اس پہلو کو سمجھنے میں اکثر لوگ غلطی کا شکار ہوئے ہیں۔ آج جہاد کے متعلق لوگوں کے دل و دماغ میں مختلف النوع افکار تقویت پا رہے ہیں۔ مناسب یہی ہے کہ قدرے تفصیل سے اس پر بحث کی جائے تاکہ جہاد فی سبیل اللہ کے نفسِ مضمون اور سیرت نبویۖ کے اس اہم پہلو کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

 

غلطی کے شکار طبقے

مجموعی طور پر دو طبقے ایسے ہیں جو جہاد فی سبیل اللہ کے متعلق غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ پہلا طبقہ وہ ہے جو جہاد کو دہشت گردی سے تعبیر کرتا ہے۔ اس میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو غیر مسلم ہیں اور اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہیں۔ جیسا کہ پوپ بینڈکٹ نے ستمبر 2006ء میں جرمنی میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ محمدۖ نے ''تلوار کے زور پر اسلام کو پھیلایا ہے''۔ دراصل اس قسم کے لوگ جہاد کے مفہوم سے ہی واقف نہیں۔ انہیں دہشت گردی اور جہاد میں فرق کیسے نظر آئے۔ وہ جانتے ہی نہیںکہ رسول اللہۖ کی سیرت کیا ہے۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ ''دین میں کوئی زبردستی نہیں''۔ (البقرہ:256) اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ دین کے راستے میں فتنہ یا رکاوٹ بننے سے باز رہے۔ جیسا کہ رسول اللہۖ نے صلح حدیبیہ کے بعد امراء وسلاطین کو دعوتی خطوط ارسال کئے۔ آپۖ نے ان خطوط میں بادشاہوں کو مخاطب کرکے کہا (اَسْلِمْ تَسْلَمْ) یعنی ''مسلمان ہو جائو، سلامتی پاجائو گے''۔ اگر اس کے برعکس تم نے اعراض کیا تو تمہاری رعایا کے اسلام قبول نہ کرنے کا گناہ بھی آپ کی گردن پر ہوگا۔ غور فرمایئے رعایا کے اسلام قبول نہ کرنے کا گناہ بادشاہ کی گردن پر کیوں ہو گا؟ اس لئے کہ بادشاہ ان کے قبول اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اسلام اس بات کی مذمت کرتا ہے کہ دین کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر کے لوگوں کو اس کی صداقت بھری دعوت پر غور و فکر کا موقع ہی نہ دیا جائے۔

 

اسی مضمون کا ایک خط رسول اللہۖ نے بحرین کے حاکم منذر بن ساویٰ کو لکھا۔ انہوں نے جواب میں تحریر کیا کہ میں نے آپ کا خط اپنی رعایا کو سنایا، ان میں سے بعض اسلام میں داخل ہوگئے جبکہ بعض نے اعراض کیا۔ مزید یہ کہ میری سلطنت میں مجوسی اور یہودی بھی آباد ہیں ان کے بارے میں آپۖ کا کیا حکم ہے۔ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ رسول اللہۖ نے دوسرا خط ارسال فرمایا، جس میں آپۖ نے ان کے نیک طرز عمل کو سراہا اور فرمایا: ''جب تک تم اصلاح کی راہ اختیار کئے رہوگے ہم تمہیں تمہاری ذمہ داریوں سے ہرگز معزول نہ کریںگے اور جو شخص یہودیت یا مجوسیت پر قائم رہے، اس سے جزیہ لیا جائے''۔ یعنی ہمیں سلطنت سے غرض نہیں، آپ کا عہدہ بر قرار رہے گا، بشرطیکہ اصلاحی طرز عمل اختیار کئے رکھو اور شر و فساد سے گریز کرو۔ یہاں اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ جو شخص اپنے مذہب پر قائم رہے، اس سے جزیے کا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے؟ عرض یہ ہے کہ اسلام میں زمیوں سے جزیہ وصول کیا جاتا ہے اور اس کے عوض ریاست ان کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ نہ تو ان سے فوجی خدمات لی جاتی ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی اور بوجھ لادا جاتا ہے۔ بس یہ سمجھ لینا کہ اسلام کوئی رعایت نہیں دیتا، انتہائی غلط ہے۔ اسلام نے جس قدر زمیوں کو حقوق فراہم کئے ہیں، دنیا کے دیگر مذاہب و ادیان اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

 

اب دوسرے طبقے کو زیر بحث لاتے ہیں۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ جہاد اللہ کا حکم ہے، لیکن اس بات کا علم نہیں رکھتے کہ جہاد کس کے خلاف کیا جائے۔ یعنی پہلے گروہ کے برعکس وہ جہاد کو دہشت گردی نہیںکہتے۔ وہ جانتے ہیں کہ رسول اللہۖ کی سیرت طیبہ جہاد کا درس بھی دیتی ہے، لیکن سیرت سے یہ رہنمائی لینا بھول گئے کہ آپۖ نے کن لوگوں کے خلاف تلوار اٹھائی ہے اور کن لوگوں سے درگزر فرمایا ہے؟

 

رسول اللہۖ کے سرایا و غزوات کو دیکھا جائے تو ان جنگوں کو چار زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے گروہ میں قریش مکہ شامل ہیں، جن کے ساتھ بدر، احد اور احزاب وغیرہ جنگیں لڑی گئیں۔ دوسرا گروہ یہودیوں پر مشتمل ہے، مدینہ میں ان کے تین قبیلے تھے۔ بنو قینقاع اور نضیر یکے بعد دیگر ے جلا وطن کئے گئے اور بنو قریظہ احزاب کے بعد اپنے انجام کو پہنچے۔ علاوہ ازیں جنگ احزاب میں یہودیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کے ساتھ فیصلہ کن معرکہ غزوہ خیبر کے موقع پر ہوا۔ تیسرا گروہ عیسائیوں کا ہے،8 ہجری میںموتہ کے مقام پر عیسائیوں کے عظیم لشکر کے ساتھ مسلمانوں کا پہلا معرکہ ہوا۔ قیصر روم کی فوجوں سے ٹکرانے کے لئے تبوک کے میدان میں خود رسول اللہۖ نے 20 روز قیام کیا۔ آپۖ نے اپنی زندگی کا آخری لشکر بھی رومیوں کے خلاف اسامہ بن زید  کی سرکردگی میں روانہ فرمایا تھا۔ چوتھے گروہ میں جزیرہ عرب کے دیگر مشرک قبائل شامل ہیں، جیسا کہ جنگ احزاب میں بنو غطفان اور غزوہ حنین میں بنو ثقیف وغیرہ۔ احزاب سے قبل اور ما بعد مختلف قبائل مشرکین کے ساتھ جو جنگیں لڑی گئیں وہ مشرک بھی اسی گروہ میں شامل ہیں۔

 

سیرت النبیۖ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو گروہ مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانا چاہتے تھے، آپۖ نے مدافعت کرکے ان کو نیست و نابود کردیا، اور جو قومیں اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے ظلم و شرک کو جاری رکھے ہوئے تھے، انہیں بھی تلوار کے ذریعے سدھار دیا۔ لیکن آپۖ کا سامنا ایک اور گروہ سے بھی ہوا تھا۔ وہ گروہ جس نے مسلمانوں کو نقصان سے دوچار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ جو عین لڑائی کے موقع پر دشمن کا پلہ بھاری کرنے کے لئے مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ گئے۔ جو میدان جہاد میں ڈٹے رہنے والے صحابہ کرام کا حوصلہ توڑنے کے لئے مایوس کن باتیںکرتے تھے۔ جنہوں نے آپۖ اور آپ کے اہل گھرانہ کو سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کئے رکھا۔ جنہوں نے یہ ہرزہ سرائی بھی کی تھی کہ ہم عزت والے ان ذلیلوں کو (نعوذ بااللہ) مدینہ سے نکالیں گے۔ جی ہاں! یہ پانچواں گروہ منافقین کا ہے۔ اس گروہ کے کرتوتوں سے سب واقف تھے۔ جب عمر  نے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی گردن اڑانے کی اجازت طلب کی تو آپۖ نے فرمایا کہ عمر! یہ کیسے مناسب رہے گا کہ لوگ کہیں گے کہ محمدۖ اپنے ساتھیوں کو قتل کررہا ہے۔ ان منافقین کو کلمے نے بچالیا تھا، کیونکہ وہ کلمہ توحید کے اقراری تھے۔ ان کے دل اسلام پر آمادہ نہ تھے۔ وہ اعمال کے لحاظ سے بھی گئے گزرے تھے، لیکن ان کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی گئی۔ لہٰذا وہ لوگ اپنی اصلاح کریں جو اسلام کے نام پر ضعیف الا عتقاد اور اعمال کے لحاظ سے کمزور مسلمانوں پر حملے کرتے ہیں، اور ان کا قتل جائز سمجھتے ہیں۔

 

خلاصہ کلام

ہر شخص تبدیلی چاہتا ہے۔ سب کی آرزو یہی ہے کہ معاشرہ سدھر جائے اور ظلم و جبر کا خاتمہ ہو جائے۔ لیکن یاد رکھئے! ہر وہ نظریہ جو انسانی سوچ کی پیداوار ہو، ناکام ہے۔ وہ معاشرے میں تبدیلی نہیں لاسکتا۔ غور کریں کہ تہذیب و تمدن سے عاری عربوں کی زندگی کیسے تبدیل ہوئی؟ وہ قوم جس کا شمار وحشیوں کی فہرست میں ہوتا تھا، وہ دنیا کی رہنمائی کرنے والی کیسے بنی؟ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ ان کی زندگیاں تعلیمات نبویۖ کی بدولت تبدیل ہوئی تھیں، اور وہ اسی راہ پر چلتے ہوئے آدھی دنیا کے حکمران بنے تھے۔ بس سمجھ لیں کہ اسی طریقے پر آج بھی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ لہٰذا یہ کہہ دینا کہ اب وہ دور نہیں رہا۔ تبدیلی کے دیگر طریقے بھی ہیں، ہمیں وہ اپنانے چاہئیں،غیروں کے نظریات کو اپنا لینا یا حکمرانوں کی تکفیر کرکے خونیں انقلاب کے ذریے تختے الٹ دینا، ہماری ضرورت نہیں۔ نبی اکرمۖ رہتی دنیا تک نبی مبعوث ہوئے ہیں۔ آپۖ کی سیرت کا ہر پہلو آج بھی قابل عمل ہے۔ اسلام کے اصول حکمرانی کو اپنانے کے خواہش مند نظریات و افکار اور عقائد و اعمال کی درستی کے لئے اصلاح کا طریقہ اختیار کریں اور جہاں مسلمان آباد ہیں، ان خطوں کو محفوظ تر بنانے کے لئے جغرافیائی سرحدوںکی حفاظت کی جائے، تاکہ مسلمان کفار کے ظلم و ستم سے محفوظ رہ کر، آزاد فضاؤں میں ایک اللہ کی عبادت کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر قرون اولیٰ کے مسلمان کامیاب ٹھہرے تھے۔ اسی راہ کو اپنانے کی آج بھی اشد ضرورت ہے۔


مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کر رہے ہیں۔

[email protected]

 

 

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP