روس۔ بھارت دفاعی تعلقات اور علاقائی مضمرات

اگرچہ سرد جنگ کے خاتمے اور سابقہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے سے روس اور بھارت کے باہمی تعلقات میں کافی فرق پڑ چکا ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان اب بھی متعدد شعبوں مثلاً دفاع، سائنس اور ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق میں قریبی تعاون موجود ہے۔ بھارت جن ممالک سے اپنی مسلح افواج کے لئے اسلحہ خریدتا ہے، اُن میں روس سرِفہرست ہے۔ اس کے علاوہ تجارت، صنعت، زراعت، توانائی اور میرین ریسرچ کے شعبوں میں تعلقات اور تعاون کا جائزہ اور اس میں اضافے کے امکانات پرغور کرنے کے لئے روس اور بھارت کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر سالانہ سربراہی کانفرنس بھی منعقد ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں روس کے صدر ولادِمیر پیوٹن اور بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس میں دونوں سربراہوں نے باہمی تعلقات اور تعاون میں مزید اضافے کے لئے متعدد معاہدوں پر دستخط کئے، لیکن سب سے اہم معاہدہ جس پر روس اور بھارت کے نمائندوں نے دستخط کئے، بھارت کی طرف سے روسی ساختہ اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم ،

ایس – 400 کی خریداری کا تھا۔ اس معاہدے کی نہ تو بھارتی میڈیا میں کوئی نمایاں تشہیر ہوئی اور نہ روس کے ذرائع ابلاغ نے اس کے اہم پہلوئوں کو اجاگر کیا۔ حالانکہ بھارت میں روس کے سفیر نکولائی کداشوف کے مطابق5.2بلین امریکی ڈالر کی مالیت کے ساتھ، روس اور بھارت کے درمیان اسلحہ کی خریداری پر اب تک طے پانے والے تمام معاہدات میںیہ سب سے بڑا معاہدہ تھا۔ مگر نئی دہلی میں پیوٹن۔ مودی سربراہی کانفرنس کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، اس میں اس معاہدے کا ذکر نہیں تھا۔ اس پر دستخط کی خبر علیحدہ جاری کی گئی۔ بھارت کی طرف سے اس معاہدے کو کیوں راز میں رکھا جارہا ہے؟ بھارت کے ہاتھ میں اس سسٹم کے آنے سے جنوبی ایشیاء کی دفاعی اور عسکری  توازن پر کیا اثر پڑے گا؟اور اس سٹم کے حصول کے ذریعے بھارت خطے میں کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں ان سوالات کے جوابات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایس – 400 اے بی ایم سسٹم بیلسٹک میزائل کے حملوں کو روکنے اور حملہ آور میزائلز کو فضا میں ہی تباہ کرنے والا جدید ترین اور مہلک ترین سسٹم ہے۔ اس سے72 میزائل ایک ساتھ داغے جا سکتے ہیں اور36 اہداف کو40 کلومیٹر کے رقبے میں بیک وقت نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ بھارت یہ سسٹم خرید کر اپنے بڑے شہروں خصوصاً نئی دہلی اور ممبئی کو چین اور پاکستان کے ایٹمی حملوں سے محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ لیکن چونکہ بھارت اور چین کے درمیان کسی جنگ کا فی الحال امکان نہیں اس لئے مبصرین کی رائے میں بھارت نے یہ سسٹم پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو بے اثر بنانے کے لئے خریدا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ 70 برس میں تین بڑی اور دو محدود پیمانے پر جنگیں ہو چکی ہیں اس وقت بھی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری میں ایک دوسرے کی پوزیشنوں پر فائرنگ اور گولہ باری کرچکے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں روز بہ روز بگڑتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے اس کشیدگی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی برادری کی نظر میں یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی تصادم پر بھی منتج ہوسکتی ہے اور چونکہ دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اس لئے ابتداء میں روایتی ہتھیاروں کی جگہ ایٹمی ہتھیار بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ اسی لئے  بھارت کی طرف سے

ایس – 400 اے بی ایم سسٹم کی خریداری پر بین الاقوامی برادری کی تشویش ہے۔ کیونکہ بظاہر اے بی ایم سسٹم دفاعی نوعیت کا معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں اس سے جنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے حریف ایٹمی طاقتوں کے درمیان سٹرٹیجک توازن عدمِ استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔ اگر ایک ایٹمی طاقت اے بی ایم ڈھال سے اپنے شہروں یا دیگر اہم مراکز کودشمن کے ایٹمی ہتھیاروں کے حملے سے محفوظ بنالیتی ہے تو اس میں اپنے مدِمقابل پرایٹمی ہتھیاروں سے مسلح میزائلوں سے حملہ کرنے کی رغبت بڑھ جاتی ہے کیونکہ حملے میں پہل کرنے والا ملک سمجھے گا کہ اُس نے مخالف طاقت کے جوابی حملے سے اپنے شہروں اور اہم مراکز کو اے بی ایم سسٹم سے محفوظ بنا لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرد جنگ کے دور میں جب روس نے امریکہ کے ممکنہ ایٹمی حملے سے بچنے کے لئے ماسکو کے گرد  اے۔ بی ۔ ایم  کے ذریعے دفاعی  حصار قائم کرنے کی کوشش کی تو امریکہ نے اس پر سخت اعتراض کیا کیونکہ اس سے دونوں ملک کے درمیان قائم ایٹمی توازن عدمِ استحکام کا شکار ہو کر امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا تھا۔ چنانچہ سابق سوویت یونین اور امریکہ کو ایک معاہدہ کرنا پڑا جس کے تحت دونوں ملکوں نے عہد کیا کہ وہ باہمی ایٹمی توازن کو عدمِ استحکام سے  دوچار کرنے والے کسی اے بی ایم سسٹم کو نصب نہیں کریں گے۔

مگر بھارت نے روس سے ایس – 400 اے بی سسٹم خرید کر جنوبی ایشیا میں ایٹمی تعاون کو بگاڑنے کی دوڑ لگا دی ہے۔ بھارت یہ سسٹم اپنے بڑے شہروں کو ایٹمی میزائلوں کے حملے سے بچانے کے لئے نصب کرے گا۔ دیگر الفاظ میں یہ اقدام پاکستان کی طرف سے کسی بھی جوابی حملے کو ناکام بنانے کے لئے کیا گیا ہے۔ بھارت میں بی جے پی کی موجودہ حکومت متعدد بار کہہ چکی ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کی روائتی پالیسی پر نظر ثانی کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب روس اور بھارت کے درمیان ایس – 400 کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کا اعلان کیا گیا تو پاکستان کی طرف سے سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہو گا۔ اور خطے کی سکیورٹی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گی۔ ترجمان نے اپنے بیان میں یاد دلایا کہ 1998میں بھارت اور اس کے جواب میں پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد پاکستان نے تجویز پیش کی تھی کہ جنوبی ایشیا کی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈالنے والے ہر اقدام سے احتراز کیا جائے اور اس سلسلے میں بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم کو نصب کرنے کی مخالفت کی تھی لیکن بھارت نے اس تجویز کو تسلیم نہیں کیا بلکہ

ایس – 400 کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی اے بی ایم سسٹم حاصل کرنے  کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں بھارت نے حال ہی میں اپنے بحری جہازوں کو نیوکلیئر شیلڈفراہم کرنے کے لئے اسرائیل سے ایس – 400 طرز کا میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق بھارت کی طرف سے پاکستانی تجویز کو رد کرنے اور میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری سے پاکستان کو مجبوراً اپنی ایٹمی صلاحیت میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔ جس کے ذریعے کسی بھی میزائل ڈیفنس سسٹم کو غیرمؤثر اور ناقابل بھروسہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ

ایس – 400 ہو یا کوئی اور پاکستان کے پاس  ہر قسم کے میزائل ڈیفنس سسٹم سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لئے پوری پوری صلاحیت موجود ہے۔ اگر بھارت پاکستانی افواج اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے تشویش کے اظہارکے باوجود ایس – 400 اے بی ایم سسٹم نصب کرتا ہے تو پاکستان کا جواب کیا ہو گا۔ اس سلسلے میںخودبھارتی میڈیا میں جو قیاس آرائیاں کی گئی ہیں ان کے مطابق پاکستان کو مجبوراً اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ تاکہ دشمن کے زیادہ سے زیادہ شہروں کو نشانہ بنانے کے علاوہ اہم اہداف پر بھی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس میزائلوں کی بوچھاڑ کر سکے۔ اس سے اے بی ایم سسٹم کی ڈھال کے باوجود کوئی نہ کوئی میزائل اپنے ہدف پر پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت ور سے طاقت ور میزائل ڈیفنس سسٹم کا توڑ موجود ہے تو پھر بھارت ایسے سسٹم کی تنصیب پر اپنے وسائل کیوں خرچ کر رہا ہے۔ اس کا واحد مقصدجنوبی ایشیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کو تیز کرنا اور پاکستان کو اس میں شریک ہونے پر مجبور کرنا ہے۔ اس سے خطے کی سکیورٹی اور بھی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان نے اس کی طرف واضح اشارہ کر دیا ہے۔ اب بین الاقوامی برادری کا فرض ہے کہ وہ بھارت کو ان مہم جویانہ اقدامات سے دور رکھے۔


 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP