راہِ حق کے مسافر۔۔۔

لیفٹیننٹ فیض سلطان ملک شہید(ستارہ ٔبسالت)کے حوالے سیمحمد طاہر تبسم درانی کی تحریر

 

پاکستان کے شہر چکوال کے قریب ایک گائوں جس کا نام '' دھنی '' ہے، کی ایک خاص بات جو قابل ذکر ہے کہ وہاں ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد فوج سے وابستہ ضرور ہے۔ اسی گائوں میں قوم کا ایک غیور سپوت 3 ستمبر 1985ء کو پیدا ہوا۔ ماں نے اپنے لخت جگر کا نام فیض سلطان رکھا۔ فیض سلطان کے والد ملک صاحب خان اعوان بھی فوج میں صوبیدار کے عہدے سے تیس سالہ خدمت کے بعد ریٹائر ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ فیض سلطان نے بھی پاک فوج میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ شمولیت اختیار کی۔فیض سلطان کی پرورش انتہائی پاکیزہ ماحول میں ہوئی۔ فیض سلطان پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے بھائی تھے۔انہوں نے اپنی تعلیم ملٹری کالج جہلم سے حاصل کی۔اس کالج کوپیشہ ورانہ اور بہادرفوجیوں کی درسگاہ کے طور مانا جاتا ہے۔

 

 

سپاہی

 

وطن کے محافظ جیالے سپاہی

بہادر ، قوی، آن والے سپاہی

 

ہو داخل کی یورش کہ خارج کا حملہ

وطن کو ہمیشہ سنبھالے سپاہی

 

سرافراز ہے یہ ہر اک معرکے میں

کمند ایسے دشمن پہ ڈالے سپاہی

 

وطن اور ملّت پہ قربان ہو کر

پیے حوضِ کوثر کے پیالے سپاہی

 

(ڈاکٹر انعام الحق جاوید)        

کشمیر

 

 

ٹوٹے گی نہ یہ جبر کی زنجیر کہاں تک

بدلے گی نہ مظلوم کی تقدیر کہاں تک

آزاد ہوائوں کو کوئی روکے گا کیونکر

محکوم رہے گا مرا کشمیر کہاں تک

فیض سلطان کو اپنے بہن بھائیوں سے بہت پیار تھا۔ انہیں ڈائری لکھنے کا بھی شوق تھا۔ ان کی ڈائری پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے شفقت اورمحبت رکھتے تھے وہ کس قدر ان کی پڑھائی لکھائی، روشن مستقبل اور ان کی صحت و تندرستی کے لئے فکر مند رہتے تھے۔وہ پاکستان سے بے پناہ محبت اور جذبہ حب الوطنی سے سر شار تھے۔

 

لیفٹیننٹ فیض سلطان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ انتہائی عقیدت رکھتے تھے۔ ایک دن اپنے بہن بھائیوں کو بتا یا کہ ''روز محشر اللہ کریم قائد اعظم کو فرمائیں گے قائد اعظم محمد علی جناح تم نے بہت اچھا کام کیا، تو میں بھی خود کو اس دن کے لئے تیار کر رہا ہوں، جب اللہ کریم مجھے فرمائیں گے فیض تُو نے بہت اچھی کوشش کی۔'' میرے ملک کے فوجی جوانوں کے اس جذبے اور قربانی کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔فیض سلطان کی ساری زندگی انتہائی ادب اور عقیدت کے ساتھ گزری ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ لئے وہ پاک فوج میں شامل ہوئے تاکہ وہ عملی طور پر کچھ کر سکیں۔ان کا مقصد نہ پیسہ کمانا تھا ، نہ شہرت حاصل کرنا تھا۔ بلکہ صرف ملک کی خدمت اور بس اور یہی وہ جذبہ ہے جو فیض سلطان کو دوسروں سے الگ اور منفرد کرتا ہے۔ان کی ڈائر ی کا ایک ایک حرف قوم کے ساتھ محبت کی گواہی دیتا ہے۔ ''ہم سرحدوں پر جاگتے رہیں گے تا کہ تم اپنی نیند کے لطف اٹھا سکو، اور جب ہم روح کے سا تھ سو ئیں گے تو ملک و قوم کو ہم پر فخر ہوگا۔''

 

شہادت سے قبل انہوں نے ایک میسیج اپنی والدہ ماجدہ کو ارسال کیا جس میں انہوں نے لکھا،'' ماں جی میں نے خاکی وردی میں اپنے گھر کو چھوڑا ہے اور سبزہلالی وردی میں لوٹوں گا، میں نے کچھ بھی نہیں کھویا بلکہ سب کچھ پا لیا جو میں چاہتا تھا،''انہوں نے ٹیلیفون پر اپنی والدہ سے بات کر تے ہوئے کہا،'' امی جان آپ ایک فوجی کی بیوی اور ایک فوجی کی والدہ ہیں اگر کبھی کوئی دکھی یا غمگین خبر ملے تو بہادری، جرأت اور حوصلہ رکھنا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا اور خود کو پہاڑ کی طرح مضبوط رکھنا۔''2009ء آپریشن شیر دل میں اس کم سن بہادر سپوت نے دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بیس بے رحم گولیوں کا سامنا کیا اور پنتیس (35) دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا اور اسی دن اپنی جان ،جانِ آفرین کے حوالے کرتے ہوئے ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید ہوگیا۔11 جون 2009ء میں' شیر دل آپریشن 'کے دوران شہید ہونے والے اس کمسن آفیسر نے دو دنوں سے کھانا نہیں کھایا ہوا تھا کیونکہ اس وقت مہمند ایجنسی میں حالات خراب ہونے کے پیش نظر خوراک کی ترسیل

(Food Supply)

بھی بند تھی۔جب ان کے والد صاحب کو اطلاع دی گئی کہ آپ کا بیٹا دشمنوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا ہے اور پوچھا گیا کہ آپ کے بیٹے کے جسد خاکی کو کہاں دفن کیا جائے ؟ تو انہوں نے ان تاریخی الفاظ کے ساتھ پاکستان کی عسکری تاریخ میں خود کو سنہری حروف میں محفوظ کر لیا،'' اگر میرے بیٹے کے سینے پر گولیاں ہیں تو اسے چکوال لے آؤ اوراگراس کی پیٹھ پر گولیاں ہیں تواسے وہیں چھوڑ دو۔'' اور کیا بہادر ماںتھی جس نے اپنے بیٹے کے اُن الفاظ کی لاج خُوب نبھائی بیٹے کی شہادت پر نہ واویلہ کیا ، نہ شور و غل بلکہ بہادری کی ایک اور داستان رقم کر تے ہوئے اپنے چھوٹے بیٹے حبیب سلطان کو پاک فوج میں بھیج دیا۔کیپٹن حبیب سلطان نے بھی دہشتگردی کے خاتمے میں بہادری سے اپنا کردار ادا کیا،جون2014 ء کو کراچی میں جناح انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر کچھ شرپسندوں نے حملہ کر دیا۔ فیض سلطان شہیدکے چھوٹے بھائی کیپٹن حبیب نے 10 میں سے 4 شرپسندوں کو واصل جہنم کر کے اپنے بھائی کے مشن کو آگے بڑھایا۔فیض سلطان کی جرأت اور بہادری پر ان کو ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔بطور پاکستانی ہمیں اپنی پاک فوج پر فخر ہونا چاہیے جو لو گ پاکستان فوج کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ہمارا ایسے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم اپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں جب بھی پاکستان اور پاک فوج کو ہماری ضرورت پڑی ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک اُن کی نذر کر دیں گے۔

 

 پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد


[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP