رائلٹی

ایک لڑکی کی شادی کی تاریخ قریب تھی، اس کی سہیلی نے پوچھا: ''سنائو! شادی کی سب تیاری ہو گئی ؟'' لڑکی نے جواب دیا: ہاں، تیار ی تو تقریباً مکمل ہے، بس پرانی سِم توڑنی باقی رہ گئی ہے !''

پہلے تو میں اس بات کا اعتراف کر لوں کہ اس لطیفے کا یوم اقبال سے دور دورتک کوئی تعلق نہیں،اس کے باوجود میں نے اقبال پر اپنے مضمون کی ابتداء اس لطیفے سے اس لئے کی ہے کیونکہ آج کل تقریبات کا کوئی بھی موقع ہو،چاہے وہ یوم اقبال کی ہو ں یا مادھو لعل کا عرس، لکس سٹائل ایوارڈز ہوں یا کل پاکستان کبڈی مقابلہ، مقررین کی تان پانامہ لیکس پر ہی ٹوٹتی ہے۔ اور مجھے امیدہے کہ آج بھی ایسا ہی ہوگا اور ایک دو مقررین اپنے خطاب میں یہ ثابت کریں گے کہ اگر علامہ اقبال آج زندہ ہوتے تو ان کے تجویز کردہ ٹی او آرز ہی کی حمایت کرتے۔ سو، امید ہے کہ میرے غیر متعلق لطیفے کو بھی آپ اسی سپرِٹ میں در گزر کریں گے۔

 

 جس شخص کوہم علامہ محمد اقبال کے نام سے جانتے ہیں انہوں نے کئی غیرمسلم اساتذہ سے انگریزی میں تعلیم حاصل کی، انگریزی میں مقالہ تحریر کیا اورخطبات بھی انگریزی میں لکھے، گویا اقبال کی تعلیم کا پورا پیٹرن وہ تھا جس کے خلاف آج اقبال سے عاشقی کا دعوی کرنے والے کمر بستہ رہتے ہیں، اِن عاشقانِ اقبال کا بس چلے تو اقبال کے استاد کا نام پروفیسر آرنلڈ سے تبدیل کرکے مولوی فضل اللہ رکھ دیں اور میونخ یونیورسٹی کے بجائے اقبال کا داخلہ افغانستان کے کسی مدرسے میں کروا دیں۔ہم جس شخص کو اقبال کے نام سے جانتے ہیں اس نے انگریز کا نظامِ قانون پڑھا، لنکنز ان سے بیرسٹر بنے اور پھرانگلش لاء میں عملی وکالت بھی کی۔ جبکہ آج اقبال سے محبت کا دم بھرنے والے ہمارے کچھ دوست اِس سارے نظام کو ہی باطل قرار دیتے ہیں، اب معلوم نہیں کہ اقبال سے ان کی محبت جھوٹی ہے یا نظام سے ان کی بغاوت کا نعرہ کھوکھلا ہے۔ جس اقبال کو ہم جانتے ہیں، وہ یونیورسٹی کا طالب علم بھی تھا۔ اُمنگوں بھرا ایک دِل بھی رکھتا تھا۔ وجودِ زن کو تصویرِ کائنات کی خوبصورتی کا باعث بھی جانتا تھا اور جرمنی کی درسگاہوں سے تعلیم بھی حاصل کر چکا ہے۔ وہ دِل بھی رکھتا تھا اور قلبی وار داتوں پر شعر بھی لکھتا تھا۔ اس کے حلقہ احباب میں ملکی و غیرملکی اور مردوخواتین سب شامل تھے۔ جس میں ایک جرمن خاتون ایما ویگے ناست اور عطیہ فیضی قابلِ ذکر ہیں۔ پاکستان میں اگرکوئی شخص غیر ملکی خاتون سے کھلے بندوں دوستی کا اعتراف کرلے تواقبال سے عشق کے یہی دعوے دار کم سے کم اسے سیکولر کی اعزازی ڈگری سے ضرور نواز دیں گے۔ اِن عاشقانِ اقبال سے میری استدعا ہے کہ یہ اعزازی ڈگر ی دینا اگر وہ بند کر دیں تو اِس ملک پر احسان عظیم ہوگا۔

یقیں رکھو !

 

صُبحِ بہار آئے گی۔۔۔

یقیں رکھو!

ہر کلی مُسکرائے گی۔۔۔

یقیں رکھو!

چمن کی شادابی ہے تمہی سے

 جگر گوشو!

نویدِ سحر چھائے گی۔۔۔

یقیں رکھو!

صبحِ امن کی چار سُو ہے

بس آمد آمد !

نویدِ امن اب

سنائی دے گی۔۔۔

یقیں رکھو !

نہ ہوگی رائیگاں

قربانی مائوں کی۔۔۔

یقیں رکھو!

صبا کلیاں کھلائے گی

صبح پھر مسکرائے گی۔۔۔

تم۔۔۔۔

یقیں رکھو !

 

(ازکیٰ کاظمی)

 

آگے بڑھتے ہیں، علامہ اقبال کی حیدر آباد کے مہاراجہ کشن پرشاد سے بہت دوستی تھی، علامہ نے مہاراجہ کو ایک خط میں لکھا کہ'' میں رامائن کا اردو ترجمہ کرنا چاہتا ہوں، مسیح جہانگیری (نامی شاعر)نے رامائن کے قصے کو فارسی میں نظم کیا ہے۔اگر سرکار کے کتب خانے میں وہ موجود ہو تو کیا چند روز کے لئے عاریتہ مل سکتا ہے ؟'' مہاراجہ نے اس خط کا جواب یہ کہہ کر دیا کہ ''یہ خوشی کی بات ہے کہ آپ نے رامائن کو اردو نظم میں لکھنے کا ارادہ کیا ہے۔ خدا مبارک کرے اور آپ کے اس عزم کو تکمیل تک پہنچائے۔ مسیح جہانگیری نے رامائن کا جو فارسی حصہ لکھا ہے، وہ پرشاد کے کتب خانے میں موجود نہیں۔ '' ذرا تصور فرمائیں کہ آج کوئی مسلمان شاعر یہ خواہش ظاہر کرے اور خدا نخواستہ اسے عملی جامہ بھی پہنا بیٹھے تو ہمارے خود ساختہ عاشقان ِاقبال اسے کیا لقب دیں گے اس کا اندازہ ایک دودھ پیتا بچہ بھی لگا سکتا ہے۔ اقبال تو رامائن کا ترجمہ نہ کر سکے لیکن اس کے باوجود سیتا کی فریاد نامی نظم اس وقت بھی پاکستانی سکولوں کے نصاب میں شامل تھی جب قائد اعظم اِس ملک کے گورنر جنرل تھے، اب چونکہ مُلک اقبال اور جناح کے ٹھیکیداروں کے ہاتھ میں ہے اس لئے سیتا کو کسی سے فریاد کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔

 

علامہ اقبال کی زندگی سے ایسی لا تعداد مثالیں دی جا سکتی ہیں جو ان کی روشن خیالی کا ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ آپ کے سماجی تعلقات بلا تفریقِ مذہب، رنگ، نسل ہر انسان کے ساتھ محبت کی بنیاد پر قائم تھے۔ انگریزوں نے آپ کو سر کا خطاب دیا جسے آپ نے قبول فرمایا اور اقبال کے عاشق کے طور پر ہمیں اس پر ناز ہے لیکن یہ کیا منافقت ہے کہ آج وہی مغرب، جس کے ہم اب غلام بھی نہیں رہے، جب ہماری ایک بچی کو امن کا نوبل انعام دیتا ہے تو اسی اقبال سے محبت کا دعوی کرنے والے چند لوگ اس بچی کے خلاف بندوقیں تان کرکھڑے ہو جاتے ہیں۔۔۔۔!

 

قارئین ِ کرام ! عاشقانِ اقبال سے گلے شکوے تو ہو گئے اب کچھ اظہار محبت اپنے روشن خیال دوستوں سے بھی ہو جائے۔ علامہ اقبال کی پروگریسو اپروچ ان کی زندگی کا صرف ایک پہلو ہے، ان کی زندگی کا دوسرا پہلو مسلم نیشنل ازم سے جڑا ہے اور اصل میں یہ وہ کانٹا ہے جو آج تک ہمارے لبرل اور سیکولر دوستوں کے حلق میں پھنسا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ اقبال کو کوٹ کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ انہیں اس شاعر کے آگے سر جھکانے میں شرم محسوس ہوتی ہے جو ڈرنک نہیں کرتا، اسلام کا علم بلند دیکھنا چاہتا ہے اور نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر جیسی مثالوں سے لہو گرماتا ہے۔ ہمارے اِن دوستوں کی زبان سے آپ غالب، فیض، راشد، میرا جی اور مجید امجد کی شان میں قصیدے تو سنیں گے مگر اقبال کا ذکر آتے ہی یہ اس دلہن کی طرح شرما جاتے ہیں جس نے شادی سے پہلے پرانی سِم توڑنی ہوتی ہے۔ انہیں وہ اقبال ہضم نہیں ہوتا جس کا لیڈر جناح ہے، انہیں وہ اقبال قبول نہیں جو جواہر لعل نہرو کے لتے لے اور انہیں مسجد قرطبہ میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو یاد کرکے زار و قطار رونے والا اقبال بھی

acceptable

نہیں کیونکہ یہ رونے والی تھیوری امریکہ اور مغرب سے امپورٹ ہو کر نہیں آئی تھی۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ اپنے ہاں کے اِن آزاد خیال دانشوروں کے ماننے یا نہ ماننے سے دیو قامت اقبال کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بین الاقوامی سطح پر اقبال کو ملنے والی پذیرائی کا یہ ثبوت ہی کافی ہے کہ کیمبرج سے لے کر ہاورڈ تک اقبالیات پر بیسیوں ریسرچ پیپر ز لکھے جا چکے ہیں جبکہ عالمی سطح پر شائع ہونے والی سیکڑوں کتابیں اس کے علاوہ ہیں۔

 

آج اگر اقبال زندہ ہوتے تو ہمارے نام نہاد عاشقان اقبال اور الٹرا لبرل حضرات دونوں علامہ صاحب کا وہ حشر کرتے جوکسی نشئی ڈرائیور نے ایک بارات کا کیا تھا۔اس کا کیس عدالت میں لگا تھا، ان پر الزام تھا کہ اس نے اپنی گاڑی سڑک پر چلنے والے باراتیوں پر چڑھا کر دس بندے مار دئیے ہیں۔ جج نے وجہ پوچھی تواُس نے جواب دیا کہ ان کی گاڑی کی بریک فیل ہو گئی تھی، اِس پر جج نے کہا کہ اگر بریک فیل ہو گئی تھی تو گاڑی کسی ایسی سڑک پر ڈال لیتے جہاں بندے کم ہوتے، نشئی ڈرائیور نے جواب دیا کہ جج صاحب،میں نے گاڑی دوسری سڑک کی طرف ہی موڑی تھی جہاں صرف دو بندے چل رہے تھے مگر وہ بھی بھاگ کر باراتیوں والی سڑک کی طرف چلے گئے لہٰذا مجبوراً مجھے گاڑی بارات کی طرف موڑنی پڑی !

 

آج عاشقان اقبال اور الٹرا لبرل حضرات دونوں کو اقبال کا شکر گزار ہونا چاہئے جن کی وجہ سے اس ملک میں ہمارا رزق لگا ہوا ہے، ہوتا متحدہ ہندوستان تو کسی نے ہم جیسوں کو پلٹ کر پوچھنا بھی نہیں تھا،یہ ملک علامہ اقبال کی 'رائلٹی' ہے، اس کی قدر کریں۔


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

 [email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP