ذرا نم ہو تو یہ مٹی۔۔۔

خطہ ئِ کشمیر و گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی ترقی میں پاک فوج کا کردار

پاکستان آرمی کا قومی ترقی میں بالعموم اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود میں بالخصوص ہمیشہ اہم کردار رہا ہے ۔ لہٰذا نوجوانوں کی قائدانہ صلاحیتوں اور ترقی کے جذبے میں نکھار پیدا کرنے میںپاک فوج کے ادارے ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں پاک فوج  پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لئے (خواہ وہ بلوچستان کے لئے خوشحال پروگرام ہو یا فاٹا کا انضمام ،اور وہاں پر سڑکوں اور کیڈٹ کالجز کا وسیع و عریض جال ہو، یاپھر زمین کا سر تاج گِلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر جنت نظیر ہو) ہمہ تن کوشاں ہے۔ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں ، ملک کو موجودہ سیاسی اور اقتصادی حالات کے بھنور سے پُر عزم ،پر اعتماد ، قابل اور ترقی کے لئے خود انحصاری کے جذبے سے سرشار نوجوان ہی نکال سکتے ہیں۔ اِس تلاش میں ہرفرد سے لے کر ادارے تک کا کردار ہے۔جس کا ادراک پاک آرمی کی موجودہ قیادت سے زیادہ شاید ہی کسی کو ہو۔

گلگت بلتستان کا خطہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بیشمار قدرتی نعمتوں سے مالامال ہے۔  چاہے وہ فلک بوس پہاڑ ہوں ، گلیشئر ہوں، سر سبز وشاداب جنگل ہوں، یہ سب قدرتی معدنیات اور قیمتی پتھروں سے لیس زیرِ زمین خزانوں سے معمورہیں۔

شاہرائہ قراقرم کی تعمیر سے اِس خطے کی اہمیت اُجاگر ہوئی اور اب پاک چائنا اقتصادی راہداری کے منصوبے سے یہ خطہ ملک دشمن قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا ہے جو آئے روز یہاں فساد برپا کرنے کے درپے ہیں۔ ضلع دیامر کی وادی تانگیر اور داریل میں سکولوں کو نذرِ آتش کرنا اِن مذموم مقاصد کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ملک دشمن عناصر ہمارے نوجوانوں میں ذہنی خلفشار کوابھارنے میں پیش پیش ہیں اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم ودرندگی کا شکار اپنا بنیادی حق( حقِ خود ارادیت) مانگنے والے جری کشمیریوں سے چاروں شانے چت ہونے کے بعد بھارت اپنے کارندوںکے ذریعے آزاد کشمیر کے ہونہار اور محبِ وطن کشمیری نوجوانوں کو بے راہ روی کی طرف مائل کرنے کے درپے ہے۔ یہ نام نہاد قوم پرست جن کا مقصد سیاسی نہیں صرف اپنا اقتصادی مفاد ہے چند ٹکوں کی خاطر غریب نوجوانوں کو اپنے مذموم عزائم کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان آرمی نے گزشتہ سال سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں

Youth Engagement Initiative

کا آغاز کیا جس کا مقصد نوجوانوں  بالخصوص طلباء کی ذہنی و تخلیقی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنا، ان کو قومی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنااورخود اعتمادی اور خود انحصاری کا فروغ ہے۔ ا ِسی سلسلے  میں کالج اور یو نیورسٹی کی سطح پر''نوجوان ہمارا مستقبل'' کے موضوع پر سیمیناروں کا انعقاد، سینیئر آرمی آفیسرز سے انٹریکشن اور خا ص طور پر تفریحی مقامات کی سیر،  پاک آرمی کے تربیتی اداروں بالخصوص پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کا دورہ شامل ہیں۔ ابھی تک گیارہ سیمیناروں کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ جس میں قراقرم یونیورسٹی گلگت، ڈگری کالج غذر ، ڈگری کالج ہنزہ، ماڈل سائنس کالج مظفر آباد، میر پور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، ویمن یونیورسٹی باغ، پلندری کیڈٹ کالج ، پوسٹ گریجویٹ کالج مانسہرہ اورہری پور یونیورسٹی شامل ہیں۔ حال ہی میں 9 سے 12 اکتوبر 2018 گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے 400 طلباء کو ایبٹ آباد گریژن کا دورہ کروایا گیا۔ ان طلباء میں ضلع خرمنگ ، شِگر، گانچے ، خپلو، گمبا اسکردو، ہنزہ، غذرگاگوچ، گو پس، اشکومن، گلگت استور اور خاص طور پر داریل اور تانگیر کے چالیس طلباء بھی شامل تھے۔ان کے علاوہ آزاد کشمیر کی وادی نیلم وادی لیپا، چکار، ہٹیاں بالا، مظفر آباد غازی آباد، باغ، ہجیرہ، تراڑ کھل، نکیال، کوٹلی میرپور، آرمی پبلک سکول کلری اور ضلع بھمبر کے سکول اور کالجوں کے بچے بھی شامل ہوئے۔ تین دن پر محیط اس دورے میں طلباء کو پی ایم اے کاکول، آرمی فزیکل ٹریننگ سکول کاکول، بلوچ اور فرنٹیر فورس کے رجمنٹل سنٹرز اور جونئیر لیڈرز اکیڈمی شنکیاری کا دورہ کروایا گیا ۔

 

مگر اِک ستارئہ مہرباں

کئی چاند دھند میں کھو گئے

کئی جاگ جاگ کے سو گئے

مگر اِک ستارئہ مہرباں

                جو گواہ تھا

سرِ شام سے دمِ صبح تک

کسی وصل رنگ سی رات کا

کسی بے کنار سے لُطف کا

کسی مشکبار سی بات کا

                مرے ساتھ تھا،

                مرے ساتھ ہے!!!

                (بارش کی آواز ۔  امجد اسلام امجد)

 

طلباء سے بات چیت کے دوران چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے دی گئی ہدایات کی روشنی میں طلباء اور ان کے خاندانوں کے روشن مستقبل کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔ علاوہ ازیں 'ذہنی و تخلیقی نشو و نما میں ترقی کا راز پنہاں ہے' کی اہمیت اور چند ایک رہنما اصولوں کی وضاحت کی گئی۔ بنیادی تعلیم بلا شبہ مستقبل میں کامیابی کی ضامن ہوتی ہے لیکن جہاں معیاری تعلیم کا فقدان ہو وہاں کے بچے اگر مندرجہ ذیل تین اصولوں پر گامزن رہیں تو وہ اپنی منزل پا سکتے ہیں۔

اعلیٰ اخلاقی کردار

(Character)

، اعلیٰ ذاتی قابلیت

(Competency)

، اُتم درجے کامقابلہ کرنے کا جذبہ۔

Competitiveness)

اعلیٰ اخلاقی کردار اور ماہرانہ قابلیت ماں کی گود ، درسگاہ کی دہلیز ، معاشرے اور اداروں کی اقدار میں پنپتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس ذمہ داری کے احساس میں پاک آرمی کے

Youth Engagement Initiative

   کا آغاز کیا گیا ۔ اس احساس میں تبدیلی سوچ پنہاں ہے  اسی لئے شاعرِ مشرق نے ضربِ کلیم میں فرمایا تھا :

جہانِ تازہ کی افکار ِ تازہ سے ہے نمود

کہ سنگ و خِشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

المیہ یہ ہے ہمارے چند نوجوان ترقی کے آسان راستے کے متلاشی ہیں وہ ذاتی اور اجتماعی ناکامی کے اسباب ریاستی ذمہ داریوں اور کوتاہیوں میں ڈھونڈتے ہیں ۔مگر یہ مشہور مقولہ ہمیشہ ہمارے ذہن میں رہنا چاہئے کہ

"Do not ask what country has done for you, Ask what you have done for the country".

(یہ مت پوچھو کہ ملک نے تمہارے لئے کیا کِیابلکہ اپنے آپ سے یہ پوچھو کہ تم نے ملک کے لئے کیا کیا ۔)

نشیب و فراز اور رکاوٹیں زندگی کا لازمی حصہ ہیں کسی بھی کامیاب شخص کی کامیابی کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ خاردار گزرگاہ ہوتی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ کامیابی کے لئے قابلیت اور محنت کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اور چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لئے مضبوط قوتِ ارادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بقول منیر نیازی:

ہم ہیں مانندِ ابر مگر اِس ہوا سے ڈر کر

سمٹ ہی جائیں گے ایسے بھی ہم نہیں

طلباء سے سوال و جواب کی نشست میں یہ عیاں ہوا کہ نام نہاد قوم پرست اور ملک دشمن عناصرکا فتنہ و فساد، غداری اور ذہنی خلفشاری پر مبنی زہر آلود ایجنڈہ کسی حد تک ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں سرایت کر چکا ہے ۔ اِن انسانیت کے دشمنوں نے اپنے منشور کے فروغ کے لئے نوجوان طلباء کو چنا ہے۔ یہ برادارانِ یوسف ہمارے ازلی دشمن بھارت کی خفیہ ایجنسی را کی پشت پناہی میں بچوں کے ذہنوں میںباغیانہ سوچ کے فروغ میں شب وروز مصروف ہیں۔ یہ کم بخت ہائی سکول کوٹلی کے معصوم طالب علم کے ذہن میں یہ سوچ ڈالتے ہوئے کہ پاک فوج کے اعلیٰ عہدوں تک کشمیر کے بچوں کو رسائی حاصل نہیں، بھول گئے کہ سدھنو تی کا ایک بچہ محمد عزیز چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل محمد عزیزخان بھی بنا تھا۔ ضلع بھمبر کے پسماندہ گائوں کا شیر افگن موجودہ لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن اور وادی سُماہنی کا اکرام الحق موجودہ سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) اکرام الحق ہے اور ان کی طرح کے بیشمار ہونہار سپوت بھی پیدا ہوئے ہیں۔ آئینی حقوق جیسے ایک سیاسی مسئلے میں طلباء کو الجھانے والے نوسر بازوں میں خوفِ خدا کیوں نہیں پیدا ہوتا کہ طلباء ہمارا قیمتی اثاثہ ہیںان کو تو تعلیم اورصرف تعلیم پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔ اسی طرح قوم دشمن عناصر نے داریل اور تانگیر کے معصوم لوگوں کو سکولوں کونذرِ آتش کرنے پر مائل کیا ۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے منفی ایجنڈے کا شکار دیامر کے غیور سپوت نہ صرف اس فعل پر نادم ہیں بلکہ 40 طلباء کے وفد نے اس شرمناک دہشت گردی کے واقعے کی بھر پور مذمت کی اور بچیوں کی تعلیم کے خلاف دقیانوسی اور فرسودہ سوچ کو نہ صرف رد کیا بلکہ آئندہ اس طرح کی کوشش کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا عہد کیاہے ۔ وادی اشکومن ضلع غذر کے ہونہار طالب علم کے ذہن میں یہ سوچ ڈالنے والے کہ گلگت کے غریب بچے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے، بھول گئے کہ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے گلگت کی دھرتی کے انتہائی قابل اور ذہین سپوت لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن کا تعلق ضلع چلاس کے پسماندہ علاقہ بونجی سے ہے۔مقام افسوس ہے کہ خپلو گانچے کے انتہائی پیارے اور ذہین بچوں میں یہ سوچ اجاگر کرنے والے کہ تمام کیڈٹ کالجز میں زیادہ نشستیں فوج کے لئے مخصوص ہیں ، غیر ملکی ٹکڑوں پر پلنے والے غدارانِ گلگت بلتستان بھول گئے کہ کیڈٹ کالج سکردو میں فوج کا کوئی کوٹہ نہیں بلکہ 70 فیصد نشستیں گلگت بلتستان کے لئے مخصوص ہیں۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی کے تربیتی اداروں تک رسائی مہیا کر کے اپنے نوجوانوں کے روشن مستقبل میں نہ صرف حصہ ڈالا ہے بلکہ ہونہار طلباء کو ایک شاندار موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اس سہولت سے بھر پور استفادہ حاصل کریں جیسا کہ حضرت قائدِ اعظم محمد علی جناح نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر 15 جولائی 1948 کو فرمایا تھا۔

''مجھے اعتماد ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے جوان بڑی تعداد میں آگے بڑھیں گے اور نہ صرف تربیت کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے بلکہ پاکستان کی ترقی کی دوڑ میں بھی حصہ لیں گے۔''

میری ان ہونہار بچوں سے التجا ہے کہ وہ صرف اور صرف تعلیم و تربیت پر اپنی توانائیاں صرف کریں اپنے آپ کو کسی بھی سیاسی سر گرمی اور شرپسند ،باغی عناصر سے دور رکھیں ۔اپنے ملک اور اپنی آزادی کی قدر کریں سبق آموز حوالے کے لئے شام، لیبیا، فلسطین، عراق اور اپنے انتہائی پیارے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے حالات کا تصور کریں۔ اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں اگر خدا نخواستہ  ہم بھٹک کر باہمی نااِتفاقی اور انتشار کا شکار ہو ئے اورکمزور ہو گئے تو پھر علامہ اقبال کی یہ وارننگ ذہن نشین کر لینی چاہئے۔

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

نوجوانوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے ، معاشرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے روشنی کی تلاش کرنی چاہئے۔

امید کی کِرن 

uth Engagement Initiative Yo

کی ثمر آوری کا اندازہ اس امر سے ظاہر ہوا کہ دورے کے اختتام پر طلباء نے مملکتِ خدادادِ پاکستان اور پاکستان آرمی سے والہانہ عقیدت کا بھر پور اظہار کیا اورپُر تشکر انداز میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس اقدام کو سراہا۔ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے طلباء نے پاکستان ملٹری اکیڈمی ، آرمی سکول آف فزیکل ٹریننگ، جونیئر لیڈرزاکیڈمی جیسے انتہائی اہم اداروں تک رسائی پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا جس سے ان کے اندر نئی امنگ ، مقابلے کا جوش اور ترقی کی منزل کی طرف بڑھنے کے عزم کو پختگی ملی ۔ گلگت  بلتستان اور آزاد کشمیر کے 400 ہونہار طلبہ نے پاکستان آرمی کے جنرل ہیڈکوارٹرز کا دورہ اور چیف آف آرمی سٹاف سے رو برو ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور

Youth Engagement Initiative

جیسے  اعلیٰ سوچ اور مثبت قدم کے تسلسل، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کی ترقی اور راہنمائی کے حوالے سے مقامی اور قومی سطح کے سیمینار کے انعقاد کی درخواست کی۔ دورے کے دوران انتہائی اعلیٰ انتظام پر بلوچ رجمنٹ، فرنٹیر فورس رجمنٹ، آرمی میڈیکل کور سنٹر زاورسی ایم ایچ ایبٹ آباد کی کاوشیںقابلِ تحسین ہیں۔

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

یہ ہے پاکستان آرمی، یہ ہے امن کا نشان، میرا پیارا پاکستان، مستقبل کا  پرعزم  اور ترقی کی راہ پر گامزن ، پر امن پاکستان ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر  زندہ  باد ۔

 پاک آرمی زندہ باد                 

پاکستان پا ئندہ باد۔

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP