دہشت گردی یا نفسیاتی عارضہ، امریکن معاشرے کے تضادات

18 مئی سے پہلے کون جانتا تھا کہ سبیکا کون تھی، اور کیا خواب لے کر امریکا روانہ ہوئی تھی، کسے جاننے میں دلچسپی تھی کہ وہ بڑی ہوکر کیا بننا چاہتی تھی۔ وہ جو کبھی اپنے تعلیمی کیرئیر میں بقول اپنے والد کے چوتھی پوزیشن پر نہیں آئی تھی، کسے معلوم تھا کہ محض پندرہ روز بعد اس نے اپنے گھر واپس لوٹنا تھا۔اپنے علم کی تشنگی کو امریکا جیسے ظاہری روشن خیال اور نفسیاتی مسائل میں الجھے معاشرے سے مٹا کر اپنی مٹی میں واپس آنا تھا۔

 

اور  جس گھر میں اس نے بچپن کے قہقہے، بہن بھائیوں سے لڑائی جھگڑے اور محبتیں سب بانٹی تھیں اُسے سجا دیکھ کر اپنی آمد کی خوشی سے یادگار بنوانا چاہتی تھی۔ سبیکا کی آمد یادگار تو ہوگئی لیکن صرف گھر، محلے والوں اور رشتہ داروں کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے اور یادگار بھی ایسی کہ آئندہ ہر سال جب بھی 18 مئی آئے گاپوری قوم اس کے غم میں نمناک ہو گی۔

 

18مئی کو ٹیکساس کے ایک اسکول میں پیش آنے والا واقعہ ماس شوٹنگ کا ایک عام واقعہ تھا۔ کیونکہ وہاں اکثروبیشتر ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ اس واقعے کو پاکستان میں اس لئے زیادہ ڈسکس کیا گیا کیونکہ اس واقعے میں ایک پاکستانی بچی جو سکالرشپ یوتھ ایکسچینج اینڈ سٹڈی پروگرام کے تحت امریکا پڑھنے گئی تھی کی جان چلی گئی۔

 

پاکستانی میڈیا میں بچی کے جسدخاکی کے حوالے سے لے کر وطن واپسی تک کا سفر اور والدین کا غم سے نڈھال ہونا تو دیکھا گیا لیکن کسی بھی چینل نے ان واقعات پر کبھی قوم کو یہ سوچنے کا موقع فراہم نہیں کیا کہ اس واقعے میں یا اس قسم کے واقعات میں اگر کوئی مسلمان ملوث ہوتا تو تصویر کا رخ کیا ہوتا اور کیسا ہوتا؟ یقینا منظر مختلف ہوتا اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے لے کر امریکی میڈیا تک ہر پلیٹ فارم پر یہ شور اٹھایا جاتا کہ یہ دہشت گرد ہے، اس کا مذہب کیا ہے؟ اور یہ کس عسکری تنظیم اور سوچ کا پیروکار ہے؟

 

مگر دلچسپی کا امر یہ ہے کہ امریکا میں آج تک جتنے بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے، اس میں اسلامی عسکریت پسندی یا امریکی شہریوں کا خلفشار کونسا عنصر نمایاں رہا؟اس کا جائزہ لیا جائے تو دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔ امریکا میں صرف اس سال 22 واقعات ماس شوٹنگ کے رپورٹ ہوچکے ہیں۔ اگر اسی واقعے کا موازنہ کیا جائے تو دس افراد کو اسلحہ سے لیس نشانہ بنانے والا کوئی اور نہیں بلکہ اس سکول میں زیر تعلیم 17 سالہ طالبعلم تھا۔ جو پہلے طالبعلموں اور پھر خود کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ لیکن دس لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اس نوجوان کے اعصاب میں طاقت نہ رہی۔

 

جنوری 2018ء سے مئی 2018ء تک کا جائزہ لیا جائے تو بائیس واقعات میں سے دس واقعات جن میں ماس شوٹنگ کی گئی سکولوں میں پیش آئے۔ جہاں نو عمرطالبعلم اسلحہ لاکر اپنے ساتھیوں پر چڑھ دوڑے اور ان میں سے کئی ایک کو اب بھی مقدمات کا سامنا ہے۔ جبکہ باقی واقعات میں گینگ وائلنس، لڑائی جھگڑے اور علاقائی وائلنس کو شامل کرلیا جائے تو یہ کل ملا کر بیس سے زائد ہوجاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان واقعات کو سکولوں سے ہٹاکر اگر عام کیٹیگری میں رکھا جائے تو صرف سال 2018میں 120 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ امریکا میں فائرنگ کے واقعات اتنی تیزی سے ہونے لگے ہیں کہ لوگوں کو یاد بھی نہیں رہتا کہ کتنے عرصے میں کہاں کیا واقعات رونما ہوئے؟ٹیکساس میں پیش آنے والے اس واقعے کو  لیں تو واقعے کے ٹھیک دو روز بعد ریاست مسسیسیپی(Mississippi) میں بھی ماس شوٹنگ کا ایک واقعہ ہوا جو ایک کلب میں پیش آیا تھا اس میں ایک شخص جاںبحق اور سات زخمی ہوئے۔

 

اگر صرف اس سال کا جائزہ لیں تو عالمی برادری اور دنیا کو انسانی حقوق کا سبق دینے والے امریکا اور اس کی ریاستوں کے اعدادوشمار سامنے رکھیں تو مغربی امریکا میں ان واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جس کی ایک وجہ وہاں اسلحہ سے متعلق قوانین میں عوام کو زیادہ سہولیات کا میسر ہونا بھی ہے۔ اس سال 2018ء میں ریاست فلوریڈا میں کل 12 واقعات ماس شوٹنگ کے رپورٹ ہوئے۔ جس کے بعدمزید 8 واقعات رپورٹ ہوئے اور اسی طرح بالترتیب ریاست نارتھ کیرولینا (North Carolina) اور ریاست              اِلی نوائے(Illinois) میں 6، 6 اور جبکہ ریاست مسوری (Missouri)اور ریاست ٹیکساس(Texas) میں اس سال 5، 5 واقعات رونما ہوئے۔ اور امریکا میں کل 102 واقعات اس سال رونما ہوچکے ہیں۔ جو یقینا ان کی حکومت کے لئے لمحۂ فکریہ ہونے چاہئیں مگر ان واقعات کے ساتھ امریکا کی پالیسیوں کا ایک اور منفی پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ ان واقعات کو کسی مذہبی لگائو، کسی رجحان یا مقصد کی تشہیر سے نہیں جوڑا گیا۔ بلکہ ہمیشہ واقعات کو نجی مسائل، جھگڑے، نفسیاتی عارضوں یا لڑکپن کے لااُبالی رجحانات اور خیالات کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کئی واقعات میں نوجوان کسی خاص رجحان یا تعلیم یا فلسفے کی طرف مائل دکھائی دئیے۔ یا پھر حالات و واقعات میں وہ کسی بدلے کی آگ میں جلتے نظر آئے یا کبھی کسی نفسیاتی عارضے میں۔ مگر ان خاص ایشوز پر جو امریکی سوچ کے بارے میں منفی رائے پیدا کرتے ہیں ہمیشہ پردہ ڈالا گیا۔

 

موجودہ امریکی صدر ٹرمپ کے آنے کے بعد جو سب سے پہلے اقدامات کئے گئے اُن میں امیگریشن پر مزید سخت پابندیاں، سات مسلم ممالک کے افراد کی امریکہ آمد پر پابندی جیسے اقدامات سرفہرست ہیں۔ مگر دلچسپی کا امر یہ ہے کہ موجودہ صدر کے آنے کے بعد امریکا میں دائیں بازو کا مذہبی قدامت پرست طبقہ نہ صرف مضبوط ہوا بلکہ انہیں کھل کر ظاہر ہونے کے مواقع ملنے لگے اور خود امریکی حلقہ فکر کے طبقے یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ امریکا میںاسلامی عسکریت پسندی سے کہیں زیادہ دائیں بازو کی مذہبی قدامت پسند سوچ مضبوط ہورہی ہے جو خود امریکی حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے۔ پچھلے کئی سالوں میں امریکا میں متعدد اسلامی عسکریت پسندوں یا ان کی تعلیمات سے متاثر افراد ایسے واقعات میں ملوث رہے جو دولت اسلامیہ عراق و شام یا القاعدہ کی تشہیر چاہتے تھے۔ لیکن ایسے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں سفید فام حضرات نے مختلف وجوہات مثلاًنسل پرستی، مذہبی جھکائو یا تارکین وطن کے خلاف نفرت کا عنصر نمایاں ہو،واقعات کی وجہ بنے۔ ان میں اکتوبر 2017ء کا بڑا واقعہ جو لاس ویگاس (Las Vegas)کے ایک میوزک فیسٹیول میں پیش آیا جہاں ایک 64 سالہ شخص نے 22 ہزار کے مجمع پر فائرنگ کردی۔ اگست 2017ء میں 20 سالہ نوجوان جو نازی ازم سے متاثر تھا، نے اپنی گاڑی ایک مجمعے پر چڑھادی جو نسلی تعصب کے خلاف احتجاج کررہے تھے جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔

 

واشنگٹن میں مقیم ایک تھنک ٹینک نیوامریکا کے مطابق 2001ء سے 2015ء تک اسلامی عسکریت پسندی سے مرنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے بہ نسبت ان افراد کے جو مقامی دائیں بازو کے شدت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ جون 2017ء میں شائع کی گئی ایک اور تجزیاتی رپورٹ جسے سنٹر فار انویسٹی گیٹو رپورٹنگ (Center For Investigative Reporting)نے مرتب کیا کے مطابق2008ء اور 2016ء کے درمیان اسلامی عسکریت پسندی کے 60 سے زائد واقعات ہوئے۔ جبکہ دائیں بازو کے شدت پسندوں کے 110 سے زائد واقعات رونما ہوئے۔لیکن موجودہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعد ان واقعات میں کئی گناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ امریکا میں موجود تارکین وطن یقینا ایسے واقعات کے بعد سیکورٹی اداروں کے چیک کی زد میں آتے ہیں۔ لیکن خود امریکی معاشرے میں پروان چڑھتی سوچ ، غیرمقامیوں کے لئے بڑھتی نفرت، اور عدم برداشت یکجا ہوکر امریکی پالیسیوں کی ناکامی ظاہر کرتے ہیں۔ یقینا دہشت گردی اور عدم تحفظ امریکی حکومت کے دیرینہ مسائل ضرور ہیں۔لیکن پہلے امریکی انتظامیہ کا اپنے مقامی معاشرتی مسائل اور دائیں بازو کی قوتوں کو کمزور کرنا ضروری ہے۔ ورنہ امریکی سیکولر معاشرتی تصور ماند پڑجائے گا۔   


مضمون نگار ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے کرنٹ افیئرز پروگرام کی میزبان اور ایم فل سکالر ہیں۔

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP