حقائق کا ایک اور رخ

ہم ہر سال 16اکتوبر کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی برسی مناتے ہیں جنہیں آج سے کئی دہائیاں قبل 1951میں راولپنڈی کے جلسہ عام میں دن دیہاڑے ہزاروں لوگوں کے سامنے گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔ لیاقت علی خان ہماری تحریکِ آزادی کے مردِ مجاہد تھے اور انہوںنے  قائداعظم کی قیادت میں طویل عرصے تک مسلمانانِ ہند و پاکستان کی آزادی کے لئے جدوجہد کی۔ مرحوم طویل عرصے تک مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری رہے جبکہ قائداعظم مسلم لیگ کے صدر تھے۔ اس نسبت سے لیاقت علی خان کا شمار پاکستان کے قومی ہیروز اور معمارانِ وطن میں ہوتا ہے۔ آپ کی قومی خدمات اور عظمتِ کردار کا روشن مینار ہمیشہ ہماری راہوں کو منور کرتا رہے گا۔

پاکستان معرضِ وجود میںآیا تو قائداعظم گورنرجنرل بنے اور لیاقت علی خان کو وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داری دی گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائداعظم کو لیاقت علی خان پر کس قدر اعتماد تھا اور لیاقت علی خان کی مسلم لیگ کے ہر اول دستے میں کیا حیثیت تھی۔ ہماری موجودہ نسل نے سیاسی لیڈروں کی صرف لوٹ کھسوٹ اور رشوت ستانی کی داستانیں سنی ہیں۔ اس لئے ان کے لئے یہ اچنبھے کی بات ہو گی کہ جب لیاقت علی خان شہید ہوئے تو ان کی جیب میں فقط چند روپے تھے۔ ان کا شمار ہندوستان کے بڑے جاگیرداروں میں ہوتا تھا۔ لیکن انہوں نے پاکستان میں زمین الاٹ کروائی نہ گھر حاصل کیا۔ وفات کے وقت ان کا بینک بیلنس بھی دو ہزار روپوں کے لگ بھگ تھا۔ آج یہ تصور کرنا محال ہے کہ ایک شخص جو ملک کا وزیراعظم اور سیاہ و سفید کا مالک تھا ہندوستان میں چھوڑی ہوئی جائیداد کا الاٹ کرانا ان کا جائز حق تھا۔ لیکن اس کے باوجود لیاقت علی خان نے پاکستان سے کچھ بھی نہ لیا اور دن رات ہمہ وقت ملک و قوم کی خدمت میں مصروف رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری تحریک ِ آزادی کی قیادت خلوص، ایثار اور عظمتِ کردار کی درخشندہ مثال تھی۔ اور ان کی انہی خوبیوں کے سبب قوم ان کے جھنڈے تلے متحد ہوئی اور اسی اتحاد، جدوجہد اور ایثار کے نتیجے کے طور پر پاکستان قائم ہوا۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1958تک جو سیاسی لیڈر پاکستان کی سیاست پر چھائے رہے اور بڑے بڑے سیاسی عہدوں پر فائز رہے ان میں سے ایک کے علاوہ کسی پر بھی مالی کرپشن کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ ان سے سیاسی اختلاف ضرور کیا جا سکتا ہے۔ لوٹ کھسوٹ اقرباء پروری رشوت ستانی اور دولت کے انبار لگانے کا سلسلہ پہلے مارشل لاء سے شروع ہوا۔ بدقسمتی سے جب ایک بار یہ سلسلہ چل نکلا تو پھر دن رات اس میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ کیونکہ ہمارے نظام میں سچے احتساب کا تصور موجود نہیں تھا۔ اگر ناجائز ذرائع سے دولت کمانے والوں کا کڑا احتساب ہوتا تو شائد اس وبا پر قابو پایا جا سکتا تھا۔

 

بہرحال پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو ہر طرف سیکڑوں مسائل کی آندھیاں چل رہی تھیں جو اس نرم و نازک پودے کو جڑ سے اکھاڑ سکتی تھیں۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ انتقالِ آبادی اور مہاجرین کی آبادکاری کا تھا۔ اس کے علاوہ انتظامی، معاشی اور مالی مسائل اس قدر گھمبیر تھے کہ آج ہم واپس مڑ کر دیکھتے ہیں تو ان مسائل و مصائب سے نکل کر پاکستان کا ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے زندہ رہنا اور ترقی کرنا ایک کرامت ہے۔ پاکستانی قوم میں اتحاد پیدا کرنے اور ملک کی کشتی کو معاشی و انتظامی مسائل سے نکالنے میں لیاقت علی خان نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے نہ صرف ملک و قوم کو اندرونی انتشار اور خارجی خطرات سے محفوظ رکھا بلکہ پاکستان کے دفاع کی منصوبہ بندی پر بھی خاطر خواہ توجہ دی۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں لیاقت علی خان پر مغرب کی جانب جھکائو کا الزام لگایا جاتا ہے۔ لیکن ان حالات میں پاکستان کو مسئلۂ کشمیر کے سبب ہندوستان سے مسلسل خطرہ درپیش تھا۔ خود ملک کے وسائل اتنے نہیں تھے کہ اسلحہ خریدا جا سکتا۔ دوسری طرف ہندوستان نے 1947 میں اسلحے اور فوجی سازوسامان کی تقسیم میں زبردست گھپلا کیا تھا۔ مسلمان ممالک اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ پاکستان کی مدد کر سکتے۔ ہمارے ہمسائے روس کا جھکائو ہندوستان کی جانب تھا اس لئے ان حالات میں لیاقت علی خان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہئِ کار نہ تھا کہ وہ امریکہ سے دوستی کا ناتا قائم کرتے اور پاکستان کی فوری ضروریات کے پیش نظر فوجی امداد حاصل کرتے۔

آزادی کے بعد ملک و قوم کو متحد رکھنے کے لئے آئیڈیالوجی کے علاوہ قومی سطح کی قیادت اور قومی سطح کی سیاسی جماعتوں کی ضرورت تھی۔ دراصل ترقی پذیر معاشروں میں قومی یکجہتی کے عمل کو مضبوط بنانے کے لئے ایسی سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کی جڑیں تمام علاقوں اور صوبوں میں پیوست ہوں۔ لیاقت علی خان ایک ایسی سیاسی شخصیت تھی جسے سارے ملک میں مقبولیت حاصل تھی اور جسے قائداعظم کی وفات کے بعد ساری قوم کا اعتماد حاصل تھا۔ لیکن لیاقت علی خان کے جانشین نااہل ہونے کے علاوہ سیاسی طور پر اپنے اپنے علاقوں تک محدود تھے۔ چنانچہ لیاقت علی خان کی موت سے قومی یکجہتی کا عمل متاثر ہوا۔ دوم جب مضبوط سیاسی قیادت نہ رہی اور جمہوری ادارے پروان نہ چڑھ سکے تو قدرتی طور پر ملکی معاملات میں نوکرشاہی کا عمل دخل بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ملکی سیاست پر بیورکریسی چھا گئی۔ غلام محمد سے لے کر سکندر مرزا تک سرکاری حکام نے ملک و قوم کا جو حشر کیا وہ ہمارے سامنے ہے۔ ایک لحاظ سے یہ قوم کی بدقسمتی تھی جس کی ہمیں من حیث القوم سزا بھگتنی پڑی اور بالآخر 1958میں ملک میں مارشل لاء بھی لگ گیا ۔

لیاقت علی خان کا قتل آج تک معمہ بنا ہوا ہے اور اب تو اس معمے کے حل ہونے کی کوئی امید نہیں رہی۔ چونکہ سرکاری سطح پر اس کی خاطر خواہ تحقیق نہیں ہوئی اور نہ اس ضمن میں حکومت نے کوئی رپورٹ شائع کی۔ اس لئے قوم کو آج تک لیاقت علی خان کے قتل کے اصل محرکات کا علم نہیں ہو سکا۔ البتہ تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے ملکی حالات و واقعات اور شواہد کا تجزیہ کیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ لیاقت علی خان کا قتل کسی گہری سازش کا نتیجہ تھا اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ یہ میری طالب علمانہ رائے ہے جس میں ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔

سازش کی تفصیلات میں جانے سے قبل لیاقت علی خان کے قاتل سَید اکبر کا پس منظر جاننا ضروری ہے۔ سید اکبر افغانستان کے مشہور صوبہ پکتیا کے ایک سردار کا بیٹا تھا جب انگریزوں کی شہ پر افغان بادشاہ امان اﷲ خان کے خلاف بغاوت ہوئی تو امان اﷲ خان کو ملک چھوڑنا پڑا۔ ہندوستان کی انگریز حکومت نے امان اﷲ خان کے بہت سے ساتھیوں کو ہندوستان میں پناہ دی تاکہ کابل میں برسراقتدار حکومت امان اﷲ خان کے ساتھیوں کی مخالفت سے محفوظ رہے۔ ان حضرات میں دو بھائی سردار مزرک خان اور سَید اکبر بھی شامل تھے۔ سَید اکبر اپنے کنبے کے ساتھ ایبٹ آباد میں آباد ہو گیا اور انگریز حکومت کی مانند حکومت پاکستان نے اسے مشکوک افراد کی فہرست میں رکھا۔ اس لئے ہر روز اس کا تھانے میں حاضر ہونا لازمی تھا۔ تحقیق کے مطابق سَیداکبر، لیاقت علی خان کے قتل سے ایک روز قبل یعنی پندرہ اکتوبر کو روالپنڈی پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ ہزارہ سی آئی ڈی کا آدمی سید اکبر کو راولپنڈی سی آئی ڈی کے حوالے کر کے واپس لوٹا۔ بہرحال اس امر کے شواہد موجود ہیں کہ پنڈی سی آئی ڈی کو سید اکبر کی آمد کی اطلاع تھی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سید اکبر کے راولپنڈی پہنچنے کے دن تک وزیراعظم کے پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا تھا اور اس پروگرام کا علم صرف اعلیٰ حکام کو تھا۔ سَید اکبر جس ہوٹل میں ٹھہرا اس کا مالک ایبٹ آباد کا جدون پٹھان تھا اور خاکسار جماعت سے تعلق رکھتا تھا۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ راولپنڈی سی آئی ڈی کا ایک سپاہی اس ہوٹل میں گیا اور اس نے سید اکبر کے قیام کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ ہوٹل کے مینیجر کے بیان کے مطابق سی آئی ڈی کے سپاہی نے ہوٹل کا رجسٹر بھی دیکھا تھا جس میں سَید اکبر کا پتہ معرفت سی آئی ڈی لکھاہوا تھا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ سَید اکبر نے غلط بیانی کی ہے۔ پولیس نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ سَید اکبر کے ہمراہ اس کا بیٹا بھی تھا۔ اس کے بیان کے مطابق وقوعہ سے کچھ عرصہ قبل سَید اکبر نشانے کی مشق کرتا رہا تھا۔ یہاں ذہن میں سوال بھی ابھرتا ہے کہ کیا سَید اکبر پستول ایبٹ آباد سے ساتھ لایا تھا یا اس نے یہ پستول پنڈی سے حاصل کیا اور پھر یہ کہ ایسے مشکوک شخص کو مسلح ہو کر جلسے میں آنے کی اجازت کیوںکر دی گئی یا اس کی جامہ تلاشی کیوں نہ لی گئی۔؟

یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ وزیراعظم کی حفاظت کے لئے مناسب انتظامات کیوں نہ کئے گئے۔ حالانکہ جلسے میں پولیس سفید کپڑوں میں اور سی آئی ڈی بھی موجود تھی۔ لیکن اس کے باوجود سیداکبر کو سٹیج کے بالکل قریب دوسری تیسری قطار میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی۔

لیاقت علی خان کو گولی لگنے کے بعد راولپنڈی کے ایک قصاب نے سَیداکبر کو پکڑ لیا۔ قاتل پوری طرح اس کے قبضے میں تھا لیکن اس کے باوجود شاہ محمد اے ایس آئی پولیس آگے بڑھا اور اس نے قاتل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ سید اکبر کی جیب سے تین ہزار روپے برآمد ہوئے جو شائد وہ بھاگنے کے لئے رخت سفر کے طور پر اپنے ساتھ لایا تھا۔ لیکن اسے علم نہ تھا کہ روپے دینے والے اس کی جان بھی لے لیں گے۔ سید اکبر ایک غریب آدمی تھا اسے معمولی وظیفہ ملتا تھا لیکن اس کے باوجود تلاشی پر اس کے گھر سے دس ہزار روپے نقد برآمد ہوئے۔ یہ روپیہ کہاں سے آیا؟ کوئی نہ بتا سکا۔ حتیٰ کہ اس کی بیوی کو بھی علم نہ تھا۔ غور کیجئے تو یہ ساری باتیں سوچے سمجھے منصوبے کی کڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر

ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر!

عِشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں

یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر!

تو ہے محیطِ بے کراں، میں ہوں ذرا سے آبجو

یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بیکنار کر!

میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گُہر کی آبرو

میں ہوں خزف تو تُو مجھے گوہرِ شاہوار کر!

نعمۂ تو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو

اس دمِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر!

باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں؟

کارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر

روزِ حساب جب مِرا پیش ہو دفترِ عمل

آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر!

(علامہ اقبال)

 

لیاقت علی خان ایک اہم اعلان کرنے والے تھے اور اُن کی کابینہ کے وہ وزیر پنڈی میں موجود ہونے کے باوجود جلسے میں تشریف کیوں نہ لائے؟ یہ وزراء غلام محمد اور مشتاق گورمانی تھے۔ دونوں اﷲ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ اﷲ ان کی مغفرت فرمائے۔ یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ غلام محمد کو کابینہ سے نکالا جا رہا تھا اور انہوں نے چند دنوں کی مہلت مانگی تھی۔ وہ مہلت کے چند دن گزارنے پنڈی میں اپنی منہ بولی بیٹی کے پاس آئے تھے اور نواب صدیق علی خان (سینیٹر سیکرٹری وزیراعظم لیاقت علی خان) کے بقول وہ خود غلام محمد کو وزیراعظم کی جانب سے ریلوے سٹیشن پر خداحافظ کہنے آئے تھے۔ نواب صدیق علی خان نے اپنی کتاب ''بے تیغ سپاہی'' میں لکھا ہے کہ وزیراعظم نے غلام محمد اور گورمانی دونوں کو کابینہ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن اس فیصلے کا علم صرف چند باخبر اعلیٰ حکام کو تھا۔ بہرحال اس سے قبل کہ غلام محمد کی مانگی ہوئی مہلت ختم ہوتی وزیراعظم ہزاروں لوگوں کے سامنے گولی کا نشانہ اور غلام محمد گورنر جنرل بن گئے۔

پنجاب کا آئی جی پولیس قربان علی خان جو وزیراعظم کے حفاظتی انتظامات کا ذمہ دار تھا اس اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر ترقی پا کر بلوچستان کا گورنر بن گیا اور شاہ محمد اے ایس آئی کو پنشن دے کر ریٹائر کر دیا گیا۔ گجرات کے قریب ایک گائوں مدینہ کے رہائشی شاہ محمد کا بعد ازاں دماغ مائوف ہو گیا تھا وہ گلیوں میں مارا مارا پھرتا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ گویانہ کوئی ذمہ دار افسر گناہ گار تھا نہ کسی کو عہدے سے ہٹایا گیا۔ بالآخر ایک انکوائری کمیشن مقرر کیا گیا جو ہائیکورٹ کے ججوں پر مشتمل تھا کمیشن کی آزادی کا اندازہ اس سے کر لیجئے کہ کئی گواہوں نے کمیشن کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ پولیس سفید کپڑوں میں ان کا تعاقب کرتی ہے اور ہراساں کرتی ہے۔ پھر پتہ چلا کہ جہاں کمیشن عدالت لگاتا تھا اس عمارت کے اردگرد سی آئی ڈی موجود رہتی تھی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جج صاحب کو حکومت سے احتجاج کرنا پڑا اور اس احتجاج کا بھی خاطرخواہ اثر نہ ہوا۔ حکومت عوام کو بار بار یہی تاثر دیتی رہی کہ یہ قتل محض ایک حادثہ تھا۔ پراسیکیوشن نے سیداکبر کے خلاف مقدمہ میں اس کے گھر سے درآمد کی ہوئی ایک ڈائری پیش کی جس میں ایک استخارہ کے متعلق درج تھا کہ ملزم نے لیاقت علی خان کو قتل کرنے کا استخارہ کیا تو اس نے دیکھا کہ جنت کی پریاں اس کی منتظر ہیں۔ اگرچہ بظاہر پستول کی گولیاں اس کی منتظر تھیں۔ بہرحال رعنا لیاقت علی خان برابر اصرار کرتی رہیں کہ ان کے خاوند کا قتل کسی تہہ در تہہ سازش کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ بیگم لیاقت علی کو سفیر بنا کر ملک سے باہر بھیج دیا گیا تاکہ سازش کے ذکر کا سلسلہ بند کیا جا سکے۔ اس زمانے میں کئی لوگوں نے اور خاص طور پر سابق پولیس افسروں نے تحقیقات کے لئے اپنی اپنی خدمات پیش کیں۔ لیکن حکومت نے کوئی توجہ نہ دی۔

سرکاری طور پر تحقیقات اعزاز الدین آئی جی سپیشل پولیس کے سپرد کی گئیں انہوں نے بڑی محنت اور اخلاص سے کام کیا۔ ان کے قریبی حلقوں کے مطابق تحقیقات کے دوران وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ موت کے سائے میرے سر پر منڈلا رہے ہیں پھر انہوں نے ایک دن اخباری بیان میں کہا کہ سازش کا سراغ مل گیا ہے اور بہت جلد اسے بے نقاب کر دیا جائے گا۔ یہ اتنا بڑا جرم تھا کہ انہیں معاف نہیں کیا جا سکتاتھا۔ چنانچہ وہ جس ہوائی جہاز میں کیس کی فائلوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ وہ طیارہ جہلم کے قریب فضا میں لڑکھڑا کر پہاڑیوں پر گرا اور وہ چکناچور ہو گیا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ خودبخود ہو رہا تھا؟ کیا عام حالات میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے؟ عوام کو مطمئن کرنے کے لئے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین بلائے گئے۔ لیکن ہر طرف سے احتجاج ہوا کہ ہمیں حکومت برطانیہ کے کسی ادارے پر اعتماد نہیں۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین بھی ناکام رہے اور مایوسی کا اظہار کر کے واطن واپس لوٹ گئے۔ محمدعلی بوگرہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے معصومیت میں تحقیقات کرانے کا وعدہ کر لیا اور امریکہ سے ایف بی آئی کے ماہرین بلانے کا اہتمام کیا گیا لیکن گورنر جنرل غلام محمد نے منع کر دیا۔

ان تمام واقعات کی کڑیوں کو جوڑا جائے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ لیاقت علی خان کا قتل کسی سازش کا نتیجہ تھاا ور سازش میں ملوث لوگ اس قدر بااختیار تھے کہ اصل حقائق سامنے نہ آ سکے۔ انکوائری ہوئی نہ مجرموں کا پتہ چلا اور یوں یہ سازش راز ہی رہی۔ گزشتہ چند برسوں سے کہا جا رہا ہے کہ امریکہ نے لیاقت علی خان کو مروایا۔ کچھ لوگ امریکہ کے خفیہ ریکارڈ کا حوالہ بھی دیتے رہتے ہیں لیکن تاریخ ابھی تک کسی مستند شواہد کی منتظر ہے۔


مضمون نگار: ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP