جسٹس (ر) محبوب احمد سے ملاقات

نظریۂ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ ہے اور یہی پاکستان کی اساس ہے جس سے نئی نسل کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

چیئرمین تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹجسٹس (ر) میاں محبوب احمد

 

جسٹس (ر) میاں محبوب احمد نے تحریک پاکستان میں عملی حصہ لیا۔ اُنہیں بانیِٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، محترمہ فاطمہ جناح اور لیاقت علی خان سے ملاقاتوں کا شرف بھی حاصل رہا۔ بطور جنرل سیکرٹری مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن دہلی تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کے عہدوں پر فائز رہے۔ اپنی حب الوطنی، اصول پسندی اور بے باکی کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ ان دنوں تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے نظریہئِ پاکستان اور نئی نسل میں جذبۂ حب الوطنی کے فروغ کے لئے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان سے ہلال کے لئے خصوصی گفتگو کی گئی جو پیشِ خدمت ہے۔

س: اپنی ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟

ج: میرے والد خان بہادر منظور واحد سرکاری ملازم تھے اور محکمہ پولیس میں کام کرتے تھے۔ برٹش گورنمنٹ کے تحت ان کی تقرری تقریباً اٹھارہ سال تک مڈل ایسٹ میں رہی۔ پھر ہندوستان آ گئے۔ میرے والد صاحب نے برٹش گورنمنٹ سے کہا کہ اب میں نے وردی نہیں پہننی لہٰذا ان کی تقرری کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ دہلی میں کر دی گئی۔ وہ بہت مذہبی تھے۔ ہندوئوں کی مسلم دشمنی کی وجہ سے وہ انہیں پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے ہماری تربیت بھی اسلامی ماحول میں کی اور ہمیں اپنے اسلامی تشخص پر فخر کرنے کی ترغیب دی۔

جہاں تک خاندانی پس منظر کا تعلق ہے تو ہمارا خاندان بہت مذہبی تھا۔ میرے ماموں کی امرتسر میں وولن فیکٹری تھی۔ ان کی یہ ترقی ہندوئوں کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی اور وہ ان سے مخاصمت رکھتے تھے۔ میرے دادا جوانی میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ میری دادی نے بیوگی کی حالت میں اپنے بچوں کی عمدہ پرورش کی۔ میرے والد محکمہ پولیس میں گئے جبکہ میرے چچا ڈائریکٹر ایجوکیشن تھے۔ برٹش گورنمنٹ نے میرے والد صاحب کو ''خان بہادر'' کا خطاب بھی دیا تھا۔

س: آپ نے تحریکِ پاکستان میں حصہ لیا اس کی کچھ تفصیل بتائیں؟

ج: 1946 میں تحریکِ پاکستان میں شدت پیدا ہو گئی تھی۔ میں چونکہ زمانہئِ طالب علمی میں کھیلوں اور تقریری مقابلوں میں حصہ لیا کرتا تھا لہٰذا تحریکِ پاکستان میں بھی سرگرم ہو گیا۔ مجھے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن دہلی کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ ہم نے مسلم لیگ کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔ ہم جلسے جلوسوں میں حصہ لیتے تھے۔ ''لے کر رہیں گے پاکستان'' کے نعرے لگاتے تھے۔

س: آپ کے والد صاحب برطانوی حکومت کے محکمہ پولیس میں تھے تو پھر آپ کیسے حصول پاکستان کی جدوجہد میں حصہ لیتے تھے؟

ج: ہمارا خاندان چونکہ مذہبی تھا اس لئے تحریکِ پاکستان سے وابستگی فطری امر تھا۔ والد صاحب ہندوئوں کے تعصب اور مسلمانوں کے خلاف ان کی سازشوں کی وجہ سے ان سے نالاں تھے۔ اس لئے ہمیں ان کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ ایک مرتبہ انگریز پولیس افسر رابنسن نے میرے والد صاحب سے شکایتی لہجے میں کہا کہ آپ کا بیٹا جلسے جلوسوں میں شرکت کرتا ہے اور اس پر میرے والد صاحب نے کہا کہ جلسے جلوسوں میں حصہ لینا اس کا کام اور کسی قانون کی خلاف ورزی پر اُسے پکڑنا میرا کام ہے۔ اس پر انگریز افسر خاموش ہو گیا۔

س: آپ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن دہلی کے جنرل سیکرٹری اور تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن تھے تو تحریکِ پاکستان کے کن رہنماؤں سے ملاقات کا موقع ملا؟

ج: لیاقت علی خان میرے والد صاحب کے دوست تھے۔ ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں وہ بہت شفیق اور نفیس انسان تھے۔ مارچ 1947میں ہم کچھ طالب علم قائداعظم محمد علی جناح سے ملاقات کے لئے ان کی رہائش گاہ پر گئے۔ قائداعظم مصروف تھے لیکن پھر بھی انہوں نے بلا لیا۔ البتہ فرمایا کہ دو تین نمائندے آ جائیں۔ ہم تین طالب علم اندر گئے ۔ میرا تعارف بطور جنرل سیکرٹری مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن دہلی ہوا۔ وہ ہم سے محبت سے ملے۔ ہم نے تحریکِ پاکستان کے حوالے سے رپورٹس پیش کیں۔ انہوں نے ہماری کاوشوں کو سراہا لیکن فرمایا: ''آپ اپنی توجہ تعلیم پر دیں سیاست میں حصہ نہ لیں۔ اپنی تعلیم مکمل کرلیں پھر دیکھیں گے آپ کیا کر سکتے ہیں؟'' اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ برصغیر کے مسلمانوںخاص طور پر نوجوانوں کی تعلیم کے حصول کو کس قدر اہمیت دیتے تھے اور انہیں نوجوانوں کے مستقبل کی کتنی فکر تھی۔ کیونکہ ہندوئوں نے تعلیم حاصل کر کے برطانوی حکومت میں اعلیٰ عہدے حاصل کر لئے تھے۔ جبکہ مسلمان تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ہر شعبے میں پیچھے رہ گئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو بلایا اور کہا کہ ان کو اچھی سی چائے پلا کر رخصت کر دیں۔ ہم نچلی منزل پر آ گئے۔ محترمہ نے ہمیں چائے پلائی۔ اس طرح ہمیں ان دونوں شخصیات سے ملاقات کا اعزاز حاصل رہا۔

 سردارعبدالرب نشتر اور راجا غضنفر علی خان اور دیگر رہنمائوں سے بھی ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔ یہ دہلی میں امپیریل ہوٹل میں آ کر ٹھہرتے تھے۔ سردار عبدالرب نشتر کا رویہ ہم طالب علموں سے بڑا مشفقانہ ہوتا تھا۔ حالانکہ بظاہر وہ بہت رعب، دبدبے والے لگتے تھے۔ راجا غضنفر علی خان سے پاکستان بننے کے بعد بھی لاہور میں ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ یہ ملاقاتیں میری یادوں کا خوشگوار حصہ ہیں۔

س: قیامِ پاکستان کے وقت آپ دہلی میں تھے تو پھر پاکستان کب اور کیسے پہنچے؟

ج: پاکستان بننے کے بعد میرے ماموں جن کی امرتسر میں وولن مل تھی اُنہوں نے پاکستان جانے کے لئے ہمارے لئے خصوصی ہوائی جہاز کا بندوبست کیا۔ ہم ضروری سامان لے کر ایئرپورٹ پہنچے۔ ائیرپورٹ انتظامیہ نے سازش سے ہمیں ائیرپورٹ پر ہی بٹھائے رکھا اور جہاز کو واپس بھجوا دیا۔ اس پر ہم پریشان ہو گئے۔ ایئرپورٹ سے ہم دہلی کے مہاجر کیمپ چلے گئے اور پاکستان روانگی کا انتظار کرنے لگے۔ برطانوی فوج کے جنرل ناتھ نے میرے والد صاحب سے کہا کہ ہندو اور سکھ آپ کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتے۔ وہ کسی بھی وقت آپ اور آپ کے خاندان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس لئے جتنی جلدی ممکن ہو آپ پاکستان چلے جائیں۔ اس نے ایک ٹرین کا بھی بندوبست کر دیا۔ اس نے کہا کہ آپ اپنے خاندان کے افراد کو دیگر لوگوں کے ساتھ ٹرین میں سوار کروا دیں اور ظاہر نہ کریں کہ آپ بھی ان کے ساتھ جا رہے ہیں۔ آپ غیرسرکاری طور پر چپکے سے ٹرین میں سوار ہو جائیں تاکہ ہندو اور سکھ یہ سمجھیں کہ آپ دہلی ہی میں ہیں۔ یوں ہم سب ٹرین میں سوار ہو گئے۔ ٹرین روانہ ہوئی تو راستے میں کئی جگہ فسادات ہو رہے تھے۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہماری ٹرین کی حفاظت کے لئے بلوچ رجمنٹ کا دستہ تعینات تھا۔ یہ سب مسلمان تھے۔ راستے میں دو جگہ بلوائیوں نے ٹرین پر حملہ کیا لیکن بلوچ رجمنٹ کے جوانوں نے بلوائیوں کا صفایا کر دیا۔ ورنہ جن حفاظتی دستوں میں ہندو اور سکھ تعینات تھے وہ مسلمانوں کی حفاظت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کو قتل عام کا بھرپور موقع دیتے تھے۔ راستے میں گاڑی کئی کئی گھنٹے کھڑی رہتی تھی۔ ہم اڑھائی دن میں دہلی سے لاہور پہنچے۔

س:  آپ دہلی میں جتنا عرصہ رہے اس عرصے میں ہندوئوں اور سکھوں کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ کیسا تھا؟

ج:  ہندو بہت متعصب تھے۔ وہ اپنے مفاد کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سارے ہندوستانی ایک قوم ہیں لیکن عملی طور پر وہ باقی مذاہب کے لوگوں کو حقیر سمجھتے تھے اور کسی بھی شعبے میں دوسروں کو آگے نہیں بڑھنے دیتے تھے۔ کسی مسلمان کا ہاتھ ان کے کسی برتن کو لگ جاتا تو وہ کہتے کہ برتن پلید ہو گیا ہے۔ سکھ مذہبی تھے لیکن مذہبی ہونے کے باوجود وہ لبرل تھے۔ جو دل میں آتا کہہ دیتے تھے لیکن جو ہندو غیر مذہبی تھے وہ بھی لبرل نہیں تھے۔ ان کی سوچ اور عمل متعصبانہ اور منا فقانہ ہوتا تھا۔ ہر وقت مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں رہتے تھے۔

س:  آپ کے اساتذہ میں ہندو زیادہ تھے یا مسلمان؟

ج:  ہندو ہر شعبے میں چھائے ہوئے تھے۔ 1857 کی جنگ ِ آزادی کے بعد ہندوئوں نے انگریزوں کو مسلمانوں کے خلاف خوب بھڑکایا تھا۔ اس طرح انہوں نے انگریزوں سے عہدے اور مراعات حاصل کیں اور مسلمانوں کی ترقی کے راستے مسدود کر دیئے۔ ہمارے اساتذہ بھی زیادہ تر ہندو تھے۔ ان کا تعصب بھی نمایاں تھا۔ مسلمانوں کو وہ قریب بھی نہیں آنے دیتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ مسلمان طالب علموںکو کام کی بات کا علم نہ ہو جائے۔ وہ ہندو طالب علموں کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کرتے، اسی وجہ سے مسلمان تعلیم میں بھی پیچھے رہ گئے تھے۔

مجھے صرف ایک ٹیچر یاد ہیں جن کا نام لالہ امرناتھ تھا۔ وہ شکل و صورت یا عمل سے بالکل ہندو نہیں لگتے تھے۔ انہوں نے کبھی نفرت والی بات نہیں کی تھی۔ ایک روز مجھے کہنے لگے کہ بیٹا تم نے اپنی محنت سے پڑھنا ہے۔ اگرہندو کچھ بتائے بھی تو اسے پرکھ لیا کرو۔

س:  ہندوستان میں مسلمانوں کی پسماندگی کی کیا وجہ تھی؟

ج:  1857کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھانا شروع کر دیا اور ترقی کے دروازے ان پر بند کر دیئے۔ یوں مسلمان تعلیمی اور معاشی طور پر پیچھے رہ گئے۔ مسلمانوں کے پاس پیسہ نہیں تھا کہ تعلیم کے لئے خرچ کر سکیں۔ سکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کا رجحان یہ تھا کہ وہ پیسہ دیکھتے تھے اور امیروںکے بچوں پر توجہ دیتے تھے۔ مسلمان خود تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ اس لئے ان کے بچے بھی تعلیم میں پیچھے رہ گئے۔ البتہ جو مسلمان تعلیم یافتہ تھے ان کے بچے تعلیم میں ہندوئوں کا مقابلہ کرتے تھے۔ مسلمان کاروباری لحاظ سے بھی پیچھے تھے اور تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں سے بھی محروم تھے۔ ہندو مسلمانوں کو آگے نہیں بڑھنے دیتے تھے۔ اسی لئے مسلمانوں نے اپنے لئے الگ وطن حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا۔

س:  ہمارے ہاں ابھی تک بعض لوگ کہتے ہیں کہ برصغیر میں سب قومیں اچھے طریقے سے رہ رہی تھیں۔ خواہ مخواہ الگ وطن بنا کر برصغیر کو تقسیم کر دیا گیا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کو واقعی ایک الگ ملک کی ضرورت تھی؟

ج:  مجھے ایسے لوگوں کی سوچ پر حیرت ہوتی ہے۔ یہ بہت بُری اور غلامانہ سوچ ہے۔ جو مسلمان ہندوستان میں رہ رہے ہیں ان کو دیکھیں کہ ان کی کیا حالت ہے۔ وہاں کے مسلمانوں کو ہندو نہ کوئی مواقع دیتے ہیں نہ دیں گے۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو مسلمانوں کی حالت اچھوتوں سے بھی بدتر ہوتی۔ وہ بڑے ناسمجھ لوگ ہیں جن کی اب بھی یہی سوچ ہے۔ بھارت میں مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ہوتا ہے، بھرے بازاروں میں مسلمانوں کو شہید کر دیا جاتا ہے۔ ان کو دوسرے تیسرے درجے کے شہری سمجھا جاتا ہے۔ ہندو ہزاروں سال انگریزوں اور مسلمانوں کا غلام رہا ہے۔ وہ ابھی تک اس کو نہیں بھولا۔ مجھے کہنا نہیں چاہئے لیکن کہے بنا رہ بھی نہیں سکتا کہ ہندو میں فطری کمینگی ہے اور وہ اس کا مظاہرہ ہر موقع پر کرتا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ تو جو سلوک ہو رہا ہے پاکستان کے ساتھ بھارتی حکومت کا جو رویہ ہے، اس سے بھی ایسے لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ اگر ہندوئوں کو پاکستان کا خوف نہ ہوتا اور پاکستان نہ بنا ہوتا تو مسلمانوں کے ساتھ ہندوئوں کا رویہ اس سے کہیں زیادہ برا ہوتا۔ آج پاکستان کے مسلمان خوشحال ہیں پاکستان ترقی کر رہا ہے۔ دشمنوں کی سازشوں کے باوجود پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن چکا ہے۔ جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں ان کو بھارت بھیج دینا چاہئے تب انہیں پاکستان اور آزادی کی قدروقیمت اور ہندو کی مکاری کا اندازہ ہو گا۔

ہندو بہت متعصّّب تھے۔ وہ اپنے مفاد کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سارے ہندوستانی ایک قوم ہیں لیکن عملی طور پر وہ باقی مذاہب کے لوگوں کو حقیر سمجھتے تھے اور کسی بھی شعبے میں دوسروں کو آگے نہیں بڑھنے دیتے تھے۔ کسی مسلمان کا ہاتھ ان کے کسی برتن کو لگ جاتا تو وہ کہتے کہ برتن پلید ہو گیا ہے۔ سکھ مذہبی تھے لیکن مذہبی ہونے کے باوجود وہ لبرل تھے۔ جو دل میں آتا کہہ دیتے تھے لیکن جو ہندو غیر مذہبی تھے وہ بھی لبرل نہیں تھے۔ ان کی سوچ اور عمل متعصبانہ اور مفافقانہ ہوتا تھا۔ ہر وقت مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں رہتے تھے۔

 

س:  آپ کتنا عرصہ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن دہلی کے جنرل سیکرٹری رہے اور اس دوران تحریک پاکستان کے لئے آپ نے کیا خدمات دیں۔

ج:  میں 1944 سے جولائی 1947تک ایم ایس ایف دہلی کا جنرل سیکرٹری رہا۔ اسد مرزا صدر تھے۔ میں اپنے خاندان کے ساتھ 1947میں پاکستان آ گیا۔ ہم تحریک پاکستان کے جلسے جلوسوں میں شرکت کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ہم مستحق مگر ذہین طلباء کی مدد کرتے تھے۔ ان کے لئے وظائف کا انتظام کرتے تھے۔ اس سلسلے میں مسلمان اساتذہ بھی تعاون کرتے تھے۔ 1946 میں سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی تو اس کے لئے بھی جلسے جلوسوں کا اہتمام کرتے تھے۔ مسلم لیگ کا پیغام گھر گھر پہنچاتے تھے۔

س: آپ تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین کب بنے۔ اس کے قیام کے مقاصد اور سرگرمیاں کیا ہیں اور بطور چیئرمین آپ نے کیا خاص اقدامات کئے ہیں؟

ج: تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے بانی مرحوم وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں تھے۔ اس کے قیام کے مقاصد میں نظریہ پاکستان کا دفاع، نئی نسل میں جذبہ حب الوطنی پیدا کرنا اور تحریکِ پاکستان میں حصہ لینے والے کارکنوں کی خدمات کا اعتراف اور مستحق کارکنوں کی مالی معاونت کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ نظریہ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ ہے۔ یہی پاکستان کی اساس ہے۔ اس کونئی نسل تک پہنچانا ضروری ہے۔ میں 2000میں ریٹائرڈ ہوا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک ملک و قوم کی خدمت کے لئے کسی نہ کسی فورم پر متحرک رہا ہوں۔ یہ میرے والدین کی تاکید بھی تھی اور میرا مشن بھی۔ مجید نظامی سے پرانا تعلق اور نظریہ پاکستان سے وابستگی تھی۔ اس حوالے سے نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے پروگراموں میں شرکت کرتا رہتاتھا۔ تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین کرنل (ر) جمشید ترین کا انتقال ہوا تو مجید نظامی نے مجھے اس کا چیئرمین بنا دیا۔ خدمت کے جذبے کے تحت یہ عہدہ قبول کیا۔ جیسا کہ اس ادارے کے مقاصد میں شامل ہے ہم ہر سال تحریکِ پاکستان میں حصہ لینے والے کارکنوں کو گولڈ میڈل دیتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے محسن ہیں۔ یہ ہماری طرف سے ان کی خدمات اور احسانات کا اعتراف ہے۔ 14اگست اور دیگر مواقع پر ہونے والی تقریبات میں انہیں خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔ ان کی پذیرائی کی جاتی ہے۔ مستحق کارکنوں کی مالی اعانت کی جاتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہم بہت وسیع پیمانے پر یہ کام کرنا چاہتے ہیں لیکن وسائل کی کمی آڑے آتی ہے۔ حکومت، نجی ادارے اور صاحب حیثیت لوگ تعاون کریں تواس کام کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ اگر ہم نئی نسل میں حصولِ پاکستان کے مقاصد سے آگاہی اور جذبہ حب الوطنی پیدا کریں تو پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو جائے گا۔

س:  آپ پاکستان بنانے والوں میں شامل تھے۔ آپ کے خیال میں وہ کیا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہو گیا؟

ج:  مشرقی پاکستان کی ہم سے علیحدگی کے بہت سے اسباب تھے۔ کچھ ہمارے پیدا کردہ اور کچھ ہمارے دشمن کی چالوں کا شاخشانہ تھے۔ہماری بہت سی غلطیوں میں ایک اہم غلطی ہمارا بنگالیوں کی طرف عمومی رویہ تھا۔ بنگال کی مخصوص تہذیب، رنگ و نسل اور ثقافت کی وجہ سے اکثر مغربی پاکستان کے لوگ ایک بلاوجہ برتری اور تفاخر کا اظہار کرتے تھے۔ ان حرکتوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان کے لوگوں میں ایک طرح کا احساسِ محرومی اور اجنبیت کا احساس پیدا ہوا جس کو بروقت دور نہ کیا جا سکا۔ دشمن نے ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا۔ ہمارے دلوں کی دوریاں آہستہ آہستہ دشمن کے بغض کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ اجنبیت کے بیج دشمن کی آبیاری کے بعد نفرتوں کی فصلوں میںتبدیل ہوتے گئے۔ سب دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے۔ یوں آہستہ آہستہ ہمارے راستے جدا ہو گئے اور پاکستان دولخت ہو گیا۔ اگر ہم اسلامی مساوات پر عمل کرتے اور باہمی بھائی چارے کو فروغ دیتے تو پاکستان دولخت نہ ہوتا۔ اب دشمن بلوچستان میں نفرت کے یہی بیج بو رہا ہے۔ ہمیں اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ کوئی کوتاہی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ ہمیں بلوچ قوم کے قریب جانا چاہئے اور ان کے احساس محرومی کو دور کرنا چاہئے۔ یہ ہمارے سیاسی،  عسکری قیادت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ (انہوں نے دیوار پر لگی ایک تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) اس تصویر میں پاکستان کے سارے صوبوں کے چیف جسٹس کھڑے ہیں۔ ہم سب پینٹ کوٹ پہنے اور ٹائی لگائے انگریز بنے ہوئے ہیں لیکن صرف بلوچستان کے چیف جسٹس شلوار قمیض اور واسکٹ یعنی قومی لباس پہنے ہوئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کی حب الوطنی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔

س: تحریکِ پاکستان کے کارکنوں کی زیادہ تعداد اب حیات نہیں۔ آپ کئی سال سے کارکنوںکو گولڈمیڈل دے رہے ہیں۔ آپ کے پاس یقیناً ان کے حالات زندگی اور خدمات کی تفصیل محفوظ ہو گی۔ کیا ممکن ہے کہ ان کے حالات و واقعات کو کتابی شکل میں شائع کر دیا جائے تاکہ نئی نسل کو اُن کے بارے میںآگاہی حاصل ہو؟

ج: ہم نے کچھ کتابچے شائع کئے تھے تحریکِ پاکستان کے حوالے سے، لیکن آپ کی تجویز بہت اچھی ہے ہم اس پر ضرور عمل کریں گے۔ ہماری نئی نسل کے لئے ضروری ہے کہ وہ پرانی نسل کے ہندو کے ساتھ رہنے کے تجربوں سے سبق سیکھے۔ 1947سے پہلے کے لوگ عقل میں کم نہیں تھے کہ پاکستان کا مطالبہ کر بیٹھے۔ پاکستان کا مطالبہ اور حصول ان کی فہم و فراست اور تجربے کا نچوڑ تھا۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارے نئی نسل ہندو  ذہن کی مکاری کا شکار ہو جائے۔ دوستی کے دلفریب نعروں کے پیچھے تاریخ کا ایک لمبا سفر ہے جس کو شاید ہم بھول گئے ہیں مگر بھارتی ذہن نہیں بھولا۔

س: ''ہلال'' کے قارئین بالخصوص نئی نسل کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

ج: بطور مسلمان اور اس سے پہلے بطور انسان میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی نظریہ حیات ہی زندگی کا اصل منبع ہے۔ اس سے ہٹ کر ہم انسانیت کو پروموٹ کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کی اساس سیرت نبویۖ سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ تھیوری نہیں پریکٹیکل۔ نئی نسل کے لئے قائداعظم کا ہی پیغام ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور پھر پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے بھرپور کردار ادا کریں۔ اﷲ ہمارا حامی و ناصر ہو۔(آمین)

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP