جاپان پر ایٹم بم حملے کے تہتر برس مکمل

جاپان یوں تو چاروں موسم رکھنے والا خوبصورت ملک ہے تاہم زیادہ تر موسم ابر آلود ، اور نیم سَرد رہتاہے ،چاروں طرف سمندر ہونے کے باعث ہوا میں نمی کا تناسب بھی کافی زیادہ ہوتا ہے جبکہ ہر موسم میں بارشیں موسم کو مزید خوش گواربنانے میں مددگار ثابت ہو تی ہیں۔ تاہم کبھی کبھار یہاں پڑنے والی گرمی کراچی کے علاوہ تھر اور چولستان کی یاد بھی دلادیتی ہے، آج اگست کی چھ تاریخ ہے ،صبح کے سات بجے ہی شیشوں کو چیرتے ہوئے کمرے میں داخل ہونے والی سورج کی کرنوں نے نیند سے بیدار کیا ،عموماً صبح کے اوقات میں اتنی گرمی نہیں پڑتی کہ ناگوار لگے۔ لیکن نہ جانے کیوں آج گرمی کا احساس کافی شدیدہو رہا تھا،

 

بیدار ہونے کے بعد کچھ وقت ایکسرسائز کے لئے وقف کرتے ہوئے ٹیلیویژن آن کیا تو معلوم ہوا کہ آج جاپان کے معروف شہر ہیروشیما پر امریکہ کی جانب سے کئے جانیوالے حملے کے تہتر برس مکمل ہورہے ہیں ،جاپانی قوم ہر سال ایٹمی حملوں کی یاد میں ایک دعائیہ تقریب کا اہتمام کرتی ہے،جس میں شہر کے گورنر کے علاوہ جاپان کے وزیراعظم خصوصی طور پر شریک ہوتے ہیں، جبکہ شہر میں ایٹمی حملے کے بعد زخمی اور بچ جانیوالے جاپانی شہری جو ابھی تک حیات ہیں دعائیہ تقریب میں بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ اس وقت بھی براہ راست دکھائی جانے والی اس تقریب میں پچاس ہزار سے زائد شہری دعائیہ تقریب میں موجود تھے جو ایٹم بم کے حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے شہریوں کے لئے دعا اور افسوس کرنے کے لئے موجود تھے اس دن جاپانی قوم یہ عہد بھی کرتی ہے کہ مستقبل میں جاپانی قوم دنیابھر سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے ،دنیا سے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے اور کم از کم اپنے خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کو روکنے کے لئے کوششیں اور ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف دنیا بھر میں چلنے والی مہم میں قائدانہ کردار ادا کرتی رہے گی۔ سوا آٹھ بج چکے تھے یہ وہ وقت ہے جس وقت امریکی افواج نے ہیروشیما پر ایٹمی حملہ کیا تھااس کے ساتھ ہی پچاس ہزار کے مجمعے میں ایک دم سنّاٹا چھا جاتا ہے جو ایک منٹ تک جاری رہتاہے یہ خاموشی اب سے تہتر بر س قبل ایٹم بم کے حملے سے ہلاک ہونیوالے جاپانی شہریوں کو خراجِ تحسین ہے جنہوں نے اپنے ملک کے لئے جان دی ۔تقریب سے ہیروشیما کے گورنر خطاب شروع کر رہے ہیں ،وہ عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ جاپان دنیا کا واحدملک ہے جو ایٹمی حملے سے متاثر ہو ا ہے اور اس تباہ کاری سے جو سبق جاپان نے سیکھا ہے دنیا کو وہ سبق جاپان سے حاصل کرنا چاہئے۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ جاپان کے عوام دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔گورنر ہیروشیما نے جاپا ن میں امریکی افواج کی موجودگی کے باعث جاپانی عوام میں پائی جانیوالی تشوش کا بھی ذکر کیا جبکہ امریکہ کی جانب سے جاپان میں ایٹمی سب میرین کی موجودگی پر تنقید بھی کی ، گورنر ہیروشیما کے بعد تقریب میں موجود اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ جاپان ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کے خلاف اپنی پالیسی جاری رکھے گا اور خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کی سختی سے مخالفت کرتا رہے گاانہوں نے کہا کہ جاپان دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے قائدانہ کردار جاری رکھے گااور دنیا میں امن و امان کی ضرورت پر زور دیتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ جاپان دنیا میں امن قائم کرنے اور ممالک کے درمیا ن اختلافا ت کے خاتمے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گااور دنیا میں ایٹمی توانائی کے پُر امن استعمال کے علاوہ کسی بھی جنگی استعمال کے لئے ایٹمی توانائی کے استعمال کی بھرپور مخالفت جاری رکھے گا۔تقریب اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی میں بھی تیاری مکمل کرکے دفتر کے لئے روانہ ہو ا ، گرمی کی لہرشدید تھی۔ شاید آج کی گرمی جاپان میں مقیم لوگوں کو اب سے تہتر برس قبل ہونے والے

 

میرا ایمان پاکستان

کرنل نیک نام محمد بیگ

 

جیسے مجھے اپنے دینِ محمدی پر کامل ایمان ہے ایسے ہی پاکستان پر بھی میرا ایمان اٹل ہے۔ پاکستان یقین بھی ہے پاکستان نظریہ بھی۔ لیکن سب سے بڑھ کر پاکستان میرا ایمان ہے۔ مضبوط پاکستان میرے ایمان کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ خوب صورت پاکستان میرے ایمان کو اور بھی حسین بناتا ہے۔ میرا ایمان انمول ہے اس لئے کہ پاکستان قدرت کا ایک منفرد و یکتا شاہکار ہے۔

میں ایک عام پاکستانی شہری ہوں۔ میں اس ملک کا ایک ادنیٰ سا سپاہی ہوں۔ پاکستان میرے جیسے اور مجھ سے بھی اچھے عام و خاص ادنیٰ و اعلیٰ سبھی شہریوں کا یکساں ایمان ہے۔ پاکستان ہماری جان ہے۔ ہمارے دلوں کی دھڑکن ہے۔ لیکن درحقیقت یہ ایک ایسا ایمان ہے کہ دل و جان سبھی پاکستان کے لئے قربان ہیں۔ اس پاک سرزمین میں لاکھوں شہیدوں کا لہو ہے۔ اور اس ملک کے حقیقی فرزند اس کے لئے اپنی جان نچھاور کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ تبھی تو اس کو زوال نہیں(ماشاء اﷲ) اور جب تک دھرتی ماں کے بیٹے بیٹیاں پاکستان کو اپنا ایمان مانتے رہیں گے اس پاک وطن کو کبھی زوال نہیں آئے گا۔ (انشاء اﷲ) یہی تو میرا ایمان ہے کہ پاکستان ایک ایسا معجزہ ہے جس کے نصیب میں عروج ہی عروج ہے اور اس کی منزل اوجِ ثریا تک رسائی ہے۔ انشاء اﷲ!

ایمان کا حاصل اگر حصولِ جنت ہے تو پاکستان جنت نظیر ہے۔ شیردریا سندھ، جب اپنی عظمت کے گن گاتا ہوا عظیم الشان پہاڑوں سے اترتا ہے تو سینہ چوڑا کر کے ایسے ایسے میدانوں اور وادیوں کو سیراب کرتا جاتا ہے جن کی مثالیں دی جاتی ہیں جن کی لوک کہانیاں بنتی ہیں جن کے سامنے شاعری گنگ ہو جاتی ہے۔ اور جہاں کئی ادیب و فنکار ہاتھ باندھے مؤدب کھڑے نظر آتے ہیں۔ فلک بوس برف پوش ہمالیہ و قراقرم کے پہاڑ، خوبصورت وادیاں، میدان و صحرا، اولیاء کی سرزمین، سندھ کے صحرا اور وادیاں پانچ دریائوں کی سرزمین بے مثال پنجاب، پختون خوا کی مسحورکن وادیاں، بہشت زریں کشمیر، پہاڑی دیوتائوں کا مسکن گلگت بلتستان بلوچستان کا حُسنِ دلفریب، عشق و محبت کی داستانوں سے پُر یہ ارضِ وطن۔ میرا یہ ایمان ہے کہ میرے پاکستان کا کرۂ ارض پہ کوئی ثانی نہیں۔

ایمان کا حاصل اگر اہلِ ایمان کی قربت ہے تو یہاں کے باسیوں کا موروثی نعرہ ہی یہی ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لااِلٰہ الا اﷲ پاکستانیوں سے زیادہ دین پر فدا ہونے والے اور حرمتِ رسول اﷲۖ پر قربان ہونے والے بھی اور کہیں نہیں ملیں گے۔

ایمان کا حاصل اگر خوشگوار زندگی کی تمنا ہے تو پاکستان ایک ایسی عظیم لینڈ آف اپرچونیٹی (Land of Opportunity) ہے جہاں ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی کے مصداق ذرہ برابر بھی محبت کرنے والا کبھی بھوکا نہیں سوتا۔

پاکستان میرے ایمان کے تمام تقاضے نہ صرف پورا کرتا ہے بلکہ میرے ایمان کو بھی مضبوطی عطا کرتا ہے۔ یقینا میرا ملک حضرت صالح کی اونٹی ہے جسے موت نہیں جبھی قائدِاعظم نے فرمایا تھا کہ پاکستان از ہیر ٹو سٹے

(Pakistan is here to stay)

 

 

اور قائداعظم کا یہ فرمان بھی میرے ایمان کا جزو ہے۔

[email protected],com

 

ایٹم بم کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی حدت کی یاد دلارہی تھی، جب پورا ایک شہر ، پورا ہیر وشیما ایٹم بم کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی آگ میں جھلس رہا تھا ،پورے شہر میں قیامت بپا تھی ، وہاں کے معصوم عوام اس آفت سے نا واقف تھے،ایٹم بم کیا ہوتا ہے وہاں کے عوام کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا ، حتیٰ کے جاپانی افواج کی بڑی تعداد بھی اس بات سے واقف نہیں تھی کہ ایٹم بم جیسا ہتھیار ایجاد ہو چکا ہے جو ایک پل میں ایک پورے شہر کو جلا کر راکھ کر دے گا ۔آج کی گرمی مجھ سمیت تمام جاپانیوں کو جنگ عظیم دوئم کی یاد دلارہی تھی ، جاپانیوں کے غم میں شریک ہونے کا موقع فراہم کررہی تھی ، آج کا دن پوری دنیا کو اس بات کا درس دے رہا تھا کہ امن سے بڑھ کر کوئی اور شے نہیں ہے۔ جنگ میں زخم اور موت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ میںانہی سوچوں میں گم دفتر پہنچ چکا تھا ، دفتر پہنچتے ہی معروف انگریزی اخبار پر نظر پڑی جس میں ایٹمی حملے کا نشانہ بننے والے دونوں جاپانی شہروں کی حکومتوں نے بھارت اور امریکہ کے ایٹمی معاہدے کے خلاف اپنی گزارشات جاپان کی مرکزی حکومتوں کو روانہ کی تھیں۔ جس کے مطابق شہر ہیروشیما اور ناگاساکی کی حکومتوں نے ایٹم بم کے حملوں کے تہتر برس مکمل ہونے کے موقع پر حکومت جاپان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری سطح پر امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کی بھر پور مخالفت کرے اور امریکہ سے مطالبہ کرے کہ جب تک بھارت بین الاقوامی ایٹمی معاہدے این پی ٹی پر دستخط نہ کردے اس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کیا جائے ، جاپانی اخبار کی رپورٹ کے مطابق دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کی جانب سے کئے جانیوالے ایٹمی حملوںسے متاثر ہونے والے دونوں شہروں نے جاپان کی مرکزی حکومت کو ایک یاد داشت پیش کی ہے جس میں حکومت جاپان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک بنانے کے لئے قائدانہ کردار ادا کرے اور خاص طور پر امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کو روکنے کے لئے بھرپور کردار ادا کرے۔ شام کو دفتری امور نمٹانے کے بعد کچھ سینیئر جاپانی دوستوں کے ساتھ گپ شپ کا دور شروع ہوا جس کاموضوع ایک بار پھر دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر امریکہ کی جانب سے ایٹمی حملے اور جاپان کی شکست اور ایک نئے جاپان کے قیام کے  بارے میں تھا ،کین فرویا صاحب اپنی عمر کی اَسی سے زائد بہاریں دیکھ چکے ہیں اور دوسری جنگ عظیم کے دوران اپنا بچپن گزار رہے تھے انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دوسری جنگ عظیم کی شدت اپنے عروج پر تھی ،جاپانی افواج کی فتوحات امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے لئے تشویش میں اضافے کا باعث بن رہی تھیں جبکہ دوسری جانب یہ اطلاعات کہ جرمنی کسی بھی وقت ایٹم بم تیار کرکے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پر حملہ آور ہو سکتاہے۔ امریکہ کی پریشانی انتہائی حد تک بڑھ چکی تھی، امریکہ میں نیو میکسیکو کے مقام پر جاری ایٹمی بم کی تیار ی میں تیزی کے لئے امریکی حکام کا دبائو جاری تھا اور بالآخر امریکی سائنسداں دنیا کا اور تاریخ کا ہلاکت خیز ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو گئے جس کا استعمال جاپان کے دو شہروں، چھ اگست کو ہیروشیما اور نو اگست کو ناگاساکی، میں کیا گیا جس سے نہ صرف جاپان نے اپنی شکست قبول کرلی بلکہ تاریخ کا بدترین نقصان بھی اٹھایا جس میں اس کے لاکھوں شہری ایٹمی حملوں میں ہلاک ہوئے اور ملین سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ، یہ تو خیر وہ معلومات تھیں جس سے دنیا بھر میں سب ہی واقف ہیں تاہم ایک نئی بات جو معلومات کا حصہ بنی وہ امریکہ ماہر طبعیات اور سائنسدان جان ہنٹن کے حوالے سے تھی جنہوں نے اب سے دس برس قبل چھیاسی برس کی عمر میں ہیروشیما میں ایٹمی حملے کی دعائیہ تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی تھی وہ امریکہ سے خصوصی طور پر ہیروشیما کی تقریبات میں شریک ہونے کے لئے پہلی دفعہ جاپان تشریف لائیں تھیں ، خاص بات یہ تھی کہ یہ خاتون امریکہ کے پہلے ایٹم بم کے پروجیکٹ مین ہٹن کی سرکردہ رکن تھیں جان ہنٹن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدانوں کی اکثریت کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ ایٹم بم انسانیت کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ انہیں اخباروں کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کی ٹیم کے بنائے ہوئے بم کو جاپان کے خلاف استعمال کیا گیا ہے جس کے بعد ان سمیت کئی دیگر سائنسدانوں نے احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، جان ہنٹن کے مطابق انہوں نے  1952 میں ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ایٹم بم تیار کرنے والی ٹیم کا حصہ ہونے پر شرمندگی کا اظہار بھی کیا تھاجو انسانیت کے خلاف استعمال کیا گیا تھا جان ہنٹن جاپان کے خلاف ایٹم بم کے استعمال کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتی ہیں ، رات کافی ہو چکی تھی ، ایٹم بم اپنی تباہ کاریاں دکھا چکا تھا ،لاکھوں لوگ ایٹم بم کی بھینٹ چڑھ چکے تھے لہٰذا ایٹم بم بنانے کی ٹیم کا حصہ ہونے کے باوجود اس کے خلاف بات کرنے سے کچھ واپس نہیں آسکتاتھا ، لیکن دنیا کے لئے ایک واضح پیغام ضرور ہے کہ جنگ امن کا نعم البدل کبھی نہیں ہو سکتی ،لہٰذا مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے کا طریقہ ہی سب سے اہم ہے ورنہ طاقت کے استعمال کے بعد پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں رہ جاتا ،خاص طور پر جب پڑوسی پاکستان اور بھارت ہوں جہاں دونوں طرف ایٹمی ہتھیار موجود ہوں اور جہاں دنیا بھر میں دونوں حکومتوں پر انتہا پسندی کے الزامات بھی لگتے رہتے ہوں ،لہٰذا وقت کی ضرورت، صرف امن ،امن اور امن۔


 مضمون نگار ٹوکیو(جاپان) میں مقیم ہیں اور پاکستان کے ایک قومی اخبار کے لیے کالم لکھتے ہین۔

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP