تاراج کی گئی تہذیبوں سے سجے نامی گرامی میوزیم

میں سوچ رہی تھی کہ شاید یہ میری ہی سوچ ہے جو کسی قدر منفی ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے سجے ان عجائب گھروں میں نمائش کے لئے رکھے نوادرات  دراصل یہاں وہاں سے بلا اجازت اٹھائے گئے تاریخی ورثے ہیں ، دنیا میں کسی نہ کسی خطہ زمین کے باسیوں کی لٹی پٹی تہذیب کا نوحہ ہیں ، مگر خیر ہو ان اخبار نویسوں کی جو اب بھی سب کچھ سچ سچ لکھ دیتے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز ٹوئٹر پر یہی سکرولنگ کرتے کرتے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر پڑھی کہ برطانیہ کے مشہور برٹش میوزیم نے عراق سے لوٹ کر لائے جانے والے کچھ قدیم نوادرات عراق کو واپس کرنے پرآمادگی ظاہر کردی ہے، پانچ ہزار سال سے زائد عرصہ قدیم کے یہ نوادرات عراق پر دو ہزار تین میں امر یکہ اور اس کے ملٹری الائنس کے حملے کے بعد لوٹے گئے، جنہیں نامعلوم ڈیلر برطانیہ لے آیا، ہوتے ہوتے نوادرات کا یہ کلیکشن لندن کی اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کو نامعلوم شخص کے پاس سے ملا، پولیس نے اس قدیم ورثے کو برٹش میوزیم کے حوالے کردیا ، اور اب یہ قدیم زمانوں کی نشانیاں واپس اپنے اصل مقام یعنی عراق جائیں گی۔

یہ لندن میں اپریل دو ہزار اٹھارہ کی ایک گرم صبح تھی، میری یونیورسٹی کی چھٹی تھی حسب پلان میں نے پیدل ہی مشہور زمانہ برٹش میوزیم کا رخ کیا۔ میوزیم کیا ہے دنیا بھر کے نوادرات کا پورا جہان آباد ہے وہاں ، لمبی قطاروں میں لگ کر اپنی اور اپنے بیگ کی سیکورٹی چیکنگ کے بعد جونہی اندر داخل ہوئی تو ایک وسیع و عریض سبز باغ نے استقبال کیا، درجنوں لوگ اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ہمراہ برٹش میوزیم کے سرسبز لان اور ہلکی دھوپ کا لطف اٹھا رہے تھے۔ میں یہاں وہاں دیکھے بغیر جھٹ سے اندر گئی تو ایک بہت ہی بڑے سائز کا پتھر سے بنا شیر ماربل کی ایک اونچی سی مچان پر بیٹھا تھا، یہ وہی شیر ہے جو کہ برٹش میوزیم کے تعارفی کتابچے میں بہت فخریہ انداز میں دکھایا جاتا ہے۔ میں نے شوق شوق میں ڈھیروں تصاویر لیں، تفصیلات پڑھیں تو پتا چلا کہ سات ٹن وزنی یہ شیر مغربی ترکی کی ایک قدیم عبادت گاہ کے اوپر ایستادہ تھا۔ جسے برطانوی آرکیالوجسٹ انیسویں صدی میں بحری جہاز میں ڈال کر لندن لے آئے ۔ذرا ریسرچ کریں تو علم ہوجائے گا کہ اس بھاری بھر کم چٹانی شیر کی واپسی کے لئے ترکی نے برطانیہ کی منسٹری آف کلچر پر مقدمہ کررکھا ہے۔

ذرا اندر جائیں تو جیسے پورے مصر کا بازار ہی لندن آگیا ہو، ایک کالم کے اوپر چودہ سو قبل مسیح قدیم فرعون کا سرخ ماربل سے بنا سر دھرا تھا، ذرا پرے ایک مستطیل شکل کی چٹانی رکاب سی تھی، یہ فرعون کا تابوت تھا، کئی ٹن وزنی اور اتنا وسیع کہ جیسے آج کل استعمال ہونے والے دو گہرے باتھ ٹب۔ چٹان کا یہ گہرا  ٹکڑاکچھ صدی قبل تک مصر کے شہر قاہرہ کی مسجد ابن طولون میں وضو کے لئے پانی بھرنے کے کام آتا تھا، پھر اس ٹنوں وزنی عجوبے کو بھی کوئی لندن اٹھا لایا ، اب یہ نہ پوچھئے کہ کون ، اب یہ چٹانی تابوت لندن میوزیم کی شان بڑھا رہا ہے۔

مصر ی نوادرات کے ہال میں قبل مسیح تاریخ کی مصری عمارات کے پلر ز، پوری پوری دیواریں، کالم ، بنیادیں یہاں تک کہ چھتیں تک سجی ہیں، میں منہ کھولے کبھی یہاں، کبھی وہاں، دیکھ دیکھ کر باؤلی ہوئی جارہی تھی، ہال میں کھڑی ایک سیکورٹی گارڈ خاتون سے پوچھا کہ یہ نوادرات کب ، کیسے اور کیونکر یہاں لائے گئے۔ جواب میں اس نے  شانے اچکاتے ہوئے بے پروائی سے کہا کہ ہر چیز کے ساتھ اس کی تاریخ لکھی ہے، بس یہی معلومات ہیں جو ہر نمونے کے ہمراہ  درج ہیں۔

برٹش میوزیم کی پہلی منزل پہ چین اور وسط ایشیائی ممالک کے قدیم نوادرات سجے تھے، ایک اشارہ دیکھ کر میں بائیں جانب مڑ گئی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں قدیم سندھ کی تہدیب موہن جو داڑو کے آ ثار سے ملنے والی کلیکشن موجود تھی۔ بالکل سامنے شیشے کی الماریوں میں صدیوں پرانی ہندومت کی مورتیاں سجی تھیں، دیکھتے دیکھتے نظر پڑی کہ ایک شو کیس کے ساتھ بڑی سی ایک تصویر ٹیپو سلطان کی لگی تھی، یک دم ذہن میں آیا کہ میسور ریاست کے حاکم ٹیپو سلطان تو برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف برسر پیکار تھے، بھلا ان کی پذیرائی یہاں برٹش میوزیم میں کیوں، جو دیکھا تو علم ہوا کہ سرنگا پٹم میں ہونے والی اینگلو میسور جنگ کے شہید ٹیپو سلطان کی تلوار اور قیمتی انگوٹھی میدان جنگ سے ہی مال غنیمت کے طور پر اٹھالی گئی تھی وہ باقیات شو کیس میں جگمگا رہی تھیں، آج ٹیپو سلطان کے زیر مطالعہ کتابیں ، قرآن پاک سمیت دیگر قیمتی باقیات برٹش میوزیم میں سجی میرا منہ چڑا رہی تھیں۔

جنوبی ایشیا کے اس ہال کی راہداری میں جین، بدھ اور ہندو مت کی مورتیوں کے ساتھ ہی واقعہ کربلا کے شہید حضرت عباس علمدار سے منسوب علم بھی نصب تھا، پہلے مجھے تھوڑا تذبذب ہوا، قریب جاکر جب علم کے ساتھ لگی تفصیل پڑھی تو پتہ چلا چاندی کایہ علم حیدرآباد دکن انڈیا سے سترہویں صدی میں دریافت ہوا، برٹش میوزیم میں کیسے آیا اس کے بھی ذرائع نامعلوم ہیں۔

 

میں بہت ریسرچ اور پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ تحریر رقم کررہی ہوں کیونکہ ہمارا اجتماعی ورثہ اگرچہ یاد رکھنے اور دنیا کو دکھانے کی چیز ہے مگر اپنی چیز اپنے ہی پاس رہے تو اچھی لگتی ہے، شاید یہی انسانی نفسیات ہے۔یہ بالکل ایسا ہی ہے نا کہ جیسے میرے گھر کوئی مہمان آئے اور میرے گھر میں رکھی میرے دادا، نانا کی برسوں پرانی قیمتی چھڑی  مجھے سے پوچھے بغیر اٹھا کر چلتا بنے ، اور پھر کچھ ہی عرصے بعد وہ چھڑی اس مہمان کے گھر سجی ہو ، وہ بھی آثار قدیمہ کے طور پر ، ذرا سوچیں کیسا لگے گا۔

اب آپ کہیں گے کہ یہ تو ایک ہی میوزیم تھا، چلیں تو پھر میرے کہے سے ایک بار امریکی ریاست کلوراڈو کے شہر ڈینور میں واقع ہسٹری میوزیم چلے جائیں، دو ہزار پندرہ کے اپریل میں ،میں وہیں تھی، بہت ذوق و شوق سے میں نے بھاری بھر کم قیمت کا ٹکٹ لیا اور ڈینور کے ہسٹری میوزیم میں داخل ہوگئی، جیب سے جب ڈالرز نکلتے ہیں تو دل کرتا ہے بندہ واقعی پھر پیسے بھی پورے کرے، سو میں نے بھی ٹھانی کہ میوزیم کا چپہ چپہ دیکھ کر ہی جائوںگی، یہاں پیرو ، میکسیکو ، پیراگوائے اور لاطینی امریکی علاقوں سے نکلنے یا پھر ملنے والے عجائبات کی بھر مار تھی۔ زیادہ تر نمائش میں پیرو سے نکلنے والے ہزاروں سال قدیم سونے کے برتن اور سونے کے مجسمے وغیرہ رکھے تھے اور میوزیم میں انہیں دیکھنے والے تقریبا نہ ہونے کے برابر، میں پندرہویں صدی کی کچھ نایاب پینٹنگز دیکھنے میں مصروف تھی کہ ساؤتھ ایشیا کا بورڈ نظر آیا، میوزیم کے دوسرے فلور پر واقع اس گیلری میں ہندو مت کی مذہبی شخصیت ہنومان کا سونے سے بنا قد آدم مجسمہ ویلکم کر رہا تھا۔ یونہی گزرتے ہوئے میری نظر پڑی لکھا تھا ٹیکسلا ، پاکستان ۔ میرے میوزیم ٹوور کو جیسے فل اسٹاپ لگ گیا۔ یہ اسلام آباد کے بغل میں واقع ٹیکسلا کے علاقے میں موجود موہڑا مرادو نامی پہاڑی گھاٹی  سے ملنے والی نادر و نایاب بدھا کی مورتی تھی بلکہ یوں کہہ لیں کہ بدھا کی مورتی کا سر تھا، وہی مورتی جس کا جسم اب بھی موہڑا مراد و میں بغیر سر کے موجود ہے۔ مجھے تعجب ہوا کہ اپنے'' ٹیکسلے'' کی مورتی کا سر یہاں ڈینور جیسے بے نام امریکی شہر میں کیا کررہا ہے، بدھا مورتی کے سر کی تفصیلات میں بس یہ مبہم سی تحریر درج تھی کہ جیمز ای رولینس کی یاد میں۔ بدھا کا یہ سر ان کے کسی گمنام دوست نے میوزیم کوگفٹ کیا ہے، اب اپنی بلا سے ڈھونڈتے رہئے اس گمنام دوست کو۔

جو سچ پوچھیں تو اپنے ماضی کی متاع لٹ جانے پر افسوس تو ہوا پھر یہ بھی خیال گزرا کہ ماضی کے یہ نقوش کم از کم یہاں ان غیر ملکی عجائب گھروں میں محفوظ تو ہیں، دنیا دیکھ رہی ہے،کیا خبر ہمارے یہاں ہوتے تو یہ کب کے ماضی کے دھندلکوں میں کھو چکے ہوتے۔ ہماری تاریخ کتنے ہی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں جب حکمرانوں نے اپنی حکومت کاسکہ جمانے کے لئے بسی بسائی بستیاں تاراج کیں،تاریخی ورثے ،لائبریریاں جلا کر بھسم کردی گئیں۔ مگر ایسی تباہی کے پیچھے دھرتی کے سپوتوں سے زیادہ اغیار کی سازش کارفرما نظر آتی ہے، میری رائے ہے کہ ہمارے یہاں آرکیالوجی کے مضمون پر خوب زوروں سے ریسرچ ہو ،حکومتی سطح پر اس شعبے کو مزید نکھارا جائے، دنیا سے اپنی تہذیب کی لوٹی گئی نشانیاں واپس مانگی جائیں، سنجیدگی سے ان عہد گم گشتہ کے پنوں کو پلٹا جائے تو دریائے سندھ اور گندھارا کی قدیم تہذیب سے جڑی سیکڑوں کہانیاں، نوادرات و عجائبات سامنے آسکتے ہیں۔ پھر ہم دھرتی کے بیٹے چاہے ان نوادرات کو شوق سے میوزیم میں سجائیں یا ان کو دیکھنے کے لئے ٹکٹ لگائیں ، مرضی ہماری !


مضمون نگار صحافی ،  بلاگر اور کالم نگار ہیں، ویسٹ منسٹر یونیورسٹی برطانیہ ، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا ، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔

  [email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP