بِنتِ شہید

شاہ محمد کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا وہ ایک چاند جیسی بیٹی کا باپ بن گیاتھا۔ بچی کی معصومیت اور پیاری شکل وصورت دیکھ کر شاہ محمد کی بیوی زہرہ نے ننھی بچی کا نام ہی چاندنی رکھ دیا تھا جو کہ شاہ محمد کو بہت ہی پیارا لگا تھا۔ شاہ محمد پاکستان آرمی کا ایک سپاہی تھا اور پاکستان آرمی کی یونیفارم اور اس پر لگے پاکستانی پرچم کے بیج شاہ محمد کا سینہ فخر سے چوڑا کر دیتے تھے۔ وہ اکثر اپنی بیوی سے کہا کرتا تھا کہ اللہ نے اس کو ایک نیک سیرت بیوی دے دی ہے اچھی اور باعزت نوکری بھی ہے بس اب اللہ کریم اس کو پہلی اولاد دے تو بیٹی ہو ۔ پھر اللہ نے اس کی سن لی اور چاندنی گھر بھر میں چاندنی بکھیرتی ہوئی آگئی۔ دونوں میاں بیوی نے محلّے بھر میں اپنی بساط کے مطابق مٹھائی تقسیم کی اور خوشی کے اظہار کے لئے اللہ کی بارگاہ میں شکرانے کے نوافل ادا کئے ۔

شاہ محمد ملک اپنی ڈیوٹی سے انتہائی مخلص اور محبت کرنے والا سپاہی تھا۔ وہ اپنے افسر کے ساتھ سائے کی طرح رہتا اور اس کی حفاظت کے لئے اپنی جان بھی قربان کرنے کوہر وقت تیار رہتا۔ لیکن افسر بھی پاکستان آرمی کا بہترین جوان ہے وہ کئی بار شاہ محمد کو پیار اورسختی سے بھی سمجھا چکا تھا کہ اس کی جان کو کوئی بھی خطرہ نہیں ہے بس شاہ محمد دوران ڈیوٹی خود کو پر سکون رکھا کرے۔ بلکہ اس نے اپنے جوان افسر سے ہی یہ سبق سیکھ لیا تھا کہ ہر جوان کے دل میں وطن کی محبت پر قربان ہونے کا جو جذبہ موجود ہے وہ جذبہ کسی کی حفاظت اور اسلحے کا مرہون منت نہیں ہے لیکن شاہ محمد اپنی ڈیوٹی پوری طرح انجام دینے کے بعد خود کو مطمئن محسوس کرتا تھا ۔

 

 

عربی تہذیب کا اثر و نفوذ

 

حجاج بن یوسف اپنی تمام تر سفاکیوں کے باوصف، نہایت دُور اندیش اور معاملہ فہم حکمران تھا۔ وہ جانتا تھا کہ سندھ کو، جو مرکزِ خلافت  سے ہزاروں میل دُور تھا اور جس کے باشندوں کے رسم و رواج ، رہن سہن اور عقائد حاکموں سے بالکل مختلف تھے، بزورِ شمشیر  اپنا اطاعت گزار نہیں بنایا جاسکتا بلکہ اس کے لئے رعایاکی خوشنودی اور اعتماد حاصل کرنا نہایت ضروری ہے مگر یہ اسی وقت ممکن تھا جب سندھ کے لوگوں کو یہ یقین ہو جاتا کہ عرب حاکم ان کے دشمن نہیں ہیں بلکہ ان کی بھلائی چاہتے ہیں۔ اس خیال کے پیشِ نظر حجاج نے اپنے بعض نہایت تجربہ کار مصاحبوں کو محمد بن قاسم کے ساتھ مشیر بنا کر بھیجا تھا اور جواں سال داماد کو قریب قریب روزانہ نظم و نسق سے متعلق تحریری ہدایات بھیجتا رہتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ حجاج نے سندھ میں نظم ونسق کے جو اصول رائج کئے وہ اتنے کامیاب ثابت ہوئے کہ برصغیر کے مسلمان فرماں روا عربوں کی سلطنت مٹ جانے کے بعد بھی لگ بھگ ایک ہزار برس تک اُنہی اصولوں پر کاربند رہے اور جس نے ان اصولوں سے انحراف کیا وہ حکومت میں ناکام رہا۔

(اقتباس: پاکستان میں تہذیب کا ارتقائ۔ سبطِ حسن)

گھر پہنچ کر اس کا بہترین اور محبوب مشغلہ چاندنی کے ساتھ وقت گزارنا تھا وہ اس کو گود میں لے کر منہ سے ہلکی ہلکی سیٹی کی آوازیں نکالتا تو چاندنی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر خوشی سے قلقاریاں مارنے لگتی۔ بعض اوقات تو کھانا پڑا پڑا ٹھنڈا ہو جاتا تھا اور شاہ محمد چاندنی کے ساتھ ہی کھیل میں مگن رہتا اور پھر زہرہ کے مصنوعی غصہ سے ڈر کر ٹھنڈا کھانا ہی کھا لیتا تو دونوں ہی مسکرانے لگتے اور ایک بار پھر چاندنی کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ اگر چاندنی رونے لگتی یا اس کو ہلکا سا بخار بھی محسوس ہوتا تو شاہ محمد کی جان پر بن آتی وہ ساتھ والی ماسی کا دروازہ توڑنے والے انداز میں کھٹکھٹاتا اور کوئی نہ کوئی ایسا ٹوٹکا اس کے ہاتھ لگ جاتا جس سے بچوں کا بخار فوری دور ہو جائے ۔ وہ ساری ساری رات سو نہ پاتاکہ کہیں چاندنی کا بخار  تیز نہ ہو جائے ۔ زہر ہ ا س کا پیار اور محبت بھرا رویہ دیکھ کر بعض اوقات خوف کھا جاتی اور شاہ محمد کو سمجھاتی کہ بیٹیوں سے اتنازیادہ پیار نہیں کرتے یہ تو پرایا دھن ہوتی ہیں ایک نہ ایک دن ان کو دوسرے گھر جانا ہی ہوتا ہے لیکن شاہ محمد سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بن کرزہرہ کو ہنسی میں ڈانٹ دیتا کہ تم میری اور چاندنی کی محبت سے حسد محسوس کرتی ہو۔ زہر ہ مسکرا کر رہ جاتی اور اللہ کریم کا شکر ادا کرتی کہ اللہ نے اس کو ایک محبت کرنے والا شوہر اور بیٹی دی دے ۔

زہرہ کی بہترین تربیت اور شاہ محمدکی اچھی پرورش نے چاندنی کوکم سنی میں ہی بہت کچھ ایسا سکھا دیا تھا جو دوسرے بچے لڑکپن یا جوانی میں سیکھتے ہیں۔ اب وہ بڑی بڑی باتیں کرنے لگی تھی۔ بڑے بڑے سوال پوچھا کرتی تھی۔ اکثر سوالوں کے جواب نہ دے سکنے پر شاہ محمد اس کی طرف دیکھ کر رہ جاتا تھا پھر زہر ہ اس کی باتوں کا جواب دے کر اس کو اپنے تئیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتی۔ جب چاندنی چھ سال کی ہو گئی تو اس کی دوسری کلاس میں بھی پہلی کلاس کی طرح فرسٹ پوزیشن آئی۔ سکول کی استانیاں اور چاندنی کی سب سہیلیاں اس سے بہت خوش تھیں۔ شاہ محمد کو اس کے افسر نے مبارک باد دی اور چاندنی بیٹی کے لئے بہت سی اچھی اچھی کتابیں بھی تحفے کے طور پر دیں کہ وہ چاندنی کو اس کی طرف سے دے دے  ۔شاہ محمد کا افسربڑا افسر بنا تو شاہ محمد کا بھی ایک رینک بڑھ گیا وہ اب اپنی یونیفارم پر پہلے بیجز کے ساتھ ساتھ نئے اور بڑے رینک کے بیجز دیکھتا تو بے اختیار ہو کر چاندنی کی پیشانی پر ایک محبت بھری مہر ثبت کر دیتا تو وہ پوچھے بنا نہ رہ پاتی  ۔

  ''  بابا جانی !یہ آپ مجھے اتنا پیار کیوں کرتے ہیں؟ ''  

 شاہ محمد کی آنکھیں بھر آتیں تو وہ بے اختیار اپنے آنسو چھپاتا ہوا منہ دوسری طرف کر کے اس کی بات کا جواب دیتا۔ '' بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہے اور اللہ جس سے بہت خوش ہوتا ہے وہ اس کو بیٹی عطا کرتا ہے اور بیٹی تو ایسی رحمت اور نعمت ہے کہ اللہ بیٹی والے باپ کا بازو بن جاتا ہے تم میرے گھر میں اللہ کی رحمت بن کر آئی ہو تو میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے تمہیں پیار کرتا ہوں۔ '' وہ معصومیت سے اپنی بات کا جواب سنتی اور تسلی نہ ہونے پر ایک اور سوال داغ دیتی ۔ '' اللہ بیٹی کے باپ کا بازو کیسے بنتا ہے۔ بابا جانی ؟ ''  شاہ محمد بے بسی سے زہر ہ بیگم کی طرف دیکھتا اور مسکرا کر اپنی جان چھڑانے کے لئے کہتا '' میں تو ایک ان پڑھ سا آدمی ہوں بس چار پانچ جماعتیں ہی پڑھا ہوں لیکن تمہاری امی جان کافی سمجھ دار اور پڑھی لکھی ہیں کچھ ان سے بھی پوچھ لیا کرو۔ '' زہرہ بیگم مسکراتیں اور چاندنی کو گود میں لے کر پیار کرتیں اور اس کے سوالوں کے جواب دینے میں مگن ہو جاتیں ۔ شاہ محمد اپنی ڈیوٹی پر بھی اپنے دوستوں سے اپنی بیٹی کی باتیں کرتا رہتا تھا ۔

ایک دن تو چاندنی نے سوال پوچھنے کی حد ہی کر دی تھی اس نے شاہ محمد کی گود میں اپنا سر رکھا اور شاہ محمد کی داڑھی میںاپنی انگلیاں پھیرتی ہوئی دھیرے سے بولی '' بابا یہ یتیم کیا ہوتا ہے ؟ ''  شاہ محمد چونک کر اس کی طرف دیکھتا رہ گیا۔ زہر ہ بیگم ان دونوں کی باتیں سن کر کچن سے بھاگنے والے انداز میں باہر کی جانب لپکیں۔ شاہ محمد نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا ''  تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو میری جان ؟''  زہرہ بیگم اپنی جگہ پر ساکت و جامد کھڑی تھیںکہ اب چاندنی نہ جانے مزید کیا جواب دے گی یا پھر کیا پوچھ لے گی۔  وہ ایک چھوٹی سی جمائی لیتی ہوئی شاہ محمد کی انگلیوں کو پکڑ کر بولی ۔ ''  وہ آج میری ایک دوست سکول کافی دنوں بعد آئی تھی وہ استانی کے پوچھنے پربتانے لگی کہ اس کے بابا پولیس میں تھے، تو وہ شہید ہو گئے ہیں اب وہ یتیم ہو گئی ہے ۔ ''  

  زہرہ بیگم نے سہم کر شوہر کی طرف دیکھا تو وہاں ایک سکون اور محبت بھری مسکان اس کے چہرے پرکھیل رہی تھی وہ مسکرا کر ننھی چاندنی کو اس کی با ت کا جواب دیتے ہوئے کہہ رہا تھا،  '' جو مر جاتے ہیں ان کے بچے یتیم کہلاتے ہیں لیکن جو شہید ہوتے ہیں ان کے بچے یتیم نہیں کہلاتے کیونکہ شہید زندہ ہوتے ہیں۔ ''

ننھی چاندنی حیرت سے باپ کی آنکھوںمیںدیکھتی ہوئی اس کی گود سے اتری اور ایک نظر ماں کی طرف دیکھ کر بولی ۔ '' شہید زندہ ہوتے ہیںتو پھر ان کے بچے روتے کیوں ہیں ؟'' اتنا بڑا سچا اور تلخ سوال دونوں ہی میاں بیوی کواندر تک لرزا گیا شاہ محمد نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور بولا۔ ''تمہاری دوست کو رونا نہیں چاہئے کیونکہ وہ ایک شہید کی بیٹی ہے وہ  بِنتِ شہید ہے اور شہید کے بچے رویا نہیں کرتے۔ '' یہ کہہ کر شاہ محمد فوراََ اپنی چارپائی سے اٹھا اور جلدی سے کمرے کی جانب بڑھ گیا کہ چاندنی کوئی اور مشکل سوال نہ پوچھ لے لیکن اس نے زہرہ بیگم کے پاس سے گزرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو دیکھ لئے تھے ۔

تہجد کی نماز اور لمبے سجدوں میںاللہ کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر معافی اور دعا مانگنے کا سلسلہ زہرہ بیگم اور شاہ محمد کو وراثت میں ملا تھا اور وہ اس مذہبی لگائوکی وجہ سے اللہ کے اور بھی قریب ہو گئے تھے۔ اس وقت شاہ محمد سجدے میںاللہ کے حضور گرا ہوا تھا اس کا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا جو اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں جھکا ہوا تو ہے لیکن وہ اس وقت کسی اور ہی دنیا میں پہنچا ہو ا۔ زہرہ بیگم حسب معمول اس کے لئے چائے کی پیالی لے کر کمرے میںداخل ہوئیں توشاہ محمد کا لرزتا کانپتا وجود نظروں کے سامنے تھا اور جب وہ وجود زبان بنا تو اس کی آواز زہر ہ بیگم کو بھی واضح سنائی دینے لگی تھی وہ اپنے اللہ سے مخاطب تھا ۔

''میرے اللہ میں تیرا حقیربندہ ہوں ۔ میرے نامۂ اعمال میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو تیری بارگاہ میں پیش کر سکوں بس میرے مالک میری بیٹی کو میرے بعد کوئی بھی یتیم نہ سمجھے وہ ایک شہید کی بیٹی کہلانے میں فخر محسوس کرے۔ بس میرے مولا میرے کہے کی لاج رکھنا میری عزت اور آبرو کی حفاظت کرنا  اور میرے لفظوں کے تقدس کو میرا کفن بنانا ۔ مجھے شہادت کے اعلیٰ درجے پر فائز فرمانا میرے مولا ۔ ''

 اس کے لرزتے کانپتے وجود اور لفظوں نے زہرہ بیگم کو دروازے کی چوکھٹ سے ہی واپس جانے پر مجبور کردیا وہ شوہر کی اس خواہش اور اللہ کی بارگاہ میں کی گئی دعا پر آمین ہی کہہ سکیں اور آسمان کی جانب منہ کرکے دو آنسو بہا کر اللہ کے حضور نذرانہ پیش کرنے کی کوشش کی  ۔

پھر اللہ نے ایک دن شاہ محمد کی سن لی۔ دشمنوں کی بزدلی نے اپنا رنگ دکھایا اور ایک بزدل نے اپنی بارود سے بھری موٹر سائیکل اس گاڑی سے ٹکرا دی جس میں شاہ محمد اپنے اعلیٰ افسر کے ساتھ سوار تھا اور ساتھ میں دو اور بھی جوان شہادت کے مرتبے پر فائز ہو چکے تھے شاہ محمد کا جسد خاکی جب اس کے گھر پہنچا تو پورے محلے میں لوگ اس کے دیدار کے لئے امڈ آئے تھے۔ صابر و شاکر زہر ہ بیگم نے شوہر کی کیپ اورشوز وصول کئے تو معصوم اورسہمی ہوئی چاندنی اپنے آنسوئوں پر قابونہ رکھ سکی باپ کی  میت سے لپٹ کر رونے لگی تو اسے شاہ محمد کے الفاظ یا د آگئے کہ شہید کے بچے رویا نہیں کرتے کیونکہ جو مر جائیں ان کی میتوں پر رویا جاتا ہے شہید تو زندہ ہوتے ہیں اور اللہ کے ہاں سے اپنا رزق پاتے ہیں بس ہمیں ہی اس با ت کا ادراک نہیںہے ۔

ننھی چاندنی آسمان کی جانب منہ کر کے کھڑی ہوگئی اس لمحے وہ اپنی عمر سے کئی گنا بڑی لگنے لگی تھی اس کے باپ کی میت اس کے سامنے تھی اور وہ آسمانوں میں رہنے والے رب سے باتیں کرنے لگی۔

'' اے شہ رگ سے بھی قریب میرے اللہ ! میں تجھ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کرتی کیونکہ میں بنت ِشہید ہوں اور میرے لئے تیری طرف سے یہ اعزاز ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ میرے اللہ میرے بابا جان کو وہ مقام دینا جس کا تم اپنے قرآن میں وعدہ کر چکے ہو۔ میرے بابا جان کو مجھ سے ملنے روز بھیجا کرنا اللہ میاں جی ۔۔۔۔۔۔  '' 

       اس کے آنسوئوں اور سسکیوں نے وہاں کھڑے ہر مرد و زن اور سنگ و خشت کو بھی رلا دیا تھا زہرہ بیگم اس کو دلاسہ دینے کے لئے آگے بڑھیں وہ پھر بولی، ''اللہ جی میں روئوں گی نہیں میں کبھی بھی نہیں روئوں گی کیونکہ شہیدزندہ ہیں میرے بابا جان زندہ ہیں ۔ اللہ میرے ملک کو سلامت رکھنا میرے ملک کی لاج رکھنا میرے ملک کی طر ف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو اندھا کر دے۔ میرے پاک وطن کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو کاٹ کر رکھ دے میرے اللہ میں ایک شہید کی بیٹی تجھ سے التجا کرتی ہوں ۔ میرے اللہ تجھے اس بِنتِ شہید کی سسکیوں اور خاموش آنسوئوں کا واسطہ میری التجائوں اور دعائوں کی لاج رکھنا میرے وطن کو ہمیشہ سلامت رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔  ''  ا س کی پکار اور سسکیاں سن سن کر لوگ اپنے دلوں کو تھام کر رہ گئے پھر جب اس معصوم چاندنی کی ہمت جواب دے گئی تو وہ بے ہوش ہو کر شاہ محمد کے وجود پر ہی گر گئی گویا کہ بابا جان کی گود میں سونے کو مچل رہی ہو ۔


  [email protected]         

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP