بلوچستان میں تعلیم  کا فروغ اور پاک فوج  کا کردار

صوبہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے مگر تعلیمی حوالے سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ پسماندہ ۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں چند اچھے انسٹیٹیوٹ ضرور موجود ہیں لیکن بلوچستان کے دوسرے شہروں اور قصبوں میںاچھے تعلیمی اداروں کی شدید کمی ہے۔ وہا ں کے طالب علم مجبوراً دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں مگر ان کی اکثریت اپنی غربت کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہے۔ بلوچستان میں پاک فوج کی قربانیوں اور کاوشوں سے امن کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوگیا تو پاک فوج نے تعلیم کو فروغ دینے کے لئے تعلیمی پروگرام شروع کرنے کا بیڑا اٹھایا تاکہ بلوچستان کے بچے بھی پڑھ لکھ کر پاکستان کے دوسرے صوبوں کے ہم پلہ آجائیں اور وطن کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

اس سے پہلے کوئٹہ میں صرف ایک میڈیکل کالج تھا۔ پاک فوج نے میڈیکل میں طلباء کی دلچسپی دیکھتے ہوئے کوئٹہ میں کوئٹہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس

(QIMS)

تعمیر کیا جس کا پہلا بیچ 2017

میں پاس آؤٹ ہوا اور اس وقت موجودہ بیچ میں 500طلباء ہیں اوریہ پانچواں بیچ ہے ۔

کم پڑھے لکھے نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے لئے ٹیکنیکل تعلیم کا ایک ادارہ ای-ایم-ای سینٹر کوئٹہ میں 2007میں

BITE

کے نام سے قائم کیا گیا۔ جس میں لڑکیوں اور لڑکو ں کو مختلف ہنر سکھائے جاتے ہیں۔ابھی تک  تقریباً 8241 لڑکے اور2379 لڑکیاں یہاں سے ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ پاک آرمی نے ٹریننگ کے لئے آنے والے افراد کے لئے فری بورڈنگ اور لاجنگ کی سہولتیں بھی مہیا کی ہیں۔

اسی طرح کا ایک انسٹیٹیوٹ گوادر میں بھی قائم کیا جاچکا ہے جوکہ آرمی چیف کے حکم سے 2011 میں قائم کیا گیا تھا۔

APSACS

بلوچستان میں تعلیم عام کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ سب سے پہلے یہ سکول کوئٹہ میں قائم ہوئے اس کے بعد بلوچستان کے دوسرے بڑے شہروںجیسے خضدار، لورالائی ، چمن اور ژوب میں قائم ہوئے۔ اس وقت ان سکولوں میں 12171طلباء پڑھ رہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ ایف جی پبلک سکولزبھی کافی عرصے سے بلوچستان میں تعلیمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ کوئٹہ کے علاوہ خضدار ، سبی، لورالائی، چمن اور ژوب میں کھولے گئے۔ایف جی سکولز اور کالجز میں اس وقت بلوچستان کے 3432 طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

بلوچستان کے بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں

FC

بلوچستان کے زیر نگرانی 82سکول و کالج قائم ہیں جن میں 21068طلباء پڑھ رہے ہیں جو آگے جاکر پاکستان کی تعمیر اور ترقی میں اہم کردار اداکریں گے۔

چمالانگ ایجوکیشن پروگرام 2007میں شروع کیا گیا جس میں 303 بچے شامل ہوئے۔ کمانڈر سدرن کمانڈ کی ذاتی دلچسپی سے یہ پروگرام بلوچستان کے دیگر 23اضلاع تک پھیلادیا گیا ہے۔  پاک آرمی کی بدولت اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں کے مختلف سکولوں میں بہت سے بلوچ طلباء فری تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔

بلوچستان کے ہونہا ر طلباء کے لئے 4ماہ کا چینی زبان کا کورس بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی پاک آرمی کے تحت بہت سے ایجوکیشن پروگرام چل رہے ہیں جس میں بلوچستان کے طالب علم بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور اِن شَائَ اللہ یہ طالب علم پاکستان کی تعمیروترقی میںکلیدی کردار اداکریں گے۔

(رپورٹ : علی اکبرکوئٹہ)

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP