یوم پاکستان

ہماری23 مارچ کی پریڈ 

23 مارچ ہماری قومی تاریخ میں بہت اہم دن ہے- اس دن قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی ۔اس دن کو سرکاری سطح پر ہمیشہ بہت جوش و خروش سے منایا جاتا رہا ہے۔23 مارچ کو مسلح افواج کی پریڈ ہوتی ہے جس میں پاکستان کی دفاعی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا جاتا ہے۔بچے ہوں یا بڑے تمام اس دن کا انتظار بے بیتابی سے کرتے ہیں ۔دشمن کے دل پر پاکستانی کے جری جوان،آلات حرب اور دفاعی قوت دیکھ کر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہاتھوں میں ہے۔ دفاعی قوت کا مظاہرہ قوم میں نیا عزم اور ولولہ پھونک دیتا ہے۔



بچپن میں سب سے زیادہ مجھے 23 مارچ کا انتظار ہوتا تھا ۔مجھے آج بھی یاد ہے اس وقت ہونے والی پریڈ میں چھوٹے بچے نہیں جاسکتے تھے۔ میں دادی ماں کے ساتھ گھر پر رہ جاتی تھی اور باقی سب بڑے پریڈ میں جاتے تھے۔پھر جب اگلے سال مجھے یہ پتہ چلا کہ فل ڈریس ریہرسل والے دن بچے جاسکتے ہیں تو سفید لباس چھوٹا ہرا دوپٹہ اور پاکستان کے جھنڈے والا بیج لگا کر میں نے پریڈ میں شرکت کی۔اس وقت پریڈ بلیو ایریا میں ہوتی تھی۔ وہاں سیڑھیوں پر بیٹھ کر پریڈ دیکھی، خوب نعرے لگائے پاکستان زندہ باد، پاک آرمی زندہ باد۔جب پریڈ شروع ہوئی تو اپنے طور پریڈ کرنے کی بھی کوشش کی۔ جب فوجی دستوں نے سلامی کے چبوترے پر سلامی دی تو ہم بچوں نے بھی اُن کو جوابی سلیوٹ کیا۔ تمام بڑے مسکرانے لگے۔ شاید اسی وجہ سے پریڈ کے اصل دن بچوں کو ساتھ لانا منع تھا۔بچے اصولوں اور نظم و ضبط کو فالو نہیں کرتے، من موجی ہوتے ہیں ۔ہم سب بچوں نے خوب نعرے لگائے، فوجیوں کو سلیوٹ کئے اور جب جہاز آئے تو ان کو ہاتھ ہلا ہلا کر السلام علیکم اور اللہ حافظ کہا ۔پھر علاقائی فلوٹ آگئے۔ ہم سب بچے حیرت زدہ رہ گئے۔ بڑے بڑے مجسمے، خوبصورت علاقائی لباس والے اداکار لوک موسیقی ۔ہم سب بچوں نے خوب تالیاں بجا کر داد دی۔وہ دن میری زندگی کا یادگار دن تھا۔ اس دن نے میرے اندر جذبہ حب الوطنی کی نئی روح پھونک دی ۔ جب پی ٹی وی پر پریڈ 23 مارچ کو لائیو نشر ہوئی تو میرے امی، ابو اور بڑی بہن تو پنڈال میں تھے لیکن میں بھی ٹی وی کے سامنے بالکل سکون سے بیٹھی تھی کیونکہ فل ڈریس ریہرسل والے دن میں یہ سب دیکھ چکی تھی ۔جب پاک فضائیہ کے جہاز آئے اور فلائی پاسٹ ہوا تو  مجھ سے رہا نہیں گیا باہر دوڑ لگا دی۔ پہلے طیارے آسمان پر دیکھتی ۔پھر دوڑ لگا کر ٹی وی پر دیکھتی۔ دادی اماں ہنستی رہتیں اور میرے جذبے پر مجھے پیار کرتیں ۔
پھر ملک کے حالات بگڑ گئے دہشت گردی نے عوام کی کمر توڑ دی۔ہم سب یکدم بڑے ہوگئے ۔ایسا لگا ہمارا بچپن کہیں کھوگیا۔ ہماری پاک فوج نے قوم کو اندھیروں سے نکال دیا اور دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ۔جب امن و امان لوٹ آیا، ہمارے غازیوں اور شہدا ء نے ان گنت قربانیاں دیں، ایک دن اعلان ہوا کہ مسلح افواج کی پریڈ دوبارہ سے ہوگی ۔مجھے بہت خوشی ہوئی میں نے سوچا بچپن میں میری کتنی خواہش تھی کہ میں پریڈ پنڈال میںدیکھوں لیکن چھوٹے بچوں کو مدعو نہیں کیا جاتا تھا۔اب تو میں جاسکتی ہوں اور سب کچھ براہ راست دیکھوں گی۔
16 دسمبر 2014 کو بزدل دشمن نے ہمارے دل پر وار کیا تھا۔اے پی ایس پشاور میں معصوم بچوں اور ان کے اساتذہ کے ساتھ جو سفاکیت برتی گئی اس کی مثال نہیں ملتی ۔اس لئے پریڈ کا انعقاد ضروری تھا تاکہ اپنی دفاعی صلاحیت دکھا کر دشمن پر ہیبت طاری کی جائے ۔جب پریڈ کی ریہرسل شروع ہوئی تو میں اسلام آباد ایف نائن پارک میں تھی اور اتنی قریب سے پہلی بار میں نے پاک آرمی، نیوی اور ائیر فورس کا فلائی پاسٹ دیکھا ۔میرے پاس ڈی ایس ایل آرکیمرہ موجود تھا۔ میں نے جنگی جہازوں ،ہیلی کاپٹرز کی تصاویر بنائیں اور بے اختیار نعرے لگانا شروع کردیئے پاکستان زندہ باد ۔پاکستان کے دفاعی اثاثے دیکھ کر ایک جوش و ولولہ آگیا۔ مجھے دیکھ کر دوسرے لوگ بھی نعرے لگانا شروع ہوگئے ۔میں تھوڑا سا جھینپ گئی اور مسکرانے لگی ایسے لگا میرا بچپن پھر سے لوٹ آیا ہے۔
23 مارچ کا دن آیا۔ دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ دن کا آغاز ہوا۔ اسلام آباد میں پریڈ کا آغاز ہوا جس میں صدر مملکت وزیر اعظم، مسلح افواج کے سربراہان، سفارت کاروں نے شرکت کی۔پاکستان کی دفاعی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیاگیا۔ مسلح افواج کی پریڈ کا جھومر فلائی پاسٹ کا مظاہرہ ہے۔ایف سولہ طیاروں کی فارمیشن،جے ایف 17تھنڈر کی فارمیشن ،ایف سیون پی جی طیارے، پاک فضائیہ کے ایویکس طیارے،قراقرام ایگل،معراج طیاروں،پی تھری سی طیاروں کی فارمیشن نے صدر پاکستان کو سلامی دی۔
صدر پاکستان نے مسلح افواج کے دستوں کا معائنہ کیا ۔صدر کے خطاب کے بعد پریڈ کا آغاز ہوا جس میں بری فوج، بحری فوج اور پاک فضائیہ کے دستوں نے حصہ لیا ۔ایس ایس جی کمانڈوز،ناردرن لائٹ انفنٹری،مجاہد فورس، رینجرز،بوائے سکاوٹس،لیڈیز آفیسرز،پولیس اور گرلز گائیڈ کے دستے بھی مارچ پاسٹ کا حصہ تھے۔تمام شائقین نے کھل کر ان دستوں کو داد دی اور جوابی سلیوٹ کیا۔
مارچ پاسٹ کے بعد مسلح افواج کے الخالد ٹینکوں،الضرار ٹینکوں، اے پی سی ، ایم ریپ،توپ خانے اور ایم ون نائن ایٹ کے دستے آئے۔ملٹی لانچ راکٹ سسٹم،ائیر ڈیفنس جراف ریڈار، موبائل پلس ریڈار،کور آف انجینئرز کا دستہ،لانچ پل کی گاڑیاں،سالٹ ٹریک وے برج بھی پریڈ کا حصہ تھے۔ اس کے بعدمیرے سب سے پسندیدہ آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز آئے ۔پہلے تو میرا دل چاہا کہ بچپن کی طرح ہاتھ ہلا ہلا کر ان کو ویو کرو ںلیکن پھر عمر کا تقاضا یہی تھا کہ خاموش بیٹھی رہوں۔مگر جیسے ہی ہیلی آئے تو فرط جذبات سے پاکستان زندہ باد کہنا شروع کردیا اور ان ماؤں کے لئے بے اختیار دعانکلی جن کے یہ بیٹے ہیں ۔یہ میرے وطن کے بیٹے انمول ہیںجو اپنی جوانی نچھاور کرکے ملک اور قوم کی حفاظت کرتے ہیں ہمیں ان پر ناز ہے ۔ آرمی ایوی ایشن کوبرا ہیلی کاپٹرز،فینس ہیلی کاپٹر، پیوما ہیلی کاپٹرز، بیل 412،ایم آئی 17،نیوی کے زولو ٹین بھی فلائی پاسٹ کا حصہ تھے۔شیر دل فارمیشن نے تو حاضرین کے دل جیت لئے۔ چھ طیاروں پر مشتمل اس فارمیشن نے خوبصورت فضائی کرتب دکھائے۔مظاہرہ مکمل کرنے پر یہ چھ جہازچھ مختلف سمتوں میں نکل گئے۔جس پر حاضرین دنگ رہ گئے اور شیر د ل کو بہت داد دی۔جے ایف تھنڈر 17 ایف نے ہم سب کا لہو گرمادیا۔
تمام شائقین بار بار پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے ۔جب ایس ایس جی کمانڈوز نے پرچم کے ساتھ طیارے سے جمپ لگائی تو سب حاضرین کے کلیجے منہ کو آگئے ۔مگر جب پرچم زمین پر بنا لگے وہ کامیابی  سے لینڈ کر گئے تو آنکھیں بھیگ گئیں کہ ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
شاہین ون میزائل،شاہین تھری میزائل،رعد کروز میزائل،براق ڈرون بھی نمائش کا حصہ تھے۔یہ سب آلات حرب کتنے ضروری ہیں۔27 فروری  2019  کے بعد ہم سب کو پتہ چل گیا ہے۔تقریب میں روایتی موسیقی، پاکستانی ثقافت اور علاقائی رقص سے مزین فلوٹ بھی لائے گئے۔سب سے آخر میں بچوں کی پرفارمنس نے تمام حاضرین اور ناظرین کے دل جیت لئے۔تقریب کے اختتام پر ایسا لگا جیسے دہشت گردی کے لگائے سب زخم ختم ہوگئے اور ایک نیا دن ایک نیا سویرا ہم سب کے سامنے ہے۔


مضمون نگار صحافی، مصنفہ اور فوٹوگرافرہیں ۔وہ سیاست ، مسائل صحت اور ماحولیات پر لکھتی ہیں۔ اپ انہیں ٹویٹر @javeriasاور یوٹیوب  https://www.youtube.com/javeriasiddique  پر فالو کرسکتے ہیں۔
 

Read 22 times



TOP