یوم پاکستان

قیامِ پاکستان میں تعلیمی تحریکوں کا کردار 

برعظیم پاک و ہند میں ٣مئی ١٨٥٧ ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمان غلط حکمتِ عملی اور انگریزوں کی سازشوں اورجارحیت کی وجہ سے اپنے اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک طویل عرصے تک حکمرانی کے تخت نشین، بوریا نشین ہوگئے۔ مغلیہ سلطنت کاآفتابِ حکمرانی شامِ غریباں بن گیا۔١٨٥٧ء کی جنگِ آزادی کو انگریزوں نے اپنی انا کا مسئلہ بنا کر مسلمانوں پر ہلاکو خان اور چنگیز خان سے کہیں زیادہ ظلم ڈھائے۔ انگریز مورخین نے بھی اِن مظالم کو موضوعِ تحریر بنایا۔ حکومتِ ہند نے اگست ١٨٥٨ء میں''گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ'' برطانوی پارلیمنٹ میں منظور کر لیا  جس کے تحت برطانوی حکومت نے پورے ہندوستان کو اپنے تاج کا حصہ بنا لیا ۔انگریزوں اور اُن کے حواریوں نے جنگِ آزادی کو غدر کا نام دیا۔ کرنل برن ، میجر ہارڈی اورمیجر ہڈسن نے مسلمانوں پر انسانیت سوز ظلم ڈھائے۔یوں سمجھ لیجئے کہ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہوگیا۔ظلم وجبر کی چکی میں پستے ہوئے مسلمان کسی مسیحا کے متلاشی تھے۔ اِن حالات میں سر سید احمد خاں(١٧اکتوبر ١٨١٧ء ۔٢٧مارچ ١٨٩٨ئ) میدان عمل میں آئے اور انھوںنے ظلم و جور کی چکی میں پستے ہوئے مسلمانوں کو راہ نجات دکھائی ۔مسلمانوں میںاُن کی عظمتِ رفتہ بیدار کرنے کے لئے سرسید احمد خاں نے مسلمانوں کو انگریزی سیکھنے اور انگریزوں کاعلم کے بل بوتے پر مقابلہ کرنے کی دعوت دی۔ اس ضمن میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بہت سے ناعاقبت اندیش لوگوں نے سرسید احمد خاں کی مخالفت بھی کی لیکن انھوں نے اس مخالفت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ کسی بھی تعطل اور جمود کو توڑنے کے لئے اجتماعی کوشش تحریک کا درجہ حاصل کر لیتی ہے ۔ سرسید نے تحریکِ آزادی کو ایک نیا رنگ اور ایک نیا آہنگ دیا۔ اس تحریک میں مقصدیت کارفرما تھی۔ تحریک کے پس منظر میں جذبہ کارفرما ہوتا ہے ۔ مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ بیدار ہوچکی تھی کیوںکہ ظلم ، جبر اور تشدد کی عمر زیادہ نہیں ہوتی۔تاریخ شاہد ہے ، ظلم بڑھتا ہے تومٹ جاتا ہے ۔ تحریکِ آزادی کو سرسید احمد خان اور اُن کے ساتھیوں نے خونِ جگر سے نمو عطاء کی۔ 
    کاروانِ سرسیداحمد خان پھلنے پھولنے لگا ۔ علی گڑھ علم و آگہی کا مرکز بنا ۔قومی فکر رکھنے والے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ مل گئی ۔ سرسید احمد خاں ، مولانا الطاف حسین حالی ، ڈپٹی نذیر احمد ، مولانا محمد حسین آزاد اور علامہ شبلی نعمانی اردو کے عناصر خمسہ کا پیرہن لئے ادب برائے زندگی کا پرچم لہراتے ہوئے مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ اور جینے کی امنگ لئے میدان عمل میں آئے ۔ پانچ ستاروں نے نہ صرف آسمان ادب بلکہ تحریک آزادی کو بھی تقویت عطاء کی۔ تحریکِ آزادی کو قلم کی قوت نے اُبھارا۔ تاریخ شاہد ہے کہ قوت ہار جاتی ہے اور جذبے جیت جاتے ہیں۔ جذبوں سے بھرپور مسلمانوں نے تحریک آزادی کا راستہ ہموار کرنے کے لئے سر سے کفن باندھ لیا۔
 سر سید احمد خاں کے دیگر ساتھیوں میں مولوی چراغ علی ، نواب محسن الملک ، مولوی محمد سمیع اللہ خان ، نواب وقار الملک ایسے احباب تھے جنھوںنے جذبۂ ملّی سے سرشار ہو کر مسلمانوں کو بیداری کا پیغام دیا ۔اس ضمن میں شعور کی بیداری مرکزی نکتہ تھی۔ تعلیم وہ ہتھیار ہے جو انقلاب کا راستہ ہموار کرتاہے۔ تعلیمی تحریک اگرچہ سست روی کا شکار رہی لیکن اس کے اثرات دوررس ثابت ہوئے۔ سرسید احمد خان اور رفقاء نے ١٨٥٩ ء میں فارسی مدرسہ کی بنیاد رکھی ۔١٨٦٤ء میں انگریز ی ، اردو ، فارسی ، عربی ، سنسکرت اور دیگر زبانوں کی ترویج کے لئے غازی پور میں وکٹوریہ سکول بنایا گیا ۔ ریاضی طبیعیات اور دیگر علوم کی کتب کے تراجم کے لئے ١٨٦٣ء میں سرسید احمد خاں نے سائنٹیفک سوسائٹی قائم کی ۔ ١٨٦٤ء میں سوسائٹی کا دفتر علی گڑھ میں بنادیا گیا۔ سوسائٹی کے تحت ٣ مارچ ١٨٦٦ء کو'' علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ''کا آغاز ہوا ۔ ٢٣ سال کی اشاعت میں اسے سہ روزہ کر دیا گیا ۔ اُردو اور انگریزی مضامین کے ذریعے مسلمانوں کی بھرپور نمائندگی کی جاتی ۔ ١٠مئی ١٨٦٦ ء کو برٹش انڈین ایسو سی ایشن کی بنیاد ڈالی گئی ۔ یکم اگست ١٨٦٧ ء کو گورنر جنرل سر جون لارنس سے ورنا کیولر(Vernacular) یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ۔ ٢٤دسمبر ١٨٧٠ ء کو رسالہ ''تہذیب الاخلاق '' جاری ہوا جس نے چھ سال میں مسلمانوں کی ذہنی پستی دور کرتے ہوئے اُن کے سامنے چراغِ اُمید رکھ دیا ۔ ٢٦ دسمبر ١٨٧٠ء کو بنارس میں کمیٹی خواست گار ترقی تعلیم قائم ہوئی۔ مسلمانوں کے لئے ایک کالج کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ ٢٤ مئی ١٨٧٥ء کو ایم اے اوسکول کی بنیاد رکھی گئی ۔ ١٨ جنوری ١٨٧٧ ء کو وائسرے ہند لارڈ لیٹن نے کالج کی بنیاد رکھی ۔ سرسیداحمد خان کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیناچاہتے تھے ۔اُنھوں نے فرمایا :
'' دوستو ! ہماری پوری تعلیم اس وقت ہوگی جب ہماری تعلیم ہمارے ہاتھوں میں ہوگی۔ یونیورسٹی کی غلامی سے ہم آزاد ہوںگے ۔ ہم اپنی تعلیم کے خود مالک ہوں گے اور بغیر یونی ورسٹی کی غلامی کے ہم آپ اپنی قوم میں علوم پھیلائیں گے۔  فلسفہ ہمارے داہنے ہاتھ میں ہوگا ،نیچرل سائنس ہمارے بائیں ہاتھ میں ہوگی او ر کلمہ لاالہ الا اللہ کا تاج ہمارے سر پر ۔''
٢٧ دسمبر ١٨٨٦ء کو آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھی گئی جس نے مسلمانوں میں تعلیمی شعور بیدار کیا ۔ مسلمانوں اور انگریزوں میں کچھ غلط فہمیاں ختم کرنے یا کم کرنے میںتحریک علی گڑھ سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ سرسید احمد خاں متحدہ قومیت کے نظریے کے بعد دو قومی نظریے کی طرف آئے ۔ انگریزوں نے اپنی تنگ نظری کا سلسلہ جاری رکھا ۔١٨٦٧ء  میں اردو ہندی تنازعے کے سلسلے میں سرسید ،انگریزوں کے عزائم بھانپ رہے تھے ۔ ١٨٧١ء میں سرکاری ملازمتوںمیں ٧١١ ہندو اور مسلمان صرف ٩٢ تھے ۔ سرسید نے مسلمانوں کو مقابلے کے امتحانات کے لئے دعوت فکر دی ۔یہ پیغام بھی ایک تحریک کا روپ دھار گیا ۔ اس ضمن میں سر سید احمد خان نے ١٨٨٢ء میں طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
'' یاد رکھوکہ سب سے سچا کلمہ لاالہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے ۔ اسی پر یقین کرنے سے ہماری قوم '' قوم '' ہے ۔ اے عزیز بچو ! اگر کوئی آسمان کا تارا ہو جائے مگر مسلمان نہ رہے تو ہمیں کیا۔ وہ تو ہماری قوم میں نہ رہا ۔ پس اسلام کو قائم رکھ کرترقی کرنا قومی بہبود ہے۔''
اسلام کی فطرت میں ابھرنا ہے کیوںکہ
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں 
اِدھر ڈوبے، اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے 
            (ڈاکٹر علامہ محمد اقبال)    
تحریک علی گڑھ نے خوابیدہ مسلمانوں کو آزادی کی راہ دکھائی۔  وہ چوںکہ انگریزوں کی ملازمت کے دوران اُن تمام حربوں سے واقف ہو چکے تھے جو حکومتِ ہند وقتاً فوقتاً استعمال کرتی تھی۔ اس راز داری سے سرسید احمد خان نے بھرپور استفادہ کیا۔ نظریۂ پاکستان خصوصاً دو قومی نظریے کی تشریح کرنے کا اعزاز سرسید احمد خان کو حاصل ہے ۔ اُن کے تحریر کردہ مضامین اتحاد ، شعوری انقلاب اور بیداری کا پیغام رکھتے ہیں ۔ اُنھوںنے وہ تمام اقدامات کئے جن کے راستے آزادی کی دہلیز تک پہنچتے تھے۔ وہ اپنے خوابوں کی تعبیریں نہ دیکھ سکے لیکن ان کی قومی بیداری کی تحریک نے اَن مٹ اثرات چھوڑے ۔ ایک بات قابل ذکر ہے کہ علی گڑھ کالج میں اسلامی تربیت کا خاص اہتمام کیا جاتا ۔ کالج کی مسجد میں شیعہ اور سنی طلباء اپنے اپنے انداز پر نماز ادا کرتے ۔ پہلے شیعہ اور پھر سنی طالب علم سجدہ ریز ہو جاتے ۔احباب کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ وہاں آج بھی جاری  ہے۔ 
سر سید احمد خاں کی خدمات کے لئے ایک دفتر درکار ہے ۔ ان کی علمی ، ادبی ، سیاسی اور سماجی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی ۔ بہت سے احباب نے سر سید احمد خان کی زندگی میں ان کی بہت مخالفت کی، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سر سید اور ان کے رفقاء کار نے برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں میں شعوری انقلاب برپا کیا ۔ یہی پیغام بیداری دھیرے دھیرے دور دورتک پھیلتا گیا ۔ مسلمانوں کو اپنی عظمت رفتہ کا احساس ہونے لگا اور یوں کئی ادارے منظر عام پر آنے لگے ۔
 مولانا محمد علی کان پوری نے اپریل ١٨٩٣ء میں'' ندوة العلمائ'' ایک انجمن قائم کی ۔ سر سید احمد خاں کے قر یبی ساتھیوںنے ندوة العلماء کے مشن کی تائید کی ۔ نواب محسن الملک، شاہ سلیمان پھلواری ، نواب حبیب الرحمن شیروانی ، مولانا مونگیری دیگر ساتھی اس تحریک کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوئے ۔ ١٨٩٤ء میں انجمن ندوة العلماء نے اپنا دفتر لکھنؤ میں قائم کر لیا ۔ لکھنؤ کے علاوہ مولانا احمد رضا بریلوی (١٨٥٦۔ ١٩٢١ء ) نے ١٩٠٤ء میں بریلی کے مقام پر ''مدرسہ منظر الاسلام'' قائم کیا ۔ مولانا حامد رضا خان جو کہ مولانا احمد رضا کے فرزند تھے انھوں نے اور مولانا امجد علی اعظمی ، مولانا رحم الہٰی ، مولانا ظہور الحسن کے علاوہ دیگر علماء کرام نے، درس و تدریس کی خدمات انجام دیتے ہوئے اسلامی زاویۂ نظر سے مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی ۔ شیخ محمد نعیم الدین مراد آباد ی نے ١٩١٠ء میں دارالعلوم نعیمیہ قائم کیا ۔ برعظیم پاک و ہند میں بریلوی تحریک کا یہ بڑا مرکز تھا ۔آج بھی مراد آباد کے کئی جید علماء اپنی علمی و ادبی خدمات کی وجہ سے مقبول ہیں ۔ مولانا احمد رضا بریلوی دو قومی نظریے کے مبلغ تھے۔ تحریک خلافت (١٩١٩ء ۔ ١٩٢٤ئ) کے دوران انھوںنے گاندھی کی مکاریوں اور چالاکیوں کو بھانپ کر اس کی بھرپور مخالفت کی۔ 
مولانا احمد رضا بریلوی نے تحریک پاکستان میں سرگرمی سے حصہ لیا ۔ انھوںنے جو پودا لگایا تھا اس کی شاخیں آج بھی مختلف علاقہ جات میں موجود ہیں ۔ پنجاب علمی ، ادبی ، سماجی ، سیاسی ، مذہبی ،معاشی اعتبار سے برعظیم پاک و ہند میں مرکزی حیثیت رکھتا رہا ۔ علماء کرام ، شاعروں و ادیبوں اور دانش وروں نے پنجاب کو تحریک آزادی کا مرکز بنائے رکھا ۔ ''انجمن حمایت اسلام'' کی خدمات اس ضمن میں کسی طرح بھی فراموش نہیں کی جا سکتیں ۔ ٢٤ ستمبر ١٨٨٤ء کو مسجد بکن خان میں انجمن حمایت اسلام کا پودا لگایا گیا ۔ اس کے بانی صدر خلیفہ محمد حمید الدین اور سیکرٹری مولوی غلام قصوری تھے ۔ انجمن حمایت اسلام نے غیر اسلامی سرگرمیوں کے خلاف جہاد کیا ۔ نوجوانوں کو اسلامی تعلیمات اور اسلامی ثقافت سے روشنا س کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کی ۔ ڈاکٹر محمد دین تاثیر ، محبوب عالم ، مرزا ارشد گورگانی ، منشی عبدالرحیم دہلوی ، منشی چراغ دین ، منشی پیر بخت ، حاجی میر شمس الدین ، علامہ شبلی نعمانی ، سرسید احمد خاں ، ڈپٹی نذیر احمد ، محسن الملک، مولانا محمد حسین آزاد، مولانا الطاف حسین حالی ، وقار الملک ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اور ایسے ہی نامور شاعروں و ادیبوں اور دانش وروں نے انجمن حمایت اسلام کی حمایت کی طلبا و طالبات کے لئے تعلیمی ادارے قائم کئے ۔ چھوٹے بڑے تقریباً چالیس ادارے اسلامی فکر و فلسفہ کی اشاعت کے لئے کام کرتے رہے ۔ ماہنامہ '' حمایت اسلام'' ، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن اور کئی دیگر تحریکوں نے انجمن حمایت اسلام کے پلیٹ فارم سے جنم لیا۔ علامہ اقبال نے ٢٤فروری ١٩٠٠ء میں پہلی مرتبہ اپنی نظم '' نالہ ٔ یتیم ''سے حاضرین کوخوب اشک بار کیا ۔ اس نظم کے بعد حاضرین نے انجمن کو دل کھول کر چندہ دیا۔ بعدازاں علامہ اقبال انجمن کے جلسے میں جوبھی نظم پڑھتے اس کی کاپیاں تقسیم کی جاتیں اور اس کی آمدنی انجمن حمایت اسلام کو دی جاتی ۔
'' سند ھ مدرسة الا سلام ''کراچی کا نام بھی شعوری انقلاب اورتحریکِ آزادی کا راستہ ہموار کرنے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ حسن علی آفندی نے ١٦ مارچ ١٨٨٤ء کو'' سندھ محمڈن ایسو سی ایشن ''کی بنیاد رکھی ۔ اللہ بخش ابوجھ اس کے سیکرٹری مقرر ہوئے ۔ مشہور ماہر قانون سید امیر علی کی سر پرستی انھیں حاصل رہی ۔ یکم ستمبر ١٨٨٥ء کو سندھ مدرسة الا سلام نے کام شروع کیا۔ اس مدرسے کا اعزاز ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح بھی اس ادارے میں زیر تعلیم رہے ۔ اے کے بروہی ، ڈاکٹر داؤد پوتا ، غلام حسین ہدایت اللہ ، شیخ عبدالمجید سندھی ایسے نامور دانش وروں نے بھی اسی ادارے سے اکتساب فیض کیا۔ مذکورہ ادارے نے تعلیم کی ترویج کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی ۔ قیام پاکستان کے بعد بھی اس ادارے کے زیر سرپرستی اضافی ادارے کام کرتے رہے۔ تحریک آزادی کی آبیاری میں سندھ مدرسة الا سلام نے نرسری کا فریضہ انجام دیا ۔ آزادی کی یہ تڑپ برعظیم پاک و ہند کے کونے کونے میں پھیلتی گئی۔ صوبہ سرحد میں بھی پیغام آزادی کی نشر و اشاعت کے لئے کئی مسلمان میدان عمل میں آگئے ۔ یاد رہے انگریزوں کو ١٨٥٧ ء کی جنگ آزادی کے بعد اس بات کا احساس ہو چکا تھا کہ مسلمان حاکمیت کھونے کے باوجود اپنی حاکمیت دوبارہ حاصل کرنے کے لئے جدوجہد اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ ہندوؤں میں بھی یہ جذبہ کسی حد تک موجود تھا کہ وہ انگریزی عمل داری سے نجات حاصل کریں ۔ برطانوی حکمرانوں نے اپنا عنان اقتدار بڑھانے اور اسے مستحکم کرنے کے لئے کئی آئینی اقدامات سے کام بھی لیا ۔ آئین کی آڑ میں انگریزوں نے مسلم دشمنی دکھائی ۔ہندو لیڈر بال گنگا دھرتلک نے کانگرس کے پلیٹ فارم سے اسلام اور مسلمان دشمنی کا اظہار کیا ۔ برطانوی حکومت کے ایک ریٹائرڈافسر اے او ہیوم  ( ایلن آکٹوین ہیوم ) نے تاج برطانیہ سے اپنی وفا داری کا پورا ثبوت دیتے ہوئے ''انڈین نیشنل کانگریس '' کی بنیاد رکھی۔جس کا مقصد مسلمانوں اور ہندوئوں کے حقوق کا تحفظ تھالیکن کچھ ہی عرصے بعد یہ احساس ابھرنے لگا کہ کانگریس تو صرف ہندوئوں کے حقوق کی ترجمانی کر رہی ہے اور مسلمانوں کو سراسر نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ کانگریس کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے سید امیر علی نے ١٨٧٧ء میں''نیشنل محمڈ ن ایجوکیشنل ایسو سی ایشن ''کی بنیاد رکھی جس نے مسلمانوں کے مؤقف کی اشاعت میں سرگرمی سے حصہ لیا ۔ ہندوستان میں اس تنظیم کی ٥٣ شاخیں قائم ہوئیں اور اس کا نیا نام '' سنٹرل محمڈ ن نیشنل ایسو سی ایشن ''رکھ دیا گیا۔ امیر علی ٢٥ سال بطور سیکرٹری کام کرتے رہے ۔ سید امیر علی نے برطانوی اعلیٰ قیادت سے رابطے کئے اور مسلمانوں کی تعلیمی ، معاشی حالت بہتر بنانے کی تجاویز پیش کیں ۔
 بابو غلام حید ر اور میاں عبدالکریم نے ١٨٩٠ء میں اسلامیہ ہائی سکول پشاور کی بنیاد رکھی ۔ صاحبزادہ عبدالقیوم خان نے ١٩١٣ء میں صوابی سے'' انجمن حمایت اسلام ''کے مشن کو بڑھانے کے لئے سرگرمی سے حصہ لیا۔ اسلامیہ کالج کا سنگ بنیاد ان ہی کی کاوشوں کا ثمر ہے ۔اسلامیہ کالج پشاور میں اسلامی تعلیمات کو خاص اہمیت دی گئی ۔ مسلمان اساتذہ نے انگریزوں کی عمل داری کے خلاف عَلم بغاوت بلند کیا ۔ اساتذہ نے نوجوانوں سے توقع ظاہر کی کہ وہ آزادی کے امین ہیں اور ان سب کومتحد اور یک جان ہو کر غلامی کا طوق گلے سے اتارنا ہوگا ۔ اسلامیہ کالج پشاور نے تاریخی نوعیت کے دانش ور پیدا کئے ۔ سردار عبدالرب نشتر،  ڈاکٹر عبدالجبار خان ، ڈاکٹر قادر بخش اور ایسے ہی کئی نامور اکابر کا تعلق اس ادارے سے ہے ۔ صاحبزادہ عبدالقیوم نے شعوری انقلاب کے لئے سرحد میں وہی کردارادا کیا جو علی گڑھ میں سرسید نے کیا تھا ۔ سرسید احمد خان ٢٧مارچ ١٨٩٨ء میں ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ 
سرسید احمد خان کے وصال کے بعد برعظیم پاک و ہند کی سیاست میں رد و بدل شروع ہو گیا۔ انگریزوں نے اپنے قدم مضبوط کرنے کے لئے ہر قسم کے حربے شروع کر دیئے۔ انڈین نیشنل کانگریس اپنے قیام کے فوراً بعد جانبدارانہ رویے کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو بیٹھی۔ مسلمان ذہنی طور پر کانگریس کے خلاف ہو گئے۔ ان کے جلسوں میں مسلمانوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہو گئی۔  
سرسید احمد خان علی گڑھ کالج کو یونیورسٹی بنتے نہ دیکھ سکے لیکن اُن کی وفات کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی معرض وجود میں آگئی ۔ ٢٩اکتوبر ١٩٢٠ء کو دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ قائم ہوئی۔ اس کی بنیاد علی گڑھ کالج کی عمارت کے سامنے رکھی گئی۔ ١٩٢٥ء میں جامعہ ملیہ کو دہلی منتقل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین ، حکیم اجمل خان ، ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور دیگر ماہرین نے مسلم نوجوانوں میں جذبہ آزادی بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں اسلامی تعلیمات سے بہرہ ور فرمایا ۔ انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے آزادی کی لَودھیرے دھیرے پروان چڑھ رہی تھی۔پنڈت موتی لال نہرو (١٨٦١ئ۔١٩٣١ئ)نے ١٩٢٨ء ''نہرو رپورٹ '' پیش کی تو قائداعظم نے ١٩٢٩ء میں چودہ نکات پیش کر کے نہرو رپورٹ کو ہوا میں اُڑا دیا ۔ ابھی ١٤نکات کی بستی آباد ہوئی تھی کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے قائد اعظم محمد علی جناح کی اس تجویز میں نئے رنگ کا اضافہ کیا۔ ٢٩ دسمبر ١٩٣٠ء کو مسلم لیگ کا ٢١ واں سالانہ اجلاس الٰہ آباد میں منعقد ہوا۔ شاعر مشرق نے اپنے تجربات کی روشنی میں اس اجلاس کو پاکستان کے خواب کی تعبیر کے لئے پہلی اینٹ بنا دیا۔ اسی اجلاس میںانھوں نے مسلمانوںکے لئے ایک خود مختاراسلامی مملکت کا تصور پیش کیا۔ 
 وزیر اعظم ریمز میک ڈونلڈ نے ١٦ اگست ١٩٣٢ء کو کمیونل ایوارڈ کا اعلان کیا۔١٩٣٥ ء میں انڈین نیشنل ایکٹ کے تحت الیکشن ہوئے جس میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی۔ ١٩٣٧ء میں بننے والی ہندو ذہنیت کی حامل کانگریسی ٹیم مسلمانوں پر ظلم و تشدد روا کئے ہوئے تھی کہ دوسری عالمگیر جنگ ١٩٣٩ء میں شروع ہو گئی۔ اکتوبر اور نومبر ١٩٣٩ء میں کانگریسی وزارتیں ختم کر دی گئیں۔ عظیم قائد محمد علی جناح نے ٢ دسمبر ١٩٣٩ء کو اعلان کیا کہ جمعہ ٢٢ دسمبر ١٩٣٩ء کو یوم نجات منایا جائے۔٢٣ مارچ ١٩٤٠ء کو قراردادِ لاہور منظور ہوئی ۔ صرف ٧ سال کی جہدِ مسلسل کے بعد ١٤اگست ١٩٤٧ء کو پاکستان معرض ِ وجود میں آگیا۔ پاکستان کا قیام لا تعداد قربانیوں اور مسلم تحریکوں کا ثمر ہے جس کی بنیادوں میں تحریک علی گڑھ ، دارالعلوم دیوبند ، ندوة العلماء اور دیگر مسلم اکابر کی قربانیاں شامل ہیں۔ تحریکاتِ آزادی میں نوجوانوں کا کردار قابلِ تقلید ہے ۔ وہ اپنے قائدین کی آواز پر برصغیر پاک و ہند کے کوچہ کوچہ اور قریہ قریہ پیغامِ آزادی لے کر صحرا نوردی کرتے رہے، مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی۔ دو قومی نظریے کے بل بوتے پر مسلمانوں کو میدانِ عمل  میں  آنے  کی  دعوت د ی ۔ 
 الحمد للہ !  آج ہم آزادی کی  فضا  میں  سانس لے  رہے  ہیں۔ ١٨٥٧ ء کی جنگ آزادی کے بعد ٩٠ سالہ خونچکاں تحریک کے بعد مسلمان آزادی کی دہلیز تک پہنچے۔ پاکستان بن گیا ہمیں اپنے اکابر کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ پاکستان ہماری اُمیدوں کا مرکز ہے ۔ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پاکستان سے وابستہ ہے ۔ ہمیں تعمیرِ پاکستان کے لئے اُسی جذبے سے کام کرنا چاہئے جو تحریکِ پاکستان میں ہمارے بزرگوں کے دلوں میں موجزن رہا۔ 


[email protected]
 

Read 24 times



TOP