قومی و بین الاقوامی ایشوز

کنٹرول لائن کی دونوں جانب بھارتی مظالم جاری

پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات کی تاریخ اگرچہ بہت پرانی ہے مگر لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا آغاز بھارت نے نوے کی دہائی سے کیا جب وادی نیلم،وادی لیپہ اور چکوٹھی سیکٹرز سمیت آزادکشمیر کے دیگر علاقوں پر بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کر کے کئی لوگوں کو شہید کردیا تھا۔1990سے لے کر 2003ء تک ہزاروں شہری شہید ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی اور سیکڑوں بچے،خواتین عمر بھر کے لئے بھارتی گولہ باری کے باعث معذوری کا شکار ہوچکے ہیں۔حالیہ چند برسوں میں بھارت نے سیز فائر معاہدے کی جس طرح خلاف ورزیاں کی ہیں ،عالمی برادری کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان 2003ء میں فائر بندی معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق دونوں ممالک کی افواج اب کنٹرول لائن پر فائرنگ نہیں کریں گی ،پاکستان نے اگرچہ اس معاہدے کی مکمل پاسداری کی مگر بھارت کی جانب سے ہنوز خلاف ورزی جاری ہے۔



نومبر 2016ء میں بھارت نے وادی نیلم کے دودھنیال سیکٹر میں ایک مسافر کوسٹر کو نشانہ بنایا جس میں نو افراد جاں بحق اور 18زخمی ہوئے تھے جبکہ اسی سال دسمبر میں نکیال سیکٹر کے گائوں موہرہ میں سکول وین پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ڈرائیور موقع پر ہی شہید ہوگیا جبکہ دس سے پندرہ سال کی عمر کے درمیان کے پانچ طلباء اور تین طالبات شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر ہسپتال منتقل کیا۔ بھارت کی جانب سے 2013سے لے کر 2020تک فائرنگ ،گولہ باری اور مارٹر گنوں کے علاوہ سنائپر گنوں سے شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔بڑے بڑے واقعات میں درجنوں نہتے شہری شہید ہوچکے ہیں۔31دسمبر 2019ء کو وادی نیلم کے ہیڈ کوارٹر اٹھمقام پر بھارتی فوج نے اچانک فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں بن چھتر،  بگنہ،راوٹہ،پالڑی،چلہانہ،نگدر اور لوات میں لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا،دو خواتین شہید اور نو افراد زخمی ہوئے۔اسی طرح بھارتی فوج نے نکیال،عباسپور،چکوٹھی،لیپہ،موجی،لنجوٹ،درہ شیر خان،حویلی نیزہ پیر سیکٹرز پر جنوری تا مئی کئی بار گولہ باری اور ہیوی مشین گنوں اور مارٹر گنوں سے فائرنگ کی،سول آبادی کو نشانہ بنایا،نیزہ پیر سیکٹر میں 67سالہ سونا بی بی ،13سالہ فائزہ،10سالہ عائزہ،سات سالہ سیرت اور 19سالہ محمد یاسف زخمی ہوگئے۔ عباسپور سیکٹر میں پولس سیکٹر پر بھارتی فوج نے سنائپر گنوں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جہاں ایک نوجوان محمد دانش چوہدری زخمی ہوا جبکہ اس سے قبل 32سالہ نسرین اختر اور ایک معمر خاتون منیرہ بی بی زخمی ہوئیں۔راولاکوٹ سیکٹر کے کیرنی گائوں میں بھی فائرنگ سے دو خواتین شہید ہوئیں،نیزہ پیر رکھ چکھڑی، چڑی کوٹ،نکیال،درہوٹی اور دیگر علاقوں میں فائرنگ سے خواتین اور بچے زخمی ہوئے۔کھوئی رٹہ سیکٹر کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جارہا ہے جس کے دیہاتوں راجدہانی،پھلنی،ٹھنڈی کسی اور گردونواح میں بھارتی فوج کی شدید گولہ باری اور فائرنگ سے عوام زخمی ہوتے رہے۔کئی شہادتیں ہوئیں،دس ماہ سے جاری مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون اور کرفیو کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کے لئے بھارتی فوج نے طرح طرح کے حربے استعمال کئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک دلیر فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کو صرف اسی وجہ سے گرفتار کیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون اورمحاصرے میں بھارتی فوج کے مظالم کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ کنٹرول لائن سے ملحقہ مقبوضہ کشمیر کی غریب عوام پر ہونے والے مظالم اور ان کی بھوک، افلاس،علاج معالجہ کی سہولیات نہ ہونے کی خبریں اور تصاویر مسلسل وائرل کرتی رہیں۔بھارتی فوج نے لاک ڈائون اور کرفیو کا اس قدر ناجائز فائدہ اٹھایا کہ مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادیوں کے اندر بوفرز توپیں نصب کیں جن کی رینج کئی کلو میٹر تک ہے۔



بھارتی فوج نے توپیں اس زاویئے سے لگائی ہیں کہ گولہ باری کے نتیجے میں کئی گولے آزادکشمیر کے علاقوں میں گرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں بھی گررہے ہیں اور بھارت اس کا الزام پاک فوج پر لگاتا ہے تاہم ایک کشمیری خاتون نے بھارتی چینل کی لائیو نشریات میں اچانک پول کھول دیا کہ جب اینکر نے سوال کیا کہ آپ کا گھر کیسے تباہ ہوا تو کشمیری زبان بولنے والی خاتون نے کہا کہ گولہ باری سے تباہ ہوا ہے ۔دوبارہ سوال ہوا کہ گولے کہاں سے آئے خاتون نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ سامنے سے آئے تو اس نے پھر سوال کیا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر(آزادکشمیر) سے خاتون نے یکدم جواب دیا کہ نہیں یہ گولے بھارتی فوج نے مارے ہیں اور بارڈر یہاں سے بہت زیادہ دور ہے۔پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی کی آواز تک یہاں نہیں آتی۔کشمیریوں کے شدید احتجاج پر سول آبادی سے توپیں ہٹا تو لی گئی ہیں مگر کنٹرول لائن کے شہریوں پر بھارت نے جس طرح مظالم روا رکھے ہیں اس کی دنیا کے کسی خطے میں مثال نہیں ملتی۔فروری میں پاکستانی افواج نے بھارت کا ایک ڈرون جو عباسپور سیکٹر پر جاسوسی کے لئے بھیجا گیاتھا، کو مار گرایاتھا۔ بھارت اب آزادکشمیر پر آپریشن کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے ان دھمکیوں کو زبانی کلامی قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادکشمیر پر بھارتی حملہ خارج از امکان نہیں اور عین ممکن ہے کہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان ،آزادکشمیر کی حکومت کو کرونا وائرس سے نمٹنے میں مصروف پاکربھارت آزادکشمیر کے کسی بھی علاقے میں مذموم حرکت کرسکتا ہے اس کے لئے پاکستانی عوام،پاکستان کی افواج اور آزادکشمیر کے بہادر عوام مکمل تیار ہیں جو بھارت کو ناکوں چنے چبوائیں گے۔چار مئی کو بھارت نے پاکستان پر کرونا وائرس پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان مجاہدین کو مقبوضہ کشمیر میں بھیج کر کرونا وائرس پھیلا رہا ہے جبکہ پاکستان کے شہروں سے کرونا کے مریضوں کو آزادکشمیر میں بھی داخل کیا جارہا ہے جس پر افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے ایل او سی پر جارحیت بڑھ رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں کرونا سے بڑے پیمانے پر اموات کے باوجود بھارت کشمیریوں کو کوئی سہولت نہیں فراہم کررہا اور لوگ روزانہ درجنوں کے حساب سے مررہے ہیں۔بھارت دنیا کی توجہ ان مظالم سے ہٹانے کے لئے نئے شوشے چھوڑ رہا ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون اور کرفیو کا نفاذ پانچ اگست 2019ء کو کیا تھا اور اسی روز متنازعہ ترین قانون کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت دفعہ 35اے اور دفعہ 370کا خاتمہ کر کے مقبوضہ جموں وکشمیر کو اپنی یونین میں شامل کرلیا تھا۔جس کے بعد سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں عوام کا اربوں ڈالر کا کاروبار تباہ ہوچکا ہے سب سے زیادہ نقصان ٹورازم ،زراعت،قالین بانی،ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ہوا ہے ۔


بھارتی فوج نے لاک ڈائون اور کرفیو کا اس قدر ناجائز فائدہ اٹھایا کہ مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادیوں کے اندر بوفرز توپیں نصب کیں جن کی رینج کئی کلو میٹر تک ہے۔بھارتی فوج نے توپیں اس زاویئے سے لگائی ہیں کہ گولہ باری کے نتیجے میں کئی گولے آزادکشمیر کے علاقوں میں گرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں بھی گررہے ہیں اور بھارت اس کا الزام پاک فوج پر لگاتا ہے


عوام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ کنٹرول لائن پر بھارت کی جانب سے آئے روز خلاف ورزیوں کے باعث آزادکشمیر میں رہنے والے عوام بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔حکومت پاکستان نے کنٹرول لائن کے عوام کو احساس پروگرام کے کیش گرانٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت پاکستان میں بینظیر انکم سپورٹ سے امداد حاصل کرنے والے غیر مستحق 8لاکھ افراد کو نکال کر آزادکشمیر کے کنٹرول لائن کے تمام شہریوں کو اس میں شامل کیا جارہا ہے۔جبکہ آزادکشمیر کے 13انتخابی حلقوں جو کنٹرول لائن سے ملحق ہیں، میں عوام کو صحت کی سہولیات کے لئے نئی جدید ایمبولینسز کی فراہمی اور ہسپتالوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ تباہ حال سکولوں اور ڈسپنسریوں کی تعمیرخصوصاً پختہ کمیونٹی بنکرزکی تعمیر کے لئے بھی حکومت پاکستان کے تعاون سے آزادکشمیر بڑا منصوبہ رکھتی ہے جس کے لئے کرونا وبا کے خاتمے کے بعد آئندہ مالی سال کے بجٹ 2020-21ء میں اربوں کے فنڈز مختص کئے جارہے ہیں۔ایک طرف بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھارہا ہے اور کنٹرول لائن کے شہری اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ اس کے برعکس دوسری جانب پاکستان کشمیریوں سے خیر خواہی کررہا ہے۔دنیا بھر میں کشمیریوں کی بھرپور وکالت پاکستان نے کی ہے۔وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کئی بار اس کا برملا اظہار کیا ہے کہ اللہ کے بعد کشمیریوں کا واحد سہارا پاکستان ہی ہے کیونکہ پاکستان ہی کشمیریوں کی آرزئوں اور امیدوں کا مرکز ہے۔


کالم نگار ایک کشمیری صحافی اور تجزیہ نگار ہیں جو مظفرآباد سے شائع ہونے والے ایک  روزنامہ  کے ایڈیٹر  ہیں۔
[email protected]


 

Read 150 times



TOP