ہمارے غازی وشہداء

معرکہ بڈھ بیر کا ہیرو

کیپٹن اسفند یار بخاری کی زندگی  اور اُن کی جرأت و شجاعت کے حوالے سے لیفٹیننٹ کرنل محمدجاوید اقبال کی تحریر 

قوموں کی تاریخ لازوال قربانیوں اور شجاعت سے لبریز داستانوں سے مزین ہوتی ہے۔ پاکستانی قوم کا شمار بے شک اُن بہادر اور جری اقوام میں کیا جاتا ہے جس نے گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مزاحمت کی ہے۔ اس طویل جنگ میں سول اور عسکری قیادت کی لازوال جانی و مالی قربانیاں شامل ہیں۔ ان میں سے ایک لازوال قربانی کیپٹن اسفند یار بخاری کی ہے جو 18 ستمبر2015 کی صبح بڈھ بیر ایئر بیس کی ایک مسجد میں دہشتگردوں کو جہنم واصل کرکے شہید ہوئے۔



اسفند یار بخاری کی پیدائش 14 اگست1988 کو اٹک میں ہوئی۔ پیشے کے لحاظ سے والدڈاکٹر اور والدہ محترمہ معلمہ ہیں جو بچیوں کو قرآن ِ پاک کی تعلیم دیتی ہیں۔ لہٰذا بچے کی ابتدائی تربیت پڑھے لکھے والدین کے زیرِ سایہ ہوئی۔ پرائمری سے مڈل تک کی تعلیم APS اٹک اور MRF کالج کامرہ سے حاصل کی۔ میٹرک اورایف ایس سی کیڈٹ کالج حسن ابدال سے کئے جو ملک کا ایک نہایت معتبر اور ممتاز تعلیمی ادارہ ہے۔ یہاں اسفند یار بخاری کے ہر عمل نے ثابت کیا کہ وہ ایک ہونہار اور فرض شناس طالب علم ہیں۔ بہترین کارکردگی کی بنیاد کے پیشِ نظر جناح ونگ کے کمانڈر تعینات ہوئے جو کہ کالج ونگ کا اعلیٰ ترین عہدہ ہوتا ہے۔ ہاکی کھیلنے کا جنون کی حد تک شوق رکھتے تھے اور اسی بناء پر وہ پنجاب انڈر18 ٹیم کے لئے منتخب ہوئے اور کالج کی طرف سے ''کلر'' کا اعزاز حاصل کیا۔ بائیالوجی کلب کے صدر اور کالج میگزین ''ابدالین'' کے معاون مدیر بھی رہے۔ جناح ونگ کو اپنی بے مثال قیادت اور بہترین حکمتِ عملی سے چیمپیئن ونگ بنایا اوریومِ والدین کے دن اس دستے کی قیادت کی۔ اسی وجہ سے کالج کے طلبہ نے انہیں"Rare Student" یعنی نایاب طالب علم کا خطاب دیا۔ اٹک میں ضلع اسمبلی کے اجلاس کے دوران ضلع ناظم طاہر صادق نے اسمبلی ارکان کو آگاہ کیاکہ اٹک سے تعلق رکھنے والا اسفندیار ایک ایسا ہونہار اور ذہین بچہ ہے جس نے کیڈٹ کالج حسن ابدل میں یومِ والدین پر چیمپیئن  ونگ کی قیادت کی اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کی بناء پر جناح ونگ چیمپیئن کہلانے کا حقدار بنا۔ اسی بنا پر یہ متفقہ قرارداد پاس کی گئی کہ اسفند یار کو'' فخرِ اٹک''کا خطاب دیاجائے تاکہ ضلع اٹک کے دوسرے نوجوان اس سے ترغیب حاصل کریں اور ان میں بھی جذبہ مسابقت اور ایسے اعزازات حاصل کرنے کا ولولہ بیدار ہو۔
2 اپریل2006 کو اٹک فیسٹیول میں ایک مختصر مگر پُروقار تقریب کا اہتمام کیاگیا جس میں اُس وقت کے صوبائی وزیرکرنل (ریٹائرڈ) شجاع خان زادہ نے فخرِ اٹک اسفندیار بخاری کو سندِاعزاز اور شیلڈ دی۔ اس تقریب میں موجود ہرفرد اسفندیار کی ان کامیابیوں پر اس نوجوان کو مبارک باد پیش کررہا تھا۔ یہ ایک شاندار خراجِ تحسین تھا جو کہ ایک طالب علم کو پیش کیا گیا۔
اسفند یار کا کمرہ انعامات ،اسناد اور شیلڈز سے سجاہوا رہتا تھا جسے دیکھ کر وہ خوش ہوتا تھا اور اس میںمزید کچھ کرنے کا جذبہ مزید بڑھتا تھا۔ اسفند یار امتحانات کی تیاری کرتا رہا اور وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ انہی دنوں بری فوج کے لانگ کورس میں شمولیت کے لئے طلباء کا ایک گروپ تیار ہوا کہ بری فوج کا حصہ بننے کے لئے قسمت آزمائی کریں گے۔ اسفند یار تو کب سے یہ خواب دیکھ رہا تھا۔ اس نے بھی ان کے ساتھ جانے کی ٹھان لی اور ابتدائی ٹیسٹ پاس کرلئے۔ لانگ ویک اینڈ پر گھر آیا تو اس نے فوج میں جانے کا عزم ظاہر کیا، گھر والے حیران ہوئے کہ اسے کیا سوجھی ، میڈیکل میں جانے کے بجائے اچانک فوج میں جانے کاشوق چڑھ گیا۔ایک کزن نے پوچھا ''اسفند بھائی آپ اتنے لائق ہیں تیز دماغ والے ہیں آپ کو تو ڈاکٹر ہونا چاہئے فوج میں تو وہ جاتا ہے جس نے ایف ایس سی پاس کیا ہوا ہو۔ ''اسفند نے جواب دیا کہ ''پاکستان فوج ایک منظم ادارہ ہے۔ یہاں دولت و ثروت تو نہیں مگر عزت و احترام ضرور ہے۔ یہی حقیقی دولت ہے پاک فوج ارضِ پاک کی حفاظت کرتی ہے۔ پاک فوج جاگتی ہے تو لوگ امن کی نیند سوتے ہیں۔فوج کو میری قابلیت و لیاقت کی زیادہ ضرورت ہے۔ وہاں میں اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرسکوں گا ، وطن کا پاسباں بن کر ملک کی خدمت کروں گا اور اگر ملک کی خاطر جان سے بھی گزرنا پڑا تو میری روح کو کس قدر قرار حاصل ہوگا شاید یہ بھی تم نہ سمجھ پائو۔ شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن۔''



ٹیسٹ کے بعد کال آگئی۔ اکیڈمی میں رپورٹ کرنے کے لئے اسفندیار ایسے خوش ہوا جیسے اُس کو زندگی کا سب اہم پروانہ مل گیا ہے۔ جیسے وہ اسی لیٹر کے انتظارمیں زندگی گزار رہا تھا۔ایسی خوشی کہ چھپائے نہ چھپ رہی تھی۔ 19نومبر2006 کو اسفندیار نے PMA کاکول رپورٹ کی۔ اس کو طارق کمپنی ملی جس کے پلاٹون کمانڈر میجر قاسم کیانی تھے۔ اسفند یار نے دوسال کی ٹریننگ انتہائی شو ق اور جذبے کے ساتھ مکمل کرکے کئی امتیازی میڈلزاور پوزیشنز حاصل کیں۔ مثلاً بہترین کارکردگی پر تیسری ٹرم میںکارپورل کا عہدہ دیاگیا۔ تیراکی میں گولڈ میڈل ، گھڑ سواری میں شیلڈ حاصل کی۔ ہاکی ٹیم کی کپتانی کی اور طارق کمپنی نے چیمپیئن شپ جیت لی۔ گولڈ میڈل اور ٹرافی حاصل کی۔بٹالین سینیئر انڈر آفیسر کا عہدہ ملا۔
2008میں عسکری مضامین میں پورے 118 لانگ کورس میں ٹاپ کیا اور ملٹری Tactics میڈل جیت لیا۔ملٹری ٹیکٹکس میں میڈل کا حصول ہر بہترین کیڈٹ کا خواب ہوتا ہے۔اس میڈل کو پانے کے لئے انتہائی قوتِ ارادی، مستعدی اور مسلسل کارکردگی دکھانی پڑتی ہے۔ یہ کسی ایک ٹرم کی قابلیت کا نہیں بلکہ چاروں ادوار کے اجتماعی باریک بینی سے لئے گئے جائزے کے بعد کئے گئے فیصلے کے نتیجے میں عطا کیا جاتا ہے۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کا سب سے بڑا اعزاز یعنی اعزازی شمشیر بھی اسفند یار کو ملی۔
25 اکتوبر2008 کو پاسنگ آئوٹ کا دن اسفنداور ان کے والدین کے لئے باعث فخر تھاکہ کہ اُن کا بیٹا اعزازی شمشیر کے ساتھ سُرخ رُو ہوکر پاس آئوٹ ہوا جو ہر کیڈٹ کی دِلی تمنا ہوتی ہے۔ پاسنگ آئوٹ سے پہلے تمام کیڈٹس سے اُن کی من پسند یونٹ کے بارے میں پوچھاگیا تو اسفند یار نے ٹاپ پر  11-FF(فرسٹ پٹھان لکھا) یہ عظیم روایات رکھنے والی پاک فوج کی ایک قدیم یونٹ ہے۔ اس کی بہترین کارکردگی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کے حسبِ خواہش 11-FFیونٹ نصیب میں آئی۔
4 نومبر2008ء کو اسفند یار نے11-FFبہاولپور میں جوائن کی اور یونٹ کے افسروں اور جوانوں میںشروع سے ہی اپنی کارکردگی کی وجہ سے دلوں میں جگہ بنا لی۔2011 میں کوئٹہ میںBasic Infantry Course  بطریقِ احسن کیا مگر وہاں اس نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس نے ایک آلہ Range  Target Acquisitionایجاد کرکے آرمی کو دیا جس کو مزید بہتری کے لئے واہ فیکٹری بھجوادیا گیا۔ یہ آلہ بتاتا ہے کہ دشمن کہاں چھپ کر فائر کررہا ہے اور کتنے فاصلے پر ہے۔ اس کی مدد سے دشمن کو بآسانی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اسفندیار کو  تعریفی خط دیا۔
5ستمبر 2011کو اسفند یار جنوبی وزیرستان تعینات ہوئے جہاں ان کی یونٹ دہشت گردوں سے برسرِ پیکار تھی۔ 2012 میں جنوبی وزیرستان میں 80 کے لگ بھگ دہشت گردوں سے 11جوانوں نے پوسٹ کا دفاع کرتے ہوئے مقابلہ کیا اور آٹھ دہشت گردوں کو جہنم رسید کیا اس کارنامے پر اُن کی یونٹ میں بہت پذیرائی ہوئی۔
2013 میں اسفند یارنے UNمشن پر لائبیریا میں خدمات سرانجام دیں۔ 2015 میں نوشہرہ میںانہوںنے مڈ کیریئر کورس MCCمیں دوسری پوزیشن حاصل کی اور102بریگیڈ ہیڈکوارٹر میںGSO-3 پوسٹ ہوئے جو یقینا ایک کپتان کے لئے انتہائی اہم عہدہ ہوتا ہے ۔ جس پر اسفند یار بہت خوش تھے۔ 
18 ستمبر2015 کو فجر کے وقت بڈھ بیر ایئر بیس پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ اطلاع ملتے ہی بریگیڈ کمانڈر عنایت نے اسفند یار کوکال کی۔ اس نے انتہائی قلیل وقت میں اپنی ٹرانزٹ پلاٹون کو متحرک کیا اور برق رفتاری سے 6بج کر 20 منٹ پر بڈھ بیر پہنچ گئے۔ معلوم ہوا کہ 28 لوگ شہید اور 29 زخمی ہو چکے ہیں۔ 12پنجاب کی QRF کے کمانڈر میجر حسیب زخمی ہوکر سی ایم ایچ جا چکے ہیں۔ فائرنگ جاری تھی۔ اسفند یار بریگیڈ سٹاف افسر تھا اس کی ڈیوٹی نہ تھی مگر جب وطن نے پکارا تو لہو کھول اٹھا۔ بریگیڈیئر عنایت حسین نے بھی اجازت دی۔  12 پنجاب اور15 بلوچ کے ٹروپس کی کمانڈ سنبھالتے ہوئے کالونی کی طرف جانے والے تمام راستے بند کردیئے ۔ یوں اسفند یار کی شاندار جنگی حکمت عملی کی وجہ سے دہشت گرد ایک مخصو ص علاقے تک محدود ہوکررہ گئے۔ اب وہ بیرکوں کے اندر سے اسفندیار کی گاڑی پر فائرنگ کررہے تھے۔ اسی دوران اسفند یار نے فیصلہ کرلیا کہ مجھے باہر نکلنا چاہئے ورنہ دہشتگردشدید فائرنگ کا فائدہ اٹھا کر کالونی میں چلے گئے تو  پھرAPSپشاور سے بھی کہیں بڑا سانحہ نہ ہوجائے۔اسی طرح ایک دہشتگرد مسجد کی سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہا تھا اس نے اسفند یار کی گاڑی پر فائر کردیا۔ اسفند یار فوراً گاڑی سے کودا اور اس دہشت گرد کو جہنم رسید کیا اور یوں  وہ آگے بڑھا اور دہشتگردوں پرقہرِ الٰہی بن کر ٹوٹا۔
8بج کر سات منٹ پر اسفند یار نے اپنے کمانڈر کو آخری فون کیا کہ تمام دہشت گردمارے جاچکے ہیں اور آپریشن ختم ہوچکا ہے۔ اسی لمحے اس کی نظر بیرک کے کمرہ نمبر4 پر پڑی جہاں ایک دہشگرد چھپ رہا تھا۔سب نے اس کمرے کو فوکس کرلیا۔12 پنجاب کے ایک دلیر حوالدار نے کہا کہ سر! میں اس کی طرف جاتا ہوں۔ اسفندیارنے کہا نہیں! یہ Reflaxکی گیم ہے اور تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں گے۔ پھر کپتان اسفندیار نے ایک نائیک کو ساتھ لیا اور کہا تم دوسری طرف سے آئو اور لات مار کر دروازہ کھول دو، اندر میں خود جائوں گا۔ جونہی جوان نے دروازے کو ٹھوکرماری تو دروازہ کھل گیا۔ دہشت گرد سامنے موجود تھا۔ وہ گھبرایا ہوا تھا اور اس کی گن نیچے کی طرف تھی۔ اسفند یار دھاڑا، گن پھینک دو، ہاتھ اوپر اٹھا لو۔ دہشت گرد نے جواب میں گولی چلا دی جو فرش پر لگ کر اٹھی اور اسفندیار کی ٹانگ کو زخمی کرگئی۔ اب اسفند یار نے SMG کا پورا برسٹ اسے مارا۔ وہ جہنمی پیچھے گرا۔ اس کی گن اوپر آئی، ایک اور فائر ہوا جو کیپٹن اسفند یار کے سینے میںبائیں جانب عین دل کے مقام پر لگا۔ کیپٹن اسفندیار بخاری کو شدید زخمی حالت میں باہر لایاگیا۔ ہیلی کاپٹرکو کال کی گئی لیکن اس وقت تک یہ عظیم مجاہد شہادت کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز ہوچکا تھا۔
یاد رہے کہ کیپٹن اسفند یار بخاری کے اس کارنامے پر ایک خوبصورت کتاب ''معرکہ بڈھ بیر کا ہیرو'' ، پروفیسر محمدظہیر قندیل نے تحریر کی۔ مصنف شہید کے اُستاد گرامی رہ چکے ہیں اور بحیثیت صدر شعبہ اُردو کیڈٹ کالج حسن ابدال میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ ایک سال میں11 ایڈیشنز شائع ہوئے۔ اس کتاب کو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے کیڈٹ کالجز نے بھی اپنی لائبریوں کی زینت بنایا۔
مصنف نے اسفند یا ربخاری کی مختصر سی تابناک سوانح حیات  اس طرح مرتب کی ہے کہ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لئے ایک تحریک بھی ہے اور مشعلِ راہ بھی۔ حب الوطنی، فرض شناسی اور جان کے نذرانے کی یہ داستان ہماری قوم کے زندہ و تابناک مستقبل ہونے کا بین ثبوت بھی ہے۔کتاب پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کے والدین نے کس طرح سے اسفندیار کی بچپن میں تربیت کی اور کیسے وہ اوائل عمری ہی میں اپنے خاندان اور اہلِ علاقہ کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ نصابی اور غیر نصابی ہر قسم کے مقابلوں میں وہ ایک بہترین نوجوان کے طور پر سامنے آتا رہا۔ اسفند یار کے والدِ گرامی علاقے کے معروف ڈاکٹر تھے اس کے باوجود اسفندیار نے ڈاکٹر بننے کے بجائے پاک فوج کو جوائن کیا اور پاکستان ملٹری اکیڈمی پہنچ گیا۔ وہاں سے پاس آئوٹ ہونے کے بعد کی عسکری زندگی کا احوال بھی بہت دلیرانہ اور پیشہ ورانہ اعتبار سے شاندار رہا۔ یوں اسفند یار بخاری پر لکھی جانے والی کتاب کا حرف حرف پڑھنے کے لائق ہے۔
یہ خوبصورت کتاب 302 صفحات پر مشتمل ہے۔ جسے کیڈٹ کالج حسن ابدل نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت مبلغ 600روپے ہے جو کیڈٹ کالج حسن ابدال سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

Read 60 times



TOP