قومی و بین الاقوامی ایشوز

صفورا  زرگر کی پکار نہیں للکار ہے

نریندر مودی نے بھارت کو مسلمانوں کے لئے کوفہ بنا دیا ہے۔ اس کی سفاکیت روز بہ روز بڑھتی جارہی ہے۔ 80 لاکھ کشمیریوں کا المیہ الگ اور لگ بھگ18 کروڑ بھارتی مسلمانوں کے لئے بھارت میں زندگی گزارنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اگست2019 میں کشمیرمیں370 اور 35 اے کا اطلاق کرکے کشمیریوں کے حقوق سلب کئے اور پھر 10 جنوری 2020 سے بھارت کا متنازعہ شہریت ترمیمی قانونCitizenship (Amendment) Act 2019(CAA) کے نفاذ سے بھارت میںاقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لئے شدیدمشکلات پیدا کردی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ CAA بھارت میں نافذ پہلے سے کالے قوانین (NRC)نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر(NPR) میں مزید ترمیمی بل ہے، ستم یہ کہ مرحلہ وار ہر قسم کی ترمیم سے مسلمانوں کی زندگی بدستور اور مسلسل تنگ ہوتی چلی گئی اور جب ان تمام ترامیم کے بعد ایک اورترمیم ''یو اے پی اے''(Unlawful  Activities (Prevention) Act) کا بم گرایا گیا تو مسلمان سڑکوں پر نکل آئے۔ یو اے پی اے کی ترمیم سے بھارت کی مرکزی حکومت کو اختیار حاصل ہوگیا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو جب چاہے مقدمہ چلائے بغیر دہشت گرد قرار دے سکتی ہے۔ وہ دہشت گرد ہو ، اس گروہ میں شامل ہو یا اُن کا مددگار ہو تو اس پر UAPA کااطلاق ہوگا۔ یو، اے، پی ، اے ترمیمی بل راجیہ سبھا میں 42 کے مقابلے میں 147 ووٹوں سے منظور ہوا۔ اس قانون کے تحت مسلمانوں کو بھارت کی دیگر اقلیتوں کے مقابلے میں بالکل الگ کرتے ہوئے نہ انہیںدرجہ اول کا شہری سمجھا جائے گا اور نہ ہی برابری کے حقوق حاصل ہوں گے۔ بھارت سیکولرازم کہاں گیا۔ بمبۓ اور دہلی کے پراپرٹی ڈیلر جو اشتہار دیتے ہیں بلڈنگ بیچنے کا یا فرنشڈ فلیٹ کرائے کے لئے تو اس میں خاص طور سے لکھا جاتا ہے کہ مسلمان اس سہولت سے فائدہ نہ اٹھا سکیں گے یا مسلمان زحمت نہ کریں۔ بھارت یو، اے ، پی، اے کے ذریعے نوجوان مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ بھارتی دیہاتوں میں مسلمان انتہائی غربت کی زندگی بسرکررہے ہیں۔ بھارت میں اقوامِ متحدہ کے ادارے UNDP کے کنٹری ڈائریکٹر کیٹلین وائزن نے کہا ہے کہ بھارتی دیہاتوں میں غریب مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مسٹر کیٹلین وائزن نے غربت کا معیار بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جو کنبہ 28 روپے سے کم روزانہ خرچ کرنے پر مجبور ہے وہ غریب ہے۔ 2002 کے بھارتی گجرات کے فسادات پر جب پوچھا گیا تھا کہ کس قدرانسانوں اور خاص طور سے مسلمانوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں کبھی احساس ہوا؟  تو مودی نے کہا تھا کہ '' وہ ایک ہندوقوم پرست ہے اور ہندو قوم پرست ہونے میں کوئی برائی نہیں اور مجھے احساسِ جرم تب ہوگا جب میںنے کوئی غلط کام کیا ہو، مجھے مایوسی تب ہوگی جب میںنے چوری کی ہو اور وہ پکڑی گئی ہو۔''



یہ ترنگ اور گھمنڈ جب مودی میں ہوگا تو بی جے پی کے کارکن کو ہلاشیری تو پھر ملنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی میں بی جے پی کے انتہا پسندرہنما مشرا اور انوراگ ٹھاکر دن دہاڑے ہندوئوں اور مسلمانوں کو آپس میں اشتعال دینے اور آمنے سامنے لانے میں لگے رہتے ہیں۔ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اورمسلمانوں نے اپنے حق کی خاطر آواز بلند کی تو53 کے قریب شہید کردیئے گئے اور 300 کے قریب خواتین کو جیل میں ڈال دیاگیا۔ ان گرفتار خواتین میں صفورا زرگر بھی شامل ہے۔ جو محقق مؤرخ اور ایم فل کی طالبہ ہے۔ وہ جامعہ ملیہ کی ایک ریسرچ سکالر اور جامعہ کوارڈینیشن کمیٹی کی سربراہ ہیں، صفورازرگر بھارت کے زیرِ تسلط مقبوضہ کشمیر کے جموں ڈویژن کے ضلع کشتواڑ کے شبیر حسین زرگر کی دختر ہیں۔ شبیر حسین مقبوضہ کشمیر میں ایک اعلیٰ سرکاری ملازم ہیں۔27 سالہ صفورا زرگر کے شوہر دہلی میں نجی کمپنی میں ملازم ہیں جنہوںنے بتایا کہ کرونا کی وجہ سے ہماری نقل و حمل محدود تھی بہت کم گھر سے نکلتے تھے۔ صفورا یونیورسٹی کا کام آن لائن ہی کیاکرتی تھی۔ مگر اسے ایسے جرم میں گرفتار کرلیاگیا جو اس نے کئے ہی نہیں۔ اس پر الزام ہے کہ خواتین کے جلوس کی قیادت کی۔ لوگوں کو احتجاج کے لئے مشتعل کیا۔ اس عمل میں دکھ والی بات یہ ہے کہ صفورا کو جب 10 فروری 2020 کو گرفتار کیاگیا تھا تو اس وقت وہ تین ماہ کی حاملہ تھی۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارت سے حاملہ سکالر کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور پھر انسانی بھلائی کی اس عالمی تنظیم نے ویب ٹویٹر پر مطالبہ دہرایا بھی، مگر مجال ہے جو بھارت مورکھوں کو احساس تک ہوا ہو۔ دہلی کی تہاڑ جیل میں بند کرونا وبا کے دنوں ضرورت سے زائد قیدیوں والے جیل میں رکھنا اور ایک حاملہ طالبہ کو جیل میں رکھنا انتہائی بے رحمی اور سفاکی ہے۔
صفورا زرگر کو پہلےCAA قانون کے تحت گرفتار کیا۔ جب بین الاقوامی میڈیا اور قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے خبریں دیں تو صفورا زرگر کی ضمانت منظور کرلی گئی مگر رہائی سے تھوڑا پہلے صفورا پر ایک دوسرا پرچہUAPA قانون کے تحت مقدمہ بنا دیاگیا جس کی ضمانت چنداں آسان نہیں۔
واضح رہے کہ کرونا وائرس کے پھیلائو سے بچنے کے لئے بھارتی عدالتیں اُن لوگوں کی رہائی کے احکامات جاری کررہی ہے جن کا ٹرائیل نہیں ہوا، لیکن صفورا زرگر پر ہنگامہ آرائی، اسلحہ رکھنے، اقدامِ قتل ، فساد کے لئے اُکسانا، بغاوت اور مذہب کی بنیاد پر دو گروپس کو باہم مشتعل کرنے اور بھارتی سلامتی کے خلاف کام کرنے جیسے 18 الزامات لگائے گئے ہیں، صفورا زرگر کے وکیل کے مطابق صفورا بی بی کو جعفر آباد کیس میں ضمانت ملی تھی، جس میں صفورا پر الزام تھا کہ اُس نے خواتین اور بچوں کے احتجاجی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے کا ارتکاب کیا تھا۔ مگر دوسرے کیس میںملوث کرنا دہشت گردی کے الزامات لگانا، ایک سکالر جو صرف قلم پکڑنا جانتی ہے اس پراسلحہ ڈالنا، پھر ایسی سکالر جو حاملہ بھی ہے، اُسے جیل میں رکھنا ایک نہیں دو جرم ہیں ایک علم کی متلاشی طالبہ کو جو محض مسلمان سکالر ہونے کے ناتے مجرم ٹھہرائی گئی اوردوسرا وہ معصوم بچہ جو اس کی کوکھ میں ہے جو بے قصور ہے ، معصوم ہے اس پر دنیا کا کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا، اسے جیل میں رکھنا انتہا درجے کی ناانصافی ، انسان دشمنی، مسلمان کشی اور تنگ نظری ہے۔ ہندو بنیئے کی ازلی کینہ پروری بھارت میں روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ صفورا زرگر کو جب گرفتار کیاگیا تھا تو وہ سڑک کنارے بے ہوش پڑی تھی۔ پولیس تشدد اور روایتی بے دردی کی وجہ سے وہ حواس میں نہیںتھی۔ ایمنیسٹی انٹر نیشنل اور بعض غیر جانبدار بین الاقوامی میڈیا کے دبائو پر اسے ہسپتال لے جایاگیا اور پھر دہشت گرد قرار دے کر تہاڑ جیل بھیج دیا۔
امریکی اخبار نے لکھا کہ ''دہلی فسادات میں بھارتی پولیس نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔''  حیرت ہے بھارت کی انسانی بھلائی کی تنظیمیں اور حقوق نسواں کے علمبردار کہاں ہیں، انہیں تہاڑ جیل میں مسلمان قیدیوں پر ہونے والا ظلم کیوں دکھائی نہیں دیتا، صفورا زرگر ایک ریسرچ سکالر ہی نہیں، وہ علامت ہے مظلومیت کی، استعارہ اور شکار ہے بھارتی تنگ نظری کا۔ 
نریندر مودی بنیادی طور پر ایک مکاراور سفاک شخص ہے، وہ دھرتی پر گالی ہے، مسلمان دشمنی کا مہرہ ہے، اس نے مسلمانوں اور اُن کے حق میں اُٹھنے والی آوازوں کو بھی خاموش کرانے کے لئے جیلوں میں ڈال رکھا ہے۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، انجنیئرسعادت اﷲ حسینی، ڈاکٹر منظور عالم، سیدہ حمیدہ سیدین اور مجتبیٰ فاروق جیسے شہرت یافتہ بھارتی جیلوں میں پڑے نریندر مودی کا ماتم کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ شرجیل امام، میران حیدر، عمر خالد جیسے انقلابی فکر رکھنے والوں پر یواے پی اے لگا کر گرفتار کیا جاچکا ہے۔ یواے پی اے ایک ایسا اندھا اور خود سرقانون ہے جس میں ضمانت ممکن نہیں۔ پہلے بھی بتایا جاچکا ہے کہ یو اے پی اے کا ملزم بغیر ٹرائل کے مجرم بن جاتا ہے۔
صفورا زرگرایک نام ہے، حوالہ ہے، وگرنہ کئی مسلمان بچیاں جن میں گل افشاں، عشرت جہاں بھارت کے جھوٹے بیانئے  کی بھینٹ چڑھ کر جیلوں میں گل سڑ رہی ہیں۔ صفورا زرگر نے اپنی گرفتاری سے دو دن پہلے ایک انٹرویو میں بتایاکہ اچانک پولیس اُن کی جامعہ میں گھس آئی، لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ ہمارے ایک ساتھی طالب علم نے اس گولے کو اٹھایا تو وہ پھٹا اور طالب علم کا ہاتھ کٹ گیا۔ ہم اسے اٹھا کے جامعہ کی ایمر جنسی کی طرف لے کر گئے تو پولیس نے ہمیں ڈسپنسری میں گھس کر مارا، ہماری لائبریری میں توڑ پھوڑ کی، فرنیچر برباد کر دیا، سرکار نے جامعہ کا بجٹ انتہائی کم کردیا ہے۔پولیس غنڈہ گردی سے ہماری ایک لڑکی کا سرپھٹا، کسی کا بازو ٹوٹا، پائوں ٹوٹے، ہمیں مارا، تشدد کیا اُلٹا ہمیںالزام دیا جارہا ہے کہ ہم نے پتھرمارے، صفورا زرگر نے کہا کہ اب بھارت سرکار کچھ بھی کرلے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم کٹ مریں گے۔ یہ صرف ہماری جنگ نہیں یہ اچھوتوں کی بھی ہے، خواتین کی بھی ہے، ہم نے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ ڈیرہ ڈال دو، ڈٹ جائو، ہمارا احتجاج نہیں ہے، تحریک ہے، احتجاج کی اخیر ہوتی ہے ، تحریک کی انتہاکوئی نہیں، یہ اس وقت تک چلے گی جب تک بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق بحال نہیں ہوجاتے۔ صفورا زرگر نے پورے بھارت کی اقلیتوں کے نام پیغام میں کہا ہے کہ وقت ہے اب باہر نکلو اب نہ بولے تو پھر ہمیشہ کے لئے بھُولا بسرا ماضی بنا دیئے جائو گے۔ صفورا زرگر نے کہا کہ چھ سال سے ہم  نریندر مودی کو دیکھ رہے ہیں اس نے ملک کو معاشی، سیاسی اور اخلاقی طور سے کھنڈر بنادیا ہے۔ بھارت برباد ہو رہا ہے، اقلیتیں دیوار کے ساتھ لگائی جارہی ہیں اور ہم خاموش ہیں۔ اب ایسا نہیں ہوگا اور نہ ہی ایسا کرنے دیا جائے گااور پھر اس انٹرویو کے 48 گھنٹے کے اندر اندر صفورا زرگر کو گرفتار کرتے ہوئے پولیس کے جوائنٹ کمشنر الوک کمار نے کہا کہ خاتون صفورا زرگر دہلی کے شمال مشرقی ضلع کے علاقے جعفرآباد میں ترمیمی ایکٹ پراحتجاج کررہی تھی۔ سی اے اے کے مخالف مظاہرے میں حصہ لینے کے الزام میں گرفتار ہوئی ہے۔ لیکن اس کے چند دن بعد وہ دہشت گرد، قاتل ، باغی اور پتہ نہیں کیا کچھ بنا دی گئی ہے۔
صفورا زرگرکی عظمت کو سلام، اس کی ہمت کو تحسین، حوصلے کی داد کہ اس ایک لڑکی نے، جو حاملہ بھی ہے، منہ زور نریندر مودی کو نتھ ڈال دی ہے۔ اب وہ  صفورا زرگر محض ایک طالبہ نہیں بھارت میں آزادی کی ایک نئی تحریک ہے، پسماندہ اقلیتوں کی آواز ہے وہ وقت کی ایسی للکار ہے جس نے بھارتی مورکھوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ نریندر مودی کی گھنائونی سیاست کا خاتمہ اب صفورا زرگر کی تحریک سے ہوگا۔


مضمون نگارایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]
 

Read 93 times



TOP