شعر و ادب

غزل

وہ دُشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا
اب کس سے کہیں کوئی ہمارا بھی کبھی تھا
اُترا ہے رَگ وپے میں تو دل کٹ سا گیاہے
یہ زہرِ جدائی کہ گوارا بھی کبھی تھا
ہر دوست جہاں ا برِ گریزاں کی طرح ہے
یہ شہر کبھی شہر ہمارا بھی کبھی تھا
تتلی کے تعاقب میں کوئی پھول سا بچّہ
ایسا ہی کوئی خواب ہمارا بھی کبھی تھا
اب اگلے زمانے کے ملیں لوگ تو پوچھیں
جو حال ہمارا ہے، تمہارا بھی کبھی تھا
ہر بزم میں ہم نے اُسے افسردہ ہی دیکھا
کہتے ہیں فراز انجمن آراء بھی کبھی تھا
(احمدفرازکی 'پس ِاندازموسم' سے)
 

Read 50 times



TOP