علم و دانش

لسانی،نسلی اور فرقہ وارانہ تنوع اورقومی وحدت

 شناخت سماجیات کا ایک اہم موضوع ہے۔ایک فرد بیک وقت کئی شناختوں کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔بعض شناختیں وہ ہیں جو پیدائش کے ساتھ، اس کی پہچان بنتی ہیں۔ جیسے نسل یا قبیلہ۔بعض شناختیں سماجی عمل کے نتیجے میںپیدا ہوتی ہیں جیسے زبان یا ملک۔ سماجی شناختوں کی دنیا تبدیل ہو تی رہتی ہے۔جیسے نقل ِمکانی کی صورت میں ملکی شہریت۔ یہ بھی ایک جدید شناخت ہے۔
اکثر ممالک نے اس کے لئے کچھ قواعدو ضوابط بنائے ہوئے ہیں کہ کس طرح کوئی فرد اس کی شہریت کے لئے اہل ہو سکتا ہے۔اگرچہ چند ممالک آج بھی ایسے ہیں جو کسی غیر آبائی کو اپنے ملک کی شہریت نہیں دیتے لیکن عالمگیریت کے نئے  نظام میں یہ ممکن نہیں رہے گا۔وہ وقت دور نہیں جب ہر ملک کو اپنے دروازے نئے شہریوں کے لئے کھولنا ہوں گے۔
یہ انسان کے معاشی حالات ہیں جو اکثرنقل مکانی کا باعث بنتے ہیں۔قدیم دور میں جب قبائلی روایات کا غلبہ تھا،لوگ جان بچانے کے لئے بھی ہجرت کرتے تھے۔ یوں ان کی نئی نسل ایک نئی جغرافیائی شناخت کے ساتھ بڑی ہوتی۔مثال کے طور پر جب مسلم اقتدار امویوں سے عباسیوں کو منتقل ہوا تو امویوں کے کچھ افرادجان بچا نے کے لئے نقل ِمکانی کر کے سپین جا پہنچے۔ بعد میں انہوں نے وہاں ایک نئی مملکت کی بنیاد رکھی۔اب ان کی ایک نئی شناخت سامنے آئی۔
برصغیر میں بھی افغانستان سے بہت سے لوگ آئے۔جیسے مغل بادشاہ مقامی نہیں تھے۔لیکن ان کی بعد کی نسلیں،ظاہر ہے کہ ہندی شناخت رکھتی ہیں۔اس خطے میں آباد سید،اصلاً عرب ہیں لیکن ان کی جغرافیائی شناخت اب عرب نہیں، عجم ہے،تاہم ان کے ساتھ سید کا سابقہ یا لاحقہ،ان کی نسلی شناخت کو بھی بیان کر رہا ہے۔یہی معاملہ ایرانی النسل  لوگوں کے ساتھ بھی ہے جو ہمایوں کے دور میں یہاں آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔اس سے اندازہ کیا جا سکتاہے کہ سماجی شناخت ایک ایسا عمل ہے جو مسلسل ارتقا سے گزرتا ہے اوراس نسبت سے ایک فرد کی سماجی حیثیت تبدیل ہو تی رہتی ہے۔تاہم اس کے نتیجے میں ،ماضی کے ساتھ اس کا تعلق قائم رہتا ہے۔اس سے وہ بیک وقت کئی شناختوں کا حامل ہو تا ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان شناختوں میں مطابقت کیسے تلاش کر سکتا ہے۔
شناخت ایک عصبیت بھی پیدا کر تی ہے جو فطری ہے۔عصبیت کی تشکیل میں خارجی عوامل کا بھی تعلق ہو تا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شناخت ہمیشہ ایک تقابل میں ابھرتی ہے۔اگر ایک اجتماع میںسب مرد ہوں تو صنفی شناخت زیادہ اہم نہیں رہتی۔جیسے ہی خواتین اس کا حصہ بنتی ہیں،صنفی اعتبارسے شناخت کا ظہورہوجاتاہے۔ یہی معاملہ قبائلی یا مذہبی شناخت کا بھی ہے۔
کثیرالجہتی شناخت(Multiple Identity) یوں ایک ایسا سماجی عمل ہے جس سے مفر نہیں۔ہر فرد کی ایک نسلی شناخت ہے۔اس کی ایک صنف بھی ہے۔اس کا کوئی قبیلہ بھی ہے۔اس کا ایک مذہب اور فرقہ ہے۔اس کے ساتھ وہ ایک ملک کا شہری بھی ہے۔کم وبیش ہر آدمی ان سب شناختوں کے ساتھ ایک معاشرے کا حصہ بنتا ہے جس میں ایسے لوگ بھی کم نہیں ہوتے جو ان تمام شناختوں میں اس سے مختلف ہوتے ہیں۔
اگر کوئی اعوان ہے تو اس کے پڑوس میں کوئی راجپوت مکین ہو گا۔کوئی سنی ہے تو عین ممکن ہے کہ اس کا کوئی ہم قبیلہ شیعہ ہو۔سارے اعوان سنی ہیں نہ سارے شیعہ۔یہی معاملہ دیگر قبائل کا بھی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بعض شناختوں میں دوسروں کے ساتھ شریک ہیں اور بعض میں مختلف ۔ایک پنجابی اور ایک سندھی کی علاقائی شناخت ایک دوسرے سے مختلف ہے لیکن اگردونوں مسلمان ہیں توان کی مذہبی شناخت ایک ہوگی۔شناخت  چونکہ ایک عصبیت پیدا کرتی ہے ،اس لئے اس کاامکان موجودہوتا ہے کہ وہ کسی وقت فساد کا سبب بن جا ئے،متنوع شناختوں کے ساتھ ،جینے کے لئے۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ اسے ایک امرِ واقعہ سمجھتے ہوئے،جینے کے آداب سیکھے جا ئیں۔اس کے لئے جہاں اخلاقی اقدار سے مدد ملتی ہے وہاں ہمیں دنیا کے تجربات اور سماجی علوم سے بھی سیکھنا چاہئے۔اس ضمن میں تین باتیں زیادہ توجہ طلب ہیں۔
1۔ مذہب کی تعلیم یہ ہے کہ رنگ ونسل کی شناخت کوکسی احساسِ برتری میں نہیں ڈھلناچاہئے۔انسان میں برتری کا اگر کوئی پیمانہ ہو سکتا ہے تو وہ اخلاقی ہونا چاہئے۔کون زیادہ خدا خوفی رکھتا ہے؟خدا خوفی کی سماجی تعبیر یہ ہے کہ کون اپنے حقوق سے زیادہ اپنے فرائض پر نظر رکھتا ہے۔کون اس معاملے میں زیادہ حساس ہے کہ اس کا وجود کسی دوسرے کے لئے باعثِ آزار نہ ہو۔وہ دوسروں کے لئے خیر کا باعث ہو۔اس کی خیر کسی خاص قبیلے یا رنگ و نسل تک محدود نہ ہو بلکہ جس طرح اس کائنات کا خالق اپنی رحمت کی چادر سب پر تان دیتا ہے،اسی طرح اس کے بندے کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ سب کو فائدہ پہنچانے والاہو۔معلوم ہوا کہ شناخت ایک سماجی ضرورت ہے لیکن اسے صرف شناخت تک ہی رہنا چاہئے۔ 
2۔شناختیں،ایک فطری ترتیب میں ،بقائے باہمی کے اصول پر،ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت پیدا کر لیتی ہیں۔ایک بڑی اجتماعی شناخت ذیلی انفرادی شناختوں پر غالب آجاتی ہے،جب ترجیح کی ضرورت پیش آ تی ہے۔مثال کے طور پر ایک پاکستانی کی کئی شناختیں ہو سکتی ہیں۔اس کی کوئی مذہبی شناخت ہوگی۔اسی طرح علاقائی بھی ہوگی۔ لیکن اس کی ایک بڑی شناخت پاکستانی کی ہے۔جب کبھی اس شناخت کو کسی خارجی چیلنج کا سامنا ہوتا ہے تو اس کی بطور پاکستانی شناخت،دیگر شناختوں پر غالب آجائے گی۔اب وہ پنجابی یا سندھی ، یا شیعہ اور سنی کی شناخت کے ساتھ سامنے نہیں آتا۔اس وقت وہ صرف پاکستانی ہوتا ہے۔  
یہ کیسے ہوتا ہے،اس کے عملی مظاہرے جنگ کے دنوں میں سامنے آتے ہیں۔پاک فوج میں سارے پاکستان کے لوگ ،اپنی تمام شناختوں کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ جنگ میں لیکن صرف ایک شناخت باقی رہتی ہے: ''پاکستانی''۔اس وقت عوام کی بھی صرف ایک شناخت ہوتی ہے: ''پاکستانی'' ہماری فوج کے بہت سے شہداء ہیں۔عام شہری سب سے واقف نہیں ہوتا لیکن میجرعزیزبھٹی کو اچھی طرح جانتاہے۔وہ راشد منہاس سے واقف ہے۔کروڑوں پاکستانی بلاامتیاز ان سے محبت کرتے ہیں۔اب اگر کوئی سروے کرایا جائے تو شاید دو فی صدلوگوں کو معلوم ہو کہ ان کا تعلق کس علاقے سے تھا یا ان کامسلک کیاتھا۔اس کامطلب یہ ہے کہ جب پاکستان کے ہیرو کی بات ہوگی تو اس کی صرف ایک شناخت سب پاکستانیوں کے دلوں میں باقی رہے گی اوروہ شناخت پاکستان ہے۔
3۔ مذہبی اور سیاسی افکار کی تعبیر میںاختلاف ایک معاشرے کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگ سوچتے ہیں۔مفتی محمد شفیع مرحوم کے الفاظ میں اگر انسانوں کے کسی اجتماع میں لوگ اختلاف نہیں کرتے تو اس کے دو ہی اسباب ہو سکتے ہیں۔یا تو ہ سب اتنے خود غرض ہیں کہ مفاد کے زیرِ اثر اختلاف نہیں کرتے یا پھر سب غبی ہیں۔مسلمان معاشرہ جب تہذیبی اعتبار سے زندہ تھااورمسلم ریاست،دنیا کی عالمی قوت تھی،اس وقت سب سے زیادہ مسالک وجود میں آئے۔اس کا مطلب ہے کہ مذہبی معاملات میںاختلاف سے انسانی ترقی کا عمل رکتا نہیں،یہ ترقی معاشی ہو یا سماجی۔ 
 پاکستان تہذیبی،ثقافتی اورمسلکی اعتبار سے ایک متنوع ملک ہے۔یہ تنوع ہماری سماجی ومعاشی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتا اگر ہم ان تین عوامل کو پیشِ نظر رکھیں،جن کا اس مضمون میں ذکر ہوا۔لسانی ،نسلی اور مسلکی تنوع  ہماری شاندار علاقائی اور علمی روایات کا اظہار ہے۔یہ پاکستان کی قوت ہے کیونکہ اس رنگا رنگی سے جوثقافتی حسن وجود میں آتا ہے،وہ پاکستان کو ایک منفرد ملک بناتا ہے۔
اسی طرح مسلکی اختلاف سے ہم علم کی مسلم روایت کو متنوع بنا سکتے ہیں۔یہ بات مانی گئی ہے کہ گزشتہ ایک صدی میں،تفسیرِ قرآن کے ضمن میں جتنا وقیع کام اردو زبان میں ہوا،کسی اور زبان میں نہیں ہوا۔اختلاف مسئلہ اس وقت بنتا ہے جب ایسے لوگ مسلکی گروہوں کے نمائندہ بن جاتے ہیں جو علمی اختلاف کی حدود سے واقف نہیں ہوتے اور اپنے مسلک کی تعبیر کو حرفِ آخر سمجھ لیتے ہیں۔اس کے ساتھ دوسروں سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں۔
اسی طرح علاقائیت کو جب ہم شناخت کے بجائے ایک احساسِ برتری اور عصبیت میں بدل دیتے ہیں تو اس سے دوسری علاقائی شناختوں کے ساتھ تصادم کی فضاپیدا ہوجاتی ہے۔بلوچستان میں اگر ترقی ہوتی ہے تو اس سے ہر پنجابی یا سندھی خوش ہوگا۔اسی طرح پنجاب کی ترقی سے ہر پشتون اور بلوچ پاکستانی خوش ہوگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک کی ترقی کا مطلب دوسرے کی تنزلی نہیں ہے۔
تاریخ یہ ہے کہ جب ان شناختوں کو لوگ سیاسی یا مذہبی گروہ بندی کا عنوان بناکرانہیں دوسروں کے مدِ مقابل لا کھڑا کرتے ہیں تواس سے تصادم پیدا ہوتاہے اور نتیجتاً قومی وحدت متاثر ہوتی ہے۔ہمیں ان رجحانات سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے۔سماجی ا ور شناختی تنوع کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانا چاہئے تا کہ نئی نسل انہیں سماجی تناظرمیں سمجھ سکے۔اسی طرح میڈیا اورمحراب ومنبر سمیت، رائے سازی کے دیگر فورمز پراس کو بیان کر نا چاہئے۔ 23مارچ کی تقاریب میں یہ کثرت جس طرح ایک وحدت میں پروئی دکھائی دیتی ہے،لازم ہے کہ وہ اجتماعی شعور کا بھی حصہ بنے۔


 مضمون نگار معروف دانشور ،سینیئر تجزیہ کار اورکالم نویس ہیں۔
 [email protected]

Read 87 times



TOP