شعر و ادب

غزل

دیارِ نور میں تِیرہ شبوں کا ساتھی ہو 
کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو
میں اُس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے
مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو
میں اس کے ہاتھ نہ آئوں وہ میرا ہو کے رہے
میں گِر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی ہو
وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے
گلی گلی مِری رسوائیوں کا ساتھی ہو
کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں
مَیں چُپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ہو
میں اپنے آپ کو دیکھوں وہ مجھ کو دیکھے جائے
وہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو
وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سے
مِرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو
(افتخار عارف کی 'مہرِدونیم' سے)
 

Read 56 times



TOP