خصوصی رپوٹ

پاک فوج کی جانب سے ضم شدہ قبائلی علاقوں میں شاہراہوں کی تکمیل

سڑکیں کسی بھی ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔پاکستان کے لئے بھی سڑکوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ماضی میں صرف ایک شاہراہ جی ٹی روڈ(جو شیرشاہ سوری کے دور میں تعمیر کی گئی) سارے ملک کو آپس میں ملایا کرتی تھی۔شیر شاہ سوری کے دور میں بھی سڑکوں کی تعمیر پر خاصی توجہ دی گئی اور پھر اس کے بعد انگریزوں کے دور حکومت میں بھی سڑکوں کی تعمیرو مرمت کا کام جاری رہا۔قیام پاکستان کے بعد بھی سڑکوں کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر کو نئی اور پرانی شاہراہوں کے ذریعہ آپس میں ملا دیا گیا۔پاکستا ن میں موٹر ویزکی تعمیر نے جہاں فاصلوں کو کم کیا ، سفر کو محفوظ بنایا وہیں قیمتی وقت کی بچت بھی ممکن ہو گئی ہے۔پاکستان کے مغرب میں واقع پشاور مشرق میں لاہور اور جنوب مشرق میں کراچی سے سڑکوں کے ذریعہ منسلک ہو چکا ہے جبکہ اسی طرح سی پیک منصوبے کے تحت بننے والی سڑکوں کے بعد دور دراز کے علاقے بھی ایک دوسرے سے مل جائیں گے۔



جب ملک بھر کے شہر سڑکوں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعہ آپس میں ملائے جا رہے تھے تو پاکستان کے مغر بی سرحدی علاقوںمیں، جو پہلے قبائلی علاقے کہلاتے تھے اور پھر دہشت گردی کی وجہ سے نو گو ایریاز بن گئے تھے، سڑکوں کے راستے آمدورفت ناممکن ہوا کرتی تھی۔بدقسمتی سے ماضی میں قبائلی علاقوں پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کے وہ متقاضی تھے۔جب پاک فوج نے ان علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا ذمہ اٹھایا تو نہ صرف علاقے کے عوام کو دہشت گردی سے نجات دلائی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے انہیں قومی دھارے میں لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔



اعداد و شمار کے مطابق 2011 سے2016 تک پاکستان آرمی نے قبائلی علاقوں میں 723 کلو میٹر بڑی شاہراہیں تعمیر کی ہیں جبکہ863 کلومیٹر پہلے سے موجود شاہراہوں کی مرمت و توسیع کی ہے۔ اسی طرح 2016 سے اب تک مزید419 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کا کام مکمل کیا گیا۔۔سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور مرمت سے مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ تعمیر و توسیع صرف شاہراہوں کی ہی نہیں کی گئی بلکہ 70 نئے تجارتی مراکزبھی بنائے گئے ہیں جن میں تین ہزار کے لگ بھگ دکانیں ہیں،وانا میں زرعی پارک بنایا گیا ہے یہ اپنی نوعیت کا پہلا ایگریکلچرل پارک ہے۔اسی طرح سٹوریج اور پروسیسنگ کے لئے سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔گویا دہشت گردی کے خاتمے کے بعد اب قبائلی علاقوں میں ترقی اور معاشی و اقتصادی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے ۔اب اگر یہ دیکھا جائے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پاکستان آرمی نے کن کن علاقوں میں کتنے کلو میٹر سڑکیں تعمیر کی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ارندو،میر خانی،کالاکوٹ تک 32 کلو میٹر سڑک تعمیر کی گئی۔مہمند گیٹ سے غلنئی تک 42 کلو میٹر، شموزئی سے گیمن تک 50 کلو میٹرز،پشاور۔لنڈی کوتل ۔طورخم 43کلومیٹر ، بنوں۔میران شاہ۔غلام خان 82 کلومیٹر،میر علی۔ رزمک۔مکین 72 کلومیٹر،ٹانک جندول۔مانزئی 110 کلومیٹر، وام۔ شکئی۔ مانزئی 76 کلومیٹر،وانا۔انگور اڈا 50 کلومیٹر، ٹانک۔گل کچ ۔وانا 105 کلومیٹر جبکہ ٹانک۔کور۔ڈیرہ اسماعیل خان 61 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ان سڑکوں کی تعمیر کے بعد دور دراز کے علاقوں تک رسائی ممکن بنا دی گئی ہے۔ان میں کئی علاقے ایسے ہیں جو پہاڑوں کے درمیان سے ہوتے ہوئے گزرتے ہیں۔ یہاں سڑکوں کی تعمیر کے بعدنہ صرف مقامی رہائشیوں کو آنے جانے میں آسانی پیدا ہو گئی ہے بلکہ سامان کی ترسیل بھی آسان ہو گئی ہے۔



اگر ارندو۔میر خان اور کالا کوٹ سڑک کا ذکر ہو تو اس سے جہاں مقامی شہریوں کو آمدورفت میں آسانی پیدا ہو گی وہیں مقامی سطح پر کاروبار میں تیزی بھی آئے گی۔اسی طرح مہمند گیٹ اور غلنئی میں بننے والی سڑک سے بھی مقامی تجارت کو فروغ ملنے کے علاوہ مقامی شہریوںکو فائدہ ہو گا اور اس سے پہلے جو فاصلہ وہ کئی گھنٹوں میں طے کرتے تھے اب چند منٹوں میں طے کر سکیں گے۔بنوں۔میران شاہ اور غلام خان کو ملانے والی سڑک اس لئے بھی اہم ہے کہ غلام خان چیک پوسٹ کے ذریعہ پاکستان سے افغان ٹریڈ کا سامان ہمسایہ ملک افغانستان بھیجا جا سکے گا ۔
لہٰذایہ ایک انتہائی اہم سڑک قرار دی جا سکتی ہے اس کی بنیادی وجہ شمالی وزیرستان میں معمول کی زندگی کا بحال ہونا ہے کیونکہ پاکستان آرمی نے پہلے ہی غلام خان چیک پوسٹ پر پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان یہاں سرحد کھول دی گئی ہے اور روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں سامان سے بھرے ٹرک ایک سے دوسرے ملک جانا شروع ہو گئے ہیں۔ سڑک کی تعمیر سے تجارت میں بھی بہتری آئے گی۔پاک افغان سرحد طورخم اور چمن کے بعد غلام خان کے مقام پر پاک افغان سرحد انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں سڑکوں کی تعمیر پر پاک فوج نے خاص توجہ دی ہے۔یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف پاک افغان ٹریڈ میں غلام خان بارڈر کے راستے اضافہ ہو گا بلکہ پاکستان سے بھی برآمدات بڑھ جائیں گی۔
میر علی۔رزمک اور مکین کو ملانے والی 72 کلو میٹر سڑک کی تعمیر سے بھی جہاں آمدورفت میں وقت کی بچت ہو گی وہیں تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔یہاں بسنے والوں کے لئے جہاں زندگی کی تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی، جن میں تعلیم اور صحت سرفہرست ہیں کے بعد سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی،اب پاک فوج کی جانب سے ان دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کے بعد علاقے کی پسماندگی بڑی حد تک دور ہو جائے گی۔یہاں انگور اڈہ سے وانا تک بنائی جانے والی سڑک کی اہمیت کا ذکر اس لئے بھی ضروری ہے کہ انگور اڈہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے 36 کلو میٹر کے فاصلہ پر پاک افغان سرحد ی مقام ہے۔ ایک طرف سرحد کے دونوں جانب قبائل آباد ہیں تو دوسری جانب یہ مقام تجارت کے لئے بھی انتہائی اہم ہے۔سڑک کی تعمیر سے جہاں علاقے میں معاشی ترقی بڑھے گی وہیں دونوں ملکوںکے درمیان انگور اڈہ گیٹ کے راستے تجارت بھی ممکن ہو گی ان امور پر نظر دوڑائی جائے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ضم شدہ قبائلی علاقوں، خاص طور پر پاک افغان سرحدی علاقوں، میں سڑکوں کی تعمیر کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی نئی راہیں بھی کھلیں گی اور معاشی و اقتصادی ترقی ممکن ہو جائے گی۔
پاکستان آرمی کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے بعد تمام ضم شدہ قبائلی علاقوں میں امن قائم ہو چکا ہے اور ان علاقوں کے قدرتی حسن کا چرچا اب زبان زد عام ہے جس کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک سے بھی سیاحوں کی بڑی تعداد ان تاریخی علاقوں کی سیر کو آئے گی جس کے لئے یقینا سڑکوں کی تعمیر بے حد ضروری تھی۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جنوبی وزیرستان میں وانا بازار، وانا بائی پاس اور مکین سٹی کے علاوہ شگہ،نسپا اور ورزکئی میں تقریباً 33 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کا کام مکمل کیا گیا ہے۔شمالی وزیرستان میں رزمک۔پش زیارت،میر علی سٹی، میران شاہ سٹی،میران شاہ ۔دتہ خیل اور پش زیارت سے گرباز تک 141 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کی گئی ہے۔ضلع اورکزئی میں 39 کلومیٹرز،ضلع کرم  میں110 کلومیٹرز،ضلع خیبر میں 21 کلومیٹرز، باجوڑ میں 36 کلومیٹرز اور ضلع مہمند میں 18 کلومیٹر سڑکیں تعمیر ہو چکی ہیں۔جن سڑکوں پر کچھ کام باقی ہے اسے بھی مکمل کیا جا رہا ہے۔اس طرح مرکزی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ تمام ضم شدہ اضلاع میں سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا ہے۔
ضم شدہ قبائلی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کے بعد یہ توقع بھی کی جا سکتی ہے کہ ان علاقوں میں سرمایہ کاری کے بعد معاشی اور اقتصادی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہو جائے گااسی طرح چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور نئے اضلاع میں بھی زراعت کو بڑی اہمیت حاصل ہے تو یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ کسانوں کو اپنی اجناس کھیت سے مارکیٹ تک لے جانے میں سہولت حاصل ہو جائے گی۔



 

Read 53 times



TOP