قومی و بین الاقوامی ایشوز

مقبوضہ کشمیر، صحافت کے لئے دنیا کا مشکل ترین مقام کیوں ٹھہرا

 وادیٔ جموں وکشمیر میں خبریں تو گردش کررہی تھیں کہ بھارتی حکومت کشمیر میں اک نیا کھیل رچانے کو ہے، تاہم کوئی بھی اس کے لئے تیار نہ تھا کہ بھارت میں مودی سرکار پانچ اگست دو ہزار انیس کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کردے گی۔ مگر یہ ہوا،اور کشمیر پر وحشت کے اک نئے دور کا آغاز ہوا۔
کشمیری صحافی ڈار یاسین پچھلے سولہ برس سے کشمیر میں فوٹو جرنلزم  (تصویری صحافت)کررہے ہیں اور ان دنوں امریکی نیوز ایجنسی  ایسوسی ایٹڈ پریس  سے منسلک ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں جیسے ہی بھارتی حکومت نے اپنی فورسز کی مدد سے کشمیر میں لاک ڈاؤن اور سخت کرفیو کا نفاذ کیایاسین ڈار اور ان کی خبر ایجنسی کے دو ساتھیوں مختار خان اور چنی آنند نے مشکل وقت کے لئے تیاری پکڑ لی۔



ہم تو آزادی کو نعمتوں کی کسی گنتی میں شمار ہی نہیں کرتے۔ جو سچ سمجھتے ہیں، لکھ دیتے ہیں ،جو دیکھتے ہیں وہی دنیا کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر کشمیری صحافیوں کے لئے یہ سب ناممکن ہے۔
دو سال ہونے والے ہیں ، مودی حکومت نے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ بحال نہیں کیا، اگست دو ہزار انیس میں موبائل فون کی سروسز بھی منقطع کردی تھی، ایسے میں کشمیر کے سب ہی صحافی پریشان تھے۔ بیرونی دنیا سے ان کا رابطہ کٹ گیا تھا، کشمیر میں پریس بند کردیئے گئے تھے، نیوز چینلز کو بھی آپریشن بند کرنے کا حکم تھا۔
 ڈار یاسین ، مختار خان اور چنی آنند اس تذبذب کا شکار تھے کہ کشمیر پربھارتی ظلم کی اس نئی قسط کو کیسے کیمرے کی مدد سے محفوظ کیا جائے کیونکہ جگہ جگہ سیدھی گن تانے بھارتی فوجی کھڑے تھے تو کیسے بھارت کا یہ چہرہ دنیا کو دکھایا جائے جبکہ انٹرنیٹ تو کجا ڈاک کا نظام بھی بند تھا۔
ایسے میں ڈار یاسین کو یاد آیا کہ جب انیس سو نوے میں کشمیر پر بھارتی مظالم میں تیزی آئی تھی اور کرفیو لگا تھا تب ان کے ایک رشتے دار نے جو خود بھی صحافی تھے، یاسین کے ہاتھ کچھ تصاویر کی فلمیں نئی دہلی تک پہنچوائی تھیں۔ بس یہ آئیڈیا کام کرگیا۔


مقبوضہ جموں و کشمیر کے صحافیوں پر بھارتی فورسز کی یہ نظرِ کرم کوئی آج کی بات نہیں۔اس کے حق گو صحافیوں پر بھارتی فوج نے ہمیشہ زمین تنگ رکھی۔ چونکہ مقبوضہ جموں کشمیر سے سامنے آنے والا سچ بھارت کے چہرے پہ کلنک کا ٹیکا ہے اس لئے دہلی سرکار کی ہمیشہ ترجیح رہی کہ مقبوضہ وادی سے اٹھنے والی ہر آوازکو خاموش کرادیا جائے۔


اس بات کو بھی سال گزر گیا ، اب یہ تین صحافی دنیا کو بتارہے ہیں کہ کیسے سبزی کی ٹوکری میں کیمرے چھپا چھپا کر انہوں نے کرفیو کے دوران مقبوضہ جموںو کشمیر میں سفر کیا۔ کیسے اجنبی کشمیری بھائیوں سے مدد مانگ کر ، ان کے گھروں میں چھپ کر تصاویر کھینچی، بھارتی جبر کو فلمبند کرنے کے لئے جان پہ کھیل گئے۔
سال دو ہزار بیس کا  پلٹزر پرائز(Pulitzer Prize) ان تین فوٹو جرنلسٹ کو دیا گیا ہے۔اب یہ صحافی بتاتے ہیں کہ تصاویر کی فلیش ڈرائیو کو کشمیر ائیرپورٹ تک پہنچانے کے لئے انہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے، ائیر پورٹ پہنچ کر یہ یو ایس بی کسی مسافر کے حوالے کی جاتی اس درخواست کے ساتھ کہ وہ اسے نئی دہلی کے ائیرپورٹ پر اترتے ہی نیوز ایجنسی کے نمائندے کو دے دے گا۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کے دعوے دار بھارت کا اصل چہرہ مقبوضہ کشمیر کے صحافی ہی دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔ یہ ان صحافیوں کا ہی حوصلہ ہے کہ وہ بیک وقت لاک ڈاؤن ، کرفیو اور ریاستی جبر کو سہتے ہوئے بھی کلمہ حق بلند کررہے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے صحافیوں پر بھارتی فورسز کی یہ نظرِ کرم کوئی آج کی بات نہیں۔اس کے حق گو صحافیوں پر بھارتی فوج نے ہمیشہ زمین تنگ رکھی۔ چونکہ مقبوضہ جموں کشمیر سے سامنے آنے والا سچ بھارت کے چہرے پہ کلنک کا ٹیکا ہے اس لئے دہلی سرکار کی ہمیشہ ترجیح رہی کہ مقبوضہ وادی سے اٹھنے والی ہر آوازکو خاموش کرادیا جائے۔
گنوانے کو تو ہزار ہا قصے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخر کیوں انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ  نے بھارت کو صحافیوں کے لئے دنیا کا سب سے خطرناک و مشکل ترین مقام قرار دیا۔سری نگر کی چھبیس سالہ مسرت زہرا  پر بنے جھوٹے مقدمے کو ہی لے لیجئے۔مسرت زہرا نے چار سال قبل کیمرے سے دوستی کی ، فوٹو جرنلزم میں قدم رکھا۔ان کے خلاف بیس اپریل دو ہزار بیس کو مقدمہ درج ہوا۔ اب یہ وجہ جان کر آپ کو ہنسی بھی آئے گی اور شدید غصہ بھی۔مسرت زہرا نے دوہزار اٹھارہ میں آٹھ محرم کے ماتمی جلوس کی تصاویر لیں۔گیٹی امیجز (Gati images)کے لئے کھینچی گئی ان تصاویر میں سے ایک تصویر ایسی ہے جس میں ایک عزادار شہید برہان وانی کا پوسٹر تھامے کھڑا ہے۔ مسرت نے یہی لمحہ کیمرے میں قید کیا، اور یہی وجہ ان کی قید کے پروانے کے لئے بنی۔
مسرت زہرا پر  بھارت کے انسداد غیر قانونی اقدام جیسے عجیب و غریب اور کالے قانون کے تحت مقدمہ بنا ہے۔اس ایکٹ کے مطابق بھارت کی خودمختاری کو جس بھی شخص سے خطرہ ہو اسے گرفتار کرنے کا اختیار پولیس کو ہے۔پھر چاہے اتنے بڑے بھارت کو کسی صحافی کی ایک ٹوئٹ سے خطرہ ہو یا دو سال پرانی مقبوضہ کشمیر میں محرم کے جلوس کی ایک تصویر سے۔اسی ایکٹ کو بنیاد بنا کر ایک اور مسلمان لڑکی کی آواز کو بھی دبایا گیا ہے۔ دہلی کی جامعہ ملیہ میں تحقیقی فیلو صفورا زرگر دہلی میں مظاہرے منعقد کرانے کے الزام میں تہاڑ جیل میں قید ہیں۔یاد رہے کہ صفورا زرگرحاملہ ہیں جبکہ ان کو شوہر سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔
اس پر حد یہ کہ بھارتی حکمران جماعت کی ٹرول آرمی ، اور مودی کے بھکت ٹوئٹر پر صفورا زرگر کے حمل کے حوالے سے ایسی شرمناک کہانیاں گھڑ رہے ہیں کہ سر شرم سے جھک جائے۔ اب تو دہلی کمیشن فار وومن نے بھی ڈپٹی کمشنر دہلی پولیس کو خط لکھ دیا ہے کہ صفورا زرگر کے خلاف بیہودہ مہم چلانے والوں کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔
جس دن سری نگر کی مسرت زہرا کے خلاف مقدمہ درج ہوا ، عین اسی روز مقبوضہ کشمیر کے سینیئر صحافی اور بھارتی اخبار دی ہندو کے نمائندے پیرزادہ عاشق پراننت ناگ تھانے میں پرچہ کٹ گیا۔ ان پر الزام لگا کہ انہوں نے شوپیاں کے علاقے میں ماورائے عدالت پولیس آپریشن کی خبر کیوں دی۔
ان مقدمات سے دو روز قبل سترہ اپریل کو کشمیری صحافی مشتاق احمد کو مارا پیٹا گیا، اور ڈسٹرکٹ بانڈی پورہ میں ان پر مقدمہ درج ہوا، وجہ بتائی گئی۔۔۔ لاک ڈاؤن میں رپورٹنگ کرنا۔
ستمبر2019  میں مقبوضہ کشمیر کے معروف لکھاری اور صحافی گوہر گیلانی کو دہلی کے اندرا گاندھی ائیر پورٹ پر جرمنی جانے والی فلائٹ پرسوار ہونے سے روکا گیا، وہ جرمن خبر رساں ادارے ڈوئچے ویلے کے لئے کام کرنے جرمنی جارہے تھے۔ گوہر گیلانی کے خلاف جو مقدمہ بنا اس کی بنیاد ان کی سوشل میڈیا پوسٹ ہیں۔


کشمیر میں جدوجہد آزادی کے گمنام سپاہی، بھارتی ریاستی جبر کے ہاتھوں بنائے گئے باغی ،  مسلح تحریک میں شامل انجینئرز،  ڈاکٹرز اور پروفیسرز۔ ان میں سے شاید کچھ بھی دنیا تک نہیں پہنچ پاتا اگر کشمیر کے صحافی ہمت ہار گئے ہوتے۔جو اتنی صعوبتوں ، مقدموں ، نسل در نسل گزرتی قیامتوں کے باوجود آج بھی ہاتھ میں قلم ،کیمرا اور کاغذ لئے کھڑا ہے وہ مقبوضہ جموں کشمیر کا صحافی ہے۔مجاہدین آزادی ، سماجی کارکن ، نوجوان سیاسی رہنما ؤں کے بعد اگر کوئی ہے جو بھارت کے لئے مشکل سوال بنا ہوا ہے تو وہ مقبوضہ جموں کشمیر کا صحافی ہے۔


30نومبر2019 کو انڈین ایکسپریس کے نمائندے بشارت مسعود کو بھارتی فورسز کے اس ڈیپارٹمنٹ سے پوچھ گچھ کے لئے بلایا جو کہ باغی عناصر کی سرکوبی کے لئے بنایا گیا ہے۔ بشارت مسعود سے ان کی خبر کے ذرائع پوچھے گئے۔اس کے پندرہ دن بعد صحافی انیس زرگر اور اذان جاوید کو سری نگر میں ایک مظاہرے کی کوریج کے دوران بھارتی فورسز نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ مظاہروں کی رپورٹنگ بند کریں۔
8فروری 2020، آؤٹ لک نامی رسالے کے نمائندے نصیر غنائی کو بھارتی فورسز کی تفتیش کا سامنا کرنا پڑا۔ جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ کی خبر رپورٹ کرنے پر ان کے خلاف ایف آئی آر کٹی ہوئی ہے۔ صحافی ہارون نبی کو بھی اسی الزام کا سامنا ہے۔
کشمیرنیریٹر کے صحافی آصف سلطان پچھلے دو سال سے بھارتی فورسز کی قید میں ہیں۔ ایڈیٹر قاضی شبلی ابھی حال ہی میں یو پی کی جیل سے نو ماہ کی قید بھگت کر رہا ہوئے ہیں۔
قارئین یہ تو ابھی پچھلے کچھ ماہ کے واقعات ہیں۔ مقبوضہ کشمیر نامی دنیا کی اس سب سے بڑی جیل میں سیکڑوں کے حساب سے صحافی ایسے ہی جھوٹے مقدمات کا سامنا کرچکے ہیں۔اور یہ تو پھر مقدمات ہی ہیں۔ فہرست بنانے بیٹھیں تو بات بہت طویل ہوجائے گی کہ کتنے ہی قابل صحافیوں کو قابض بھارتی فوج نے جان سے ہی مار ڈالا۔
اس وقت کشمیر دنیا بھر میں ایک سلگتا موضوع ہے۔ کشمیر کی بیٹیوں کی چیخیں، سڑکوں پہ بہتے لہو کی سرخی یا پھر ہزاروں کے مجمع میں پاکستان زندہ باد کے نعروں کی گونج سب ان دیکھی ان سنی ہوجاتی ہیں۔ کشمیر میں جدوجہد آزادی کے گمنام سپاہی، بھارتی ریاستی جبر کے ہاتھوں بنائے گئے باغی ،  مسلح تحریک میں شامل انجینئرز،  ڈاکٹرز اور پروفیسرز۔ ان میں سے شاید کچھ بھی دنیا تک نہیں پہنچ پاتا اگر کشمیر کے صحافی ہمت ہار گئے ہوتے۔جو اتنی صعوبتوں ، مقدموں ، نسل در نسل گزرتی قیامتوں کے باوجود آج بھی ہاتھ میں قلم ،کیمرا اور کاغذ لئے کھڑا ہے وہ مقبوضہ جموں کشمیر کا صحافی ہے۔مجاہدین آزادی ، سماجی کارکن ، نوجوان سیاسی رہنما ؤں کے بعد اگر کوئی ہے جو بھارت کے لئے مشکل سوال بنا ہوا ہے تو وہ مقبوضہ جموں کشمیر کا صحافی ہے۔


  مضمون نگار صحافی ، بلاگر اور کالم نگار ہیں، ویسٹ منسٹر یونیورسٹی برطانیہ ، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔
  [email protected]

Read 62 times



TOP