متفرقات

سماجی رابطے یا فاصلے

رابطوں کی دُنیا ہے، رابطوں سے چلتی ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے کوئی انکاری نہیںہے۔ ہماری تہذیب، ثقافت یہاں تک کہ ہمارادین بھی ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ رکھنے کا درس دیتا ہے لیکن دورِ جدید کے تقاضے اس کے بالکل مخالف پائے جاتے ہیں۔ آج کی دُنیا کچھ عرصے پہلے والی دنیا سے کچھ نہیں بلکہ کافی مختلف نظر آرہی ہے۔ آج ہر شخص دوسرے کے قریب جانے سے گریزاں ہے اور جوگریز نہیں کرتاوہ منفی نتائج بھگتتا نظر آتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے پوری دنیا جس وبا کے زیرِ اثر آچکی ہے اس نے ہر شخص کو دوسرے سے دور رہنے پر مجبور کردیا ہے۔
اس وقت تمام بنی نوعِ انسان خواہ وہ کسی بھی طبقے اور مسلک سے ہوں، ایک پلیٹ فارم پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ چونکہ یہ بیماری مشترکہ ہے اور تمام عالم اس کی لپیٹ میں ہے ۔ تمام دُنیا سماجی رابطوں میں کمی یا دُوری لانے پر عمل پیرا ہے۔ ہماری قوم کو بھی اُسی انداز سے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اس وبا سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ روزگار کے سلسلے میں عوام کو گھروں سے بہرحال نکلنا تو ہوگا لیکن ہمیں اپنی Work Place پر بھی ان احتیاطی تدابیر کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا ۔ گزشتہ ماہ سے ہم جن قواعد کی پیروی کررہے ہیںاِن کو ہم نے مستقلاً اپنی زندگی کا معمول بنانا ہے۔ کام کی جگہ یا دفاتر میں اپنے ساتھیوں سے سماجی فاصلہ خاص طور پربرقرار رکھنا ہے، مصافحہ کرنے اور گلے ملنے یا کسی بھی طرح سے دوسرے کو چھونے سے گریز کرنا ہے۔ گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہاتھوں اور منہ کو دھونا لازم ہے۔ گھر کے بچوں ، بڑوں سب سے خاص فاصلہ رکھنا ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ آپ گھر سے باہر بھی جارہے ہوں۔ گھروں کے ملازم ، ڈرائیور یا دوسرے ایسے لوگ جو تعلیمی شعور یا سمجھ بوُجھ نہیں رکھتے، ایسے لوگوں میں شعور بیدار کرنا بحیثیت فرد ہم سب کی ذمہ داری ہے،جس قدر ممکن ہو ان لوگوں کی رہنمائی کریں اور اگر ممکن ہو تو ان کو کچھ عرصے کے لئے چھٹی دے دیںـ 
دوستوں یا رشتہ داروں کے ساتھ اکٹھے ہونے سے گریز کرنا ہے اور اگر بہت ضروری ہو تو فاصلہ برقرار رکھنا ہے وگرنہ ریموٹ ٹیکنالوجی کا استعمال اپنا شعار بناناہے تاکہ بڑے اجتماعات کا انعقاد ناممکن بنایا جاسکے۔ نیز کسی بھی ایسے شخص سے ملنے سے گریز کرنا چاہئے جس میں ہمیں کھانسی ، بخار یا سانس کی بیماری کی علامات دکھائی دے رہی ہوں۔ یہ بات یاد رہے کہ ہر کھانسی ، بخار کرونا نہیں لیکن احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔
WHOکی جانب سے بارہا یہ پیغامات ہمیں میڈیا اور سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ رابطوں میں کمی کی جائے۔ وگرنہ نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی ہوگی کہ اگر اس وائرس کے آگے ہتھیار نہیں ڈالنے توSocial Distancing  کو اپنی آئندہ زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ یہ سماجی فاصلے ہر عمر کے افراد کے لئے ضروری ہیں خصوصاً بزرگوں اور بچوں کے لئے جن میں اس بیماری کے خلاف لڑنے کی قوت قدرے کم پائی جاتی ہے۔
حال ہی میںWHOکی ایک تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایسا شخص جس میں بظاہر علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں لیکن اگر اس کا ٹیسٹ مثبت نکل آتا ہے تو وہ شخص بھی معاشرے کے لئے اتنا ہی خطرناک ہے جتناکہ وہ شخص جس میں بظاہر شدید علامات ہوں۔سماجی فاصلوں کا اصل مفہوم جاننا بے حد ضرور ی ہے کیونکہ یہ فاصلے تب ہی کام کریں گے یا مثبت نتائج دیں گے جب ہم سب اس کا حصہ ہوں گے۔ اگراس کا اطلاق صرف زبانی کرنا ہے تو پھر یہ اُمید قائم کرنا انتہائی غلط ہوگی کہ ہم معاشرے کی فلاح میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔کیونکہ سماجی دُوری ایک بنیادی حکمتِ عملی ہے جو COVID-19کے لئے پوری دنیا میں اپنائی جارہی ہے۔
گھروں سے غیر ضروری باہر نکلنے سے اجتناب کرنا ہے جیسا کہ سیرو تفریح ، ریستوران یا شاپنگ مالز وغیرہ ۔ اس وائرس کے پھیلائو میں ہم سب برابر کے شریک ہیں اور اس کی کمی میں بھی ہم ہی وہ لوگ ہیں جو دیواربن سکتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے جائزے کے مطابق 1957-58 میں پھیلنے والی وباکی وجہ زیادہ ترخاندانی اجتماعات یا فیسٹیولز تھے اور اس کے زیادہ نتائج خصوصاً بچوں پر پڑے تھے جو کہ سماجی فاصلہ نہ ہونے کی وجہ سے تھے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی وبا کے پھیلائو کو روکنے میں فاصلے بنیاری حیثیت رکھتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق بہت سے لوگ جب خود کو Isolate یا سماجی فاصلے کا پابند بناتے ہیں یا گھر میں زیادہ وقت گزارتے ہیں تو ان کی طبیعت میں غصہ، چڑچڑا پن ، ڈیپریشن ، اداسی، بے چینی اور اضطراب جیسی کیفیات دیکھنے کو ملتی ہیں جو کہ معمول کا حصہ ہوتی ہیں۔ عموماًتنہائی میں انسان اس طرح کے مسائل کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسے میں ماہرین کی رائے ہے کہ ہمیں کم سے کم وقت خبروں اور سوشل میڈیا کو دینا چاہئے۔کیونکہ آنے والی عموماً ہر نئی خبر ہماری پریشانی کا باعث بنتی ہے۔زیادہ وقت کتابیں پڑھنے اورایسے مثبت کاموں کو نمٹانے میں صرف کریں جو ایک عرصے سے التواء میں تھے اور آپ انہیں نمٹانا چاہتے تھے۔ نیز بیماری سے متعلق مستند خبروں اور معلومات کے لئے صرف
World Health Organization, National Command and Operation Center, Covid.gov.pk
 جیسی ویب سائٹس سے مدد لینی چاہئے۔ 
بطورِ شہری ہمارا فرض ہے کہ ہم حکومت اور محکمۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوں اوردوسرے لوگوں کو بھی اس کی تاکید اور رہنمائی فراہم کریں۔
ہمیں اپنی ذمہ داریوں اور اپنی جان کی حفاظت اب خود کرنی ہے۔ یہ رونقیں تو پھر آجائیں گی لیکن اگر جان نہ ہوگی تو یہ جہاں کس کام کا ۔۔۔۔ آج ہمارے پاس روابط کی بے پناہ رسائیاں موجود ہیں۔ فون سے ویڈیو کال تک ہر شے ہمیںروابط قائم کرنے میں مدد دیتی ہے تو کیا پھر ان سہولیات کے باوجود بھی ہمارا سماجی رابطوں کو بڑھانا ضروری ہے؟ہمارا مذہب ہمیں وقت اور حالات کے مطابق ڈھلنا سکھاتاہے۔ حضورۖ نے فرمایا کہ نیکی کے کام کا ذریعہ صرف مال ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ بھلائی کاکام اور صدقہ ہے جس سے انسانوں کو فائدہ پہنچے۔
بھلائی کرنا اور اس کا حکم دینا بھی صدقہ ہے۔ اسی لئے یہ سماجی رابطوں میں کمی یا فاصلے اس بات کی گارنٹی نہیں کہ اس بیماری کا خاتمہ کرپائیں گے لیکن اس میں خاطر خواہ کمی کا باعث ضرور بنیں گے۔لہٰذا اس بات کو سمجھنے کا وقت ہے کہ آج اگر ہم فاصلے رکھیں گے تو کل یہ فاصلے خود ہی مٹ جائیں گے۔ آج ہم دوسروں کو کم وقت دیں گے تب ہی کل اپنوں کے ساتھ وقت گزار پائیں گے۔
اگر آج ہم نے لاپروائی برتی تو اپنے اور اپنوں کے کل کے ذمہ دار خود ہوں گے نہ کہ کوئی دوسرا۔ معاشرے کا ہر فرد اِس کے پھیلائو اور روک تھام میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا اطلاق ہر عمر کے فرد پر ہوتاہے کیونکہ جب زندگی کے حالات اور معیار میں تبدیلی آجائے تو اندازِ زندگی بھی یقینا بدل لینے چاہئے۔
لہٰذا فاصلہ رکھیں۔۔۔ اپنے لئے، اپنے پیاروں کے لئے!
 

Read 51 times



TOP