قومی و بین الاقوامی ایشوز

آرٹیفیشل انٹیلی جینس اور مستقبل کی جنگیں

جس انداز سے دنیا میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے آنے والے دنوں میں یہ پیش گوئی بآسانی کی جا سکتی ہے کہ ہمارے روز مرہ زندگی کے سارے کام ٹیکنا لوجی کی مدد سے انجام پا رہے ہوں گے اور ہم اپنے بہت سے فیصلوں میں ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہے ہوں گے۔ اس ضمن میں جو ٹیکنالوجی ابھر کر سامنے آئی ہے وہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس ہے جس کو عام طور پر اے آئی(AI) بھی کہا جاتا ہے آج کل اس پربہت کچھ لکھا اور تحقیق کی جارہی ہے۔یہاں میں آپ کو اے آئی سے متعلق چند بنیادی باتیں بتاتا چلوں۔ اے آئی دو طر ح کی ہوتی ہے پہلی قسم اے این آئی کہلاتی ہے جبکہ دوسری قسم کو اے جی آئی کہتے ہیں۔ اے این آئی وہ قسم ہے جس پر آ ج کل بے حد کام ہو رہا ہے اس میں مشین لرننگ، نیورال نیٹ ورک یا ڈیپ لرننگ جیسی ٹیکنیک استعمال کرتے ہوے ہم اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرتے ہیں۔ ہم مشین کو ایک ان پُٹ دیتے ہیں اور مشین ہمیں اس کی بنیاد پر ایک آئوٹ پُٹ یا رزلٹ دیتی ہے۔ جبکہ اے آئی کی دوسری قسم اے جی آئی کہلاتی ہے جس پر ابھی زیادہ کام نہیں ہوا یہ امید کی جا سکتی ہے کہ 2050 تک ہم اس میں کچھ مہارت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس قسم کی اے آئی میں مشین یہ صلاحیت حاصل کر لیتی ہے کہ وہ انسان کی طرح سوچ کر فیصلہ لے سکے لیکن اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے ابھی بہت وقت اور محنت درکارہے جبکہ اس قسم کی اے آ ئی کے بارے میں امریکہ کے مشہور سائنسدان اور بزنس مین ایلن مسک اور برٹش سائنسدان اسٹیفن ہاکینگ نے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے اور اس کو بنی نوح انسان کے لئے ایک بڑا خطرہ بھی قرار دیا ہے بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے ۔



لیکن تاحال دنیا میں کون سا ایسا شعبہ ہے جہاں اے آئی ٹیکنالو جی کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت نتائج کی توقع نہیں کی جا رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ ہو یا ہیلتھ کیئر ،تعلیم ہو یا بزنس اے آئی ہر جگہ اپنا لوہا منوانے کے لئے تیار ہے اور تیار بھی کیوں نہ ہو کہ اے آئی کی مدد سے بہت ہی مشکل کام بہت کم وقت میں ، آسانی سے اور بغیر کسی انسانی مدد کے مکمل ہو جاتے ہیں۔ اے آئی ہر اس جگہ بہترین رزلٹ دیتی ہے جہاںسکلز(Skills) اور رول کی بنیاد پر کام ہو،البتہ جہاں سوچ سمجھ کر اپنے پرانے علم اور تجربے کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے وہاں انسان کو اب بھی اے ائی پر برتری حاصل ہے جہاں اس پر روز مرہ زندگی کے کئی اہم شعبوں میں بے حد ریسرچ ہو رہی ہے وہاں ملٹری ٹیکنالوجی کو بھی بہتر بنانے کے لئے ہتھیاروں میں اس کے استعمال کی دوڑ شروع ہو چکی ہے دنیا کی دو بڑی طاقتیں چین اور امریکہ میں اے آئی ریس کا آغاز ہو چکا ہے جو کمرشل مقاصد کے ساتھ ساتھ عسکری مقاصد کے لئے بھی ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم یہ جانیں کہ اے آئی عسکری مقاصد اور آنے والی جنگوں کو کیسے تبدیل کر سکتی ہے، ہم پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ جنگیں کتنی قسم کی ہوتی ہیں اوردورِ حاضر اور پرانے دور کی جنگوں میں کیا فرق ہے۔ ماضی میں جنگِ عظیم اوّل اور دوم میں جہاں لاکھوں لوگ مر گئے یا زخمی ہو گئے وہاں جنگی جہازوں اور بھاری اسلحے کے استعمال سے املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ بڑے بڑے کارخانے،بجلی گھر،پل ،سڑکیں اور عمارتیں آن کی آن میں ملیا میٹ ہو گئے۔ تب ایٹم بم سے ہونے والی تباہی کو بھی سب نے دیکھا۔ اس وقت جنگ کا تصور ایک ایسی لڑائی تھا جس میں ٹینک،جنگی جہاز اور آبدوزوں سے ایک دوسرے کو نشانہ بنانا تھا اور سب سے خوفناک ہتھیار ایٹم بم تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے انداز میں بڑی تبدیلی آنے لگی۔ بحری ،بری اور فضائی جنگوں کے ساتھ اب سائبر جنگوں کا آغاز ہو چکا ہے جس میں ایک دوسرے کی قیمتی اور خفیہ معلومات چرا کر سخت نقصان پہنچایا جاتاہے۔ دوسری طرف ٹریڈ وار بھی لڑی جا رہی ہے جس میں ایک دوسرے کو معاشی طور پر کمزور کرنے کے لئے مختلف معاشی حربے استعمال کیئے جاتے ہیں۔ ایک اور قسم سپیس وار ہے جو خلا کو مسخر کرنے کے لئے لڑی جا رہی ہے جس کا ایک اہم مقصد خلا میں بھی اپنی بالادستی قائم کرنا اور اپنے طاقتور سیٹلائٹ کی حفاظت کرنا ہے۔ اس ضمن میں امریکہ نے باقاعدہ طور پر اپنی افواج میں ایک نئی برانچ سپیس فورس کے نام سے دسمبر 2019 سے شروع کی ہے اس کے ساتھ ساتھ جو سب سے اہم جنگ لڑی جا رہی ہے وہ انفارمیشن وار ہے جو میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا کی مدد سے لڑی جا رہی ہے۔ بہت ہی جدید بنیادوں پر سوشل میڈیا ٹیمز اور سوشل میڈیا انجینئرز کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور عام لوگوں کو اپنے نظرئیے کے پرچار اور ان کے ذہنوں کو بدلنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح کیمیائی اور بائیو ویپن کے استعمال کے لئے بھی ریسرچ ہو رہی ہے جس میں کسی بھی خطرناک کیمیکل اور وائرس کو اپنے مخالف کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے یوں جنگیں آج بھی لڑی جا رہی ہیں لیکن ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ جانے کی وجہ سے ان کا انداز بدل چکا ہے اور ٹیکنالوجی کے اس بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے ہی اے آئی آرم ریس کا آغاز ہو چکا ہے۔ امریکہ ،روس، چین اور یورپ میں اس ٹیکنالوجی کو دفاعی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی دوڑبڑھ رہی ہے۔یہ ممالک اپنے دفاعی بجٹ میں اے آئی کے استعمال کے لئے بلین ڈالرز مختص کر رہے ہیں ابھی پچھلے سال امریکہ نے اس مد میں 927 ملین ڈالر مختص کئے ہیں چین کے بارے میں یہ قیاس آرائی ہے کہ وہ بلین ڈالرز خرچ کر رہا ہے جبکہ روس اور یورپ بھی اے آئی کے دفاعی استعمال کے پروجیکٹ پر کئی ملین لگا چکے ہیں اگر ہم اس کو بڑے تناظر میں دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ اے آئی کی پوری مارکیٹ کا حجم2030تک 15 ٹریلین تک پہنچ جائے گا جس سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کمرشل اور دفاعی دونوں شعبوں میں اے آئی ایک کلیدی کردار ادا کرے گی۔جو ملک جتنی جلدی اے آئی کو اپنائے گا وہ اتنی ہی جلدی دفاعی ومعاشی طور پر برتری حاصل کر لے گا۔ دفاعی طور پر آج کل اے آئی کا زیادہ استعمال ڈرون میں ہو رہا ہے جو اپنے ٹارگٹ کا تعاقب کسی انسانی مدد اور پائلٹ کے بغیر کرتے ہیں۔ ان کے اندر پہلے سے موجود ڈیٹا ان کو اپنا مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور اگر ہم ایسے ڈرون کا مقابلہ ایک ایف 22 فائیٹر طیارے سے کریں جس کو ایک انسان اڑا رہا ہوتا ہے تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس پر ایک گھنٹہ پروازکی لاگت تقریبا 68362 ڈالر آتی ہے جبکہ اس کے برعکس ایک اے آئی ڈرون جس میں ٹارگٹ کونشانہ بنانے کی صلا حیت ہو، اس کی ایک گھنٹہ پرواز کی لاگت محض 3679 ڈالر آتی ہے اور اگر فائیٹر ڈرون میں جیٹ انجن بھی استعمال کیا جائے تو بھی اس کی ایک گھنٹہ استعمال کی لاگت پائلٹ کی مدد سے اڑنے والے جنگی جہاز کی نسبت آدھی آئے گی۔ اس ضمن میں قابل غور بات یہ ہے جب بغیر انسانی مدد کے چلنے والا ڈرون کوئی انسانی جان لے گا تو یہ عمل کس حد تک اخلاقی ہے اس حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیمیں اس عمل کے خلاف سخت رائے رکھتی ہیں ان کے خیال سے کسی بھی مشین کو انسانی جان لینے کا کوئی اختیار نہیں ہونا چاہئے جبکہ دوسری جانب یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اب اے آئی کو زیادہ عرصہ دفاعی شعبے سے دور رکھنا ممکن نہیں جبکہ دوسری طرف کمرشل بنیادوں پر اے آئی کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مائیکروسافٹ، گوگل اور ایمزون اے آئی کا استعمال2011 سے اپنی پروڈکٹ میں کر رہے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے جس انداز سے اے آئی پر کمرشل بنیادوں پر کام ہو رہا ہے اس کے برعکس دفاعی شعبے میں اس کی ترقی کی رفتار کافی کم ہے اس کی دو اہم وجوہات ہیں۔ ایک تو دفاعی شعبے میں اے آئی ریسرچ میں فنڈنگ کی کمی جبکہ دوسری اہم وجہ اے آئی ٹیلنٹ کی بھاری معاوضوں پر کمرشل اداروں میں دلچسپی ہے۔ ایک طرف اے آئی ٹیلنٹ پہلے ہی کافی نایاب ہے اوپر سے کمرشل ادارے انہیں پرکشش مراعات دے کر اپنی طرف راغب کر لیتے ہیں۔ جب سے اے آئی کا استعمال ہتھیاروں میں بڑھنے لگا ہے اس بات پر بہت توجہ دی جا رہی ہے کہ ان ہتھیاروں میں غلطی کی کوئی گنجائش نہ ہو ان کی ٹیسٹنگ اتنی فول پروف ہو کہ یہ بہترین رزلٹ دے سکیں کیونکہ یہ ہتھیار پروگرامڈ ہوتے ہیں اور جو بھی چیز پروگرامڈ ہو اس میں غلطی کی گنجائش بہر حال ہوتی ہے اور اگر یہ غلطی نہ پکڑی جا سکے اور اس کی موجودگی میں بڑے پیمانے پر اے آئی ہتھیاروں کو ٹریننگ دے دی جائے تو یہ بہت ہی مہلک اور جان لیوا بھی ہو سکتا ہے جبکہ دوسرا بڑا خطرہ ان ہتھیاروں کی ہیکنگ کا ہے۔ مخالف ان ہتھیاروں کو ہیک کر کے نہ صرف ناکارہ بنا سکتا ہے بلکہ اس کو بنانے والے کے خلاف بھی استعمال کرسکتا ہے اس لئے اس کی سائبر سکیورٹی بھی فول پروف ہونی چاہئے۔ 1991 کی خلیجی جنگ میں امریکہ نے اے آئی بیس لاجسٹک سسٹم کا استعمال کیا جس کا نام ڈی اے آر ٹی تھا اور امریکی ادارے ڈارپا (ڈی اے آر پی اے )کے مطابق اس سسٹم نے اپنی لاگت سے کہیں زیادہ مفید کام کیا۔ اسی طرح برٹش وزارت دفاع کے ادارے ڈی اے ایس اے نے ایک ملین ڈالر کی لاگت سے اے آئی بیس کئی پراجیکٹ شروع کئے ہیں جو ان کی نیوی کو مزید فعال کریں گے۔ اے آئی ٹیکنالوجی فضائی ، بری اور بحری ہتھیاروں میں استعمال ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور بغیر کسی انسانی مدد اور فیصلے کے اپنے مقاصدحاصل کرسکتی ہے۔ 
اس کا اندازہ ہم ایک جنگ کے خیالی منظر نامے سے لگا سکتے ہیں جہاں ایک ملک جس کے پاس اے آئی ٹیکنالوجی موجود ہے اور دوسرا ملک جس کے پاس اے آئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے دونوں کے مابین جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ جس ملک کے پاس اے آئی ٹیکنالوجی ہے و ہ میدان جنگ میں اپنے فوجی بھیجنے کے بجائے اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس روبوٹس ،ڈرونز،بغیر پائلٹ کے فائٹر جیٹ اور انسانی مدد کے بغیر چلنے والی بکتر بند گاڑیوں سے حملہ آور ہوتا ہے۔ اس ملک کا دفاعی اے آئی نظام جنگ کی حکمت عملی خو د بنا رہا ہو گا جس میں بہترین اور تیزی سے فیصلہ لینے کی صلاحیت ایک انسان کی نسبت کئی گنا زیادہ ہو گی۔ یہ اے آئی کلر مشینز اپنے دشمن کو سنسرز کی مدد سے تاک تاک کر نشانہ لے رہی ہوں گی جس کی درست نشانہ لینے کی صلاحیت کسی بھی ماہر نشانہ باز سے زیادہ ہو گی جبکہ جس ملک کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے وہ ایک طرف اپنے فوجیوں کی جان بچانے کے لئے فکر مند ہوگا تو دوسری طرف اس ٹیکنالوجی سے لڑنے کے لئے اس کے پاس صلاحیت بھی نہیں ہو گی یوں دوسرے ملک کا پلڑا بھاری ہو جائے گا جبکہ اے آئی ٹیکنالوجی کے حامل ملک کے فوجی میدان جنگ سے کئی سو کلومیٹر دور بیٹھے اپنے وار روم کی بڑی بڑی سکرین پر ان اے آئی کلر مشینز پر لگے کیمروں کی مدد سے پوری جنگ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اپنی فتح کا جشن بھی منا رہے ہوں گے۔
اب دیکھنا یہ ہو گا کہ کون سا ملک سب سے پہلے اپنے دفاعی نظام میں اے آئی کو مہارت اور کامیابی کے ساتھ استعمال کرے گا کیونکہ جوملک بھی یہ مہارت سب سے پہلے حاصل کرے گا اس کو آنے والی جنگوں میں دوسرے ممالک پر واضح برتری حاصل ہو جائے گی- 

Read 130 times



TOP