ہمارے غازی وشہداء

شاہیں کا جہاں اور

جہازوں کے اِنجنوںکی گھن گرج سے میں بے اختیار اپنے گھر کی بالکنی کی طرف لپکا۔ آوازیں اتنی قریب تھیں کہ معلوم ہوتا تھا کہ جیسے جہاز میرے گھر کے سامنے ہی اُڑ رہے ہوں۔ .باہر نکل کر دیکھا تو مجھے PAFکے مختلف طیّارے مارگلہ کی پہاڑیوں کے درمیان سے نمودار ہوتے دکھائی دیئے اور پھر یہی طیّارے فضا میں گھومتے، تیرتے اور کبھی لپکتے اور جھپٹتے دکھائی دیئے۔



23 مارچ2020 کو بس اب چند دن ہی رہ گئے تھے اور یہ طیّارے ان تیاریوں میں اپنے Manoeuvresکی ریہرسل کر رہے تھے۔ 11 مارچ 2020 کو ان ہی میں شامل F-16کے پائلٹ ونگ کمانڈر نعمان  اکرم ایک مشکلManoeuvreکرتے ہوئے طیّارے کی تکنیکی خرابی کے باعث اچانک حادثے کا شکار ہو کر شہید ہو گئے۔ ان کے پاس دو ہی راستے تھے ایک یہ کہ Eject کر جائیں اور نیچے آبادی تباہی سے دو چار ہو جائے اور دوسرا اپنی جان کی پروا کئے بغیر طیّارے کو آبادی سے دُور لے جائیں۔ ونگ کمانڈر نعمان اکرم نے دُوسرا راستہ چُنا۔جو ایک بہادر اورپروفیشنل آفیسر کا راستہ ہوتاہے۔ اور اسی دوران دنیا نے ٹی وی سکرین پر اس شاہین کو اپنی اَگلی منزل کی اُڑان بھرتے دیکھا، شہادت کی وہ منزل جس کو پانے کا خواہش مند افواج پاکستان کا ہر سپاہی ہوتا ہے۔                               
شہداء کے حوالے سے لکھتے ہوئے مجھے ایک عرصہ ہو گیا ہے۔لیکن ہر دفعہ ہر شہید کی بہادری کی کہانی اپنے انداز کی ہوتی ہے ۔شہید نعمان اکرم کے والدِ گرامی بریگیڈئیر اکرم سے میرا رابطہ فون پر ہوا۔ وہ لاہورمیں رہائش پذیر ہیں۔ فون پر مضبوط اور پُر اطمینان آواز سے مجھے حوصلے میں لگے جبکہ اُن کے بیٹے کو اُن سے جُدا ہوئے ابھی چند دن ہی ہوئے تھے۔                                
24جنوری 1979 کو کیپٹن اکرم کے گھر سیالکوٹ میں اِن کے بیٹے نعمان اکرم کی پیدائش ہوئی۔ نعمان کیپٹن اکرم کے گھر کی پہلی خوشی تھی اِس لئے تمام گھر کی توجہ اور محبت اِسی کے حِصّے میں آئی اور ساتھ ہی اِس خوبصورت اِضافے نے گھر کی رونقوں کو دوبالا کر دیا ۔کیپٹن اکرم، جو بعد میں بریگیڈئیر بنے، کے ہاں نعمان کے بعد بیٹا سلمان اور بیٹی سارہ پیداہوئے اور اس طرح اُن کا خاندان مکمل ہو گیا۔
 میر ی بریگیڈئیراکرم سے جب وِنگ کمانڈر نعمان کی شہادت کے حوالے سے بات ہوئی تو میں نے ایک انتہائی پُر جوش باپ کااپنی اولاد کے لئے بیان سُنا۔ مجھے لگا کہ بریگیڈئیر اکرم، نعمان کی خوبیوں کے اِظہار میں ایک ناقابل بیان سُرور سے سَرشار ہیں۔ ایک ایک لفظ جو وہ بتاتے وہ نعمان کے لئے اُن کی شفقت اور عقیدت میں گندھاہوا ہوتا۔ بریگیڈئیر اکرم نے بتایاکہ نعمان بچپن ہی سے ایک Ideal Childتھا۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اِن کی پہلی اُولاد گھر کی اِن قدروں کو اپنائے جس سے باقی بچےّ راہ نمائی حاصل کریں۔ نعمان میں محنت، ذہانت اور اِیمانداری کی خوبیاں شروع سے ہی دکھائی دے رہی تھیں۔ اِس میں بَلا کا تدبّرتھا۔ شہادت کے بعد جب کچھ لوگ تعزیت کے لئے گھر آئے تو اِن میں سے بریگیڈئیر اکرم کے ایک دوست نے بتایا کہ جب نعمان 1987میں مشکل سے سات ، آٹھ سال کا ہو گا تو نوشہرہ میں وہ اوران کے بچےّ اُن کے گھر کے لان میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ اس کھیل میں اُنھوں نے محسوس کیا کہ جب کوئی دوسرا بچہّ آئوٹ ہوتا تو وہ بہانے بنا کر دوسری باری لیتا لیکن نعمان کو جب بھی آئوٹ دیا جاتا تو وہ ہنستا مسکراتا چلا جاتا۔    


     


1984 ء میں بریگیڈئیر اکرم کی ملک سے باہر تعیناتی ہوئی جس کی وجہ سے انھیں اپنی فیملی کو اپنے آبائی گھر میںہی چھوڑنا پڑا۔ باہر جانے سے پہلے انھوں نے نعمان کا داخلہ پہلی جماعت میں APS لاہور میں کرو ادیا ۔ گھر سے سکول کا فاصلہ زیادہ تھا اور نعمان چونکہ چھوٹا تھا اس لئے بریگیڈئیر اکرم گھر کے سامنے نعمان کو بس پر جاتا دیکھتے اور پھر سکوٹر پر بس کے پیچھے پیچھے سکول تک جاتے اور وہاں نعمان کو بس سے اُتر کرسکول جاتا دیکھتے۔ یہ عمل انھوں نے ایک ہفتے تک کیا تاکہ کسی بھی دُشواری کی صورت میں اِس کا حل نکال سکیں اور نعمان کا بھی اعتماد قائم ہو۔ ایک دن جب نعمان اکیلا ہی سکول سے آرہا تھا تو بس راستے میں خراب ہو گئی ۔ڈرائیور نے کہا کہ تمام بچے اپنابندوبست کر لیں۔ ایسے میں کئی بچوںکے والدین انہیں وہاں آ کر لے گئے۔ نعمان جو کہ اکیلا تھا، اُس نے چھوٹی سی عمر میںسکول کا بستہ گلے میں لٹکایا اور سات کلو میٹر پیدل سفر کر کے ٹھیک ٹھیک گھر پہنچ گیا۔
بچپن کی دوسری باتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب بریگیڈئیر اکرم کوئٹہ میں سٹاف کالج میں کورس کر رہے تھے نعمان اُس وقت دوسری جماعت میں تھا۔اُس عمر میں بھی نعمان کی ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ وہ اسکول سے آکر سب سے پہلے سکول کا کام کرتا یہاں تک کہ وہ کھانا بھی پڑھائی کے بعد کھاتا۔ اُس کی اِس خوبی کی وجہ سے پڑوسیوں کے بچےّ اکثر والدین کے زیرِ عتاب ہوتے کہ دیکھو نعمان کیسے ذمہ داری سے پڑھ رہا ہے اور تم کیا کر رہے ہو۔                        
نعمان جب 7thکلاس میں تھا تو اُس وقت بریگیڈئیر اکرم، بنوں میں اپنی یونٹ 10میڈیم رَجمنٹ (آرٹلری) کمانڈ کر رہے تھے۔ جیساکہ دُوردراز علاقوں میں پڑھائی کا مسئلہ رہتا ہے اور بریگیڈئیر اکرم کی بار بارپوسٹنگ کی وجہ سے نعمان اور گھر والوں نے دیکھا کہ پڑھائی کا ہرج ہو رہا ہے، ایسے حالات میںبھی نعمان نے PAFکالج سرگودھا کا امتحان دیا اور پاس ہو گیا۔ نعمان نے 8thکلاس میں PAFکالج جوائن کر لیا۔ایسے میں جیساکہ ہوتا ہے والدین سے پہلی دفعہ جب بچہّ دُور ہو تو والدین اور بچےّ دونوں کو یہ تجربہ مشکل سا لگتا ہے۔ نعمان کی والدہ اس کے جانے پر غمگین تھیں پھر نعمان کا بھی خط آگیا کہ اِس کا دل نہیں لگ رہا۔ بریگیڈئیر اکرم ابھی اِس پر کچھ سوچ ہی رہے تھے کہ نعمان کا مہینے کے بعد پھر خط آیا کہ اُس کی فکر نہ کریں اُس کا دل لگ گیا ہے اور وہ پڑھائی سے مطمئن ہے اِس خط کے بعد اس کی والدہ اور گھر والوں کو تسلی ہوئی۔                                       
ایئر فورس میں شامل ہونے کا فیصلہ نعمان اور گھروالوں دونوں ہی کا تھا ۔ جہاں اُس میں ایک بنیادی سوچ بہتر تعلیم کے مواقع تھے وہاںوطن کی خدمت کا جذبہ اُس کا ایک اہم محرک تھا۔ ملک کا دفاع ایک عظیم فریضہ ہے ۔ مقصد دفاع کرنا ہے چاہے وہ کسی بھی مورچے سے کیا جائے۔ تمام افواجِ پاکستان وطنِ عزیز کی حرمت کی امین ہیں اور اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں۔
بقول بریگیڈئیر اکرم کے، نعمان کے دوستوں نے انھیں بتایا کہ اکیڈمی کے دنوں میں جب زندگی انتہائی چیلنجنگہوتی تھی ، نعمان ہمیشہ دوستوں کے کام آتا، کئی موقعوں پر نعمان دوستوں کا کام خود کر دیتاتھا۔ پروفیشنل زندگی میں اس کو جب بھی کبھی کوئی پروجیکٹ ملتا وہ روزانہ اس کا دورہ کرتا اور کام کی نگرانی کرتا۔ اس کے دوست جب اس سے پوچھتے کہ تم نے یہ عادت کہاں سے اپنائی ہے تو وہ یہ کہتامیں نے یہ اپنے ابا سے سیکھی ہے کیونکہ وہ بھی اپنے کاموں کا ایسے ہی معائنہ کرتے تھے۔ بریگیڈئیر اکرم نے بتایا کہ نعمان انھیں Idealizeکرتا تھااور وہ اکثر اس کا اظہار اپنے دوستوں سے کرتا تھا۔ وہ بتاتا تھا کہ اِس کے والد ایک انتہائی ڈسپلنڈانسان ہیں اور وہ گھڑی کے مطابق چلتے اور کام کرتے ہیں۔         
 بریگیڈئیر اکرم نے بتایا کہ پیشہ ورانہ کارکردگی میں نعمان اپنے عروج پر تھا جہاں وہ PAFاکیڈمی سے بہترین درجے پر پاس آئوٹ ہوا وہاں بعد میں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ۔ ونگ کمانڈر نعمان نے اپنی محنت اور لگن سے Best Pilot Trophyبھی حاصل کی جسے ائیر فورس میں شیرافگن ٹرافی کہتے ہیں۔ یہ اِن کا اعزاز تھا کہ فلائنگ کے دوران اِن کا کال سائن شیرافگن ون،ہوتا۔ بریگیڈئیر اکرم نے بتایا کے ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان جب ونگ کمانڈر نعمان کی شہادت کے بعد ان سے ملے تو انھوں نے کہا کہ  9اسکواڈرن OCہونا کسی بھی ائیر فورس افسر کے لئے اعزاز ہوتا ہے اور نعمان اس کا صحیح معنوں میں حقدار تھا۔ونگ کمانڈر نعمان کا یہ بھی ایک اعزاز تھا کہ انھوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی فلائی کروایا اور آرمی چیف نے بریگیڈئیر اکرم سے تعزیت کے وقت نعمان کے ساتھ اِس وقت کو یاد کیا۔نعمان نے سعودی کرائون پر نس محمد بن سلمان کے دورے پر اُن کو F-16میں گوادر سے لے کر اسلام آبا د تک Escort کیا۔ ونگ کمانڈر نعمان نے قطر میں ساڑھے تین سال پاکستان کی طرف سے خدمات سر انجام دیں ۔ انھیں اپنے اچھے کام اور محنت کی بنا پر قطری حکام نے مزید رہنے کا کہا لیکن نعمان نے وطن عزیز کی خدمات کو اہمیت دیتے ہوئے واپسی کو ترجیح دی۔                        
ونگ کمانڈر نعمان کی شہادت کے دن بریگیڈئیر اکرم کسی کام سے گائوں میں تھے ۔ انھیں گھر سے کال آئی کہ F-16کے گرنے کی خبر TVپر چل رہی ہے اور اس کے بعد دوستوں کی کالیں آنا شروع ہوگئیں۔بریگیڈئیر اکرم نے حوصلے سے اِس خبر کو سُنا اورگاڑی خود چلا کر گھر پہنچے اور گھر والوں کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ نعمان کی والدہ اور بیگم کے لئے باقی تمام کی طرح یہ خبر ناگہانی تھی اور ماں آخر ماں ہوتی ہے ۔ یہ ایک مشکل لمحہ تھا جسے تمام لوگ بہادری اور حوصلے سے گزار رہے تھے بریگیڈئیر اکرم کے دوست بھی گھر پر پہنچنا شروع ہو گئے اور کچھ نے کہا کہ تم تو بڑے Humble آدمی ہو اور تمھارے بیٹے نے اتنا بڑا کام کر دیا۔
 بریگیڈئیر اکرم کے سامنے نعمان کی پوری زندگی گھوم رہی تھی وہ جو کردار ، قابلیت ، لگن اورقر بانی کا پیکر تھا وہ ابدی حیات حاصل کر گیا تھا۔ اور بقول والد کے!                     
''My son was Creator's selection and he was the chosen one."
اس عظیم اعزاز پر بریگیڈئیر اکرم، اللہ تعالیٰ کے شکرگزار اوراﷲ کی رضا پر راضی ہیں۔ اب اُن کی زندگی کا محور نعمان کے بچےّ طلحہ اور عینا ہیں اور وہ ان بچوں میں ہی نعمان کو دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دُعا گو ہیں کہ وہ نعمان کی فیملی کی ذمہ داریوں سے بطریق احسن عہدہ برآ ہو سکیں۔
جو قومیں قربانیاں دینا جانتی ہیں تاریخ ہمیشہ ان کو یاد رکھتی ہے جب تک وطنِ عزیز کے ایسے سپوت موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے رکھیں گے وطن کی حرمت کو کو ئی میلی نظر سے نہیں دیکھ سکتا.....یاد رہے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں! 


[email protected]
 

Read 58 times



TOP