متفرقات

وردی 

 میجر طارق گیٹ پر پہنچے تو شریک حیات سائرہ نے مسکرا کر روزانہ کی طرح ان کورخصت کیا باہر کھڑی آرمی کی گاڑی میں میجر طارق ایک وقار سے سوار ہوئے اور اپنی ڈیوٹی پر روانہ ہو گئے۔ یہ ہر روز کا معمول تھا۔ ان کا بیٹا حاذق ایک سکول میں زیر تعلیم تھا، جو آج کل موسم گرما کی چھٹیو ں کی وجہ سے بند تھا۔ لیکن گھر میں ا س کی تعلیم کا سلسلہ جاری تھا۔ سائرہ اور ماں جی نے باری باری اس کو جاری رکھا ہوا تھا۔ وہ ماں جی سے قرآن کریم کی تعلیم لیتا اور پھر سائرہ سے دنیاوی تعلیم لیتا تھا گھر بھر کی آنکھوں کا تارہ حاذق اپنی عمر کے بچوں سے کچھ بڑا لگتا تھا۔ وہ بہت سلجھی ہوئی باتیں کرتا بہت ہی پیچیدہ پیچیدہ سوالات پوچھا کرتا تھا جن کو حل کرنے کا ذمہ ماں جی اور میجر طارق کے سر ہوتا تھا ۔وہ اس کو اس کے سوالات کے جوابات اس طرح دیتے تھے کہ اس کی تعلیمی نشوو نما کے ساتھ ساتھ اس کی جنرل نالج میں بھی اضافہ ہوتا رہتا تھا ۔ وہ سب کچھ بہت جلدی سیکھنے کی خدادا دصلاحیت سے مالا مال بچہ تھا ۔ 
''دادو !'' حاذق کے ذہن میں ایک سوال کتنے ہی دنوں سے کلبلا رہا تھا وہ کرسی پر بیٹھی ماں جی کے پاس زمین پر بیٹھا ان سے اپنے سر میں تیل کی مالش کروا رہا تھا وہ ماں جی کا ہاتھ پکڑ کر بولا '' یہ جو اندر دادا جان کی وردی الماری میں پڑی ہے وہ میں پہن کر دیکھنا چاہتا ہوں '' ماں جی کھلکھلا کر ہنس پڑیں اور اپنا ہاتھ اس کے نرم و نازک ہاتھ سے چھڑا کر ایک بار پھر اس کے سر پر تیل کی مالش کرنے لگیں تو وہ بولا ۔ '' بات کو ایک قہقہے میں نہ ٹالیں دادو ۔میں نے آپ سے کچھ کہا ہے ۔ '' ماں جی مسکراتی ہوئی بولیں ''مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے بس ایک پرابلم ہے ۔؟'' وہ واپس گردن موڑ کر ماں جی کی طرف دیکھنے لگا جن کے چہرے پر ایک شرارتی مسکان سجی ہوئی تھی '' کیا پرابلم ہے دادو ؟'' اس نے پوچھا تووہ بولیں '' وہ وردی تو میرے شوہر کی ہے اور تم میرے پوتے ہو اور ابھی بہت ہی چھوٹے ہو وہ تمہیں کیسے پوری ہوگی بھلا ۔؟'' وہ یہ سن کر کچھ اداسی سے بولا۔ '' جب میں بھی کسی کا شوہر بنوں گا تب وردی پہن سکوں گا کیا ۔؟' ' یہ ننھا سا سوال تھا لیکن ماں جی کے ساتھ ساتھ پیچھے کھڑی سائرہ بھی مسکرا دی لیکن ماں جی نے اپنی عمر گزاری تھی وہ اس بچے کی بہترین تربیت بھی کر رہی تھیں وہ ایک شہید فوجی کی بیوہ تھیں اور ایک جان باز میجر کی والدہ بھی تھیں ۔ان کو اپنے ان عہدوں پر نہ صرف فخر تھا بلکہ وہ سر اٹھا کر کسی بھی محفل میں جاتی تھیں کہ ان کے گھر میں ایک شہید کی وردی لٹکی ہوئی ہے برادری اور خاندان والے ان کی بہت عزت کرتے تھے وہ ایک معتبر اور وضع دار خاتون تھیں ۔ وہ اپنے پوتے حاذق کی طرف دیکھ کر مسکرائیں اور بولیں ۔'' وردی پہننے کے لئے کسی کا شوہر ہونا لازمی شرط نہیں ہے۔ اب دیکھو  ناں تمہارے بابا طارق نے جب آرمی جوائن کی تھی تو وہ کنوارے تھے، تمہاری ماما سے ان کی شادی بعد میں ہوئی ہے اور جب تمہارے دادا نے وردی پہنی تھی تو وہ بھی کنوارے تھے ان کی شادی بھی مجھ سے تب ہوئی تھی جب وہ یہ شان والی وردی پہن چکے تھے اور اب تم ہو تو میرے بچے تم بڑے ہو جائو پڑھ لکھ جائو ،اپنی تعلیم مکمل کر لو پھر یہ وردی تم بھی پہن سکتے ہو پھر تمہاری شادی کر دیں گے،۔ہم'' ماںجی نے بہت ہی اچھی طرح تفصیل سے حاذق کو سمجھایا تو وہ ہنسنے لگا اور بولا ۔ '' افوہ شادی اتنی دیر بعد ہوگی کیا ۔ ؟'' وہ اپنی معصومیت میں یہ بات تو کہہ گیا تھا لیکن ماں جی اور سائرہ کے قہقہوں نے اس کو شرمندہ کر دیا تھا وہ وہاں سے اٹھ کر اند رکی جانب بھاگ گیا  ۔ 
میجر طارق کو سائرہ نے سارے دن کی بات بتائی تو وہ بھی ہنسنے لگے اور پاس سوئے ہوئے حاذق کو پیار سے دیکھنے لگے تھے۔ وہ اکثر ماں جی کے ساتھ ہی سوتا تھا لیکن کبھی کبھار وہ ٹی وی دیکھتا ہوا سو جاتا تو میجر طارق اس کو اپنی گود میں اٹھا کر ماں جی کے کمرے میں سلا آتے تھے۔ لیکن شرارتی حاذق بیچ میں آنکھیں کھول کر چپکے سے بابا کے گالوں پر ایک پیاری سی میٹھی مہر ثبت کرتا تو میجر طارق ایک قہقہہ لگا کر ہنس پڑتے اور اس کو چومنے لگتے تھے ۔ بہت ہی ہنسی خوشی اور محبت بھرے دنوں میں اچانک فرض کو جوانوں کی ضرورت پڑ گئی جو ملک و قوم کی خاطر وردی کو اپنے سینے پر سجائے اپنی کھال سمجھتے ہیں۔ ایک مخصوص علاقے میں ملک کے حالات ایک دم سے خراب ہو گئے تھے بہت ساری کھچڑی ایسی پک رہی تھی جو ملک کی سلامتی اور وقار کے خلاف تھی ۔ایجنسیز کی رپورٹس اور ملک کے خفیہ اداروں کی ان تھک محنت کی وجہ سے دن رات کام کرنے کے بعد ایک بہت بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا تھا جو چند لوگوں کے ہجوم سے شروع ہو کر ایک ملک مخالف گروپ کی شکل میںسامنے آگیا تھا۔ ملک کے شمالی علاقوں میں ان لوگوں نے اپنی دھاک بٹھانے کے لئے ملک کے پرچم اور آرمی کی مقدس وردی کے تقدس سے کھیلنا شرو ع کر دیا تھا وہ مختلف جگہوں پر جلسے جلوس کرتے اور اپنا مؤقف پیش کرتے تھے جو کہ ایک الگ پرچم کا مطالبہ اور الگ قوم کی پہچان تھا۔ لیکن ملک کے وقار اور سلامتی کی حفاظت کرنے والے ادارے اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کو ہندوستانی ایجنسی ریسرچ اینڈ انیلیسزونگ یعنی را کی سرپرستی حاصل ہے۔ کیونکہ کچھ دن پہلے بھی ایک بہت بڑی کارروائی میں بہت سے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا تو ان کے خفیہ ٹھکانوں سے ہندوستانی کرنسی کروڑوں روپوں کی شکل میں برآمد ہوئی تھی۔ ساتھ میں ہندوستانی اسلحہ بھی بڑی مقدار میں پکڑا گیا تھا اب بھی وہی لوگ تھے جو ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ کیونکہ ان کا دین ایمان پیسہ بن چکا تھا، وہ پیسے کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار تھے۔ ایسے گروہوں کی بیخ کنی کے لئے میجر طارق کو چنا گیا تھا کہ وہ بھی اپنا فعال کردار ادا کرتے ہوئے ملک اور قوم کی سلامتی کے لئے اپنی ڈیوٹی ان علاقوں میں سر انجام دیں جو کہ اس وقت دہشت گردوں کی گرفت میں ہیں۔ میجر طارق (شہید)، میجر محمد رفیق حسین کے بہادر بیٹے تھے ماں جی کو سلام کیا اور ہمیشہ کی طرح ایک بار اپنے شہید باپ کی تصویر کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے جو کہ وردی میں بنائی گئی تھی انہوں نے باپ کی شہادت اور عظمت کو سلا م پیش کرنے کے لئے سیلوٹ کیا تو پیچھے سے ماں جی کی بھرائی ہوئی آواز نے ان کو چونکا دیا وہ پیچھے مڑے تو ماں جی آنکھوںمیں آنسو لئے کھڑی تھیں۔ آج کے دن وہ سب کچھ بد ل گیا تھا جو ہر روز روٹین سے اس گھر میں ہوا کرتا تھا۔ سبھی رُول اور قاعدے بدلے ہوئے لگ رہے تھے  ماںجی کے ساتھ ہی سائرہ بھی کھڑی تھی جو آنکھوں میں آنسو لئے ہوئے تھی۔ میجر طارق نے دونوںکو ایک اداسی بھری حیرت سے دیکھا تو ماں جی کے پیچھے سے حاذق بھی نکل آیا جو کہ ان سب کو دیکھ کر کچھ سہما ہو ا لگ رہا تھا۔ میجر طارق نے ماں جی کو سیلوٹ کیا تو ماں جی نے آگے بڑھ کر بیٹے کے ماتھے پر محبت بھری ممتا کی ایک مہر ثبت کی لیکن میجر طارق کو واضح طورپر محسوس ہو ا تھا کہ آج ماں کے ہونٹ کانپ رہے ہیں وہ ماں جی کے ہاتھ پکڑ کران کو بوسہ دیتے ہوئے بولے۔ '' ایک بہادر میجر کی بیوی اور ایک جان باز بیٹے کی ماں اتنی کمزور کب سے ہوگئی ،ماں جی۔؟'' ماں جی نے اپنے آنسو پونچھے اور مسکرا کر بولیں یہ آنسو وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو اور میرے کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کو میری کمزوری نہ سمجھو بیٹا ۔۔یہ تو اللہ کے حضور وہ سجدہ ہیں جو شکر بجا لانے کے لئے میری پیشانی کا محتاج نہیں ہے ۔میرا ایک بیٹا ہے اور بھی ہوتے تو اسی طرح اس وطن کی حرمت  اور اس وردی کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے اسی طرح مسکر ا کر سجدہ شکر ادا کرکے محاذ جنگ پر بھیجتی ۔ اللہ تمہار احامی و ناصر ہو ۔ '' ماں جی نے بیٹے کو ایک بار پھر گلے سے لگایا تو میجر طارق نے دیکھا کہ حاذق اس کی طرف دیکھ کر کچھ پوچھنا چاہتا ہے وہ اس کے پاس نیچے ہو کر جھک گئے اور بولے '' کچھ کہنا چاہتے ہو ۔؟'' اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تو میجر طارق بولے ۔ '' کیا۔؟'' وہ میجر محمد رفیق حسین کی تصویر کی طرف دیکھ کر بولا ۔ '' کیا وردی کی شان اور عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے دادا جی کی طرح ایک تصویر بننا پڑتا ہے بابا ۔؟'' اس بات نے سائرہ اور ماں جی کو افسردہ کردیا۔ میجر طارق نے اس کو گلے لگایا اور اس کو چومتے ہوئے بولے ۔ '' ایسا کچھ نہیں ہے میں ملک کے دشمنوں کو نیست و نابود کرنے جا رہا ہوں اپنی فوج کے ساتھ مل کر ملک دشمنوںسے اس دھرتی کو پاک کرنے کے لئے جا رہا ہوں میں واپس آئوں گا تم اس وردی کی شان کو سلامت رکھنا ۔۔'' میجر طارق یہ کہہ کر سائرہ سے ملے اور گھر سے باہر نکل گئے ۔ ماں جی اور سائرہ کافی دیر تک ادھ کھلے گیٹ کو دیکھتی رہیںوہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا رہی تھیں ۔ 
ملک کے دشمنوں کو جہنم واصل کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سا علاقہ بھی ان کے چنگل سے آزاد کر وا لیا گیا تھا بہت سے دہشت گرد پاک فوج کی کارروائی کے دوران گرفتار بھی کر لئے گئے تھے لیکن پانچ جوانوں کی شہادت نے ملک کی سلامتی پر آنے والی ہر آنچ کو اپنے بدنوں پر جھیلا تھا وردی میں شہید ہونے کا خواب میجر طارق نے بھی کبھی دیکھا تھا جو اس مشن میں پورا ہو گیا تھا۔ ان کے جسد خاکی کو ان کے گھر پہنچایا گیا تو حاذق بت بنا اپنے بابا کو دیکھ رہا تھا جو لکڑی کے تابوت میں چہرے پر ایک پر سکون مسکان لئے سوئے ہوئے تھے۔ ماں جی بیٹے کے تابوت کے سرہانے جب کہ سائرہ شوہر کے قدموں کی جانب بیٹھی ہوئی تھیں وہ اللہ کی رضا پر راضی تھیں جب میجر طارق کی وردی اور بوٹ دینے کی باری آئی تو حاذق کے سامنے ان کی چیزوں کو پیش کیا گیا تو حیرت انگیز طور پر ننھے حاذق کے نہ تو ہاتھ کانپ رہے تھے اور نہ ہی وہ رو رہا تھا سبھی لوگ دیکھ رہے تھے کہ وہ ایک جرأت اور بہادری سے کھڑا اپنے باپ کی چیزوں کو وصول کر رہا تھا اس نے بابا کی وردی کو لے کر ایک زور دار سیلوٹ اس انداز میں پیش کیا کہ وہاں کھڑے آرمی کے جوان او ر آفیسرز بھی اپنے آنسو چھپا کر میجر طارق کی وردی کو سیلو ٹ کرنے لگے۔ اسی دوران ننھے حاذق کی آوز گونجنے لگی وہ میجر طارق کے تابوت پر جھکا ہوا کہہ رہا تھا ۔ '' بابا میں قسم کھاتا ہوں کہ اس وردی کی شان اور تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دوں گا۔ ''  ماں جی اور سائرہ اس کو فخر سے دیکھ رہی تھیں ۔  


 

Read 119 times


TOP