ہمارے غازی وشہداء

لہو سے جبینِ وطن کو نکھارنے والے

میجر ندیم عباس بھٹی شہیدکے حوالے سے سکواڈرن لیڈر زاہد یعقوب عامرکی تحریر

پاکستان کی تاریخ میں جہاں بہت سی کامیابیاں اس کا حصہ ہیں وہیں متعدد تکلیف دہ لمحات بھی ہماری ہی تاریخ ہیں''گلوبل وار آن ٹیرر'' سے لے کر آرمی پبلک سکول تک،آپریشن راہ نجات ہو یا راہ راست،ضرب عضب ہو یا ایل او سی، شوال،تیرہ،وزیرستان و بلوچستان ہر جگہ ہمارے ہزاروں جوان پاکستان کے امن کی راہ میں کام آئے۔ ہر روز کسی اخبار کے کونے میں ایک دو کالمی خبر یہ نوحہ کرتی ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں تین،چار، پانچ سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے ۔ٹیلی ویژن کی سکرین پر ہندسے جگمگاتے ہیں کہ وطن عزیز پر چار جوان اپنی جان وار گئے۔ دیکھنے والے چند لمحوں بعد چینل تبدیل کر دیتے ہیں۔ پڑھنے والے اخبار لپیٹ کر کسی کونے میں رکھ دیتے ہیں۔ اگلے ہی لمحے وہ اخبار ایک ردی کاغذ کا روپ دھار لیتا ہے۔ 
مگر رکیں،کیا اس طرح ہونے سے کبھی قربانیوں کا سلسلہ بھی رکا؟

ہرگز نہیں۔۔۔سیکڑوں ہزاروں جوان ہر نئے دن کے ساتھ اس وطن عزیز کی سرحدوںکی اپنے لہو سے آبیاری کرتے ہیں۔ ایک لمحے کو بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے کہ ہم اپنے پیاروں کو گھر چھوڑ کر آئے ہیں۔ ان کی آنکھیں منتظر ہوں گی کہ وہ اپنا کام ختم کر کے واپس لوٹ رہا ہوگا۔یہ سب جوان پیسے اور مراتب کے لئے یہ راہ نہیں چنتے ان کا مقصد حیات کچھ اور ہوتا ہے۔بلکہ کہا جاتا ہے کہ فوج کی زندگی بالعموم متوسط طبقہ کے لوگ بخوشی جوائن کرتے ہیں۔ یہ تاثر بھی عام ہے کہ فوج میں نوکری سے جہاں طاقت اور رعب کا احساس ہوتا ہے وہیں خوشحال زندگی بھی میسر آتی ہے۔ چند روز قبل بلوچستان میں پانچ جوانوں کے ہمراہ شہادت پانے والے میجر ندیم عباس بھٹی شہید کو اگر خوشحال زندگی کا حصول مقصود ہوتا تو وہ اپنے سیاسی خاندان کی طرح سیاست کا حصہ بنتے۔ ان کے چچا مہدی حسن بھٹی متعدد بار ایم پی اے اور ایم این اے رہے۔ان کے والد محترم نذر عباس بھٹی بھی ایم پی اے رہے۔ دوسرے چچا لیاقت عباس بھٹی ایم این اے اور وفاقی وزیر رہے۔میجر ندیم نے جب فوج کی مشکل زندگی کو چنا تو سگے بھائی ضلع ناظم حافظ آباد تھے۔سگے چچا زاد  شوکت علی بھٹی پنجاب کے منسٹر تھے۔۔۔جو کہ اب بھی ایم این اے ہیں۔ 
 میجر ندیم عباس سچے سپاہی اور پاکستانی تھے۔انہوں نے مشکل زندگی،مشکل محاذ اور مشکل یونٹوں میں زندگی گزار کر وطن عزیز پر اپنی جان وار دی۔ 
میجر ندیم عباس میرے قریبی گائوں برج دارا سے ہیں۔ ان کے بھائی مبشر عباس بھٹی میرے دوستوں میں سے ہیں۔ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی اور خوشحال زندگی۔۔مگر میجر ندیم( شہید) کو یہ زندگی ایک نظر نہ بھائی۔۔ وہ ان تمام آسائشوں سے کنارہ کشی کرکے اپنی حقیقی زندگی کی طرف لوٹ گئے۔ روزے کی حالت میں وہ پاک ایران سرحد کے قریب بلوچستان لبریشن آرمی کی طرف سے بچھائی گئی IED کے سبب شہادت کا مرتبہ پا گئے۔ 
میجر ندیم عباس بھٹی اپنے پانچ ساتھیوں سمیت بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں دہشتگردی کے خلاف لڑی جانیوالی جنگ ,بلوچستان کے امن اور پاکستان کی بقا کے ضامن منصوبہ سی پیک، سرحد پر لگائے جانے والی باڑ اور  'وطن کی حفاظت کے لئے جہاں بھی جانے کا حکم ملا،والا عہد نبھا رہے تھے۔آپ اپنے گھر سے سترہ سو کلو میٹر دور روزے کی حالت میں جام شہادت نوش کر گئے- 
 آئی ایس پی آر کے مطابق فرنٹیئر کور(ایف سی)جنوبی کی گاڑی کو اس وقت دہشگردوں نے نشانہ بنایا جب وہ پاک ایران سرحد سے چودہ کلو میڑ دور بلیدہ سے پٹرولنگ کر کے واپس آرہی تھی۔میجر ندیم عباس( شہید) 126ونگ مکران سکائوٹ میں تعینات تھے اور بلوچستان میں دشمنان وطن کی طرف سے بچھائی گئی بارودی سرنگ کا نشانہ بن گئے-


شہید کے بیٹے یحییٰ اپنے باپ کی قبر پر جانے کے لئے اصرار کرتے ہیں۔ چھوٹے سے گائوں برج دارا کے اطراف اپنی سیکڑوں ایکڑ زمین کے وسط میں میجر ندیم عباس اپنے والد صاحب کے پہلو میں دفن ہیں۔ان کا بیٹا یحییٰ دن میں متعدد بار اپنے والد سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے، اصرار کرتا ہے،گھر کا کوئی فرد اسے لے کر میجر ندیم کی قبر پر جاتا ہے۔ یہ معصوم بچہ زمین پر بیٹھ جاتا ہے۔ والد سے باتیں کرتا ہے، سوال کرتا ہے،خواہشات دہراتا ہے، ان کے جلد واپس آنے پرمُصر ہوتا ہے۔ یقین مانیں بہت سے شہداء کے بچے اسی طرح جانے والوں کو پکارتے ہیں، ان کے لئے تڑپتے ہیں، ان کے واپس آنے کے لئے اصرار کرتے ہیں۔


میں غم میں ڈوبا،خاموش بیٹھا یہی سوچ رہا ہوں۔ تمام شہید ہونے والے جوانوں کی شہادت پر دل افسردہ بھی ہے۔مگر یہ امر قابل ِ فخر بھی ہے کہ اربوں روپے کی جائیدادیں،وسائل،سیاسی بیک گرا ئونڈ کے حامل یہ لوگ اگر ان چٹیل پہاڑوں اور ریگستانوں میں وطن کے دفاع کے لئے اپنے بازو وا کئے موت کو گلے لگاتے ہیں تو ان کی سب سے بڑی طاقت وطنیت اور قومیت ہے۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ یہ وطن صرف پاکستانیوں کا ہے۔ پاکستان کا ہر طبقہ اس کے امن اور سلامتی کی راہ میں اپنے بچے وار کر اس کا حقیقی وارث بنتا ہے۔ اس کے امن سے کھیلنے والوں کو ہر موڑ پر ایک نئی داستان شجاعت ملے گی۔ یہاں کسی سازشی ٹولے کی نہیں چلے گی۔  بھارتی و اسرائیلی فنڈز پر پلنے والوں کو میجر ندیم شہید جیسے جوان ہر پہاڑ،ہر ریگستان،جنگل بیابان میں ملیں گے۔ ان کا استقبال اپنے منفرد انداز میں کریں گے اوران کو رخصت اس سے بھی منفرد طریقے سے کریں گے۔ انہیں چن چن کر ان کے انجام کو پہنچائیں گے۔
میجر ندیم عباس شہید کی والدہ محترمہ کو جب ان کی شہادت کی بابت معلوم ہوا تو بہت دیر تک خاموش رہیں۔سیاسی خاندانوں کی خواتین کے لئے اچانک موت،سانحات،فائرنگ زندگی کا حصہ تصور ہوتی ہے۔ انہوں نے بہت سی اچانک رونما ہوتی خبریں سنی ہوتی ہیں۔مگر ندیم شہید ان کا لاڈلا تھا۔ وہ ہمیشہ اس کے لئے پریشان رہتی تھیں۔ وہ مشکل زندگی کا انتخاب کر چکا تھا،ضلع ناظم بیٹے،ایم این اے بھتیجوں کے مقابلے میں ندیم ہمیشہ ان کی سوچوں کا محور رہتا تھا۔ طویل خاموشی اور وقفے کے بعد والدہ کی زبان پر یہی الفاظ تھے۔ میرا ندیم میرا بہادر بیٹا تھا۔ مجھے اپنے شیر پر فخر ہے۔ مجھے بہادر بیٹے پر فخر ہے۔ 



مہدی حسن بھٹی،متعدد بار ایم این اے اور ایم اپی اے رہ چکے ہیں۔ سیاسی زندگی چار دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے میجر ندیم کی شہادت پر لکھا کہ
''وطن کی مٹی گواہ رہنا،میں نے چاند سا بیٹا قربان کیا ہے۔''
شہید کے بھائی مبشر عباس بھٹی جہاں اپنے بھائی کی شہادت پر افسردہ ہیں وہیں نازاں بھی ہیں۔ انہیں ہمیشہ فکر رہتی کہ ندیم کے پاس کسی چیز کی کمی نہ ہو۔ فوجی زندگی کی مشکلوں میں وہ ندیم شہید کے لئے متفکر ہوتے تو رابطہ کرتے۔ ہمیشہ یہی جواب ملتا،"اوہ بھائی جی فکر نہ کریا کرو"۔
وہ کبھی اپنی کسی مشکل کا اظہار ان سے نہیں کرتے تھے۔ اس مقصد کے لئے،اس اظہار کے لئے اپنے چچا مہدی حسن بھٹی کا سہارا لیتے۔ آج انہیں بیٹوں جیسے بھتیجے کے جانے کا دکھ ہے مگر اس کی بہادری اورملک و ملت کے وقار کے لئے دی گئی قربانی انمول ہے۔ 
شہید کے بیٹے یحییٰ اپنے باپ کی قبر پر جانے کے لئے اصرار کرتے ہیں۔ چھوٹے سے گائوں برج دارا کے اطراف اپنی سیکڑوں ایکڑ زمین کے وسط میں میجر ندیم عباس اپنے والد صاحب کے پہلو میں دفن ہیں۔ان کا بیٹا یحییٰ دن میں متعدد بار اپنے والد سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے، اصرار کرتا ہے،گھر کا کوئی فرد اسے لے کر میجر ندیم کی قبر پر جاتا ہے۔ یہ معصوم بچہ زمین پر بیٹھ جاتا ہے۔ والد سے باتیں کرتا ہے، سوال کرتا ہے،خواہشات دہراتا ہے، ان کے جلد واپس آنے پرمُصر ہوتا ہے۔ یقین مانیں بہت سے شہداء کے بچے اسی طرح جانے والوں کو پکارتے ہیں، ان کے لئے تڑپتے ہیں، ان کے واپس آنے کے لئے اصرار کرتے ہیں۔ جیسے یحییٰ تڑپتا ہے ویسے ہی تڑپتے ہیں۔ کبھی ان کی شرٹ کا تکیہ بنا کر اس پر کومبیٹ ڈریس کا نیم ٹیگ لگا کر اس سے لپٹ کر سوتے ہیں تو کبھی فادرز ڈے پر شہید والد کو تحائف و خطوط بھجواتے ہیں۔ جوان بیوائیں یوم والدین،رزلٹ ڈے ،پیرنٹ ٹیچرمیٹنگ  بچوں کی گریجویشن،سالگرہ،شادیاں اکیلے سرانجام دیتی ہیں تواس وقت ان کے آنسو کوئی نہیں دیکھ پاتا۔ کاش ان آنسوئوں کی زبان ہوتی تو سب کو معلوم ہوتا کہ جانے والوں کی کمی کیا معنی رکھتی ہے۔گزشتہ چند سالوں میں قریہ قریہ اور گائوں گائوں میں بنی نئی قبروں میں سوئے جوان اس ملک کے لئے اپنے لہو سے جبینِ وطن کو نکھار گئے۔ ان کے اہل خانہ کے حوصلوں کی رفعت کو سلام عقیدت

Read 136 times


TOP