ہمارے غازی وشہداء

شہداء کے قافلے کا ایک اورجانباز سپوت

سپاہی محمدعلی شہید تمغۂ بسالت کے حوالے سے سیدہ شاہدہ شاہ کی تحریر

12این ایل آئی (ناردرن لائٹ انفنٹری) کا سپاہی محمدعلی شہداء کے قافلے کا ایک جانباز سپوت تھا ۔ جہلم شہر سے راولپنڈی کی طرف آئیں تو دینہ سے چند کلومیٹر آگے بائیں جانب ڈومیلی موڑ آتا ہے ۔ اونچے اونچے سنگلاخ پہاڑوں سے گزرتی ہوئی بل کھاتی پختہ و نیم پختہ سڑک ڈومیلی کو جاتی ہے۔ ڈومیلی سے تقریباً پانچ چھ کلو میٹر کے فاصلے پر ''رسول پور'' نامی وہ گائوں ہے جہاں کے قبرستان میں سپاہی محمدعلی شہید تمغۂ بسالت منوں مٹی تلے ابدی نیند سو رہا ہے۔
سپاہی محمدعلی شہید21 اکتوبر1982 کو لیاقت علی جو پاکستان انجینئرکور سے نائب صوبیدار کے عہدے سے 1997 میں ریٹائر ہوئے تھے، کے گھر پیداہوا۔ سپاہی محمدعلی نے ڈومیلی ہائی سکول سے میٹرک کیا اور اپنے بچپن کے خوابوں کی تعبیر پانے کے لئے فوج میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا۔وہ پہلی دفعہ کسی وجہ سے پاکستان آرمی کا حصہ نہ بن سکا۔ مگر اُس نے ہمت نہ ہاری۔ چنانچہ دوسری بار حتیٰ کہ تیسری بار بھی ناکام ہوگیا، وہ انتہائی مایوس اور دل گرفتہ ہوچکا تھا۔ لیکن اس کی لگن میں کمی نہیں آئی اور وہ اپنی چوتھی کوشش میں کامیاب ہوگیا۔ فوج میں شمولیت پر مارے خوشی کے اس کے پائوں زمین پر نہیں ٹِکتے تھے ۔ گویا وہ ہوائوں میں اُڑ رہا تھا۔ سپاہی محمدعلی شہیدبچپن سے ہی انتہائی ملنسار ،نرم خو پیار کرنے والا اورانتہائی فرمانبردار تھا۔ پور ے گائوں والے اس کے نیک ہونے کی گواہی دیتے تھے۔ غصہ تو اُس کی طبیعت میں جیسے تھا ہی نہیں، اگر کوئی دوست، عزیز احباب یا رشتہ دارمذاق میں کہتے کہ یار تمہیں تو غصہ آتا ہی نہیں، تو وہ مسکرا کر جواب دیتا کہ میں نے اپنا سارا غصہ اپنے وطن کے دشمنوں کے لئے سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور جس دن ان سے مقابلہ ہوا اس دن میںاپنا غصہ اپنے وطن کے دشمنوں پر نکالوں گا۔
اس نے جب آرمی میں شمولیت اختیار کی تو تمام ملنے والوں کو اکثر یہ کہتا کہ میںنے آرمی میں شمولیت شہادت کے لئے ہی کی ہے۔ تم لوگ دیکھ لینا کہ میں ایک روزشہادت کا جام پیئے، سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا گائوں میں آئوں گا۔ میرا خون آلود جسم تابوت میں بند ہوگا اور میرے تابوت کو میرے فوجی جوان اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے بڑی شان و شوکت سے گائوں میں داخل ہوں گے۔
سپاہی محمدعلی شہید اپنی یونٹ کا مایہ ناز باکسرتھا۔آرمی کی ٹریننگ  نے اس کے جسم میں پھرتی اور چستی بھردی تھی۔ جنگی مشقوں کے دوران اپنے حریف، اپنے ہدف، پر برق کی طرح کوندتا لپکتا تھا۔ اس کے مضبوط اور توانا جسم اور اس کی طاقت سے اُس کے ساتھی بھی مرعوب تھے۔ مگر وہ اپنے ساتھیوں کے لئے انتہائی نرم مزاج تھا۔ وہ آخری بار26 فروری2019 کو تقریباً ایک ماہ کی چھٹی آیا تھا۔ اس ایک ماہ میں اُس نے اپنی ماں کی جی بھرکر خدمت کی۔ اُن سے ڈھیر ساری باتیں کیں۔ اپنے  بچپن کی، اپنے ساتھیوں کی، اپنے عسکری دوستوں کی ۔غرضیکہ دنیا جہان کی باتیں کیں۔ وہ ماں سے اکثر کہتا ''ماں تم مجھے حکم دو کہ میں تمہارے لئے کون سا کھانا اپنے ہاتھ سے تیار کرکے تمہیں کھلائوں۔'' شاید ندائے غیبی اس کے کانوں میں سرگوشیاں کررہی تھی کہ ماں کی جتنی خدمت کرنی ہے کرلو۔ ماں سے جتنی باتیں کرنی ہیں کرلو۔ اس کے بعد ماں تاقیامت تیرا چہرہ نہ دیکھ پائے گی اور زندگی کی آخری سانسوں تک تمہاری یاد میں آنسو بہاتی رہے گی۔ تمہاری باتیں، تمہاری خدمت اور تمہیں یاد کرکے تاعمر روتی رہے گی۔آخر میں ماں سے اپنی شہادت کی دعا کرنے کو کہا۔ چھٹی ختم ہونے کے بعد جب وہ واپس یونٹ رپورٹ کرنے کے لئے جارہا تھا تو گائوں کے لوگوں نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ      '' محمدعلی!  فصلوں کی کٹائی کا موسم ہے، جلد ہی فصلیں کٹنا شروع ہو جائیں گی۔ ایسے وقت میں تمہاری گندم کی فصل کون کاٹے گا۔'' تو محمدعلی نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا ''میںنے کونسا یہ گندم کھانی ہے جو میں اس کی کٹائی کی فکر کروں جنہوںنے کھانی ہے وہی اس کی کٹائی کرلیں گے۔،، پھر ہنستے ہوئے مزید کہا ''دراصل ہم فوجی لوگ ہیں۔ ہمارا دل کھیتوں سے زیادہ اب اپنے مورچوں میں لگتا ہے۔ یہ کھیت میں آپ کے حوالے کرکے جارہا ہوں، آپ ان کا خیال رکھیں۔ میری زمیں اب آپ کی حفاظت میں ہے۔میں اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے واپس فوج میں جا رہا ہوں اور واقعتا ایسا ہی ہوا۔ یہ اس شہید کی گائوں والوں کے ساتھ آخری گفتگو تھی۔ وہ ان زمینوں کی فصلوں کی کٹائی اور گندم کھانے تو نہ آیا، البتہ اس کا خون آلود جسم پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا ضرور گائوں آیا۔
سپاہی محمدعلی کی یونٹ ان دنوں''فاٹا' میںتعینات تھی اوران علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں بھرپور حصہ لے رہی تھی۔
سپاہی محمدعلی (شہید )26مارچ 2019 تک والدین کے ساتھ رابطے میں رہا۔ آخری رابطہ بنوں تک رہا۔ اس کے بعد سگنلز کی عدم موجودگی کی بناء پر اس کا رابطہ گھر والوں سے منقطع ہوگیا۔ یہ 30 اپریل2019 شام ساڑھے چھ بجے کا وقت تھا اس روز وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دہشت گردوں کی یلغار کو روکنے کے لئے جنوبی وزیرستان میں حفاظتی باڑ لگانے گیا۔ سپاہی محمد علی، اس کا ساتھی امداداﷲ جو لکی مروت کا رہنے والا تھا اور دیگر کچھ ساتھیوں کو وہاں' حفاظتی کور' دینے کے لئے مختلف چوکیوں پر چھوڑ دیا گیا۔ تاکہ باڑ لگانے والوں پر دہشت گرد بے خبری میں حملہ نہ کردیں، باقی ساتھی باڑ لگانے میں مصروف ہوگئے ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ سیکڑوں کی تعداد میں مسلح دہشت گرد اپنی پناہ گاہوں سے نکلے اور حملہ کردیا۔ سپاہی محمدعلی اور امداداﷲ دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دہشت گردوں کے راستے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے اور دہشت گردوں پر جوابی فائرنگ شروع کردی۔ کئی گھنٹوں تک یہ مقابلہ جاری رہا۔ کئی دہشت گرد وہیں پر ہلاک ہوگئے ۔ کافی تعداد میں زخمی بھی ہوگئے اور باقی ماندہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس معرکے میں سپاہی محمدعلی اور امداداﷲلڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ جب کہ ان کا ساتھی شدید زخمی ہوا، جسے پشاور سی ایم ایچ لے جایاگیا۔ مگر وہ بھی جانبر نہ ہوسکا اور شہادت کے اس راستے پر چل پڑا جہاں اس کے ساتھی پہلے جا چکے تھے۔ سپاہی محمدعلی کی یونٹ کے ساتھیوں نے بتایا کہ اگر سپاہی محمدعلی اور امداداﷲ دہشت گردوں کا حملہ نہ روکتے تو انہوں نے باڑ لگانے والے تمام فوجیوں کو گھیرے میں لے لینا تھا۔ حکومتِ پاکستان نے سپاہی محمدعلی (شہید) کی اس بہادری اور جرأت کے اعتراف میں اُسے تمغۂ بسالت سے نواز ا ہے۔
سپاہی محمدعلی30 اپریل 2019 کوشہید ہوا۔ یکم مئی 2019 کو اس کے گھراس کی شہادت کی اطلاع دی گئی اور 4 مئی 2019 کو شہید کا تابوت گائوں لایاگیا۔ یوں اس کی یہ آخری پیش گوئی پوری ہوگئی کہ ''اس کا جسدِ خاکی سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا گائوں واپس آئے گا اور باوردی فوجی جوان اس کے تابوت کو کندھوں پر اٹھائے ہوں گے۔''
سپاہی محمد علی شہید کا پورا خاندان نسل در نسل پاکستان آرمی میں اپنے عسکری فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ اس کے والد نائب صوبیدار لیاقت علی انجینئر زکور میں تیس سال خدمات انجام دینے کے بعد1997 میں ریٹائرڈہوئے  اور کئی مشکل ترین عسکری مہمات سرانجام دینے کے اعتراف میں چیف آف آرمی سٹاف سے تعریفی سند وصول کی۔ سپاہی محمدعلی شہید کے دوبھائی افتخار احمد اور قاسم علی حاضر سروس ہیں اور عسکری خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

Read 43 times


TOP