شعر و ادب

جس خواب کی تعبیر کو ہم دیکھ رہے ہیں

( کشمیر کی موجودہ صوتِ حال پر ایک نظم)
 
اک ٹوٹتی زنجیر کو ہم دیکھ رہے ہیں
''آزادیِ کشمیر کو ہم دیکھ رہے ہیں''
اِک خوبیٔ تدبیر کو ہم دیکھ رہے ہیں
بنتی ہوئی تقدیر کو ہم دیکھ رہے ہیں
دنیا کی نگاہوں پہ بھی ہو جائے گی روشن
جس خواب کی تعبیر کو ہم دیکھ رہے ہیں
لگتا ہے، کسی لمحہ بھی ہے ٹوٹنے والا
جس حلقۂ زنجیر کو ہم دیکھ رہے ہیں
اے کاش، کہ دُنیا کی نگاہوں میں بھی آئے
جس جبر کی تصویر کو ہم دیکھ رہے ہیں
اب رُک نہیں پائے گا یہ بپھرا ہوا جذبہ
اِک سَیلِ ہمہ گیر کو ہم دیکھ رہے ہیں
ہونی ہے اب اِس جنّتِ ارضی کی بحالی
اب جذبۂ تعمیر کو ہم دیکھ رہے ہیں
رُک سکتی نہیں اب یہ کہیں فتحِ مبیں تک 
اُٹھی ہوئی شمشیر کو ہم دیکھ رہے ہیں
لائے گا جو آزادیِ کشمیر کا مژدہ
اُس لمحۂ تسخیر کوہم دیکھ رہے ہیں
ممکن ہے، ابھی آپ اُسے دیکھ نہ پائیں
آتی ہوئی تنویر کو ہم دیکھ رہے ہیں
یہ وادیِ کشمیر تو  شہ رگ ہے ہماری !
افلاک  کی  تحریر  کو  ہم دیکھ رہے ہیں

 

Read 26 times


TOP