شعر و ادب

غزل

برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو
آج ایسا لگا یہیں کہیں ہو
محسوس ہوا کہ بات کی ہے
اور بات بھی وہ جو دلنشیں ہو
اِمکان ہوا کہ وہم تھا سب
اظہار ہوا کہ تم یقیں ہو
اندازہ ہوا کہ رہ وہی ہے
اُمید بڑھی کہ تم وہیں ہو
اب تک مرے نام سے ہے نسبت
اب تک مِرے شہر کے مکیں ہو
(زہرا نگاہ کی تصنیف 'شام کا پہلا تارا'سے )
 

Read 37 times


TOP