متفرقات

کرونا کے ساتھ ساتھ سفر اورزندگی

قارئینِ محترم، آداب! مارچ سے لے کر اب تک ہم سب ایک عجیب دور سے گزر رہے ہیں، معلوم ہوتاہے کہ گویا کرونا وبا کی موجوں کے تلاطم نے ہم سب کی زندگی کی نائو کو ایسے منجدھار میں پھنسا رکھا ہے کہ جہاں سے ہم ہچکولے تو کھا رہے ہیں مگر باہر نہیں نکل پا رہے یا روزانہ صبح اُٹھ کر اخبار پڑھیں یا موبائل چیک کریں تو کسی نہ کسی کے کرونا میں مبتلا ہونے کی خبر ملتی ہے۔ سیاستدان، وزیر مشیر، فنکار، ہر خاص و عام اب اس وبا میں مبتلا ہوتا جارہا ہے اور ہمارا ذہنی دبائو گویا بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اﷲ جانے یہ طوفان کب تھمے گا؟ کب اس موذی مرض سے ہماری جان چھوٹے گی؟ سال 2020 جب شروع ہوا تو چین میں اس وبا کے پھیلنے کی خبر ملی، ایمرجنسی میں قائم ہسپتال، لوگوں کا بیمار پڑنا، چمگادڑ اور سانپ کھانے سے  اس مرض میں مبتلا ہونا اور ماسک دستانوں کی اہمیت وغیرہ اس قسم کی خبریں ملیں۔ کچھ منچلوں نے اس حوالے سے لطائف بنا کے فیس بک پہ پوسٹ کرنے شروع کردئیے۔ بعض حضرات نے مذہبی خیالات کا اظہار کیا کہ حرام کھانے سے یہ وائرس لگتا ہے مختلف تصاویر مختلف کیپشنز کے ساتھ سوشل میڈیا پر لگیں۔ اُس وقت تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ وائرس صرف چین تک ہی محدود نہیں رہے گا۔
ہمیں یاد ہے اُن دنوں خوب پروگرام ہورہے تھے۔ فروری اور مارچ میں موسم خوشگوار ہوتا ہے لہٰذا کراچی میں بہت رونق تھی۔ کراچی لٹریچر فیسٹیول ہوا، پھر خواتین کا عالمی دن آیا تو ویمن کانفرنس ہوئی، شہر میں PSL کے میچز بھی ہورہے تھے اور ان سب سرگرمیوں کے بیچ کرونا وبا کا مذاق بھی چل رہا تھا۔ پھر ایک دن اچانک میڈیا پہ خبر آئی کہ تفتان کے ذریعے وطن واپس آنے والوں میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ زائرین کو قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت دی گئی، اس بات کو دو دن نہ گزرے تھے کہ اچانک سب کچھ تبدیل ہوگیا۔ PSL کے میچز میں شائقین کی آمد کو روک دیا گیا، لوگوں کو بھیڑ بھاڑ میں جانے سے منع کردیا گیا۔ ہم نے چونکہ واپس کینیڈا جانا تھا تو فوراً ٹریول ایجنٹ سے رابطہ کیا، ٹریول ایجنٹ نے بتایا اس وقت ٹکٹ مہنگی ہے ذرا رک کر جائیں، ہم نے دو دن انتظار کیااور اس وقت جو فلائٹ ملی ہم نے سیٹ بک کروالی کیونکہ ہمیں خدشہ تھا کہ کہیں ہم پھنس نہ جائیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہمارا خدشہ درست تھا، تمام ایئرپورٹس ملکی اور غیر ملکی پروازوں کے لئے بند ہوگئے، شہر میں مکمل لاک ڈائون ہوگیا اور کاروبارِ حیات منجمد ہوگیا۔ سب کچھ اتنا جلدی اور آناً فاناً ہوا کہ ہم بس دہل کر رہ گئے۔ کراچی سے ونکوور تک ہمارا سفر کیسا رہا، کینیڈا آنے کے بعد ہم پہ کیا بیتی، یہ سب ہم آپ کو ضرور بتائیں گے کیونکہ یہ ہماری زندگی کا عجیب و غریب سفر تھا۔
پہلی بات تو یہ کہ یہ کراچی سے براستہ استنبول ، کینیڈا جانے والی آخری فلائٹ تھی اور اس کے بعد فضائی کمپنی نے فضائی آپریشن معطل کردیا۔ سبھی مسافروں نے ماسک اور دستانے پہنے تھے اور سبھی کو جلد از جلد منزل پر پہنچنے کی تمنا تھی۔ استنبول  پہ ہمارا  پانچ گھنٹے کا مختصر قیام تھا جہاں سکرین پہ تمام فلائٹس کا اسٹیٹس  ''کینسل ''  لکھا ہوا نظر آرہا تھا ہمیں ڈر تھا کہ کہیں خدانخواستہ ہم ایئر پورٹ پہ ہی نہ پھنسے رہ جائیں کیونکہ کینیڈا نے بھی اپنے بارڈرز غیر ملکیوں کے لئے بند کردیئے تھے۔ امریکا کا بھی یہی حال تھا۔ مسافر پریشان اِدھر اُدھر پھر رہے تھے۔ شکر ہے ہمیں وقت سے پرواز مل گئی اور ہم ٹورنٹو سے ہوتے ہوئے ونکوور پہنچ گئے۔
ٹورنٹو سے ونکوور  یاسیت سے بھرپور سفر تھا کیونکہ ایئر لائن اپنے ملازمین کو برخاست کرنے والی تھی۔ فلائیٹ آپریشن بند ہو رہا تھا۔ سب لوگ سہمے سہمے تھے۔ ونکوور ایئر پورٹ پہ اُترے تو ایسی ویرانی اور وحشت تھی کہ دل بند ہونے لگا۔ ٹرین اسٹیشن بند تھا، مسافروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ باہر ٹیکسی سٹینڈ بھی خالی تھا، دور کہیں ایک ٹیکسی کھڑی تھی جس میں سوار ہو کر ہم گھر پہنچے۔ راستے میں ٹیکسی ڈرائیور نے بتلایا کہ تمام سکول ، کالج اور تعلیمی ادارے، شاپنگ مال، ہوٹل ریسٹوران ، کافی شاپس، بار سب بند ہیں۔ ہمارا جی بیٹھ گیا ہمیں بھوک بھی لگ رہی تھی کہیں سے کچھ میسر نہ تھا۔ جہاز میں ملنے والا سینڈوچ حلال نہیں تھا لہٰذا ہم نے کچھ نہیں کھایا تھا۔
برفباری ، ٹھنڈ، بھوک ، کرونا وبا کا خوف، شہر کی ویرانی اور رات کی تاریکی کے باعث ہم روہانسے ہوگئے۔ گھر پہنچے تو سب سے پہلے غسل خانے میں گھس گئے، شاور لیا، پھر کچن چیک کیا کہ کچھ کھانے کو مل جائے، سب کچھ ہم خود صاف کرکے گئے تھے لہٰذا کچھ نہ تھا۔ تاہم چائے ضرور بنالی اور صبح کا انتظار کرنے لگے۔
 اگلے دن کی صبح ہمارے لئے نئے چیلنجز لائی، ہمیں 14 دن قرنطینہ میں رہنا تھا کیونکہ ہم بیرون ملک سے سفر کرکے لوٹے تھے اور یہاں کے قانون کے مطابق ایسا کرنا لازمی تھا۔ خلاف ورزی کرنے والے پر جرمانہ یا قید یا دونوں ہوسکتا تھا۔
قرنطینہ کے 14 دن ہم نے کیسے گزارے، ہم ہی جانتے ہیں اس کے بعد ہم نے اطراف کا جائزہ لینا شروع کیا، باہر نکلے تو معلوم ہوا کہ صرف گروسری سٹور یا شدید ضرورت کی اشیاء کی دکانیں کھلی ہیں، سب کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ہیں، ماسک، دستانے، سماجی فاصلہ، سینی ٹائزر کا استعمال لازمی ہے۔
کوئی کسی کے گھر نہیں وزٹ کرسکتا، سینما، تھیٹر، پارک، سٹیڈیم سب بند ہیں۔ وزیراعظم جسن ٹروڈو نے سب کو گھروں پر رہنے کی ہدایت کی اور حکومت کی طرف سے لوگوں کے لئے مالی امداد کا اعلان کیا۔ حکومت کے اعلانات اور اقدامات نے لوگوں کو اعتماد بخشنا شروع کیا اور تین مہینے میں صورت حال بہتر ہونی شروع ہوگئی جو لوگ بے روزگار ہوگئے تھے یا جن کے کاروبار بند ہوگئے تھے انہیں حکومت نے سہارا دیا اور یوں جون کے آغاز تک کافی حد تک اس وبا پہ قابو پا لیا گیا۔ لوگوں نے قانون کی پاسداری کی، گھروں سے باہر غیر ضروری طور پر نہ نکلے، رمضان، عید، ایسٹر گھروں پہ رہ کے ہی منایا، بار بار صابن سے ہاتھ دھوتے رہے اور یوں سب نے مل کر کرونا کا مقابلہ اس بہادری سے کیا کہ اب شاپنگ مال کھل گئے ہیں، آہستہ آہستہ دکانیں، جم، سیلون کھل رہے ہیں، ایک دم سے سب کچھ کھولنے کے بجائے حکومت بتدریج آہستہ آہستہ سختی کم کررہی ہے۔ امید ہے اِن شا ء اﷲ ستمبر تک صورت حال بہت بہتر ہوجائے گی۔
نیوزی لینڈ میں تو اس وقت جشن کی کیفیت ہے، وہاں اس وبا پر قابو پالیا گیا ہے، کینیڈا میں بھی حالات امید افزا ہیں۔ بس ہمیں وطن عزیز کی فکر ہے جہاں پر روزانہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ معروف گلوکار ابرار الحق اس وبا کا شکار ہوئے۔ پھر خبر ملی کراچی کے فنکار اور نوجوان گلوکار نعمان خان کو کرونا ہوگیا۔ ہماری بہت ہی پیاری فنکارہ روبینہ اشرف اور سکینہ سموںکا بھی ٹیسٹ پازیٹو آیا۔ ان سب خبروں سے دل گرفتگی ہوتی ہے۔ شمع ڈرامے کی ہیروئن غزالہ کیفی کے بھی علیل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اﷲ سب کو صحت دے۔ بہت کٹھن وقت ہے، کراچی لٹریچر فیسٹیول اور ادب فیسٹیول کے روح رواں آصف فرخی اچانک انتقال کر گئے، پھر خبر ملی کہ ''ہوا ہوا'' گانے سے شہرت پانے والے گلوکار حسن جہانگیر کی والدہ چل بسیں۔ طلعت حسین جو نامور صداکار اور اداکار  ہیں اُن کے داماد حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے۔ ٹیلی وژن فنکار سہیل اصغر بھی ہسپتال میں داخل ہیں ان کی حال ہی میں سرجری ہوئی ہے۔
 ہر طرف سے ایسی ہی اطلاعات ہیں، کہیں سے کوئی خوشگوار بات سننے کو نہیں ملتی۔ بہت سے پاکستانی فنکار جو بیرون ملک شوٹنگ کے لئے گئے تھے وہ بھی پریشان ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپیل کی کہ انہیں وطن واپس لایا جائے۔ وہ سب فلائٹس بند ہونے کے سبب بیرون ملک پھنس گئے تھے۔ خصوصی پروازوں کے ذریعے انہیں اب وطن واپس لایا گیا ہے، شکر ہے۔
کرونا کی وبا کیسے پھیلی؟ اس حوالے سے احباب مختلف تھیوریاں پیش کررہے ہیں، اس کے علاج کے لئے بھی مختلف دیسی ٹوٹکے اور نسخے پیش کئے جارہے ہیں۔ وضائف اور دعائیں بھی حضرات شیئر کررہے ہیں، سبھی حسبِ توفیق کچھ نہ کچھ بتلا رہے ہیں مگر صد افسوس کوئی اس وبا سے بچنے کے لئے احتیاط کرنے پر تیار نہیں کوئی اسے قہر خداوندی گردان رہا ہے تو کوئی اسے غیر ملکی سازش قرار دے رہا ہے مگر بچائو کے طریقوں پر عمل درآمد کرنے کو تیار نہیں۔ بعض لوگ تو سرے سے اس کرونا کے ہی انکاری ہیں کہ کوئی کرونا نہیں۔
جن لوگوں نے کرونا کو سنجیدگی سے لیا اور احتیاط کی اب وہاں صورت حال کنٹرول میں ہے، جنہوں نے پرواہ نہیں کی وہاں مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں جگہ نہیں، پرائیویٹ ہسپتال جانا ہر کسی کی حیثیت میں نہیں۔ پرائیویٹ ہسپتال میں آج کل کرونا کا سیزن چل رہا ہے۔ جیسے مری یا دیگر تفریح والی جگہوں پہ مئی، جون، جولائی اور اگست سیاحوں کا سیزن ہوتا ہے۔ سیزن میں ہر چیز منہ مانگے داموں فروخت ہوتی ہے  کیونکہ سیزن میں ہی لوگ آتے ہیں اور کاروبار ہوتا ہے۔ علاج کو کاروبار  بنانے کا دھندہ آج کل عروج پر ہے۔ ہم خود ڈاکٹر ہیں اس لئے تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔ ہسپتالوں میں یقیناً کامیاب، ماہر اور بہترین ڈاکٹرز ہی کام کرتے ہیں۔ وہاں سٹو ڈنٹس کو سکھایابھی جاتا ہے مریضوں کا علاج بھی توجہ سے کیا جاتا ہے، وہاں چونکہ فیس اور رقم کا لالچ نہیں ہوتا لہٰذا صرف مریض پہ ہی توجہ دی جاتی ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ سہولیات کا فقدان اور وسائل کی کمی ہوتی ہے مگر یہ جو پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھاری بھر کم فیس ہے وہ عام آدمی کے لئے سوہانِ روح ہے۔ اﷲ کسی کو بیمار نہ کرے۔ہماری تو یہی دعا ہے ۔ کرونا سے متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے، اس سے سبھی کو خطرہ ہے، جو لوگ پہلے ہی کمزور یا بیمار ہیں ان کے لئے یہ وائرس زیادہ مہلک ہے۔ بچہ ، بڑا ، مرد ، عورت، ضعیف ، جوان کوئی اس سے نہ بچ سکا۔ اس وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے سب کو احتیاط کرنی ہوگی۔ ہم سوچتے ہیں جن لوگوں نے عید کے لئے بازاروں میں رش لگا کر شاپنگ کی وہ عید کے دن سج دھج کے کہاں کس سے ملنے گئے ہوں گے؟  ایسے حالات میں جب جان پر بنی ہو کون کس کے گھر ملاقات کے لئے گیا ہوگا؟  کاش ہمیں یہ بات سمجھ آجائے کہ جان ہے تو جہان ہے پیارے۔ زندہ رہے تو اگلے تہوار پہ شاپنگ ہوجائے گی ۔ ان شاء اﷲ ! مگر خدانخواستہ کرونا میں مبتلا ہوگئے تو کیا ہوگا۔ یہ تو وہ  مہلک وبا ہے کہ مریض آخری ایام میں اپنوں سے دور سسک سسک کر مرجاتا ہے اور کوئی اس کے سرہانے نہیں ہوتا۔
 بے شک موت برحق ہے مگر جانتے بوجھتے موت کو دعوت دینا یعنی خودکشی کرنا حرام ہے۔ ہم سب کے مذہبی اور سیاسی نظریات کا احترام کرتے ہیں، سب کے عقائد کا بھی احترام کرتے ہیں، لیکن ہم اس بات کی کبھی تائید نہیں کریں گے کہ اپنے آپ کو جان بوجھ کر ہلاکت میں ڈالا جائے۔ 
 دوستو! زندگی بہت خوبصورت چیز ہے، آپ کا خاندان، آپ کے گھر والے، آپ کے اپنے دوست عزیز و اقارب سب بہت پیارے ہیں اور بلاشبہ خود آپ بھی اپنوں کے لئے قیمتی ہیں، اس نعمت کی قدر کیجئے، احتیاط برتیں۔
 کہتے ہیں وقت کیسا ہی کیوں نہ ہو گزر ہی جاتا ہے یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ اپنا، اپنے گھر والوں کا خیال رکھیں۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہر مریض کو شفا ملے اور جلد از جلد دنیا کو اس وبا سے نجات ملے۔ آمین ثم آمین۔


مضمون نگار:  مشہور ادا کارہ' کمپیئر اور مصنفہ ہیں۔
[email protected]
 

Read 55 times


TOP