متفرقات

سویٹزر لینڈ آف ایشیا

ملے جس وقت تم مجھ کو یہ پوچھا میں نے یزداں سے
ہمیں جنت میں بھیجا ہے،کہ جنت سے نکالا ہے؟

خوشحال خان خٹک نے کہا تھا کہ سوات وہ وادی ہے جو لوگوں کے دلوں کو خوشی سے بھر دیتی ہے،اور یقین مانیئے یہ بات صد فیصد درست ہے۔دنیا سوات کو ایشیا کا سویٹزرلینڈ کہتی ہے لیکن جب پولینڈ کی سیاح ایوا زو بیک سوات جاتی ہے تو وہ اس حسنِ کرشمہ ساز کو دیکھ کربے اختیار کہہ اٹھتی ہے کہ سویٹزرلینڈ یورپ کا سوات ہے!



ایک وقت تھا۔ یہی کوئی چند سال پہلے کا، کہ سوات کا نام لینا شجرِ ممنوعہ ہوتا تھا۔سوات کا نام لیتے ہی جو پہلی بات سننے کو ملتی وہ یہی ہوتی کہ سوات تو فوج کا ہے۔۔۔ایک عجیب سا تاثر تھا کہ شاید دہشت گردوں سے سوات آزاد کروانے کے بعد بھی وہاں کے گلی کوچوں میں ہمہ وقت فوج ہی فوج ہو گی اور ہم بھی یہی سمجھتے اگر ہم خود جا کر نہ دیکھتے، اور جتنی قربانیاں فوج نے سوات کے لئے دی ہیں سوات واقعی فوج کا ہے،اور اس بات کی گواہی آپ کو سوات کا امن دے گا۔سوات کے لوگوں کے چہروں پہ پھیلی بے فکر مسکان دے گی۔۔۔ سوات کے گلی کوچوں میں آپ کو شاید ایک بھی فوجی نظر نہ آئے لیکن سواتیوں کے دلوں اور دعائوں میں آپ کو فوج ہی فوج ملے گی۔۔۔محبت فاتحِ عالم!
شہرِاقتدار اسلام آباد سے اگر آپ ''منہ ول شمال مشرق کر کے'' سفر پہ نکلیں توبراستہ موٹروے کلومیٹرز کی قریبا ڈھائی سینچریاں طے کر کے  آپ پانچ ہزار تین سو سینتیس کلو میٹر کے طول و عرض پہ محیط جنت میں ہوں گے۔۔۔سویٹزرلینڈ آف ایشیا۔۔۔جنت ِارضی۔۔۔سوات!
سوات کا حسن تو بے مثال ہے ہی لیکن اس کی تاریخی اور مذہبی حیثیت بھی کافی ضخیم ہے۔۔۔یہودی مذہب میں لفظ سوات کا مطلب ہے، جنت۔سوات کا اولین تذکرہ رگ وید میں ملتا ہے۔ہندو دھرم کے مطابق ان کے پیشوا رام چندر جی نے اپنی چودہ سالہ جلا وطنی اسی جنت میں کاٹی تھی،بدھ متوں کے لئے یہ ویٹی کن سٹی ہے۔بدھ مت کے بانی مہاتما گوتم بدھ نے اپنی زندگی کا کچھ حصہ یہاں گزارا،اس کا اندازہ فقط اس بات سے ہی کر لیجئے کہ صرف دریائے سوات کے کنارے بدھ مت کی چودہ سو خانقاہیں آباد ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ سنہ تین سو ستائیس قبل مسیح میں سکندر اعظم بھی براستہ کابل سوات آیا تھا۔۔۔ پھرقریبا ایک ہزار سال قبل بت شکن محمود غزنوی نے سوات کو فتح کیا اور ان کی تعمیر کردہ غزنوی مسجد آج بھی پوری شان سے اوڈیگرام میں موجود ہے۔
ایک وقت تھا کہ سوات جانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ۔۔۔سڑکیں نہ دارد۔گاڑیوں کی قلت،وسائل نا پید،غرض مشکل ہی مشکل۔لیکن چند دیوانے جان ہتھیلی پہ رکھ کے پھر بھی پہنچ ہی جاتے تھے۔۔۔ پھر وقت بدلا اور دنیا بھر سے سیاحت کے دلدادہ مشکلوں کو بھلائے جوق در جوق اس جنت میں اترنے لگے۔۔۔لیکن وقت کہاں ایک سا رہتا ہے اور وقت نے پھر پلٹا کھایا اور اس جنت میں شر پسند عناصر آن پہنچے اور سیاحت کی روشن صبح کو دہشت گردی کی سیاہ رات نے نگل لیا۔۔۔لیکن بقول فیض احمد فیض،'' لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔۔۔''اور پھر بالآخر یہ شام بھی اپنے انجام کو پہنچی اور پاکستان اور افواجِ پاکستان کی بے پناہ کاوشوں اور قربانیوں سے اس جنتِ ارضی میں پھر سے امن کا سورج طلوع ہوا، سیاحت کی روشن صبح پھر سے ہویدا ہوئی۔۔۔اور گزرتے وقت نے سوات کو شہرِ اقتدار اور قرب و جوار میں بسنے والوں کے لئے دوسرا مری بنا دیا۔اب آپ سکون سے مارگلہ کے دامن سے صبح سویرے نکلیں اور موٹروے سے براستہ زلم کوٹ ٹوئن ٹیوب ٹنل سوات جنت کے مزے لوٹ کر رات کو واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئیں ۔لیکن اگر آپ جنت کا بھرپور حسن دیکھنا چاہتے ہیں تو چند دن قیام کر کے دیکھئے! 
صبح سویرے اسلام آباد سے نکلئے عزت سے عزت چوک پہ اپنی شناخت کروائیے اور ناشتہ چکدرہ میں کیجئے۔یہاں آپ کے پاس دو راستے ہیں۔پہلا یہ کہ اگر ممکن ہو تو چکدرہ میں کچھ وقت گزارئیے وہاں کا حسن دیکھئے۔چکدرہ دریائے سوات کے کنارے آباد ہے۔اگر تو آپ کو تاریخ سے دلچسپی ہے تو پھر آپ کے ذوق کی تسکین کے لئے یہاں کافی کچھ موجود ہے۔
چکدرہ قلعہ یہاں کی شان مانا جاتا ہے۔یہ سنہ پندرہ سو چھیاسی میں مغلیہ دور حکومت میں پہلی بار تعمیر ہوا تھا تا ہم سنہ اٹھارہ سو پچانوے میں انگریزوں نے اس پہ قبضہ کر لیا۔بعد ازاں سنہ اٹھارہ سو چھیانوے میں اسے از سر نو تعمیر کیا گیا جو ہنوز قائم ہے۔
چکدرہ میوزیم دریائے سوات پر بنائے گئے پل سے تین کلومیٹر کی مسافت پہ سڑک کنارے واقع ہے۔اس میں مہاتما گوتم بدھ کی پوری زندگی کی کہانی مجسموں کی شکل میں موجود ہے اور کچھ ہندو مت اور علاقائی نوادرات بھی ہیں۔
تبرکاتِ اوچ شریف دراصل ایک ذاتی عجائب گھر ہے جوچکدرہ کے اوچ نامی قصبہ میں صاجزادگان خاندان کی ملکیت ہے۔اس میں رسول اللہۖ، صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اور بزرگان دین سے منسوب نوادرات رکھے گئے ہیں۔
اگر آپ چکدرہ میں رکنا نہ چاہیں تو سیدھا فضہ گٹ چلے جایئے۔وہاں کی خوبصورتیاں دیکھئے اور مناسب سمجھیں تو رات وہاں رک کے دیکھئے۔پھر مالم جبہ چلے جایئے۔برف پوش پربتوں کے نظارے کیجئے۔چیئر لفٹ ، زپ لائین،سکیئنگ، سکیٹنگ، برف وغیرہ سے لطف اندوز ہوئیے اوراگر جیب اجازت دے تو وہیں رات رک کر شب کے نظارے دیکھیئے وگرنہ اک بھرپور دن وہاں گزار کے ڈوبتے سورج کے نظارے آنکھوں میں سموئے شب بسری کے لئے واپس فضہ گٹ آ جائیے۔ سوات میں آپ کو ہر بجٹ کا ہوٹل بآسانی مل جائے گا۔پبلک ٹرانسپورٹ، ٹیکسی، گائیڈ سب دستیاب ہوتا ہے۔بس وقت آپ نے خود نکالنا ہے وہاں جانے کا۔کوشش کیجئے کہ چند دن وہاں ٹھہر کے وہاں کی مقامی ٹرانسپورٹ پہ سفر کیجئے مقامی لوگوں سے ملئے وہ بہت محبت کرنے والے لوگ ہیں آپ کو ان چند دنوں میں شہری زندگی کی تمام پریشانیاں بھول جائیں گی۔
منگورہ سوات کا مرکز ہے وہاں سے آپ کو ہر طرف کی گاڑی بآسانی مل جائے گی۔سیدو شریف میں پی ٹی ڈی سی کا ہوٹل بھی ہے وہاں رہائش رکھئے اور سوات میوزیم میں بدھ مت کے آثار قدیمہ دیکھنے چل پڑئیے۔
گبینہ جبہ ایک انتہائی پر فضا اور تقریبا ڈبہ پیک مقام ہے، کوشش کیجئے وہاں ضرور جائیں۔یہ پہاڑ کی چوٹی پہ سارا سال برف سے ڈھکا رہنے والا میدانی علاقہ ہے۔اس لئے یہاں جاتے وقت گرم کپڑے اور کھانے پینے کا سامان اور مقامی گائیڈ ساتھ لے جانا مت بھولیں۔
سیدو شریف سے پندرہ کلومیٹر کی مسافت پہ سفید محل واقع ہے اور نشاط چوک سے آپ کو ویگن مل جائے گی جو بآسانی آپ کو سفید محل مرغزار لے جائے گی۔جہاں ایک شاندار محل، خوبصورت باغات، ناچتے مور، چہچہاتے پرندے اور بہتے جھرنے آپ کے منتظر ہوں گے۔
لیکن اگر آپ تاریخ کے دلدادہ ہیں تو مینگورہ شہر سے چند کلومیٹرز کی مسافت پہ اوڈیگرام کا علاقہ ہے جہاں محمود غزنوی کی افواج نے جے پال کے گورنر راجہ گیرا کو شکست فاش دی۔یہیں پہ شمالی پاکستان کی سب سے قدیم مسجد۔اوڈیگرام مسجد۔واقع ہے جسے چار سو چالیس ہجری میں سلطان محمود غزنوی نے تعمیر کروایا تھا۔جو فن تعمیر کا اک شاہکار ہے۔اسے اٹلی کے ماہرین آثار قدیمہ نے دریافت کیا تھا اور آج بھی یہ بہترین حالت میں موجود ہے۔بعد ازاں پاک فوج کی زیر نگرانی تقریباً ایک ہزار سال بعد اس مسجد میں نمازِ عصر ادا کی گئی جس کے بعد سے اللہ کا یہ تاریخی گھر عبادت کے لئے کھلا ہوا ہے اور اگر آپ کوہ پیمائی کے شوقین ہیں تو مسجد کے ساتھ ہی بلند پہاڑ کی چوٹی پہ راجہ گیرا کا قلعہ اور محل کے آثار ات موجود ہیں جنہیں اوڈیگرام قلعہ و محل کے نام سے جانا جاتا ہے۔
آپ چاہیں تو فضہ گٹ پہنچتے ہی سیدھا مالم جبہ چل پڑھیں۔منگورہ شہر سے کلومیٹرز کی ففٹی پہ سطح سمندر سے قریبا نو ہزار فٹ کی بلندی پہ واقع یہ مقام انتہائی خوبصورت تفریحی مقام ہے۔یہ جگہ بلندی پہ ہونے کے سبب سارا سال برف سے ڈھکی رہتی ہے۔اسی لئے برفیلے کھیل یہاں کی پہچان ہیں۔ہر سال فروری کے مہینے میں یہاں سکیئنگ کا بین الاقوامی مقابلہ بھی ہوتا ہے۔آسٹریا کے تعاون سے یہاں چیئر لفٹ بھی لگائی گئی ہے اور اگر آپ رومان پسند ہیں تو اس چیئر لفٹ پہ گزرا ایک ایک لمحہ آپ کی زندگی کا حسین ترین لمحہ ہوتا ہے اور ایسے میں اگراچانک سے ہلکی ہلکی برفباری شروع ہو جائے تو حسن مجسم ہو جاتا ہے۔اور اگر آپ ایڈونچرکے دلدادہ ہیں تو یہاں زپ لائن کی سہولت بھی موجود ہے۔



اب آپ صبح سویرے اٹھئے سامان اٹھائیے اور کالام کی جانب چل پڑئیے۔اگر تو آپ ناشتہ جلدی کرنے کے عادی ہیں تو ناشتہ کر کے نکلیں ورنہ راستے میں مدین یا بحرین بازار سے کر لیجئے۔بحرین بازار ایک روایتی مگر قدیم و جدید کا مکسچر بازار ہے وہاں سے آپ کو سواتی ہینڈی کرافٹس بآسانی مل جائیں گی۔کچھ دیر اس بازار میں چہل قدمی کیجئے۔اپنے اور اپنے پیاروں کے لئے تحائف خریدئیے اور پھر سے تازہ دم ہو کر کالام کی جانب چل پڑئیے۔
سوات اگر جنت ہے تو یقین کر لیجئے کہ کالام جنت الفردوس ہے۔ دریائے اتروڑ اور اوشو کے سنگم پہ واقع یہ وادی مجسم حسن ہے۔آپ جس بھی موسم میں یہاں جائیں یہ آپ کو زنجیر کر لے گی۔لیکن کسی بھی موسم میں یہاں جاتے وقت گرم کپڑے اور چھتری ساتھ رکھنا مت بھولئے گا یہاں کا موسم بڑا بے ایمان ہوتا ہے۔کالام دراصل ایک بیس کیمپ کی حیثیت رکھتا ہے یہاں آپ کو ہر بجٹ کا ہوٹل بآسانی مل جائے گا۔دریا میں چارپائیاں بچھی ہوں گی کسی بھی ہوٹل پہ کھانے کا آرڈر کیجئے اور دریا کے یخ ٹھنڈے پانیوں میں پائوں ڈبو کے چارپائیوں پہ نیم دراز ہو جائیے۔سکون ہی سکون۔پیٹ پوجا کے بعد چہل قدمی کرتے ہوئے اوشو کے جنگلات دیکھنے چل پڑئیے یا پھر یہیں سے جیپ کروائیے اور اوشو فاریسٹ سے گزرتے ہوئے مہوڈنڈ جھیل کی جانب چل پڑئیے۔جھیل کی سیر کیجئے، کشتی رانی سے لطف اٹھائیے، مچھلیاں پکڑئیے۔اس جھیل میں مچھلیوں کی اس قدر بہتات ہے کہ اس کا نام ہی مچھلیوں والی جھیل یعنی مہوڈنڈ ہے۔تو اگر آپ نے یہ جھیل نہیں دیکھی تو یقین مانیں آپ نے زندگی کے بہت سے حسین لمحے کھو دئیے ہیں۔
شاہی باغ کالام کا حسین ترین مقام ہے۔اس کا سارا راستہ پستہ کے باغات سے بھرا ہوا ہے۔اور جہاں کچا راستہ اختتام پذیر ہوتا ہے وہاں سارا راستہ ساتھ بہنے والا دریا دو لخت ہوتا ہے۔اور ان دو دریائوں کے بیچ درختوں سے اَٹی انتہائی سر سبز چراگاہ ہے۔چراگاہ میں داخلے کے لئے دریا عبور کرنا واحد راستہ ہے اور اس مقصد کے لئے دیو دار کا ایک بڑا سا تنا کاٹ کر دریا پر پل کی جگہ ڈال دیا گیا ہے۔جس کے نیچے پانی کی گہرائی اندازًا پندرہ سولہ فٹ ہے۔لیکن خوبصورت منزلیں ہمیشہ دشوار راستوں کو طے کرنے سے ہی ملتی ہیں۔کوشش کیجئے کہ ایک رات اس سبز مخملیں چراگاہ میں کیمپنگ کریں اور دریا کے شور کے سنگ تاروں بھرا آسمان دیکھیں۔مچھلیاں پکڑیںاور فطرت کے جلوے دیکھیں۔
اگر آپ شاہی باغ نہیں جانا چاہتے یا وہاں رات نہیں رکتے تو پھر آپ اوشو سے واپس آتے ہوئے اتروڑ کی جانب چلے جائیے۔قریبا ایک گھنٹے کی مسافت پہ اناکر گاں میں بلیو واٹرز کیمپ سائیٹ آئے گی۔اسے اناکر میڈوز بھی کہتے ہیں۔یہاں سے جانشئی میڈوز اور اندراب جھیل کے راستے نکلتے ہیں۔بلا کی حسین جگہ ہے۔یہاں اتروڑ دریا سے نکلتا بن خور نالہ بہتا ہے۔انتہائی شفاف نیلا پانی۔سردیوں میں یہ سارا علاقہ برف سے ڈھکا ہوتا ہے لیکن گرمیوں میں یہاں سر سبز چراگاہ ہوتی ہے۔لیکن جس بھی موسم میں یہاں جائیں کھانے پینے اور کیمپنگ کا سامان بمع گرم کپڑے اور چھتری یا رین کوٹ ساتھ لے جانا مت بھولیں۔دریا کے اوپر لکڑی کا پل بنا ہے جس پہ آپ کیٹ واک بھی کر سکتے ہیں کوئی نہیں روکے گا۔جانشئی میڈوز صد رنگ پھولوں سے بھری سبز مخملیں چراگاہ ہے جودل سے دھڑکنیں تک چھین لیتی ہے اور یہاں پہنچ کر سب سے مشکل کام دل کو یہ سمجھانا ہوتا ہے کہ یہ سنگ میل ہے منزل نہیں۔ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں،۔۔بلیو واٹرزمیڈوز سے لکڑی کا پل کراس کر کے قریبا چار سے پانچ گھنٹے کی ٹریکنگ کے بعد اوپربلند پہاڑوں کے دامن میں اک خوابیدہ جھیل آپ کی منتظر ہو گی۔برف پوش پہاڑوں کے حصار میں نیلگوں شفاف پانیوں کے بدلتے رنگوں کی جھیل۔اندراب جھیل۔اسے اناکر جھیل اور کوہ جھیل بھی کہتے ہیں۔اس کے تین اطراف بلند پہاڑ ہیں اور چوتھی جانب پھولوں سے بھرا سبزا۔اور یہ ایک منظر عمر بھر کی تھکان بھلا دیتا ہے!
اے وطن آباد رہے تو
میں جہاں رہوں جہاں میں یاد رہے تو

Read 132 times


TOP