متفرقات

اُردو اور بلوچی کا سنگم

انسان کی سب سے امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ گفتگو کے ذریعے اپنا مدعا بیان کر سکتا ہے۔ اس کے لئے وہ الفاظ کا محتاج ہے جن کا وسیع ذخیرہ اور قواعد و ضوابط مل کر کسی مخصوص زبان کی تشکیل کرتے ہیں۔وسیع ذخیرۂ الفاظ کسی زبان کی وسعت کی دلیل ہے اور انسان جب بھی کسی نئی کیفیت، حالت یا چیز سے دوچار ہوتاہے، تو اُسے لفظوں میں ضرور سموتا ہے، اظہار کے لئے زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ مگر انسانی فطرت اور جذبات و احساسات کی بنیادی قدریں ہمیشہ تاریخی تقسیم اور جغرافیائی حد بندیوں سے بالا تر اور مشترک ہیں۔ مثلاً بھوک میں کھانا مانگنا، تکلیف پہنچنے پر دکھ کا اور آرام میں خوشی کا اظہار اور اسی طرح محبت، نفرت ، رقابت، مامتا، دشمنی، شفقت، دوستی اور بھائی چارہ وغیرہ کے جذبات۔



ہمارے ہاں مختلف مادری زبانیں بولنے والے ہم وطنوں کے درمیان قومی زبان، اردو،مشترک ذریعۂ اظہار ہے۔ ظاہر ہے یہ یہاں کے کسی خطے کی مادری زبان نہیں ہے لیکن اردو اور ہماری علاقائی زبانوں میں بہت سی قربتیں ہونے کے سبب ایک دوسرے میں جذب ہونے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا مختلف مادری زبانیں اور چھوٹی چھوٹی بولیاں بولنے والے ان پڑھ اور پڑھے لکھے سارے ہم وطن بہت جلد اور بڑی آسانی و روانی سے اردو بولنے لگتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ مادری زبان سے اور خود اردو اہل زبان سے زیادہ کامیاب اردو کے ادیب، شاعر اور عالم و فاضل ثابت ہوئے اور اسے سنوارنے کے علاوہ وسعت بھی بخشی۔ اس کے برعکس انگریزی کی مثال لیجئے، جو ایک قطعی اجنبی اور مختلف ثقافتی اور جغرافیائی ماحول کی علامت ہے۔ لہٰذا ہماری دھرتی کے باسیوں کی ایک بڑی تعداد، بچپن سے پڑھنے لکھنے کے باوجود اسے اردو کی سی روانی ، بے تکلیف اور اپنائیت سے لکھ پڑھ نہیں سکتی جبکہ اردو فلموں، گیتوں اور اشعار پر ملک کے ہر گوشے کا عام ان پڑھ باشندہ بھی جھوم اُٹھتا ہے…
 اردو قیام پاکستان کے بعد لکھنؤ اور دہلی سے قطعی مختلف سندھ، سرحد، پنجاب اور بلوچستان کے مخصوص ماحول میں پروان چڑھنے لگی ۔ سو اس مقامی رنگ کی خوبصورت آمیزش کی وجہ سے آج بھارتی اور پاکستانی اردو اور اس کے ادبی رجحانات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ یہاں مختلف مادری زبانیں بولنے والے ہم وطنوں کے باہم میل جول اور روز مرہ زندگی میں اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کرتے وقت لاشعوری طور پر منہ سے پشتو، سندھی، پنجابی، بلوچی کا لفظ نکلنے اور پھر اس کی دوسرے ہم وطن دوستوں پر وضاحت نے اردو کو نئے الفاظ دینے شروع کئے۔ اُدھر اردو کی بھی یہ خاصیت ہے کہ یہ نئے اور موزوں الفاظ کو گلے لگا کر خود میں جذب کر لیتی ہے۔ شاید اس لئے کہ خود اردو برصغیر میں عرب، ترکی، ایران اور افغانستان سے آنے والے مسلم حکمرانوں کے دور میں ان کے ساتھ آنے والوں کے میل جول اور باہم گفتگو کے طویل عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی۔


اردو کے اپنے الفاظ بھی روزمرہ علاقائی زبان میں شامل ہو کر ان کا دامن بھی وسیع کر رہے ہیں۔ چنانچہ سنگلاخ چٹانوں والے خیبرپختونخوا کی پشتو ہویا لہلہاتے میدانوں کی پنجابی، سر سبز میدانوں اور تپتے صحرائوں کی سندھی ہو یا جھیلوں کی حسین سر زمین کی کشمیری ، ان سب میں مشترکہ طور پر سمجھی اور بولی جانے والی زبان اردو کے الفاظ شامل ہونے سے ہم آہنگی اور قربتیں بڑھتی ہی جارہی ہیں۔


گویا آزادی کے بعد اردو کی نشوونما اسی دھرتی کی کوکھ سے پھوٹنے والی مقامی زبانوںکے سنگ سنگ ہونے لگی اور اس رفتہ رفتہ اور قدرتی سنگم سے اردو کے دامن میں تازہ رنگا رنگ پھولوں کا اضافہ ہونے لگا۔ ادھر موسیقاروں نے پنجابی، پشتو، سندھی اور بلوچی دھنوں میں اردو نغمے اس طرح رچا بسا کر موزوں کرنے شروع کئے کہ اردواور علاقائی ثقافتیں ہم آہنگ ہونے لگیں۔ کانوں کو علاقائی دھنوں میں موزوں گیت اجنبی لگنے کے بجائے زیادہ لبھانے لگے، یہ تجربے مقبول بھی ہوئے۔ مثلاً اب لوشے یا راشہ راشہ کے الفاظ یا پشتو دھن، ہو جمالو اور اس کی مخصوص دھن سے ملک کے ہر گوشے کے باسیوں کے کان مانوس ہو چکے ہیں۔ موسیقی کے میدان میں یہ وسعتیں اور رعنائیاں شعوری کوششوں کا خوبصورت نتیجہ ہیں۔ 
جہاں تک اردو اور ذخیرہ الفاظ کا تعلق ہے تو اس میں علاقائی زبانوں کے الفاظ عام لوگوں کے میل جول کے قدرتی نتیجے ہی کی بدولت شامل ہو رہے ہیں۔ جبکہ ان میں ہم آہنگی اور اردو کی لغت میں اضافے کی شعوری کوششیں کم ہی کی گئی ہیں۔ البتہ ایک بات ضرور حوصلہ افزاء ہے کہ ملک کے مختلف گوشوں کے رہنے والے ادیبوں نے جب ایک مخصوص دیہی ماحول اور خالص علاقائی فضا سے عام معاشرتی موضوع چن کر کوئی افسانہ یا ناول لکھا ہے تو اس سے قومی کلچر کی تصویر میں خوبصورت رنگوں کا اضافہ بھی ہوتا رہا ہے اور پاکستانی قوم کے لئے باہم ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانیاں اورنتیجتاً قربتیں پیدا ہوئی ہیں۔ ان ناولوں ، افسانوں ، مزاحیہ تحریروں بلکہ فلموں میں بھی اب تو کئی جگہ کسی علاقائی زبان کے الفاظ یا جملے بے تکلفی سے استعمال کر دئیے جاتے ہیں۔ اور لطف یہ کہ وہ قاری یا سامع کو سمجھ بھی اسی بے تکلفی سے آ جاتے ہیں۔ ادھر خود اردو کے اپنے الفاظ بھی روزمرہ علاقائی زبان میں شامل ہو کر ان کا دامن بھی وسیع کر رہے ہیں۔ چنانچہ سنگلاخ چٹانوں والے خیبرپختونخوا کی پشتو ہویا لہلہاتے میدانوں کی پنجابی، سر سبز میدانوں اور تپتے صحرائوں کی سندھی ہو یا جھیلوں کی حسین سر زمین کی کشمیری ، ان سب میں مشترکہ طور پر سمجھی اور بولی جانے والی زبان اردو کے الفاظ شامل ہونے سے ہم آہنگی اور قربتیں بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ مثلاً اب ہمارے پنجاب کی پنجابی بھی کم و بیش ملک کے ہر حصے میں سمجھی جاتی ہے بلکہ اس کی فلمیں پشاور، کراچی، کوئٹہ، مظفر آباد ہر جگہ مقبول ہیں کیونکہ اردو الفاظ کی آمیزش سے یہ بھارتی پنجاب کی ہندی گورمکھی اور سنسکرت ملی پنجابی سے قطعی مختلف ہے۔ہمارے ہاں صدر ، وزیر اعظم ، اخبار اور شاعر جیسے الفاظ ہر جگہ سمجھے اور بولے جاتے ہیںجبکہ یہی الفاظ سکھوں کی پنجابی میں راشٹر پتی ، پردھان منتری ، سماچار پتر اور کوی میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو عام پاکستانیوں کے لئے قطعی اجنبی اور سمجھ سے بالا تر ہیں۔ ہماری قومی زبان اور علاقائی زبانوں میںایک اہم مشترک بات ، ان پر عربی اور فارسی کے یکساں اثرات ہیں۔
اردو میں علاقائی زبان و ادب کو سمونے کی جو تھوڑی بہت کوششیں ہوئی ہیں وہ بھی زیادہ تر پشتو ، پنجابی اور سندھی میں ہوئیں ، بلوچی پر زیادہ توجہ، بلوچستان کی نسبتاً کم آبادی اور وہ بھی تعلیمی اور ادبی پسماندگی کا شکار ہونے جیسے قدرتی حقائق کے سبب نہ دی جا سکی ۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ٹھوس ہے کہ بلوچی ایک مکمل ، قدیم اور میٹھی زبان ہے۔ اگر چہ ناگزیر حقائق کے سبب تحریری ادبی سرمایہ زیادہ نہیں لیکن بذات خود بلوچی اتنی وسیع زبان ہے کہ ہر انسانی کیفیت،  ہر چیز کی شکل اور اس کی مختلف ارتقائی حالتوں کے بارے میں بھی الگ الگ الفاظ موجود ہیں۔ مثلاً کھجور کی قسموں اور غذائوں کے نام چھوڑ کر بھی اس کے پکنے ، کچا ہونے اس کی رنگت وغیرہ اور دوسری حالتوںکے بارے میں چالیس الگ اور مخصوص مفہوم کے الفاظ موجود ہیں۔ اسی طرح گائے ، بھینس ، گھوڑے ، بکری وغیرہ بلکہ ہر جانور کے بچے کی عمر کے مختلف مرحلوں پر مختلف نام ہیں اور ہر نام ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ جانور کس عمر ، کس نسل اور کس حالت کا ہے۔ غرضیکہ بلوچی بڑی فصیح و بلیغ زبان ہے، اگر اس کے الفاظ بھی اردو جیسی کشادہ دل زبان میں روشناس کرائے جائیں تو وہ انہیں بھی اپنائیت سے سینے لگائے گی۔  
چنانچہ زیر نظر مضمون میں منتخب بلوچی الفاظ مع اپنے مفہوم کے دئیے جارہے ہیں۔ اردو میں ان کا ممکنہ استعمال اور آپ کی دلچسپی اور رہنمائی کے لئے ہر لفظ کے ساتھ ایک جملہ بطور مثال بھی دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ خیال ذہن میں رکھا گیا ہے ہے کہ ایسے الفاظ چنے جائیں جن کے متبادل اردو میں تقریباً موجود نہیںہیں۔ انہیں ہم طلبہ و طالبات ، انگریزی الفاظ کی جگہ اور دلچسپ مشغلے کے طور پر آپس میں مسلسل بول کر اردومیں رواج دے سکتے ہیں۔ اس طرح انگریزی کے محتاج ہونے کے بجائے اپنی دھرتی کی زبان سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ خود سیکھ کر دوسروں تک پہنچا کر چراغ سے چراغ جلا سکتے ہیں۔ یہاں یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ زبانیں تو عام لوگوں کے طویل مدت تک باہم میل جول اور گفتگو کے نتیجے میں وسیع اور ہم آہنگ ہوتی ہیں۔ ایک چھوٹا سا پڑھا لکھا طبقہ علاقائی زبانوں کے الفاظ اردو میں کس طرح مقبول بنا سکتا ہے ؟تو اس کے جواب میں یہی کہوں گا کہ یہی چھوٹا سا طبقہ تو ہے جس نے انگریزی کے بے شمار الفاظ اردو میں متعارف کرا دئیے ہیں۔ مثلاً اپنے گائوں جا کر کہنا ''چاچا! آپ کی فصل فرسٹ کلاس ہوئی ہے'' یا '' میری گھڑی آٹو میٹک ہے۔'' اور اسٹیشن پر قلیوں سے کہنا '' ٹرین کتنی لیٹ ہے''؟ یا کسی ان پڑھ پھل والے سے کہنا''مسٹر ! کتنا پرافٹ کما لیتے ہو''؟ تو اس طرح پڑھے لکھے ''بابو صاب'' کی نقالی کرتے ہوئے عام لوگوں کی روز مرہ زندگی میںبھی یہ اور ایسے ہی ان گنت الفاظ داخل ہوتے رہے اور ہور ہے ہیں ۔ تو کیا یہ ممکن اور زیادہ بہتر نہیں کہ یہ پڑھا لکھا مؤثر طبقہ اردو کی تصویر میں اپنی ہی دھرتی کی آغوش میں جنم لینے والی علاقائی زبانوں کے الفاظ کے رنگ بکھیرے ۔ اس کی چند مثا لیں ملاحظہ کریں:۔
-1با ہوٹی: پنا ہ میں آنے کا عمل۔
مثال ''آپ کے ہاں باہوٹی کی بدولت دشمنوں سے میری جان بچ گئی'' ''نہیں جی!باہوٹ داری ہمارا اخلاقی فرض تھا''
-2 پرداچ: وہ کپڑے اور زیورات جو شادی کے موقع پر لڑکے کی طرف سے لڑکی کو دیئے جاتے ہیں۔مثال ۔ہائے اللہ میں تو سلمٰی کے پرداچ کے خوبصورت زیور اور کپڑے دیکھ کر حیران رہ گئی۔ 
-3  وسلہ : نومولود بچے کے سر کے اوپر کے نرم حصے کو وسلہ کہتے ہیں۔مثال۔ 'اے بہن !بچے کو احتیاط سے جھولے میں ڈالنا کہیں نازک وسلے پر چوٹ نہ لگے۔''
-4انسر۔ انسرنا(اردو مصدر) لیٹ جانے کے بعد نیند کی اولین کیفیت۔مثال ''میں ابھی انسرایا ہی تھا کہ بچوں نے شور مچا کر نیند اڑا دی ۔''
-5 ابھن ۔ ابینا(اردو مصدر ) :لیٹ کر یا بیٹھے بٹھائے نیند کی کیفیت ۔ ابینا اور اونگھنا میں فرق یہ ہے کہ کہ ابینا ایک نیند آلود کیفیت ہوتی ہے، جب کہ اونگھنے میں نیند کے غلبے کا اثر اور حرکت نمایاں ہوتی ہے۔ مثال ۔''نہیں بھئی رانی !میں فلم دیکھنے نہیں جا سکتی ، رات بھر سفر میں جاگنے سے مجھ پر ابین (کی حالت ) طاری ہے۔'' 
-6چلر:بارش کا پانی جو بارش کے بعد زمین اور سڑکوں پر کہیں کہیں جمع ہو جائے۔مثال ۔''یار!اسلام آباد بھی کتنا ستھرا شہر ہے، بارش جتنی بھی ہو چلر اور کیچڑ سے چلنا پھرنا دو بھر نہیں ہو جاتا ''
-7مرمر :علیحدہ یا دوسرے کمرے میں سوئے ہوئے بچے کے جاگ جانے سے ماں کو چھاتیوں میں جو مخصوص گد گداہٹ ہوتی ہے اسے مر مرانا یا مر مرکرنا کہتے ہیں۔مثال ''میرے سینے میں مر مراہٹ ہو رہی ہے ، اٹھ کے دیکھوں تو سہی کہیں منا تو نہیں جاگ گیا؟''
-8شیر شرم : دودھ کے رشتے کی لاج۔ دودھ شریک ہونے کی شرم مثال'' دودھ شریک بہن کی مصیبت میں امدادکر کے آپ نے شیر شرم نبھا دی''یا ''شیر شرم کا اظہار کیا ہے۔''
-9وانک :کپڑے دھونے اور پٹخنے کے کام آنے والا ندی کے کنارے پڑا ہو پتھر۔مثال ہم ندی پر نہانے گئے تو دھوبی وانک پر کپڑے دھو رہا تھا۔''
-10کب: چمڑے کا بنا ہوا چاقو پوش، جو کمر بند کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔یار تمہارا چاقو تو کمر بند کے ساتھ کب میں لٹکا کر نمائش ہی کے قابل ہے ، ورنہ یہ انار تو اس سے کٹ نہیں رہا۔'' 
-11ڈال :کاشت کی غرض سے بارش ہونے سے پہلے کھیت میں ہل چلانے، مٹی نرم اور ہموار کرنے کا عمل ۔ تا کہ بارش کا پانی جذب ہو سکے اور گھاس پھونس اکھڑ جائے۔مثال ۔''ارے کرمے !آسمان پر گہرے بادل چھا گئے ہیں ذرا جیدی سے کہو کہ ٹریکٹر لے کر کھیتوں میں ڈال کر آئے۔''
-12 گو از : دونوں بازئوں کو پھیلانے کی انگلیوں تک لمبائی ۔یعنی تقریباً دو گز۔ مثال اس درخت پر جھولا تو مزے کا ڈالا جا سکتا ہے اگر کہیںسے چار گواز رسی مل جائے تو۔''
-13پالو:سردیوں میں چلنے والی ہوائے خزاں 
مثال۔اف !پالو کے چلنے سے سردی کتنی بڑھ گئی ہے اور درختوں کے پتے بھی جھڑ رہے ہیں۔
-14ریک مال: وہ زمین جس کی مٹی میںریت ملی ہوئی ہو۔مثال کسان ریک مال میں عموماً چنا اور مونگ پھلی اگاتے ہیں۔
-15ڈل : پہاڑ کا وہ نشیبی دامن جو ندی نالوں کے پانی سے محفوظ ہو۔مثال سوات کی سیر کے دوران سکائوٹ ایک ڈل میں خیمہ زن ہوئے۔ 
-16کر دوک: وہ جانور جو بدکنے کے عادی ہوں۔ مثال ۔ ''دیکھنا یار!احتیاط سے سواری کرنا ، گھوڑا کردوک ہے ، بدک گیا تو مشکل ہو جائے گی۔
-17لوپ:وہ زمین جس کے تین اطراف پہاڑ ''نعل'' کی صورت پھیلے ہوئے ہوں۔مثال ہماری یونیورسٹی ایک سر سبز لوپ پر واقع ہے۔ 
-18 سینچ:کسی کام کی انجام دہی کی اہلیت اور شعور۔ مثال بھئی روبی!تم تو بڑی باسینچ ثابت ہوئیں۔ ساری تقریب کا اہتمام اتنا شاندار کیا ہے کہ سب داد دے رہے ہیں۔''
-19زند پہم :زندگی کو سمجھنے والا یا والی ۔ مثال: ''ان سے ملو !یہ ہیں میری دوست نصرت ، بہت زند پہم شخصیت ہیں ، ان کے ساتھ رہ کر تم بہت کچھ سیکھو گی۔''
-20لیزم:احساس جرم کے سبب شرمندگی۔مثال ''سمگلنگ کے جرم میں پکڑے جانے کے بعد جب اخباری فوٹو گرافر تصویریں لینے لگے تو شیخ صاحب مارے لیزم کے منہ چھپانے لگے۔''
-21جاپ (جاپ دینا بطور اردو مصدر)۔ جاگی ہوئی حالت میں خراٹے مار کر خود کو سویا ہوا ظاہر کرنا، بات سننا مگر خود کو انجان ظاہر کرکے کسی کو دھوکا دینا اور توجہ دوسری جانب کرلینا ۔مثال :''بیگم صاحب !میں نے صاب سے آپ کی نئی ساڑھی لانے کا کہہ دیا تھا جی مگر وہ گانا گاتے باہر چلے گئے۔''اچھا !!آئیں تو سہی رات بھی میں نے یاد دلایا تو اچھا بھلا سنتے ہوئے خراٹے مار کر جاپ دے گئے تھے۔''
-22 کمار : (مصدر کمار کرنا ، کمار دینا ) محبت کی توجہ۔ مثال ۔''یونہی تم آس لگائے بیٹھے ہو ، وہ ماہ لج (چاند کی لاج ،حسین دوشیزہ )تمہیں کمار نہیں کرائے گی۔'' (یا کمار لفٹ نہیں دے گی )۔
-23انمبوئیں سلام:خوشبو میں رچا سلام ۔ پیار یار۔
-24ریجی :وہ چوپائے جو پہاڑوں پر چلنے کے عادی نہ ہوں۔
کوھی:وہ چوپائے جو پہاڑوں پر چلنے کے عادی ہوں۔مثال ریجی جانور پہاڑی علاقے میںلے جائیں تو انہیں چرنے کے لئے اونچی نیچی جگہوں پر چلنا دشوار ہوتا ہے اور کوھی جانور شہروں میں ٹریفک کے شور سے بدک جاتے ہیں۔ 
-25سرمرد: سر سے پائوں تک لمبائی، جو عموماً سوا پانچ فٹ بنتی ہے، سر مرد عموماً کنوئوں یا اونچی چیزوں کوناپنے کے لئے ہوتے ہیں۔ مثال صحن میں لگے ہوئے یوکلپٹس کے درخت کوئی تین سر مرد اونچے ہو ںگے ۔ 
-26پرس :ایسی رقم جو رشتہ داروں و احباب ،وفات کنندہ کے پسماندگان کو بطور اظہار ہمدردی دیتے ہیں۔ مثال انور کی وفات کے بعداگر دوست پرس نہ دیتے تو اس کا گھرانہ معاشی مسائل سے برباد ہو جاتا ۔ 
-27سیال :برادری والے، رشتہ دار اور ہم رتبہ قبیلے کے لوگ(سیال داری،  سیال کے ساتھ باہمی تعلقات)مثال ۔ اسلم کی شادی پر اتنے سیال جمع تھے کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔
-28سر گزشت : وہ رقم جو بچے کی پیدائش ، ختنہ ، منگنی ، یا شادی کے موقع پر عزیز و اقارب دیتے ہیں۔مثال:اس کے پہلے بچے کی پیدائش کی خوشی میں دوستوںنے جی بھر کے سر گزشت دی۔ (ویل دینا کو سرگزشت کا پنجابی مترادف کہہ سکتے ہیں)۔
-29حبر بندی: لڑکے کے گھر والوں کی طرف سے لڑکی کے گھر رشتے کی بات چیت کے سلسلے میں رسم طعام و خاطر مدارت۔ مثال ۔''نہیں یار!میں راول ڈیم نہیں جا سکا ، میرے کزن کی شادی کی بات طے ہونے کی خوشی میں مجھے حبر بندی میں شریک ہونا ہے۔'' 
30۔حنی بند :شادی کی رسم دوسری رات کی تقریب ، جس میں دولہا کے گھر والوں کی طرف سے دولہا کو مہندی لگائی جاتی ہے۔مثال '' اری روحی رات حنی بند میں بڑا مزا آیا ، ہم نے وہ گانے گائے اور دولہا کے مہندی لگاتے وہ کھپ مچائی کہ کیا بتائوں''؟
قارئین بلوچی اور اردوکے سنگم کی راہوں کی نشاندہی تو ہم کر چکے۔ اب ان راہوں پر چلنا اور بلوچی الفاظ کو روز مرہ زندگی میں استعمال کرنا آپ پر منحصر ہے۔ مزید معلومات کے لئے ''بلوچی نامہ''(عطاشاد) ''اندرون بلوچستان'' (انگریزی از میراحمد یار خان) تاریخ بلوچستان (گل خان نصیر) اور سرچ لائٹ اون بلوچیز اینڈ بلوچستان (از جسٹس خدا بخش مری)


               
[email protected]

Read 93 times


TOP