قومی و بین الاقوامی ایشوز

ریاست، حکمرانی اور عوام

کسی بھی ریاست یا حکومت کے نظام کو سمجھنے کے لئے ہمیں شہریوں اور بالخصوص عام یا کمزور آدمی کے مفادات کو دیکھنا ہوتا ہے ۔ اسی نظامِ ریاست یا حکومت کو کامیاب سمجھا جاتا ہے جو اپنے شہریوں کے درمیان باہمی تعلق کو مضبوط بناتی ہے اور یہ عمل ریاستی و حکومتی ساکھ کو قائم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ عمومی طور پر ریاست، حکومت اور شہریوں کے درمیان باہمی تعلق ہی ریاست اور معاشرے کو مضبوط بنانے کی کنجی سمجھا جاتا ہے۔ ریاست اور شہریوں کے باہمی تعلق کو ہم ان کے درمیان عمرانی معاہدے کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ ایک طرف ریاست و حکومت ذمہ دار ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے عمل کو یقینی بناتی ہے تو دوسری طرف شہری بھی اپنے بنیادی حقوق اور مختلف مفادات کے حصول کے بعد ریاستی اموراور قوانین کی مکمل پاسداری کرنے کے پابند ہوتے ہیں ۔
ایک اچھی ، مہذب اورذمہ دار ریاست او رحکومت بنیادی طور پر شہریوں کے ساتھ اپنے باہمی تعلق کی مضبوطی کو بنیاد بنا کر ایسی پالیسیاں یا قانون سازی سمیت ایک ایسے سازگار ماحول کو یقینی بناتی ہے جس کا مقصد شہریوں او ر بالخصوص کمزو ر طبقات کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہوتا ہے، تاکہ شہری ریاستی مفاد کے ساتھ کھڑے ہوں ۔
شہریوں کی سطح پر مسائل بہت واضح ہیں ۔ ان مسائل کا اظہار ہمیں 1973کے دستور کے بنیادی حقوق کے باب میں نظر آتا ہے جس میںتعلیم، صحت، روزگار، تحفظ،انصاف ، آزادیٔ اظہار، شہری آزادیوں، معلومات تک رسائی سمیت دیگر اہم امور شامل ہیں ۔ عمومی طور پر ریاستی نظام کی بڑی خوبی کمزور طبقات کے مفادات کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط بنانے سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ جو امیر اور غریب کے درمیان ہمیںفرق نظر آتا ہے یا طاقت ور اور کمزورمیں جو خلیج بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے اسے ختم کرنا ہی ریاست اور حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے ۔کرونا کے حالیہ بحران کے تناظر میں خود حکومتی سطح پر یہ اعتراف کیا جارہا ہے کہ ملک میں حالیہ معاشی بدحالی کا بڑا نتیجہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ حکومتی اندازے کے مطابق تقریباً 70لاکھ لوگ معاشی طور پر بے روزگاری کا شکار ہوسکتے ہیں۔ایسے میں ریاست کس طرح سے ان کمزور لوگو ں کو معاشی استحکام دے سکتی ہے ، ایک بڑا چیلنج ہے ۔
ریاست، حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلق کی مضبوطی کا ایک بڑا نکتہ لوگوںکی سیاسی ،سماجی ، معاشی سرمایہ کاری سے جڑا ہوا ہوتا ہے ۔ ریاست اور حکومتی سطح پر شہریوں کے باہمی تعلق کا ایک بڑا اشاریہ شہریوں پر بجٹ اور پالیسیوں میں مالی حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ 
سیاسی نظام کی مضبوطی کے لئے سیاسی سطح پر سیاسی جماعتو ں کی فعالیت عملی طورپر نظر آنی چاہئے ۔کیونکہ سیاسی جماعتوں کی مدد سے ہی سیاسی نظام کو آگے بڑھانا ہے تو ایسے میں ہمیں کافی متحرک اور فعال سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے۔ جن کا مضبوط تعلق کمزور طبقات کے مفادات اور سیاست سے جڑا نظر آنا چاہئے ۔
اسی طرح سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے جمہوری نظام میں پارلیمانی نظام اور پارلیمنٹ کی مضبوطی پر بھی زور دینا ہوگا ۔ کیونکہ پارلیمنٹ ہی سیاسی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا موجب بنتی ہے اور خاص طور پر عام آدمی کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنا ہی عملاً پارلیمنٹ اور اس میں موجود ارکان کی بڑی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔ کیونکہ پارلیمنٹ کا مقصد محض ڈیبیٹنگ کلب نہیں بلکہ اس کا مقصد ملک کی سیاست ، سماجیات اور معیشت میں عوامی مفاد کے تحت بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لاناہوتا ہے۔ 
دنیا کے سیاسی تجربات پر نظر ڈالیںتو حکمرانی کے نظام میں فعالیت ، شفافیت اور زیادہ جوابدہی سمیت لوگوں کے روز مرہ کے معاملات میں بہتری پیدا کرنے کے لئے مقامی حکومتوں کے نظام کو سب سے زیادہ فوقیت دی جاتی ہے ۔ آج دنیا میں سب سے زیادہ بحث ہمیں یہی دیکھنے کو ملتی ہے کہ جب تک ہم زیادہ سے زیادہ سیاسی ، انتظامی او رمالی اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل نہیں کریں گے یا وفاق اور صوبوں کے ساتھ مقامی حکومت کے نظام کو تیسرے درجے کی حکومت نہیں تسلیم کریں گے ، حکمرانی کا نظام شفاف نہیں ہوگا ۔ اس وقت حکمرانی کے نظام میں فعالیت کے لئے سب سے بڑا چیلنج مقامی حکومتوں کا مضبوط اور خودمختار نظام ہے ۔ 1973کے آئین کی شق140-Aکے تحت ہماری صوبائی حکومتوں اور مقامی حکومتوں کو سیاسی ،انتظامی اور مالی خودمختاری دینی ہوگی ۔یہی نظام بنیادی طور پر ریاست ،حکومت اور شہریوں کے درمیان باہمی تعلق کو مضبوط بنانے کا سبب بنتا ہے ۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا کے مختلف ملکوں نے عام یا کمزور طبقات کی سیاست کو مستحکم کرنے کے لئے کیا حکمت عملیاں اختیار کیں اور ایسے کون سے تجربے تھے جس نے وہاں ریاست، حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنایا۔یہ سمجھنا ہوگا کہ کمزور طبقات کا بڑا انحصار ہی عملًا ریاست اور حکومت پر ہوتا ہے ۔کیونکہ اسے احساس ہوتاہے کہ اگرچہ وہ مالی طور پر کمزور ہے لیکن ریاستی و حکومتی نظام اس کے ساتھ کھڑا ہے اور ا س کے ساتھ کوئی تفریق نہیں کی جائے گی ۔اس سوچ اور فکر کو زیادہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ لوگ محض لفظوں کی بنیاد پر ریاست کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔اس کے لئے ریاست و حکمرانی کے نظام سے جڑے مسائل کی درست نشاندہی اور ترجیحات کا تعین ہی لوگوں میں موجود تفریق کے پہلووں کو کمزور کرتا ہے ۔
لہٰذا ہمیںاپنے مجموعی ریاستی ، حکومتی اور ادارہ جاتی نظام میں بڑی اصلاحات درکار ہیں۔ یہ کام روائتی طور پر نہیں ہوگا بلکہ بڑی غیر معمولی اقدامات جو کچھ تلخ بھی ہوںگے لیکن کرنے ہوںگے۔اسی طرح یہ ذمہ داری کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ اس میں ریاست کے تمام فریقین کو اپنا اپنا حصہ اجتماعی طور پر ڈالنا ہوگا ۔یہ کام کسی ٹکراؤ کے نتیجے سے ممکن نہیں ہوگا بلکہ باہمی طور پر ایک بڑے اتفاق رائے کی ضرورت ہے اور یہ عمل مختلف فریقین میں ایک بڑی ٹھوس مشاورت اور باہمی فیصلو ں کے بغیر ممکن نہیں۔ اس میں ہمارے اہل دانش، میڈیا اور رائے عامہ بنانے والوں سمیت علمی و فکری محاذ پر سرگرم لوگوںکو بھی اپنا ذمہ دارانہ کردار نبھانا ہوگا اور جدیدیت کو بنیاد بنا کر ایک ایسے حکمرانی کے نظام کی طرف پیش قدمی کریں جو عام آدمی کے مفادات کو مستحکم بناسکے یا ان کو ہر سطح پر تحفظ فراہم کرسکے ۔یہ عمل محض قانون سازی یا پالیسیوں تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کی عملی شکل لوگوں کو ہر سطح پر شفافیت کے اندازمیں نظر آنی چاہئے تاکہ اس کے ثمرات وطن کے کمزور طبقوں تک بھی پہنچ پائیں اور ان میں یہ اعتماد بحال ہو کہ پاکستان کسی ایک مخصوص طبقہ کا نہیں بلکہ ہم سب کا پاکستان ہے ۔


مضمون نگار  ممتاز تجزیہ کار، مصنف  اور کئی اہم ملکی تھنک ٹینکس کے رکن  ہیں ۔ جمہوریت ، گورننس، دہشت گردی اور علاقائی تعلقات پر ان کی گہری نظر ہے۔  
[email protected] 

Read 20 times


TOP