متفرقات

گلگت بلتستان پاکستان کے ماتھے کا جھومر

خطہ گلگت بلتستان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے۔ اس خطے کا ہر باسی وطنِ عزیز کا سپاہی اور لازوال محبت سے سرشار ہے۔ اِس خطے نے لالک جان جیسے فرزند بھی پیدا کئے ہیں جو اپنے وجود سے زیادہ جری ثابت ہوئے اور ہندوستان کی فوج کو زبردست ہزیمت سے دوچار کیا۔لالک جان بہادر نے بالآخر وطن کی خاطر اپنی جان قربان کردی اور رہتی دنیا تک اپنا نام امر کرگیا۔ گلگت بلتستان کے عوام ویسے بھی وطن عزیز کی سالمیت کو حد درجہ عزیز رکھتے ہیں۔ اس کی مثال ہمیں یہاں سے ملتی ہے کہ آج پاکستان آرمی میں گلگت بلتستان کے سپوت  کثیر تعداد میں موجود ہیں اور وطن کا دفاع کررہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ان کے آبائو اجداد نے ڈوگرہ راج سے اس خطہ کو آزاد کرایا تھا۔ نہتے اور ہتھیاروں سے خالی، صرف اپنے بازئوں کے دم پر بھاری بھر کم فوج کو شکست دی اور ان کو بھاگنے پر مجبور کیا۔ آج ان کی نسل اپنے آبائو اجداد کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے اور پاکستان کی بقا کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔ 



ایک طرف خطہ گلگت بلتستان ہے جو اپنے ہم وطن بھائیوں کے ساتھ آزادی کی نعمت سے مستفید ہورہا ہے اور دوسری طرف ہمارا پڑوسی، مقبوضہ جموں وکشمیر بھارتی مظالم کا شکار ہے۔محبتوں اور الفتوں کی یہ وادی آج تاریخ کے بدترین ایام کا سامنا کر رہی ہے۔ ہندوستانی افواج، جو اخلاق و اقدار سے عاری سپاہ ہیں، نے لازم جانا ہے کہ ہرحال میں کشمیریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے کشمیر میں فساد و انتشار اور مظالم کا ایک سلسلہ جاری ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ شاید مسلم دنیا کو احساس نہیں ہے کہ ہندوستان ایک ایسا عفریت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی چودھراہٹ قائم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ یہ تو پاکستان کی جری فوج ہے جس کے سامنے ہندوستانی افواج کی دال نہیں گلتی۔ ان کا بس چلے تو ایک ہی سانس میں اور ایک ہی لمحے میں کشمیر اور خدا نخواستہ پاکستان تک کو بھی ملیامیٹ کردے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے اور اللہ پر پختہ یقین بھی کہ ہمارا وطن قائم و دائم رہنے کیلئے بنا ہے اور انشااللہ تا قیامت برقرار رہے گا۔ اور کشمیر جو کہ جنت نظیر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لئے جغرافیائی اہمیت بھی رکھتا ہے، بہت جلد آزادی کے سورج سے آشنا ہوگا۔ جیسا کہ دستور ہے کہ مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا زندہ قوموں کی پہچان ہے۔ الحمدللہ اِس اعتبار سے پاکستان ہمیشہ سے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ کسی بھی عالمی سطح کے فورم سے بات کرنا اور کشمیر کے مسئلے کو بحث کے دائرے میں لانا پاکستان کی نمایاں خدمات رہی ہیں۔ جس طرح حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان ہر دو طبقہ کی طرف سے کشمیریوں کی اخلاقی مدد جاری ہے، بالکل اسی طرح پاکستان کے عوام بھی کشمیریوں سے حددرجہ الفت رکھتے ہیں۔ ایسا توہو نہیں سکتا کہ ہمارے کشمیری بھائی بھارتی جارحیت کے شکار ہوں اور ہم ذرا سا بھی احتجاج نہ کریں۔ کراچی سے لے کر گلگت بلتستان تک ہرمکتبۂ فکر کا انسان اس بات کا احساس ضرور رکھتا ہے کہ ہمارا دل اور ہماری حمایت کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ خاص طور پر خطہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا دل ہمیشہ اپنے کشمیری بھائیوں کیلئے دھڑکتا رہتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو یہ دونوں خطے ایک ہی شاخ (پاکستان) کے دو پھول ہیں۔ ایک کو تکلیف ہو تو دوسرا قدرتی طور پر درد محسوس کرتا ہے۔ جنگ آزادی میں گلگت بلتستان کے باسیوں نے اپنے کشمیری بھائیوں کی بھرپور مدد کی تھی۔ قریب تھا کہ کشمیر ہندوستان کے چنگل سے آزاد ہوجاتا،لیکن انڈیا نے فوری طور پر اقوامِ متحدہ کا سہارا لیا یوں یہ معاملہ اب تک معمہ بنا ہوا ہے۔ جنگِ آزادی کے دوران گلگت بلتستان کے لوگوں کا یقینی کردار آج بھی قابلِ تعریف گردانا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں زبردست پذیرائی ملتی ہے۔ ہم حالیہ دنوں بلتستان یونیورسٹی کے طلبأ و طالبات کی طرف سے کیا گیا مطالعاتی دورہ بطورثبوت پیش کرسکتے ہیں۔ یہ مطالعاتی وفد باہمی اتحاد و اتفاق کو بڑھاوا دینے اور وطن کی سالمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اسلام آباد اور لاہور کے مختلف تعلیمی و انتظامی اداروں کا مہمان بنا تھا۔ وفد کی قیادت محترم وائس چانسلر بلتستان یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے کی جبکہ انتظامی معاملات کے سلسلے میں متاثرکن ذمہ داری نبھانے کا فریضہ رجسٹرار وسیم اللہ جان ملک نے انجام دیا۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر علمدار حسین، سر فیض علی، سر دوستدار حسین، مس ماریہ اور مس مزین نے دورے کے دوران طلبا و طالبات کو تعلیمی و تحقیقی امور سے آگاہ کیا اور مطالعاتی مقاصد کی بھی نشاندہی کی۔ بلتستان یونیورسٹی کے اس مطالعاتی وفد نے آئی ایس پی آر اور کاکول بھی جانا تھا لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا۔ سالِ گذشتہ بلتستان یونیورسٹی کا مطالعاتی وفد  پاک فوج کے مذکورہ بالا اداروں میں سے اول الذکر ادارے کا مہمان بنا تھا اور پاک فوج کے افسران کی طرف سے پاکستان کی سالمیت اور حب الوطنی کے کئی مؤثر لیکچرز دئیے گئے تھے۔ بلتستان یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے ان اداروں کی مجموعی ہیئت اور انتظامی معاملات کو قریب سے دیکھا اور بڑے متاثر ہوئے کہ ہماری افواج اپنے پیشے میں کس قدر ماہر ہے اور دشمن کی کسی بھی جارحیت کا بھرپورمقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سال بھی مطالعاتی دورہ اسی نوعیت کا تھا۔ جس ادارے کا بھی دورہ کیا گیا، یہ تصور دل و دماغ میں زندہ و جاوید رکھا گیا کہ وطن ہے تو ہم ہیں اور وطن کے بغیر نہ ہماری شناخت ہے اور نہ ہی ہماری کوئی پہچان بن سکتی ہے۔ ان دوروں سے یہ بھی سیکھنے کو ملا کہ دشمن ہمارے وقار کو اور باہمی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں جدید ابلاغی آلات کو استعمال میں لانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ خاص طور پر فیس بک، ٹویٹر، واٹس اپ اور انسٹاگرام جیسے ابلاغی ذرائع ہمارے وقار اور اتحاد کو زک پہنچاسکتے ہیں۔ مختلف اداروں میں سیمینارز ہوئے، تقاریب ہوئیں اور پروگرامز ہوئے۔ طلبأو طالبات کو خوش آمدید کہتے ہوئے بتایا گیا کہ وطنِ عزیز پاکستان کی بقا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس کی اہمیت سے آگاہ ہونا اور شعوری طور پر اپنے وطن کے چپے چپے کی حفاظت کرنا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ وفد نے اپنے اختتامی دورے میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی اور ایوان ِ صدر کے امور سے متعلق جانکاری لی۔ صدر مملکت نے اس موقع پر مختصر خطاب بھی کیا اور کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی نشاندہی بھی کی۔ انہوں نے بھارتی پروپیگنڈہ مہم کی طرف بھی اشارہ کیا اور طلبا ٔو طالبات کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی۔

Read 27 times


TOP