متفرقات

  منُّو

منو بڑے غور سے بابا کو دیکھ رہا تھا کہ وہ کافی دیر سے اپنا پسٹل صاف کررہے ہیں ۔وہ کبھی اس کی نال میں کسی لوہے کی سلائی سے تیل لگاتے اور کبھی کپڑے کے ساتھ اس کو رگڑنے لگتے۔ اس سے رہا نہ گیا وہ بول پڑا  '' بابا ! یہ کافی پرانا لگتا ہے۔ ؟'' یاسین نے بڑ ے غور سے منو کی طرف دیکھا اور اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے الٹا اس سے ہی سوال کردیا۔ '' تم آج کام پر نہیں گئے ؟'' منو اس کے پاس چارپائی پر بیٹھتا ہوا بولا ۔ '' آج رحیم چاچا کی بیٹی کا انتقال ہو گیا ہے ا س لئے انہوں نے کھوکھا بند ہی رکھا ہے۔ '' یاسین تاسف بھرے لہجے میں پسٹل کی نال میں منہ سے پھونک مارتے ہوئے بولا: '' اوہ .... افسوس ہوا سن کر  ... کیا ہوا تھا ان کی بیٹی کو ؟ ''  
  ''  بس سنا ہے کہ اس نے چھت سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی ۔'' بارہ سالہ منو کے منہ سے ایک جوان لڑکی کی خود کشی کی خبر سن کر یاسین کا چونکنا لازمی امر تھا وہ ایک دم سے منو کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:''کیا کہا تم نے کہ رحیم چاچا کی جوان بیٹی نے چھت سے کود کر اپنی جان دے دی ہے  ؟'' اس کا اس طرح استفسار اور چونکنا منو کی سمجھ میں نہ آ سکا تبھی تو وہ بے خیالی اور عام سے لہجے میں بولا : '' ہاں بابا میں نے سنا ہے کہ رحیم چاچا پوچھنے والوں کو بتا رہے تھے کہ ان کی بیٹی نے صبح ہی اپنی جان دے دی ہے اور وہ چھت سے گر گئی ہے۔ '' لیکن یاسین یہ سن کر پسٹل وہیں چھوڑ کر بھاگنے والے انداز میں گھر سے باہر کی جانب لپکا۔ اس کا اس طرح بھاگنا منو کو حیران تو کر گیا مگر وہ اپنا سر کھجا کر پسٹل کو دیکھنے لگا۔ وہ پسٹل کو ٹریگر پر انگلی رکھ کر سامنے والی دیوار کی طرف کر کے گولیاں چلانے والے اندازمیں کرنے لگا اور ساتھ ہی ساتھ منہ سے گولیوں کی آوازیں بھی نکالنے لگا تو اس کی آواز سن کر اندر سے باجی مریم بھاگتی ہوئی آئی اور اس کے ہاتھ سے پسٹل چھین کر اس کو ڈانٹنے لگی۔ '' منو ! کیا کرر ہے ہو؟ پاگل ہو گئے ہو، اگر گولی چل گئی تو ....؟ '' ،منو باجی کو پریشان اور فکر مند دیکھ کر قہقہہ لگا کر بولا: ''باجی یہ خالی ہے ابھی تو اس کو بابا صاف کر رہے تھے۔ '' مریم نے اب غور سے پسٹل کو دیکھا، تب اس کی جان میں جان آئی '' بابا کہاں گئے ہیں کہ تم ان کے پسٹل کے ساتھ کھیل رہے ہو ؟'' منو باہر کی جانب بڑھا تو باجی کی بات کا جواب دینا بھی ضروری سمجھتے ہوئے بولا: '' رحیم چاچا کی بیٹی نے خود کشی کر لی ہے۔ اس کا ابھی ابھی جنازہ ہے، بابا وہیں گئے ہیں ۔'' یہ کہہ کر منو تو باہر نکل گیا تھا لیکن مریم کے اوسان خطا کر گیا تھا کیونکہ رحیم چاچا کی بیٹی حسنہ اس کی نہ صرف اچھی دوست تھی بلکہ اس کی کلاس فیلو بھی تھی۔ وہ وادی میں موجود کالج جانے کے لئے اکٹھی ہی نکلتی تھیں لیکن اس کو حسنہ کی موت کی خبر کیوں نہ ہو سکی۔ وادی میں اس کی موت کا اعلان مساجد میں کیوں نہیں ہوا۔ وہ اندر کی جانب بھاگی کہ اماں کو بتائے لیکن اماں تو ان سب کے جاگنے سے پہلے ہی رحیم چاچا کے گھر جا چکی تھی۔ مریم کو اچھی طرح یا دتھا کہ حسنہ بہت ہی خوبصورت اور نیک سیرت لڑکی تھی اور ابھی تو کل ہی وہ کالج سے ایک ساتھ گھر لوٹی تھیں۔ پھر رات کی رات میں ایسا کیا ہو گیا کہ اس نے اپنی جان دے کر موت کو گلے لگا لیا تھا۔یہ بات مریم کے حلق سے نہ اتر رہی تھی۔ وہ اکیلی باہر نہ جاسکتی تھی کہ اس کی اجازت نہ تھی لیکن وہ اپنی سہیلی کا آخری دیدار کرنے کو بے تا ب ہو رہی تھی ۔ رحیم چاچا کو سبھی دلاسہ تو دے رہے تھے لیکن منہ سے کچھ نہ کہہ رہے تھے۔ بس وہ رحیم چاچا کو گلے لگاتے اور اللہ کی رضا کہہ کر خاموش ہو جاتے تھے۔ رحیم چاچا پاگلوں کی طرح سب کے چہروں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ وہ اپنے آپ کو بڑے ہی صبر اور تحمل سے سنبھالے ہوئے تھے۔ یو ں لگ رہا تھا کہ ابھی کہ ابھی ان کا دل پھٹ جائے گا۔ منو بھی ان کی طرف دیکھ کر رنجیدہ ہو رہا تھا۔ وہ رحیم چاچا کے چائے کے کھوکے پر ایک چھوٹے کے طور پر کام کرتا تھا۔ رحیم چاچا اس سے پیار کرتا تھا جبکہ منو رحیم چاچا کی دل و جان سے عزت کرتا تھا کہ یاسین اور اس کی بیوی نے منو کی تربیت ہی ایسی کی تھی ۔ وہ بھی اس کے دکھ میں خود کو دکھی محسوس کر رہا تھا۔ یاسین نے گھر جا کر مریم کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا تو وہ چادر اوڑھ کر اپنے بدن کو اچھی طرح لپیٹتی ہوئی بابا کے ساتھ رحیم چاچا کے گھر پہنچی۔ اس کی دوست حسنہ چارپائی پر بے جان پڑی ہوئی تھی۔ چاچی اور اس کے دوسرے عزیز رشتہ دار حسنہ کی میت پر بین کر رہے تھے ۔ مریم کا بھی خود پر اختیار نہ رہا۔ وہ بھی حسنہ  سے لپٹ کر رونے لگی تو چاچی نے روتے ہوئے مریم کو بتایا کہ وہ مرتے وقت یہی کہہ رہی تھی کہ میری کتابیں مریم کو ضرور پہنچا دینا۔ حسنہ کی میت کو شام ڈھلے دفنا دیا گیا لیکن اس کی موت کی وجہ سامنے نہ آنے پر وادی میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں ۔ تین دن تک مریم بھی کالج نہ جا سکی۔ چوتھے دن وہ اکیلی کالج جانے لگی تو منو اس کے ساتھ ہولیا۔ وہ خود کو اب محفوظ سمجھتے ہوئے بے خطر کالج تک پہنچی تھی۔ اس کو حسنہ کی یاد نے تڑپا کر رکھ دیا تھا۔ وہ کالج میں بھی کھوئی کھوئی رہتی تھی۔ چاچی نے اس کو حسنہ کی کتابیں دے دی تھیں۔ لیکن وہ ان کو کھول کر نہ دیکھ سکی کہ اس کی دوست کی خوشبو ان میں بسی تھی۔ وہ ان کتابوں کو سونگھتی اور حسنہ کو یا د کر کے آنسو بہا تی تھی۔ اس کا یہ عمل منو سے چھپا نہ رہ سکا تھا۔ وہ باجی کو چھپ چھپ کر روتے دیکھ کر اداس ہو جاتا تھا ۔ رحیم چاچا نے پانچویں دن اپنے کھوکے میں چولہا جلایا اور دودھ کا پتیلاچولہے پر رکھ دیا۔ سبھی کام معمول کے مطابق ہونے لگے تھے گاہکوں کی آمد شروع ہو گئی تو منو منو کی پکار ہونے لگی۔ منو دو چائے، منو تین کپ اچھی سی چائے، منو اتنے کپ .... منو سب کے آرڈر بڑی پھرتی سے بھگتانے میں مصرو ف تھا کہ ایک گونج دار اور بارعب آواز اس کی سماعتوں کو زخمی کرتی ہوئی اس کی روح میں اتر گئی ۔ '' ابے اوحرامی تین کپ چائے لائو ملائی مار کے۔ '' منو نے بڑے غصے سے مڑ کر دیکھا تو ہندوستانی فوج کے تین فوجی اپنے افسر کے ساتھ قہقہے لگاتے ہوئے ایک بنچ پر بیٹھ رہے تھے۔ منو نے بے چارگی سے چاچا رحیم کی طرف دیکھا تو چاچا کی جھکی ہوئی آنکھیں اس کو سمجھا گئیں کہ ہم ابھی آزاد نہیں ہوئے ہیں۔ اس جنت نظیر وادی پر ابھی کافروں کا ہی قبضہ ہے۔ منو نے ان کے پاس جا کر ایک صافی سے بنچ کو صاف کیا تو ایک فوجی نے تکبرانہ انداز میں اپنی ایک ٹانگ ا س کے سامنے پھیلاتے ہوئے منو کو حکم دیا  '' چل بچے جب تک چائے بنتی ہے تب تک تو میری ٹانگیں دبا۔ رات کی مشقت سے تھک سی گئی ہیں۔ '' اس کے ذومعنی فقرے کی منو کو تو سمجھ نہ ا سکی لیکن اس کے باقی دونوں  ساتھی پر زور قہقہہ لگا کر ہنس پڑے ۔ منو نے رحیم چاچا کی طر ف دیکھا تو انہوں نے صبر کرنے والے انداز میں سر ہلا دیا۔ منو اس فوجی کی ٹانگیں دبانے لگا تو وہ تینوں آپس میں باتیں کرنے لگے ۔ ''سنا ہے اس کی ایک سہیلی بھی ہے جو اس کی طرح پیاری بھی ہے ۔ '' منو کے کان کھڑے ہوگئے تھے لیکن وہ غیر محسوس انداز میں اپنے کام میں مصرو ف رہا تو دوسرے فوجی کی زہر بھری آواز اس کے کانوں میں پڑی . '' تو پھر ٹھیک ہے رکھ لیتے ہیں کسی دن دعوت ۔''  اتنی دیر میں منو کو رحیم چاچا نے آواز دی کہ چائے تیار ہے، لے جائو ۔ منو چائے لینے چاچا کے پاس پہنچا تو چاچا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو سمجھانے والے انداز میں کہا '' ان وحشی درندوں سے مت الجھنا ... ایک تو تم ان سے عمر میں بہت ہی چھوٹے ہو اور دوسرا ان کے پاس اسلحہ بھی ہوتا ہے، بس خاموش رہ کر ان کے جانے کا انتظار کرو ۔ '' منو نے چاچا رحیم کی بات سن کر اثبات میں سر ہلایا اور چائے کے تین کپ ایک ٹرے میں رکھ کر ان تینوں ہندوستانی فوجیوں کے سامنے بنچ پر رکھ کر دوسر ے گاہکوں کی جانب متوجہ ہو گیا ۔ اس واقعے کو تین دن گزر چکے تھے لیکن منو کو ا ن تینو ں کی باتیں چین نہ لینے دے  رہی تھیں۔ اس نے رحیم چاچا کے کہنے پر ان کی ٹانگیں بھی دبائی تھیں اور وہ جاتے ہوئے چائے کے پیسے بھی نہیں دے کر گئے تھے۔ آج چوتھا دن تھا کہ وادی میں ایک کہرام مچ گیا کہ جلا ل کی بیٹی کو کسی نے اغوا کر لیا ہے اور وہ کالج سے واپس گھر نہیں پہنچی ہے۔ اس بات کی خبر وادی میں پھیل گئی تھی رات آنکھوں میں بِتانے کے بعد جیسے ہی دن کی روشنی نے سورج کا ساتھ دیا تو کرنوں نے اپنی حدت سے سارے علاقے کوروشن کر نا شروع کردیا۔ قریبی کھیتوں سے جلال کی بیٹی کی لاش بھی مل گئی تھی جو اس حالت میں تھی کہ  جو بھی دیکھتا اُسے خوف آنے لگتا ۔ 
منو کی پریشانی اور اداسی فطری تھی۔ وہ آج رحیم چاچا کو کچھ بدلا بدلا سا لگ رہا تھا۔ اس کی چال ڈھال ہی نرالی تھی وہ بار بار اس طرف دیکھ رہا تھا جدھر سے ہندوستانی فوجی چائے پینے آتے تھے۔ وہ گاہکوں کو بھی ڈیل کر رہا تھا۔ رحیم چاچا سے رہا نہ گیا: '' منو بیٹا کیا بات ہے آج تمہاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔'' وہ رحیم چاچا کی طرف دیکھ کر ہولے سے مسکرایا اور بولا: '' چاچا آج میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے۔ '' وہ مسکرا کر گاہکوں کی جانب متوجہ ہوا جو اس کو منو منو کہہ کر چائے کے آرڈر دے رہے تھے۔ اتنے میں اس کے من کی مراد بر آئی۔ وہ تینوں ہندوستانی فوجی متکبرانہ اندازمیں چلتے ہوئے آئے اور ایک بیچ پر بیٹھ کر منو کو با رعب لہجے میں بلایا ، '' ابے او حرامی کی اولاد تین کپ دودھ پتی۔ مٹھا تیز رکھ کے ملائی مار کے لا ئو۔ ''  منونے آج خلاف توقع مسکرا کر ان کا آرڈر سنا اور ان کے لئے بنچ صاف کر کے ایک طرف کھڑا ہو گیا، وہ آپس میں باتیں کرنے لگے تھے ۔ '' تم بہت ڈھیلے ہو یار .... اس کو گھر سے اٹھا لیتے ہیں پہلے بھی تو ایسا کئی بار کیا ہے کون سا قیامت آ گئی ہے۔ '' منو کو چائے بننے کی آواز ملی تو اس نے چائے لا کر ان تینوں کے سامنے رکھی تو ایک فوجی بول پڑا ۔ '' اوئے حرامی  !جتنے پیسے یہاں سے لیتے ہو، ہماری خدمت کیا کرو اس سے زیادہ کمائو گے اور عیش بھی الگ سے کیا کرو گے ۔ '' 
 منو بہت ہی غصے  سے تیز آوازمیں بولا ۔'' تم جیسے حرامی کتوں کو تو گولی مار دینی چاہئے، تم اپنے ساتھ کام کی بات کرتے ہو۔ '' وہ تینوںہی ششدر رہ کر اس بارہ سالہ منو کو دیکھ رہے تھے جس نے ان کو سنبھلنے نہ دیا کہ گرم گرم چائے ان تینوں کے چہروں پر انڈیل دی وہ درد سے چلانے لگے کہ منو نے اپنی قمیض کے نیچے سے بابا کا پسٹل نکال کر ان تینوں پر گولیاں برسانا شروع کردیں۔ یہ سب کچھ آن کی آن میں ہی ہوگیا تھا۔ کسی کو بھی سمجھ نہ آئی تھی کہ کیا ہونے والا ہے اوریہ چھوٹا منو کیا کرنے والا ہے۔ ان میں سے ایک فوجی زندہ بچ گیا۔ اس نے اپنے پستول سے منو کو گولی مار دی اور اپنی جان بچا کر اپنے دو ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گیا۔ چاچا رحیم اور دوسرے سبھی بھاگ کر منوکو سنبھالنے کے لئے آگے بڑھے تو منو نے اپنی قمیض کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکالا اور رحیم چاچا کی طرف بڑھا کر اس کی گود میںہی اپنی جان جان آفریں کے سپر دکر دی ۔
رحیم چاچا نے کانپتے لرزتے ہاتھوں سے اس کاغذکو کھولا تو وہ اپنی پیاری بیٹی حسنہ کی لکھائی کو پہلی ہی نظر میں پہچا ن گیا اور پڑھنے لگا حسنہ کی وہ تحری اپنی پیاری دوست مریم کے لئے تھی جس میں لکھا تھا '' مریم کالج جانا چھوڑ دو۔ میرے بعد ان کتوں کی ہوس کا نشانہ تم ہو سکتی ہو۔ '' منونے یہ کاغذ مریم باجی کی کتاب سے تب پڑھا تھا جب مریم ایک رات اس کاغذ کو پڑھ کر روتی روتی سو گئی تھی ۔


 [email protected]
 
 

Read 26 times


TOP