متفرقات

عالمی اُردو کانفرنس ۔ ایک روایت

کینیڈا میں آج کل کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہے۔ برف خوب گررہی ہے اور ٹھنڈسے جیسے خون رگوں میں جماجاتاہے اور اتفاق سے کرسمس نیوایئر کی چھٹیاں بھی انہی دنوں میں ہوتی ہیں لہٰذا احباب اکثر انہی مہینوں میںپاکستان جاتے ہیں۔
ہم بھی اس برس سردیاں وطنِ عزیز میںمنارہے ہیں۔ کینیڈا میں جو لوگ بزنس کرتے ہیں وہ اپنے حساب سے چھٹیاں لے سکتے ہیں۔ نوکری پیشہ افراد کے لئے اپنی مرضی سے چھٹیاں لینا ممکن نہیں۔ پھر کینیڈا میں سال میں اوسطاً پندرہ دن کی چھٹی ملتی ہے۔ اس مختصر عرصے میں ہی لوگ گھوم پھر کے آجاتے ہیں۔ ہم چونکہ زیادہ عرصے کے لئے آتے ہیں اس لئے ہر مرتبہ نوکری کو خیرباد کہہ کے ہی آنا پڑتا ہے۔واپس کینیڈا جاکے نئی نوکری تلاش کرنا، نئے سرے سے کام شروع کرنا کٹھن ہے۔ ہمارے گھر والے تو اب بضد ہیں کہ ہم اب واپس جانے کا خیال دل سے نکال ہی دیں تو بہتر ہے۔ کراچی کی زندگی اُس زندگی سے مختلف ہے جو ہم کینیڈا میں گزارتے ہیں۔ جو آرام، جو مزے یہاں ہیں اُن کا وہاں کوئی تصور نہیں۔ اپنے خاندان، دوستوں اور سماجی سرگرمیوں کو چھوڑ کر جب بھی ہم واپس کینیڈا جاتے ہیں تو سیٹ ہونے میںکم ازکم بیس سے پچیس دن لگتے ہیں۔ اس مرتبہ تو شاید زیادہ وقت لگ جائے کیونکہ اس ٹرپ میں ہم بہت مصروف رہے۔ شہر میں ہونے والی مختلف تقاریب، فیملی فنکشن، ظہرانے، ڈنر وغیرہ وغیرہ کے علاوہ آرٹس کونسل میںہونے والے علمی، ثقافتی اور ادبی پروگرام ہمارے دل ودماغ میں ایسے سمائے ہیں کہ نہ پوچھئے۔خاص طور پر حالیہ عالمی اُردو کانفرنس جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں میں ہونے والی سب سے بڑی اور شاندار کانفرنس تھی۔
بارہویں عالمی اُردو کانفرنس آرٹس کونسل میں ماہِ دسمبر میں ہوئی جس میں دنیا بھر سے مندوبین تشریف لائے۔ چار دن آرٹس کونسل میں میلہ لگارہا۔ ایک وقت میں مختلف گوشوں میں کئی کئی پروگرام ہوتے رہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے بہت ذوق و شوق سے شرکت کی۔ خاص طور پر نوجوانوں کی شرکت قابلِ ذکر ہے۔



افتتاحی اجلاس میں ہمیں بے اختیار وہ لوگ یاد آگئے جنہیں ہر سال مسندِ صدارت پہ بٹھایا جاتا تھا۔ انتظار حسین، عبداﷲ حسین، جمیل الدین عالی، جمیل جالبی، مشتاق احمد یوسفی اور فہمیدہ ریاض، کیسے کیسے بڑے نام تھے جو اب اس دنیامیں نہیں ۔ مسعود اشعر ہم سے کہنے لگے کہ آپ کو انتظار حسین یاد آتے ہیں؟ ہم نے جواب دیا کیوں نہ آئیں گے۔ ہر سال جب بھی وہ تشریف لاتے ڈرامہ 'خوابوں کا مسافر'کا تذکرہ ہوتا اور ہم بصدافتخار اپنے اس ڈرامے میں کشور کا کردار ادا کرنے کا ذکر لے بیٹھے۔ آہ کہ اُس ڈرامے کے رائیٹر انتظار حسین نہ رہے۔ اس کی کاسٹ میں شامل دیگر فنکار مثلاً کمال احمدرضوی، عذرا شیروانی، عرشِ منیر بھی نہ رہیں۔ ہمارے دل کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ تکلیف تو اس بات پر بھی ہوئی کہ مستنصر حسین تارڑ علیل ہیں اور اسی باعث وہ تشریف نہ لاسکے۔ مستنصر حسین تارڑ کی علمیت ، قابلیت اور ان کے زورِ قلم کے ہم قائل ہیں، اُن کی تحریروں کے پرستار ہیں اور اُن کی صحت و زندگی کے لئے دعا گو ہیں۔افتتاحی اجلاس میں اُن کی کمی بہت محسوس ہوئی۔ کانفرنس  کے پہلے دن مرزا غالب  کی ڈیڑھ سو سالہ برسی پہ خصوصی اجلاس ہوا جس میں 'غالب، حیات اور تصورِ حیات، اور 'غالب یگانہ اور مثال گونا گوں' پر مقالات پیش کئے گئے۔ بعدازاں ضیا محی الدین نے غالب  کا کلام پڑھا۔ اس میںمشہورستار نواز نفیس خان اور اُن کے شاگرد بھی شریک ہوئے جنہوں نے  کلامِ غالب گایا۔
اُردو کانفرنس کے پہلے دن کا آخری سیشن فہمیدہ ریاض کے نام تھا جن کا انتقال گزشتہ برس ہوا۔ہمیں یادہے اُس دن اُردو کانفرنس کی افتتاحی تقریب تھی جب فہمیدہ ریاض کے وصال کی اطلاع آئی۔ منتظمین نے اجلاس منسوخ یا ملتوی نہیں کیا بلکہ اُن کو یاد کیا، اُن کی باتیں کیں۔ اسی طرح اس برس اُن کی یادمیں جشن فہمیدہ ریاض منایا گیا جس میں کشور ناہید، انیس ہارون، نور الہدیٰ شاہ اور فاطمہ حسن نے گفتگو کی، خالد احمد نے اُن کا کلام پڑھا جبکہ اس کا اختتام شیما کرمانی کی ڈانس پرفارمنس سے ہوا۔ شیما نے کلاسیکی رقص پیش کرکے فہمیدہ ریاض کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
کانفرنس کا دوسرا دن خاصا مصروف رہا۔ پہلا سیشن' شعرو سخن کا عصری تناظر' کے موضوع پر تھا جس میں جدیدنظم میں طرزِ احساس کی تبدیلیاں، جدید شعری تناظر، اندیشے اور امکانات، طویل نظم کی روایت اکیسویں صدی میں اور جدید غزل میں نسائیت کی معنوی جہات پر گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد یارک شائر ادبی فورم کی جانب سے معروف شاعرہ شہناز نور کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔
عصرِ حاضر میں نعتیہ اوررتائی ادب۔ ایک جائزہ ' کا بھی سیشن ہوا جس کے بعد کتابوں کی رونمائی ہوئی جن میں فاطمہ حسن کی فاصلوں سے ماورا ، رشید حسن خان کی گنجینۂ معنی کا طلسم، صابر ظفر کی آواز کی لہر پر چلامیں اور اصغرندیم سید کی ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فیض احمدفیض کی کلیات کا بھی اجرا ہوا جسے نعمان الحق نے مرتب کیا۔ فیض صاحب اور ضیا محی الدین پر ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔کشور ناہید سے ملاقات ، اُردو کی نئی بستیاں، اُردو ادب اور صحافت کے علاوہ انور مسعود کے ساتھ ایک سیشن ہوا جس میں ان کی شگفتہ شاعری سے محفل کشتِ زعفران بن گئی۔
اس مرتبہ اُردو کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ اُردوجوکہ ہماری قومی زبان ہے اس کا رشتہ ملک کی دیگرزبانوں سے جوڑا گیا اور محبت کے اس سلسلے کو مختلف سیشن میں پھیلایاگیا۔ پختون ثقافت، دبستانِ اُردو اور بلوچ شعرائ، جدیدسرائیکی ادب، پنجابی ادب، جدید سندھی ادب کے موضوعات پر گفتگو نے اس کانفرنس کو چار چاند لگا دیئے۔ علاقائی زبانوں کے علاوہ غیرملکی زبانوں سے اُردو کے روابط بھی کانفرنس کا حصہ تھے۔ اس کی مثال جاپان اور پاکستان کی ادبی ثقافتی روابط پر ہونے والا سیشن جس میں جاپانیوں نے خالص اُردو میں گفتگو کی اور' اُردو کی نئی بستیاں' کے عنوان سے ہونے والا سیشن قابلِ ذکر ہے جس میں رضا علی عابدی( برطانیہ) ہیروجی کتاوکا (جاپان)، اشفاق حسین (کینیڈا)، وفا یزداں (ایران) وکیل انصاری (امریکا) عشرت سیما(جرمنی)، ثمن شاہ (فرانس) عارف نقوی (جرمنی)، ٹینگ مینگ شنگ (چین)، باصر کاظمی (برطانیہ)، ریحانہ قمر( برطانیہ) اور دیگر غیرممالک سے آئے مندوبین نے اُردو کی نئی بستیوں پر بات کی۔ کانفرنس میں میڈیا کے حوالے سے بھی کئی سیشن ہوئے ۔ ایک سیشن معروف صحافی سہیل وڑائچ سے ہوا۔ صحافی حامد میر سے گفتگو ہوئی، میڈیا'کتنا قید ، کتنا آزاد، سوشل میڈیا اور اُردو، یہ سیشن بھی ہوئے۔
بچوں کا ادب، انور مقصود، کشمیر اور خطے میں امن کی صورتحال، نوجوانوں کا مشاعرہ، محفل موسیقی، اُردو کا شاہکار مزاح، تعلیم کے مسائل اور اُن کا حل ، کتابوں کا اجرائ، معاصرِ اُردو تنقید، امر جلیل کے ساتھ گفتگو اور عالمی مشاعرہ کے علاوہ نعیم بخاری کے ساتھ سیشن بھی اُردو کانفرنس میںشامل تھے۔ نعیم بخاری کے سیشن میں ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ انہوںنے اپنے مخصوص انداز سے منوبھائی، شعیب ہاشمی ، فراز کو یاد کیا اوراُن کے دلچسپ قصے سنائے۔
پاکستان میں فنون کی صورتحال اور پاکستان میں اظہارِ فن کی آزادی پر بات ہوئی۔  فنون کی صورتِ حال پہ منور سعید، حسینہ معین، محمدقوی خان، خالد انعم ، ایوب خاور ، شیماکرمانی اور کیف غزنوی نے روشنی ڈالی۔ اظہارِ فن کی آزادی کا سیشن  ہماری نظامت میں تھا۔ شرکائے گفتگو محمد ذیشان، شاہدرسام، عابد مرچنٹ اور ثمینہ نذیر تھے۔ کانفرنس میں چونکہ ایک وقت میں کئی سیشن ہو رہے تھے لہٰذا ہم کبھی اِدھر دوڑ لگارہے ہوتے تو کبھی ادھر، اس طرح باقی لوگ بھی۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ انسان اپنی دلچسپی کا سیشن اٹینڈ کرلے جبکہ نقصان یہ کہ بیک وقت اگر دو جگہ پسند کے سیشن ہوں تو بندہ کس کا انتخاب کرے؟ مثال کے طور پر امر جلیل اور نعیم بخاری کے سیشن ایک وقت میں ہوئے اور ہمارے لئے مشکل تھا کہ کس میں شریک ہوں۔ ہم نے نعیم بخاری کا فیصلہ کیا اور دل میں یہ احساس بھی رہاکہ امر جلیل کی باتوں سے محروم رہے۔ تاہم اس کا ایک حل یہ کہ کانفرنس یوٹیوب پر موجود ہے اور جو حصہ رہ گیا وہ آن لائن بعد میں دیکھ سکتے ہیں۔ ویسے تو کانفرنس آرٹس کونسل کے یو ٹیوب چینل سے براہِ راست نشر بھی ہو رہی تھی اور لوگ جو کسی وجہ سے آرٹس کونسل نہیں آسکتے تھے وہ گھر بیٹھے دیکھتے رہے۔ ہمارے لئے تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون سا سیشن سب سے زیادہ اچھا تھا۔ اس لئے کہ ہر سیشن ایک سے بڑھ کرایک تھا۔ اُردو نثر، نعتیہ اور رتائی ادب، بچوں کا ادب، کتابوں کا اجرأ اور مشاعرہ تو ہر سال ہی کانفرنس کا جزو ہوتا ہے۔ اس مرتبہ جو نئے موضوعات تھے اُن میںپاکستان کے دیگر علاقوں کی زبان و ثقافت، مسئلہ کشمیر اور خطے میں امن کی صورت حال ، سوشل میڈیااور آزادی پر گفتگو شامل تھی۔ کانفرنس کے آخری دن یادِ رفتگان کا بھی سیکشن ہوا جس میںمسعود اشعر  نے انور سجاد، حسین فراق نے ڈاکٹر جمیل جالبی، امجد شاہ نے نیاز احمد، عقیل عباس جعفری نے لیاقت علی عاصم، شاہد رسام نے ذکاء الرحمن اور صوبیہ نقش نے جمیل نقش پہ گفتگو کی۔
عالمی اُردو کانفرنس کی روایت کے مطابق اختتامی اجلاس میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز بھی دیئے گئے۔ اس برس یہ ایوارڈز اسد محمدخان، امر جلیل اور افتخار عارف کو دیئے گئے۔ ایوارڈکے ساتھ آرٹس کونسل کی جانب سے نقد انعام بھی دیاگیا۔ اختتامی اجلاس کی نظامت ہمارے ذمے تھی اور ہم بس یہ سوچے جارہے تھے کہ کیسے یہ چار دن گزر گئے کہ بالکل پتہ ہی نہیں چلا، شب و روز گویا پلک جھپکنے میں نکل گئے۔ سبھی کا خیال تھا کہ عالمی اُردو کانفرنس اب صرف کانفرنس نہیں بلکہ ایسی روایت کی شکل اختیار کرچکی ہے جس کا سبھی کو پورا سال انتظار رہتا ہے۔


مضمون نگارمشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

[email protected]

Read 32 times


TOP