ہلال نیوز

وادی نیلم اور شمالی علاقہ جات میں برفباری اور فوج کی امدادی کارروائیاں

آزاد کشمیر کے علاقے وادی نیلم کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خوبصورتی اور نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ موسم سرما میں برف باری اور کئی فٹ تک کی برف باری یہاں کا معمول ہے جو اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتی ہے ۔لیکن برفانی تودوں کا آنا مقامی آبادی کے لئے کسی بہت بڑی آفت سے کم نہیں ۔ اس بار جنوری کے دوسرے ہفتے میں برف باری میں اضافے کے ساتھ ہی برفانی تودوںنے اس علاقے میں تباہی مچا دی۔پہاڑی علاقوں میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 50 کے قریب لوگوں کے جاں بحق ہونے اور اتنے ہی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع تھی ۔ پاکستان آرمی نے اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ۔ کمانڈر راولپنڈی کور لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس نے 12 ڈویژن کو  ریسکیوکی تمام کوششیں بروئے کار لانے کی ہدایات جاری کیں۔ جی ایچ کیو کی طرف سے4 ہیلی کاپٹرز بھی ا س مشن پر روانہ کئے گئے۔ دریں اثنا سول اداروں اور آرمی کی طرف سے ریلیف  کیمپ اور میڈیکل  کیمپ بھی لگائے گئے ۔ کور کمانڈر اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے مظفر آباد پہنچ گئے۔اسی دوران وزیر اعظم پاکستان عمران خان بھی آفت زدہ علاقے کا دورہ کرنے کے لئے مظفر آباد پہنچنے جہاں صدر آزاد جموںوکشمیر سردار مسعود خان، وزیرِاعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان اور کمانڈر راولپنڈی کورلیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس نے وزیرِاعظم کا استقبال کیا۔ چیف سیکرٹری آزادکشمیر مطہر نیاز رانا نے بتایا کہ لینڈ سلائنڈنگ اور برفانی تودے گِرنے کے فورا بعد ریاستی اداروں نے پاکستان آرمی ،نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ  اتھارٹی سے مل کر ریلیف و ریسکیو آپریشن شروع کیا۔4 آرمی ہیلی کاپٹروں نے ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا اور زخمیوں کو کیل،شاردہ اور مظفر آباد منتقل کیا ۔متاثرہ علاقوں میں شاہرات کو کھولنے کا عمل مسلسل جاری ہے جبکہ ان علاقوں میں فوڈ آئٹمز اور دیگر ضروری اشیا پہنچا دی گئی ہے۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ اس واقعہ میں67 لوگ جاں بحق اور53 زخمی ہوئے۔198 گھر،22 دکانیں،ایک مسجد اور 12 گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔وادی نیلم  کے گائوں سرگن،کیل، لوات اور چکناڑ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں جاں بحق ہونے والوں کو ایک لاکھ پچاس ہزار ،معذور ہونے والوں کو 75 ہزار اور زخمی ہونے والوں کو 50 ہزار روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ تباہ ہونے والے گھروں کے لئے فی کس ایک لاکھ روپے، دکانوں کے لئے 50ہزار اور گاڑیوں کے لئے ایک لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومتِ پاکستان معاوضہ جات کی ادائیگی کے لئے مالی معاونت کرے جبکہ آزاد کشمیر میں ریلیف آپریشن کے لئے ایوی ایشن ونگ کے حوالہ سے بھی حکومت پاکستان کی مدددرکار ہے۔انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے آزاد کشمیر میں ٹریننگ پروگرام ترتیب دینے کا بھی اہتمام ہوا تاکہ ایسے قدرتی حادثات کے دوران ریلیف اور ریسکیو کا کام بہتر انداز میں سر انجام دیا جا سکے۔ چیف سیکرٹری نے نیلم ویلی کے لئے دو یوٹیلٹی سٹورز کے قیام اور بائی پاس سڑک کی تعمیر کی طرف بھی وزیرِاعظم پاکستان کی توجہ دلائی۔ وزیر اعظم نے مشکل وقت میں متاثرین برفباری کی دل جوئی کرنے اور ریسکیو آپریشن پر افواجِ پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعظم نے سی ایم ایچ مظفر آبادمیں زخمیوں کی عیادت بھی کی۔اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیرِاعظم، صدراورکمانڈر10کور بھی ہمراہ تھے۔ وزیرِاعظم کے دورے کے بعد پاک آرمی نے سول اداروں کے ساتھ مِل کر امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ 65 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔حکومت اور اداروں کی طرف سے جاں بحق ہونے والے افرادکے لئے ڈیڑھ لاکھ فی کس سے زائد جبکہ زخمیوں کے لئے 50 ہزار فی کس سے زائد روپے کی مالی امداد کی جا چکی ہے اور مزید امداد کی کوششیں جاری ہیں ۔ جبکہ نیلم وادی کے 22 زخمی افراد کو 50 ہزار  فی کس کے حساب سے  نقد چیک دئیے گئے۔ ان افراد کو سی ایم ایچ مظفر آباد اور سی ایم ایچ/ ایم ایچ راولپنڈی میں علاج کے لئے ایڈمٹ کیا گیا۔جبکہ ریلیف کیمپوں میں ادویات ، گرم کپڑے ، خیمے ، رضایاں اور روز مرہ کی ضروری اشیا فراوانی سے مہیا کی گئیں ہیں۔ آرمی نے اس اثنا میں گلگت کے علاقے رٹو میں لاہور کی یونیورسٹی لمز کے 22 طلبا اور طالبات کو ہنگامی طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا ۔ یہ طلبا و طالبات سکینگ کے لئے رٹو گئے تھے جہاں پر وہ شدید برفباری کے باعث پھنس گئے تھے ۔ آرمی کی بروقت کارروائی سے وہ کسی بڑے المیہ سے دو چار ہونے سے بچ گئے۔ طلبا وطالبات نے پاک فوج کا دل کی اتھاہ گہرایوں سے شکریہ ادا کیا ۔ کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل محمود احسان محمود خان نے منی مرگ کے گاؤں تھالی بالا کا دورہ کیا۔ جہاں برفانی طوفان سے گاؤں کو شدید نقصان پہنچا تھا اور دو افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ کمانڈر ایف سی این اے نے زخمیوں کی عیادت بھی کی اور خوراک و ادویات بھی فراہم کیں ۔ زخمیوں کو سی ایم ایچ میں منتقل کر کے لوگوں کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔
 

Read 47 times


Share Your Thoughts

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login to your account and leave your thoughts on this article.

TOP