تنازعہ کشمیر

میرا کشمیر

میں خاص طور سے سرینگر کے لئے خریدی ہوئی گرم چرمی جیکٹ میں خود کو بہت خوش نصیب سمجھ رہاہوں کہ سری نگر میں ہوں ۔ میرے خوابوں کی وادی میری کہانیوں  کا شہر ۔ موسم اگر سرد ہے تب بھی گولف کلب کے گرم ہال نے اسے پرسکون بنا دیا ہے ۔ شجاعت بخاری ہیں، یوسف جمیل ہیں ۔۔۔۔اور بہت سے صحافی ہیں ۔۔۔زیادہ تر دوست جاننے والے ۔۔۔۔طویل فاصلے کے دوست ۔۔۔گلے مل رہے ہیں ۔۔مصافحے ہورہے ہیں ۔ باہر گھپ اندھیرا ہے ۔۔۔مجھے جموں سے سری نگر پہنچتے ہی پولیس یا فوج نہیں کچھ نوجوان نظر آئے تھے ۔۔۔ہمیشہ اشارے سے راستہ بتاتے ہوئے ۔ کسی نے نوٹس نہیں کیا لیکن میں سمجھ گیا یہ کون ہیں ۔۔۔۔۔کشمیر کے بیٹے 
گولف کورٹ میں بات ہورہی ہے استقبال ہو رہا ہے ۔۔۔یوسف جمیل سب کا شکر یہ ادا کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ  یہ حضرت ناصر بیگ چغتائی تو دو دن پہلے ہی کشمیر پر پروگرام کررہے تھے ۔ بخاری  جینوئین دوست قرار دے رہے ہیں ۔ میں بتا رہاہوں کہ میرے بزرگ اور سیاستدان پروفیسر غفور احمد تو مجھے کشمیری ہی سمجھتے ہیں ۔ ہمارے 21 ساتھی ہیں ۔ کوئی نہ کوئی کسی کا جاننے والا ہے اور ایک صاحب بتا رہے ہیں کہ سلگتے چنار جب قسطوں میں شائع ہوتی تھی تو کس طرح اس کی فوٹو کاپی تقسیم ہوتی تھی ۔ 
میرا دوست شجاعت بخاری میرے کندھے پر دھپ مار کر کہتا ہے ''مخالفت بھی سہنی ہوگی لیکن تمہیں جیو پر کشمیر کاز کے پروگرام کی وجہ سے پہچانتے بھی ہیں۔''
تب ہی تڑاتڑ فائرنگ کی آواز آتی ہے، سب اچھل پڑتے ہیں ۔ چند منٹ بعد سناٹا چھا جاتا ہے ۔ 
'' چلیں کھانا کھا لیں '' کسی نے کہا 
: مگر یہ ہوا کیا '' میں پوچھ رہاہوں 
'' آپ کو سلامی دی گئی ہے '' سارے کشمیری ہنس پڑے ۔۔۔۔
کوئی کہہ رہا ہے کہ 3 فوجی مارے گئے 
مگر میں کشمیری قورمے کی خوشبو میں گم ہورہا ہوں ۔۔۔ (4اکتوبر2004، میری ڈائری کے ایک ورق کا ایک حصہ) 

جب بھی مقبوضہ کشمیر سے کوئی خبر آتی ہے تو وہ پورا علاقہ میری نظروں کے سامنے آجاتا ہے جہاں یہ ہوا ۔ڈل جھیل ہو یا اس میں برسوں سے کھڑے ہوئے ہاؤس بوٹس ۔ پھولوں سے لدے شکارے ہوں یا جھیل میں کھلے ہوئے کنول ۔۔۔۔لیکن یہ سب کہاں ۔ ہندو دیو مالا کے عفریت یا اثور مقبوضہ کشمیر پر چھا گئے ہیں، دیوار ہے جو چاروں طرف کھینچ دی گئی ہے ۔ بقول فیض۔۔۔
یہاں سے شہر کو دیکھو تو حلقہ در حلقہ 
کھنچی ہے جیل کی صورت ہر ایک سمت فصیل 
ہر ایک راہ گزر گردشِ اسیراں ہے 
نہ سنگِ میل، نہ منزل، نہ مخلصی کی سبیل 
جو کوئی تیز چلے رہ تو پوچھتا ہے خیال 
کہ ٹوکنے کوئی للکار کیوں نہیں آئی 
جو کوئی ہاتھ ہلائے تو وہم کو ہے سوال 
کوئی چھنک، کوئی جھنکار کیوں نہیں آئی 
یہاں سے شہر کو دیکھو تو ساری خلقت میں 
نہ کوئی صاحبِ تمکیں، نہ کوئی والیِ ہوش 
ہر ایک مردِ جواں مجرمِ رسن بہ گُلُو 
ہر اِک حسینۂِ رعنا، کنیزِ حلقہ بگوش 
جو سائے دور چراغوں کے گرد لرزاں ہیں 
نہ جانے محفلِ غم ہے کہ بزمِ جام و سبو 
جو رنگ ہر در و دیوار پر پریشاں ہے 
یہاں سے کچھ نہیں کھلتا یہ پھول ہیں کہ لہو

آج کا کشمیر گونگا ہے یا ہم بہرے ہو گئے ہیں ۔ ایک چیخ ترال سے بلند ہوتی ہے اور ڈل کے سینے کو شق کردیتی ہے ۔ دنیا بھی اندھی اور بہری ہے ۔ سب کی سماعتوں پر پہرے ہیں، بصارتیں  چھین لی گئی ہیں اور زبانیں گنگ ہیں ۔ 
لیکن کیا کشمیر کی آواز کبھی نہیں سنی جائے گی ؟ 
ایسا نہیں ۔۔۔یہ آواز بہت طاقت ور ہو کر سنائی دے گی ۔ دنیا میں ایسی کوئی ٹیکنالوجی نہیں جو مظلوم کی آواز دبا سکے ۔ 
حیدر پورہ میں قید علی گیلانی، جامع مسجد کے بند لاؤڈ اسپیکر، میر واعظ کے خاموش خطبے ۔۔۔۔شبیر شاہ کی گھن گرج اور یاسین ملک کی مزاحمت سب زندہ ہے۔  ۔ بس صرف وقت کا انتظار ہے ۔ مودی حکومت خود کو ہی نہیں 'ہندوتوا' کو بھی '' سوہاوا '' کر چکی ہے۔ 
بھارت کے شہری مقبوضہ کشمیر کو غیر سمجھ کر جس طرح چپ تھے تو اندازہ تھا کہ یہ کبھی بیدار نہیں ہوںگے لیکن جب شہریت ایکٹ نافذ کیاگیا تو بھارت میں یہ احساس بہت تیزی سے پیدا ہوا اور پروان چڑھا کہ غلطی ہوگئی ۔ 
جامعہ ملیہ دلی میں طلبہ کے اجتماع پر پو لیس کے دھاوے اور طالبات کی طرف سے تاریخی مزاحمت کے بعد ایک غیر مسلم طالبہ کا یہ جملہ بھارت کو بیدار کر گیا کہ ''کشمیر پر غاصبانہ قبضے پر ہم خاموش رہے ۔ آسام میں 20 لاکھ افراد کی شہریت پر بھی صرف شکوہ کیالیکن نئے رجسٹریشن قانون نے واضح کر دیا ہے کہ اقلیت کو مسلط کرنے کا ہے ۔'' 
یہ جملے کشمیر کی چیخ بن کر دلی سے منگلور مغربی بنگال ، اوڑیسہ، بہار، تلنگانہ، جھاڑ کھنڈ ۔۔۔۔۔ہر جگہ پھیل گئے ۔ مشرق کی 7 باغی ریاستوں سمیت بنگال آسام سب نے اسے مسترد کر دیا اور کیرالا کی حکومت نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج بھی کر دیا۔ 
بھارت کے وہ لوگ بھی باہر نکل آئے  جو مسلم مسائل سے خود کو ''دہریہ '' کہہ کر الگ کر لیتے تھے ۔ بڑے شاعر جاں نثار اختر کے بیٹے جاوید اختر نے بولنا شروع کیاتو بولی ووڈ کے اداکاروں نے پہلا زبردست جلسہ کیا۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سمیت درجنوں مقامات پر فیض کی نظم ''لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے ،ترانہ بن گئی ہے ۔۔۔اس کشمیری پکار کا سفر جاری ہے ۔ یہ جب ٹکرائے گی تب ہی انقلاب آئے گا ۔
 مودی حکومت نے بھا رت کی یونین کو خطرے میں ڈال دیا ہے اس کا احساس چدم برم سے شاعر گلزار تک کو ہے ۔۔۔۔۔
حکومت نے اجتماعات کے خلاف سکیورٹی ایکٹ نافذ کر کے ہنگامی حالت کے نفاذ کی طرف ایک اور قدم اٹھایا ہے ۔۔۔۔
اس کا منصوبہ واضح ہے ۔۔۔۔لیکن اب تو رام راج کے حامی بھی سمجھ گئے ہیں یہ برہمن راج کی سازش ہے۔
 بھارت میں اس وقت مختلف علاقوں میں تشدد ہورہاہے ۔ منگلور(پرانا نام بنگلور) میں مسلمانوں کی بستی جلا دی گئی لیکن دلی میں نوجوانوں نے جواہرلال یونیورسٹی میں مزاحمت کر کے مرکزی پولیس کو خبردار کر دیا کہ مزید غنڈے نہ بھیجے۔ 
کساد بازاری، افراط زر، بے روزگاری جیسے علاقائی مسائل میں گھرے ہوئے مودی اس صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لئے کیا آزاد کشمیر یا پاکستان کے خلاف کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں؟ اس کا جواب ایک زور دار '' ہاں '' میں ہے کیوں کہ بپن اجیت دول نظر یہ جنرل بپن کو ڈیفنس چیف بنانے سے اور مضبوط ہوا ہے ۔
کیا پاکستان اس کا جواب دے سکے گا ؟  یقینا اور انشاء اﷲ!
تمام اشاریئے بتاتے ہیں کہ اس بار جواب فروری سے بھی زیادہ سخت ہوگا ۔۔۔بہت سخت ۔۔۔۔اور یہ بات بھارت کو سمجھ لینی چاہئے ۔۔۔۔۔
ایک پروفیسر نے تاریخ کے پرانے نقشوں کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا ہے کہ کیا بھارت پھر درجنوں آزاد ریاستوں میں تقسیم ہونے جارہا ہے ؟؟؟؟
مضمون نگار سینئر صحافی، ناول نگارا ور مختلف ٹی وی چینلز کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ 
 

Read 20 times


TOP