متفرقات

بنتے دیکھا پاکستان متعصب ہندو ذہنیت کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم ناگزیر تھی

پاکستان عطیۂ خداوندی ہے ہمیں پاکستان کو اپنے خوابوں کی جنت بنانے کے لئے محنت کرنا ہوگی۔
محمد شفیق جنجوعہ نے اپنی آنکھوں سے پاکستان بنتے دیکھا۔ گھر بار چھوڑ کر اس حالت میں ہجرت کرکے پاکستان پہنچے کہ بدن پر میلے کپڑے اورپا ؤں میں چپل تھی۔ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں۔آیئیان سے قیامِ پاکستان اور تعمیرِپاکستان کی رُوداد سنتے ہیں۔

س  :    آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟ بچپن کی کچھ باتیں یاد ہوں تو بتائیں؟
ج  :    میں1937میں پٹی میںپیدا ہوا۔ پٹی کا علاقہ ہموار نہیں تھا۔اونچی نیچی سطح تھی ہندو عموماً ٹیلوں کے اوپر مندر بناتے تھے۔ ہمارے گھر کے قریب ہی سول ہسپتال تھا۔ قصور کا روہی نالہ پٹی سے آتا ہے۔ 
س  :    آپ قیامِ پاکستان تک پٹی کے علاقے میں رہائش پذیر رہے۔ وہاں مسلمان، ہندو اور سکھ رہتے تھے۔ آپس میں سب کے تعلقات کیسے تھے؟ کیا وہاں بھی فسادات ہوئے تھے؟
ج  :    پٹی میںمسلمانوں ، ہندوئوں اور سکھوں کے الگ مخصوص علاقے تھے۔ لوگ ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ مذہبی اختلافات کے باوجود کوئی خاص لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن ہندو متعصب تھے۔ عمومی طور پر مسلمان پسماندہ تھے اور ہندو اُنہیں اپنا محکوم بنانا چاہتے تھے۔ قائداعظم اور مسلم رہنما اُن کی یہ سازش سمجھ چکے تھے، ورنہ  ابتداء میں خود قائداعظم ہندو مسلم اتحاد  کے حامی تھے۔ جب قیامِ پاکستان کا اعلان ہوا تو بہت سے علاقوں میں فسادات پھوٹ پڑے۔ اصل لڑائی تو ہندوئوں اور مسلمانوں میں تھی۔ قائداعظم نے سکھوں کو اپنے ساتھ شامل ہونے کے لئے کہا تھا۔ ہندوئوں نے سکھوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا، یا وہ اپنی طاقت کے زعم میں تھا انہوں نے مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت کی۔ ہمارے علاقے میں سول ہسپتال تھا، وہاں کچھ زخمی مسلمانوں کو لایا گیا تھا جنہیں سکھوں نے زخمی کیا تھا۔ جب اس طرح کے فسادات کی خبریں آنے لگیں تو ہمارے گھر کے قریب ایک حویلی تھی۔ اس میں مسلمانوںنے بھٹیاں لگا کر کلہاڑیاں اور دیگر ہتھیار تیار کرکے اپنی حفاظت کے لئے رکھ لئے تھے لیکن ان کے استعمال کی نوبت نہ آئی۔    پٹی میں فسادات اس لئے بھی نہیں ہوئے کہ پٹی، پٹھان کوٹ اور فیروز پور کے علاقوں کے بارے میں لوگوں کی عمومی رائے یہ تھی یہ علاقے پاکستان میں شامل ہو رہے ہیں جو کہ بعد میں غلط ثابت ہوئی۔ فسادات قتل و غارت سکھوں نے زیادہ کی تھی۔اس کے باوجود کہ ان علاقوں کی پاکستان میںشمولیت کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں لیکن مسلمانوں نے وہاں کسی ہندو یا سکھ کو نقصان نہیں پہنچایا نہ ہی ان کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ ہم بھی مطمئن تھے کہ ہم پاکستان میں ہیں۔ ہم نے عید الفطرکی نماز بھی پٹی میں ہی ادا کی تھی۔ درحقیقت متعصب ہندو ذہن کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم ناگزیر اور پاکستان کا قیام ضروری تھا۔ ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر کا مسلمان پاکستان کی اصلی اہمیت سے آگاہ ہے۔ قیامِ پاکستان عطیۂ خداوندی تھا۔ ہمیں پاکستان کو اپنے خوابوں کی جنت بنانے کے لئے بہت محنت١ کرنا ہوگی۔
س  :  تحریکِ پاکستان کے دوران آپ کے علاقے میں بھی کوئی جوش و ولولہ         پایاجاتا تھا، کوئی جلسے جلوس ہوتے تھے؟
ج  :    تحریکِ پاکستان کا جوش و خروش بڑے شہروں میں زیادہ تھا۔ جلسے جلوس بھی وہاں ہوتے تھے۔ ہمارے علاقے میں لوگ کم تعلیم یافتہ تھے۔ ذرائع ابلاغ بھی محدود تھے۔ لیکن اپنے وطن کے حصول کی خواہش ہر مسلمان کے  دل میںتھی۔ جب پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو ہم بہت خوش تھے۔ ہم اس بات پر بھی خوش تھے کہ ہمارا علاقہ پاکستان میں شامل ہے اور ہم یہاں ہی رہیں گے۔
س  :    جب آپ کو پتہ چلا کہ آپ کا علاقہ بھارت میں شامل کردیاگیا ہے تو اُس وقت آپ کی کیفیت کیا تھی؟
ج  :    ظاہر ہے ہمارا اطمینان بے چینی میں بدل گیا۔ افراتفری کی کیفیت  پیدا ہوگئی۔ اِرد گرد کے علاقوں سے فسادات کی خبریںبھی آرہی تھیں۔ اس لئے اب یہاں بھی فسادات کا ڈر تھا۔ سکھ کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتے تھے۔ اس لئے ہجرت کرنا ضروری ہوگیا تھا۔
س  :    ہجرت کے دوران کیا حالات و واقعات پیش آئے، کیا آپ کے قافلے پر بھی بلوائیوں نے حملہ کیا، پاکستان کے کِن علاقوں میں آئے؟
ج  :    ہم 14 اگست کے بعد بھی پٹی میں ہی رہائش پذیر تھے۔ عید الفطر بھی ہم نے وہاں منائی تھی لیکن جب ہمیں پتہ چلا کہ پٹی کا علاقہ بھارت میں شامل کردیاگیا ہے تو ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ سچ پوچھیں توہمیں یقین تھا کہ ہم عارضی طور پر جارہے ہیں، یہ علاقہ پاکستان میں دوبارہ شامل ہوگا اور ہم بہت جلد واپس آجائیںگے۔ اس لئے ہم نے بس ضرورت کی کچھ چیزیں لیں اور اپنا تمام سامان وہاں ہی چھوڑ دیا اور مکان کو تالا لگا کر آگئے۔ ویسے بھی ہجرت کے دوران زیادہ سامان لانا ممکن نہ تھا۔ اس وقت تو زیادہ اہم اپنی جانیں بچانا تھا۔ ہم نے تہہ خانے میں سامان چھپا کر لکڑیوں کے شہتیروں سے ڈھانپ دیا تھا۔ ہمارا ایک دُورکارشتہ دار آرمی کو سبزی سپلائی کرتا تھا، وہ آرمی کا ایک ٹرک لے کر آگیا۔ اس نے کہا کہ خواتین اور بزرگ اس میں سوار ہو جائیں ۔ ہماری والدہ نے کہا کہ میں اپنے بچوں کو چھوڑ کر نہیں جائوں گی۔ ہمارے کچھ رشتہ دار اس ٹرک میں بیٹھ کر آگئے۔ بعد میں ہم ٹرین کے ذریعے لاہور آئے۔ پٹی کا علاقہ قصور اور امرتسر کے درمیان ہے۔ ہم جب ٹرین کے ذریعے ولٹویا کے علاقے تک پہنچے تو ٹرین اچانک رُک گئی، سب پریشان ہوگئے۔ پتہ چلا کہ سکھوں نے آگے سے پٹری توڑی ہوئی ہے۔ دوبارہ ٹرین چلی تو ایک سکھ افسر اپنے سپاہیوں کے ساتھ جیپ پر ٹرین کے ساتھ چلتا رہا۔ اس کو پتہ تھا کہ کس علاقے میں سکھوں کی طرف سے حملہ ہو سکتا ہے وہاں وہ اپنی جیپ اس طرف کرلیتا تھا اور سپاہیوں سے ہوائی فائرنگ کراتا تھا۔ راستے میں چند جگہوں پر سکھوں نے حملہ آوروں کو بھگادیا اور یوں ہم بحفاظت قصور پہنچ گئے۔ یہاں پہنچ کر اﷲ کا شکر ادا کیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں پاکستان پہنچا تو میرے بدن پر میلے کپڑے اور پائوں میں چپل تھی۔
س  :جب آپ بے سروسامانی کے عالم میں پاکستان پہنچے تو پھر گزر بسر کیسے کی، تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا اور روزگارکیا تلاش کیا ؟
ج  :    ہم ایک یا دودن ریلوے سٹیشن پر ہی رہے۔ ہمارے رشتہ دار عاشق صاحب جو ہم سے پہلے پاکستان آچکے تھے، انہوںنے ایک مکان میں ہماری رہائش کا بندوبست کردیا۔ اس طرح ہمیں مہاجر کیمپوں میں نہیں رہنا پڑا۔ اس مکان میں ہم تقریباً ڈیڑھ مہینہ رہے۔ پٹی کے ایک صاحب عبدالحمید قریشی تھے جنہوںنے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ انہوںنے 'زمیندار' اخبار کے سامنے والی پیلی بلڈنگ الاٹ کروائی تھی۔ بعد میں کبھی ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ میرے والد صاحب1945 میں وفات پاچکے تھے اس لئے تعلیم جاری رکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ تلاشِ معاش کی فکر تھی۔ قصور سے لاہور آئے اورچند دن کے بعد گوجرانوالہ چلے گئے۔ وہاں ایک مکان الاٹ ہوگیااور حصولِ روزگار کے لئے میںنے ایک  ریڑھی لگائی پھر چھابہ لگالیا،بنیانیں اور سویٹر وغیرہ بیچا کرتا تھا۔ ریڑھی بلدیہ والے لگانے نہیں دیتے تھے۔ ایک دکان والا مہربان شخص تھا، اُس کی دکان کے باہر چھابہ لگانا شروع کردیا۔ پولیس آتی تو چھابہ دکان کے اندر رکھ دیتا۔ کچھ عرصہ اوکاڑہ چھائونی میں کام کیا۔1965 کی جنگ کے وقت ہم گوجرانوالہ میں ہی تھے۔ صبح کے وقت جہازوں کی آوازیں آئیں۔ جب صدر ایوب خان نے تقریر کی تو پوری قوم میں ایک جذبہ اور ولولہ پیدا ہوگیا اور پاکستانی فوج نے بھارت کو عبرتناک شکست سے دوچار کردیا۔
س  :     کیاآپ سمجھتے ہیںکہ موجودہ پاکستان قائداعظم کے نظریات اور خواہشات کے مطابق ہے؟
ج  :    قائداعظم ایسا پاکستان چاہتے تھے جس میں برصغیر کے مسلم اکثریت والے تمام علاقے شامل ہوںلیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوںنے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا لیکن وہ بھارت کے قبضے میں ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعدقائداعظم  کے فرمودات پر عمل کرنے کے بجائے بدعنوانی، اقرباء پروری اور ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی جانے لگی۔ ہم ابھی تک کالاباغ ڈیم نہیں بنا سکے لیکن جو بھی ہے پاکستان ہمارا وطن ہے۔ اس کی  تعمیرو ترقی ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں اس کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہئے۔ ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہئے۔ سب سے بڑھ کر آزادی اور اپنے وطن کی قدر کرنی چاہئے۔مجھے حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو کہتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ حالانکہ ہمیں سوچنا کہ آج ہم جس مقام پر ہیں پاکستان کی وجہ سے ہیں تو ہم نے پاکستان کو کیادیاہے؟  آج جو کچھ میرے پاس ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ہے۔
س  :    قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ج  :    سچائی اور دیانت داری کو اپنا شعار بنائیں۔ جھوٹ، بدعنوانی اور کاہلی سے بچیں، محنت کے بغیرکامیابی نہیں ملتی۔ پاکستان جہدِ مسلسل سے بنا ہے۔ مسلسل جدوجہد سے ہی ہم اس کو مستحکم کرسکتے ہیں۔ علم ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے جس قدر ممکن ہو علم حاصل کریں ، علم صرف نصابی تعلیم کا نام نہیں ہے۔ علم ایک سمندر ہے دینی اور دنیاوی علوم دونوں حاصل کرنے چاہئیں۔ بقول حکیم محمدسعید: پاکستان سے محبت کریں، پاکستان کی تعمیر کریں۔ 
 

Read 31 times


TOP