متفرقات

توشاہین ہے۔۔۔

بابا! 
جی بابا کی جان!
پرندے کیسے اڑتے ہیں؟ 
پرندے پروں سے اڑتے ہیں جانِ بابا۔
تو جن کے پر نہیں ہوتے وہ۔۔۔؟
وہ کیا۔۔۔؟؟؟
کیا وہ کبھی نہیں اڑ پاتے؟
ہم.. م..م ۔۔اور پر کِن کے نہیں ہوتے؟
جیسے میرے
ہاہاہاہا۔۔۔تو یہ بات ہے
میں کبھی نہیں اڑ پائوں گا؟
کیوں نہیں بابا کی جان آپ ضرور اڑو گے۔۔۔اچھا بتا ئوآپ کا نام کیا ہے؟
بابا۔۔۔آپ ہی نے تو رکھا ہے، آپ کو نہیں پتہ کیا ہے؟
بابا کی جان آپ بتا ئوذرا بولو اپنا نام۔
اخطب ۔
آپ کو پتہ ہے عربی زبان میں اخطب کسے کہتے ہیں؟
کسے؟
شاہین کو۔
شاہین کو؟؟؟
ہاں شاہین کو اور شاہین ہمیشہ بہت اونچی پرواز کرتا ہے۔۔۔اور میرا بیٹا ۔۔میرا شاہین۔۔۔میرا شہپر۔۔۔ہمیشہ بلند پرواز کرے گا انشا ء اللہ۔
بابا !!
جی بابا کی جان!
پرندے گرتے کیوں نہیں؟
کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں تھام لیتا ہے اس لئے یہ نہیں گرتے۔
تو جب میں اڑوں گا تو اللہ تعالیٰ مجھے بھی تھام لیں گے ۔۔۔میں بھی نہیں گروں گا ؟
ہاں میری جان جب آپ اڑو گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو بھی تھام لے گا اور آپ کبھی نہیں گرو گے۔
*****
سرمد ہمارا بیٹا ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔؟؟؟
مسز سرمد نے روتے روتے سرمد صاحب کے بازو سے سر ٹکایا تو ان کی سوچوں کا ربط ٹوٹا۔۔۔اور وہ ماضی سے حال میں لوٹے۔
حقیقت کا سورج بڑا بے مروت ہے
بے رحم ہے۔۔۔
لمحۂموجود بھی حقیقت کے سورج کی مانند بے مروت تھا بے رحم تھا۔۔۔ سرمد صاحب نے درد سے پھٹتے دل پہ ہاتھ رکھ کر آپریشن تھیٹر کے بند دروازے کو دیکھا اور بہت دھیمے لہجے میں بولے۔
ہاں۔۔۔اللہ تعالیٰ اسے تھام لیں گے۔۔۔وہ ہمارے شاہین۔۔۔ ہمارے شہپر کو گرنے نہیں دے گا۔۔ہمارے اخطب کو کچھ نہیں ہو گا ان شا ء اللہ
*****
بابا۔۔۔کل آپ نے آفس نہیں جانا ؟
چھوٹا سا اخطب ڈائیننگ ٹیبل پہ بیٹھا آس بھری نظروں سے باپ کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
نہیں بابا کی جان کل نہیں جانا کل کا سارا دن ہمارے بیٹے ہمارے شاہین کے نام۔
سرمد صاحب نے مسکرا کے کہا تو ننھی آنکھیں خوشی سے جھلملا اٹھیں
کل موٹر گلائیڈنگ کے لئے چلیں گے۔
ننھے بچے نے جوش سے کہا۔
آں ہاں۔۔۔موٹر گلائیڈنگ۔۔۔
آپ نے وعدہ کیا تھا
ننھا بچہ باپ کے پُر سوچ انداز پہ فوراً بولا
 مجھے اپنا وعدہ یاد ہے یار لیکن کل کچھ اور کرتے ہیں۔۔۔
سرمد صاحب نے ہنستے ہوئے کہا تو ننھی آنکھوں کی جوت یکلخت بجھنے لگی
نہیں مجھے اڑنا ہے بس اور کچھ نہیں کرنا۔۔۔مما دیکھیں بابا اپنے وعدے سے مکر رہے ہیں۔
ننھے شاہین نے فورا ماں کو وکیل بنایا
عموماً بیٹوں کی ماں سے زیادہ دوستی ہوتی ہے لیکن اخطب کی اپنے باپ سے دوستی دیدنی تھی۔
مکر نہیں رہا یار بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ کل نہیں کسی اور دن۔۔۔اب اتنی سی بات پہ اتنا بڑا الزام تو نہ لگائو۔
سرمد صاحب نے آنکھ دبا کر بیگم کو اشارہ کیا اور مسکرا کے ننھے اخطب کو تنگ کرنے لگے
*****
وہ معمول کے پیٹرولنگ مشن پہ تھا۔۔۔آج بھی اس کی سولو فلائٹ تھی لیکن کون سی پہلی بار تھی۔۔۔سالوں سے وہ ان فضائو ں میں اڑ رہا تھا۔۔۔ہزاروں کامیاب مشن کئے تھے اس نے۔۔۔بارہا دشمن کو دُم دبا کر بھاگنے پہ مجبور کیا تھا اس نے۔۔۔لیکن آج کی رات بہت بھاری تھی۔۔۔سیاہ، خاموش اور پراسرار۔۔۔جیسے کچھ ہونے کو ہو۔۔۔لیکن کیا۔۔۔ابھی وہ انہی سوچوں میں تھا کہ اچانک ریڈار وارننگ ریسیورز چیخ اٹھتے ہیں۔۔۔
دشمن بائیں طرف سے آپ کی جانب بڑھ رہا ہے۔۔۔اوور
اور وہ انتہائی پھرتی سے بائیں طرف غوطہ لگاتا ہے۔۔۔اور لمحے کے ہزارویں حصے میں دشمن طیارے کو جا دبوچتا ہے
دشمن طیارہ رات کے آخری پہر یہ سوچ کر سرحد پار آیا تھا کے اس پار کے لوگ سو رہے ہوں گے اور وہ حسبِ عادت شب خون مار کے بھاگ نکلے گا۔۔۔ لیکن بدنصیب دشمن یہ نہیں جانتا تھا کہ اس پار کے عقاب کبھی نہیںسوتے۔۔۔ اس دیس کے محافظ ہر گھڑی بیدار رہتے ہیں۔۔۔اور جیسے ہی اس حقیقت کا ادراک ہوا بزدل دشمن دم دبا کر بھاگ نکلا۔۔جیسے ہی دشمن طیارہ واپس پلٹا میراج طیارے کی کنوپی اور کنٹرول روم میں بیک وقت نعرئہ تکبیر گونجا۔اللہ اکبر
*****
سرمد صاحب آپ دعا کریں اللہ کرم کرے گا۔۔۔ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
 ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا تو سرمد صاحب دیوانہ وار اس کی جانب لپکے۔
مسز سرمد کے آنسو مزید شدت اختیار کرنے لگے اورذہن میں رہ رہ کے ایک ہی آواز گونجنے لگی۔
وطن جب جیت جاتا ہے تو مائیں ہار جاتی ہیں۔۔۔
نہیں اللہ جی نہیں۔۔۔اس بار نہیں۔۔۔کبھی معجزے بھی تو ہو جاتے ہیں ۔۔۔وطن اور مائیں دونوں بھی تو ایک ہی وقت میں فاتح ہو سکتے ہیں ۔۔۔ہمیشہ شہید ہی کیوں کوئی غازی بھی تو ہو سکتا ہے ۔۔۔
الٰہی مجھے شہادت سے انکار نہیں۔۔۔میرے دادا نے، میرے باپ نے تیرے نام پہ اس دیس پہ جان لٹائی تھی۔۔۔میں شہید ابن شہید کی بیٹی ہوں مجھے پتہ ہے شہادت کی عظمت کیا ہوتی ہے۔۔۔لیکن میرے مولا میرے اخطب کو زندگی بخش دے۔۔۔اس لئے نہیں کہ مجھ میں اپنے اکلوتے بیٹے کو کھونے کا حوصلہ نہیں بلکہ اس لئے کہ مجھ میں اس یقین کو کھونے کی ہمت نہیں جو ہمیں تجھ پر ہے اور رہے گا۔۔۔وہی یقین جو میرے سہاگ نے لمحہ لمحہ، قطرہ قطرہ، میرے بیٹے کی رگوں میں انڈیلا تھا کہ وہ جب بھی اڑے گا اللہ تعالیٰ اسے تھام لے گا کبھی گرنے نہیں دے گا۔۔۔میرے مالک ہمیں ہمارا یقین ، ہمارا اخطب بخش دے!
*****
سرسکواڈرن لیڈراخطب سرمد کامیاب مشن کے بعد جب واپس آ رہے تھے جب اچانک ان کے طیارے کے انجن نے کام کرنا چھوڑ دیا۔۔۔طیارہ یکدم بے قابو ہو کرآبادی پر گرنے لگا تو پائلٹ حتی المقدور تگ و دو سے طیارہ کو آبادی سے دُور لے گیا۔۔۔لیکن بد قسمتی سے وہ طیارے کو گرنے سے نہیں بچا سکے۔۔۔۔
آفیسر اور بھی بہت کچھ بتا رہا تھا لیکن سرمد صاحب کا ذہن ماضی کی طرف چل نکلا تھا۔۔۔اخطب کا بچپن اور وہ حادثہ کسی سلو موشن فلم کی طرح ان کے ذہن کی سکرین پہ چلنے لگا تھا۔
بابا مجھے اکیلے اڑنا ہے ۔ پلیز!
جب آپ بڑے ہو جائو گے تو پھر اکیلے ہی اڑو گے وعدہ۔
میں بڑا ہو گیا ہوں یہ دیکھیں۔
پانچ سالہ اخطب نے پنجوں کے بل کھڑے ہو کے کہا تو سرمد صاحب بے ساختہ ہنسے۔
اک طرف بیٹے کی خوشی تھی اور دوسری طرف اس کی حفاظت کے ناکافی انتظامات۔۔۔ان کا دل عجیب امتحان میں تھا۔۔۔ اس دن بھی یہی ہوا تھا۔اخطب محوِ پرواز تھا کہ اچانک مشین اپنا کنٹرول کھونے لگی۔۔۔اور مشین تیزی سے زمین کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔ابھی وہ دشمن سے کامیاب مقابلہ کرکے لوٹ رہا تھا۔ ابھی تو اس نے اپنی فتح کی داستان اپنے ساتھیوں اور اپنے گھر والوں سے شیئر کرنی تھی۔ مگر پتہ نہیں جہاز کے انجن کو کو کیا ہوا کہ اس کے پاس چند لمحے ہی بچے۔ جہاز سیدھا نیچے ہی جارہا تھا۔ وہ آگے آگے آبادی سے دور لے گیا، اس کو موت یقینی نظر آئی۔ جہاز زمین سے ٹکرا یا مگر ۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اڑتے ہوئے اخطب کو تھام لیا،گرنے سے بچا لیا تھا۔۔۔معجزہ رونما ہو چکا تھا!
*****
آپ تو کہتے تھے کہ جب جب میں اڑوں گا تو اللہ تعالیٰ مجھے تھام لیا کریں گے اور مجھے کبھی بھی گرنے نہیں دیں گے۔۔۔پھر کیوں میں گر گیا۔۔۔کیوں اللہ تعالیٰ نے مجھے نہیں تھاما۔۔۔کیوں مجھے گرنے دیا۔۔۔کیوں بابا کیوں؟؟؟ 
پٹیوں میں جکڑا وجود بے بسی کی انتہا پہ تھا۔
اور اس وقت سرمد صاحب کو اس کا باپ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا بہترین دوست ہونے کا حق بھی نبھانا تھا۔۔۔تبھی وہ بڑے ضبط سے گویا ہوئے۔
اللہ تعالی نے تمہیں تھام لیا تھا تبھی تم اس وقت ہمارے پاس ہو۔۔۔زندہ ہو۔۔۔
ابھی سرمد صاحب کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ اذیت سے چِلّا اٹھا۔
نہیں ہوں میں زندہ۔۔۔نہیں ہوں۔۔۔آپ کو پتہ ہے ایک ہوا باز کب مرتا ہے۔۔۔جب وہ پرواز کے قابل نہ رہے۔۔۔آپ کا شاہین مر گیا ہے بابا جان۔۔۔آپ کا شہپر اڑنے کے قابل نہیں رہا۔۔۔
اس کے لہجے میں موت کی سی اذیت سرمد صاحب کا دل اندر تک کاٹ گئی تھی لیکن انہیں ہمت نہیں ہارنی تھی اور نہ ہی اسے ہارنے دینی تھی اسی لئے وہ پھر سے گویا ہوئے
تمہیں پتہ ہے شاہین پہ ایک وقت آتا ہے جب اس کے پر اتنے موٹے ہو جاتے ہیں کہ وہ اڑنے کے قابل نہیں رہتا۔۔۔اور وہ فیصلے کی گھڑی ہوتی ہے۔۔۔اس پل اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں۔۔۔ایک کہ چپ چاپ موت کو قبول کر لے۔ جو ہو رہا ہے ہونے دے خاموش تماشائی بن جائے۔۔۔یا پھر زندگی کے لئے موت سے لڑ جائے۔۔۔شاہین کو اس ایک لمحے میں سسکتی زندگی اور اڑان میں سے کسی ایک کو چننا ہوتا ہے اور تب وہ اپنی پرواز کا مشکل ترین انتخاب کرتا ہے۔۔۔اور پہاڑوں کی چوٹیوں پہ خلوت نشین ہو جاتا ہے۔۔۔اپنی چونچ سے اپنے پر اکھاڑ پھینکتا ہے اور پھر اپنی چونچ پتھروں سے ٹکرا ٹکرا کے توڑ دیتا ہے۔۔۔یہ عمل کبھی بھی آسان نہیں ہوتا لیکن وہ کرتا ہے۔۔۔کیوں۔۔۔اتنی اذیت،آخر کس لئے۔۔۔فقط پرواز کے لئے۔۔۔ اور پھر یہ سارا کشٹ جو اس نے کاٹا ہوتا ہے۔ اس کا صلہ نئی چونچ اور نئے پروں کی صورت ملتا ہے۔۔۔اور وہ شاہین پھر سے پرواز بھرتا ہے۔۔۔پھر سے اونچی اڑان اڑنے لگتا ہے۔۔۔تو اگر تم بھی شاہین ہو اور پرواز تمہارا جنون ہے تو پھر تمہیں بھی پہاڑوں کی چوٹیوں پہ خلوت نشین ہونا پڑے گا۔۔۔اپنے پر نوچ کے پھینکنے ہوں گے۔۔اپنی چونچ پتھروں سے ٹکرا ٹکرا کے توڑنی ہو گی۔۔۔ تب جا کر عشق کے امتحان میں سرخروئی ہو گی۔۔۔پھر کہیں طاقتِ پرواز عطا ہو گی۔۔۔یہ تمہارے فیصلے کی گھڑی ہے۔۔۔تمہیں اس ایک لمحے میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔۔۔فیصلہ تمہارا ہے۔۔۔ساری عمر اسی سوگ میں بستر پہ پڑے رہنا ہے یا پھر سے بلند فضا میں اڑان بھرنی ہے!
اور سکواڈرن لیڈر اخطب سرمد کے دل نے لمحے کے ہزارویں حصے میں فیصلہ صادر کر دیا تھا۔۔۔پھر سے بلند فضائوں کی اڑان بھرنے کا فیصلہ۔۔۔اپنے پر اپنی چونچ سے نوچ پھینکنے کا فیصلہ۔۔۔اپنی چونچ خود پتھروں پہ مار مار کے توڑ دینے کا فیصلہ۔۔۔اور اب وہ دل سے اس فیصلے کا کشٹ کاٹنے کو تیار تھا۔۔۔ مسز سرمد کی دعائیں اور سرمد صاحب کی محنت رنگ لانے لگی تھی۔
بہت تیز، اب میں چلا ہوں، 
میرے خواب پیچھے پڑا
لو دیکھو، کہاں میں کھڑا، 
آسماں بھی ہے نیچے پڑا


[email protected]

Read 27 times


TOP