متفرقات

بڑے لوگوں کی کہانیاں

''میںنے سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا،شراب کی ایک دفعہ چُسکی لی تھی اس کے بعد توبہ کرلی۔آندھی ہو یا طوفان روزانہ صبح چھ بجے اُٹھ کر دس میل دوڑتا ہوں اور آدھے گھنٹے تک یوگا کرتا ہوں، ناشتے میں دودھ، کھجوروں اور خالص شہد کے علاوہ کچھ نہیں لیتا۔ میںنے بارہ برس کی عمر کے بعد کبھی نماز نہیں چھوڑی۔ آج تک میںنے جس شخص سے بھی وعدہ کیا ہے اسے پورا کیا ہے۔ میں کبھی کسی ملاقات یا تقریب میں تاخیر سے نہیں پہنچتا بلکہ دس منٹ پہلے پہنچ کر میزبان کا انتظار کرتا ہوں۔ اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود میں نہ صرف اپنے بیوی بچوں بلکہ پورے خاندان کو وقت دیتا ہوں۔ اُن کے کام آتا ہوں، چھٹی کے روز میں اپنے تمام رشتہ داروں کو فون کرتا ہوں۔ مہینے میں ایک مرتبہ کسی نہ کسی عزیز کے گھر جاتا ہوں، کوئی بیمار ہو تو اس کی عیادت کو سب سے پہلے پہنچتا ہوں۔ کہیں مرگ ہوجائے تو سب سے پہلے تعزیت کے لئے پہنچے والا شخص میں ہوتا ہوں اور سب سے آخر تک رہتا ہوں۔میںنے اپنے بچوں کی تربیت ایسے کی ہے کہ انہیں کسی آئی پیڈ، فون یا لیپ ٹاپ کی لت نہیں پڑی، پندرہ برس کی عمر کو پہنچنے تک وہ ملٹن سے کیٹس تک اور سقراط سے برٹینڈر سل تک کی تمام کتابیں گھول کر پی چکے ہیں۔ ہر امتحان میں اول آتے ہیں، تقریر ی مقابلوں میں سکول کی نمائندگی کرتے ہیں اور تیراکی، تیراندازی، نیزہ بازی اور گھڑ سواری میں چیمپیئن ہیں، میںنے اُن کی ذہنی تربیت کے لئے اتالیق مقرر کر رکھا ہے جو اُنہیں فلسفے، منطق اور مذہب کی تعلیم دیتا ہے، میری بیوی دنیا کی سگھڑ عورت ہے، کم پیسوں میں گھرچلانے کا ہنر جانتی ہے ، گھر کی تمام تزئین و آرائش اس نے کسی پروفیشنل ڈیزائنر کی طرح کی ہے۔ یورپی سفارت خانے اکثر اس کی انٹیریئر ڈیزائننگ کی خدمات حاصل کرتے ہیں، انگریزی ادب میں اس نے ایم اے کر رکھا ہے مگر اسلامی فلسفہ اور تاریخ کی حافظہ ہے، قرآن و حدیث کا وسیع مطالعہ ہے ۔ فارغ اوقات میں غریب بچیوں کے لئے جہیز بناتی ہے ۔ میرے گھروالے بھی میری طرح ڈسپلن کے بہت پابند ہیں اور ہم نے اس طرح اپنی زندگی کو مختلف خانوں میں ڈیزائن کررکھا ہے۔''
جب میں چھوٹا تھا تو اس قسم کی باتوں سے متاثر ہوجایا کرتا تھا۔ اب میں بڑا ہوگیا ہوں۔اب میں لوگوں کو اس قسم کی باتوں سے متاثر کرتا ہوں۔ لڑکپن کے زمانے میں جو شخص میرے سامنے اس قسم کے دعوے کرتا میں حیرت زدہ ہو کر ان پر ایمان لے آتا تھا۔ کچھ قصے بھی اسی طرح کے ہم نے سُن رکھے تھے جن کی رو سے بڑے آدمیوں میں ایسی خوبیاں ہوتی ہیں کہ وہ دسمبر کی برفانی رات میں تَیر کر دریا پار کرسکتے ہیں، اُنہیں آٹھ آٹھ دن تک نیند نہیں آتی، وہ بغیر آرام کئے مسلسل چھتیس گھنٹے تک کام کرسکتے ہیں۔ ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر جملہ دانائی میں ڈوبا ہوا اور ان کا ہر اقدام تاریخی ہوتا ہے۔ عبادت گزار ہوں تو یہ دعویٰ ساٹھ برس تک عشاء کی نمازباوضو ہو کر ادا کی اور پھر اُسی وضو میں فجر پڑھ کر سوئے وغیرہ وغیرہ۔ دُنیا میں کوئی بھی انسان ایسا نہیںہے جس میں یہ تمام خوبیاں یا اُن کا دس فیصدبھی پایا جاتا ہو۔ انسانوں کے جذبات ہوتے ہیں، ان میں اچھائی کے ساتھ ساتھ برائی کرنے کی بھی بے پناہ  خواہش ہوتی ہے، وہ بیماربھی پڑتے ہیں، زندگی کی روٹین سے بور ہیں، ڈسپلن کے پابند بھی ہوتے ہیں اور اس کے باغی بھی ہوتے ہیں۔ بیک وقت زاہد بھی ہوتے ہیں اور گناہگار بھی۔ کسی کی شکل اچھی ہوتی ہے تو کسی کوخدا عقل سے نوازدیتا ہے۔ کسی کی اولاد قابل ہوتی ہے تو کسی کو شریکِ حیات آئیڈیل مل جاتی ہے۔ کسی کو ورزش کرنے میںمزہ آتا ہے تو کسی کو سگار پینے میں لطف آتا ہے۔ کوئی شراب پی کر بیمار نہیں ہوتا اور کوئی بغیر سگریٹ کا کش لگائے ہارٹ اٹیک سے مرجاتا ہے،  کسی کو خدا تخلیقی صلاحیت عطا کرتا ہے تو کسی کا حافظہ ایسا ہوتا ہے کہ اسے فوٹوگرافک میموری کہا جاتا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدانے انسان میں بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں مگر تمام صلاحیتیں چند مخصوص انسانوں کو نہیں دیں بلکہ ہر انسان کی صلاحیت اور صفت دوسرے سے مختلف ہے۔ کامیاب لوگ جب اس قسم کے محیر العقول دعوے کرتے ہیں تو دراصل انہیں جھٹلانے کی کسی میں ہمت نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنی کامیابی کی ڈھال کے پیچھے چھپ کر یہ تمام دعوے کرتے ہیں کہ انہوںنے کبھی زندگی میں جھوٹ نہیں بولا، کبھی وعدہ خلافی نہیں کی، کبھی کوئی روزہ نہیں چھوڑا، کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا۔۔۔ کامیاب انسان میں یقینا دوسروں سے بڑھ کر کچھ خوبیاں ہوتی ہیں ۔ وہ زیادہ ذہین، محنتی اور نظم و ضبط کا پابند ہوتا ہے مگر وہ سب کچھ بہرحال نہیں ہوتا جس کا طمطراق سے دعویٰ کرتا ہے۔ اس کی کامیابی ان صلاحیتوں کے ساتھ ان عوامل کی مرہونِ منت بھی ہوتی ہے جنہیں مقدر کہا جاتا ہے، وہ کامیاب شخص کو یہ کہنے کی عیاشی میسر آجاتی ہے کہ میں گزشتہ تیس سال سے روزانہ صبح چھ بجے اُٹھ کر دس میل دوڑتا ہوں اور آج تک ناغہ نہیں کیا۔ کوئی اس بن جانسن کی اولادسے نہیں پوچھتا کہ قبلہ کیا آپ نے آبِ حیات پی رکھا ہے؟
یہ درست ہے کہ انسان اگر عبادت کرنے پر آئے تو کئی دہائیوں تک نماز قضا نہ ہونے دے۔ اگر محنت کرنے پر آئے تو چھتیس گھنٹے نیند کا ہوش نہ رہے اور اگر اپنے جسم سے کام لینا چاہے تو ناقابلِ یقین کرتب دکھا کر دنیا کو متحیر کردے ۔ مگر ایسا ممکن نہیں کہ ایک ہی انسان یہ سب کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور پھر ہمارے سامنے ایک نارمل نائن ٹو فائیو کی دفتری زندگی بھی گزارے، بیوی بچوں کو وقت بھی دے اور دین و دنیا بھی نبھائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی خطا کا پتلا ہے، لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھتے ہوئے ہم نے ہر وہ کام کیا جس سے منع کیاجاتا ہے (اور اگر کسی نے نہیں کیا تو اس کی بدقسمتی پر رشک ہی کیا جاسکتا ہے) وہ انسان مجھے تو آج تک نہیں ملا جس نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو، جس سے کبھی غلطی نہ ہو ئی ہو اور آج بھی ویسا ہی معصوم ہو جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ 
میری بھی خواہش ہے کہ میں یہ تمام دعوے کروں جو میںنے کالم کے شروع میں بیان کئے ہیں مگر میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے فلو ہے اور فلو کی دوا لینے کے بعد میں گھوڑے بیچ کر سو جائوں گا حالانکہ آج ہی میںنے تہیہ کیا تھا کہ دوپہر کو کبھی نہیں سوئوں گا۔ اس کے بعد ایک تقریب میں شرکت کرنی ہے، وہاں کچھ تاخیر سے پہنچوں گا، حالانکہ یہ وعدہ بھی کررکھا ہے کہ کبھی لیٹ نہیں ہوں گا اور پھر رات کو ایک کھانے کی دعوت پر جانا ہے حالانکہ ہزار  مرتبہ خود سے وعدہ کرچکا ہوں کہ رات کا کھانا چھوڑ کر وزن کم کروں گا۔ مگر افسوس کہ میں ابھی اتنا بڑا آدمی نہیں بن سکا جو یہ دعویٰ کر سکوں کہ میں دسمبر میں ٹھنڈے پانی سے نہا کر کالم لکھ سکتا ہوں، مجھے تو یہ سوچ کر ہی غش پڑ جاتا ہے۔


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔
 [email protected] 
 

Read 24 times


TOP