یوم پاکستان کے موقع پر افواج پاکستان کی مشترکہ پریڈ

Published in Hilal Urdu

تحریر: غزالہ یاسمین ، ازکی کاظمی


راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکر پڑیاں گرائونڈ ہمیشہ کی طرح ولولوں اور جذبوں کی بھرپور عکاسی کررہا تھا۔ افواج پاکستان کے جدید ہتھیاروں سے لیس چاق چوبند دستے بڑے وقار سے ایستادہ تھے۔ ان کے شانہ بشانہ دوست ممالک اردن اور متحدہ عرب امارات کے فوجی دستوں کی شرکت نے ان لمحات کو مزید یادگار بنا دیا تھا ۔ سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا پاکستان ڈے پریڈ میں ''گیسٹ آف آنر '' کے طور پر شریک ہوئے۔
یوم پاکستان پریڈ میں ''امن کانشان یہ ہمار ا پاکستان''
The Land of Peace
کی خوب جھلک پیش کی گئی اور عزم کیا گیا کہ پاکستان کے خلاف ریشہ روانیوں میں مصروف دہشت گردوں، انتہاء پسندوں اور سماج دشمن عناصر کو ہر صورت شکست دینا ہے ۔ پریڈ گرائونڈ میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان موجود تھے۔بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی پریڈ وینیو پہنچے ۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائرچیف مارشل مجاہد

pakamankanishan.jpg

انور خان چونکہ فلائی پاسٹ کی قیادت کررہے تھے، ان کی جگہ وائس چیف آف ائیر سٹاف ائیر وائس مارشل ارشد ملک نے اسٹیج پر ان کی نمائندگی کی۔ ان کے بعد چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور وزیر دفاع خرم دستگیر پریڈ وینیو پہنچے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے بعد سری لنکا کے صدر چبوترے پر تشریف لائے تو وزیر اعظم نے ان کا استقبال کیا۔ بگل بجا کر صدر مملکت ممنون حسین کی آمد کا اعلان ہو ا جو پریذیڈنٹ باڈی گارڈ کی روایتی بگھی میں سوار ہو کر تقریب میں پہنچے۔ وزیر اعظم اور مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔
صدر مملکت نے پریڈ کمانڈر بریگیڈئیر عامر امین کے ہمراہ پریڈ میں شامل 11بلوچ رجمنٹ(پانڈو بٹالین)،32آزاد کشمیر رجمنٹ(بہادر بٹالین)، 18سندھ رجمنٹ(تیری شان میری شان یک جان)، فرنٹیئرکور رجمنٹ (خیبرپختونخوا)، پاک بحریہ، پاک فضائیہ، پاکستان رینجرز(پنجاب)، پاکستان پولیس فورس، آرمڈ فورسز لیڈیز آفیسرز، بوائز سکائوٹس،گرلز گائیڈ، پاک آرمی نرسنگ سروسز اور سپیشل سروسز گروپ 4کے دستوں کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد مارچ پاسٹ کا آغاز پریڈ کمانڈر بریگیڈیئر عامر امین کی قیادت میں ہوا ، فوج کے تمام دستوں نے مارچ کے دوران مکمل ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ۔ پاکستان کا آخری پیدل دستہ کمانڈو بٹالین سپیشل سروسز گروپ کا تھا جو 'اﷲ ھُو' کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنے منفرد انداز میں سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا جس پر سامعین نے کھڑے ہو کر داد دی۔ اس کے بعد پاک فضائیہ کے شاہینوں کا فلائی پاسٹ شروع ہوا۔ جس کی قیادت ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان کر رہے تھے۔ ائیر چیف نے روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایف16 طیارے میں پریڈسکوائر کے اوپر شاندارورٹیکل رول کا مظاہر ہ کیا اوراپنے طیارے سے ریڈیو کمیونیکشن کے ذریعے پاکستانی قوم کے عزم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔بعدازاں جب وہ سلامی کے چبوترے پر پہنچے تو پریڈ گرائونڈ تالیوں سے گونج اٹھا۔

pakamankanishan1.jpg
اس موقع پر صدر مملکت ممنون حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشرق میں ہمارا ہمسایہ اپنی فوجی قوت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر جارحیت کے ذریعے بے گناہ شہریوں کے جان و مال کا نقصان کیا جا رہا ہے۔ اس کے غیر ذمہ درانہ طرز عمل سے خطے کا امن دائو پر لگارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور علاقائی تعمیر و ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہر قسم کی جارحیت، توسیع پسندی ، استحصالی عزائم اور دوسروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ۔ پاکستان اسی اصول پر کاربند ہے اور توقع رکھتا ہے کہ عالمی برادری بھی انہی مسلمہ اصولوں کی پاسداری کرے گی ۔


صدر مملکت نے مزید کہا کہ افغانستان میں بدامنی کے خاتمے اور افغان حکومت کی عمل داری کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان نے تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے اور ہم اس مقصد کے لئے اپنے دوستوں اور تمام شراکت داروں کے ساتھ مثبت کردار مستقبل میں بھی ادا کرتے رہیں گے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور جنگ و جدل نے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد جیسی کارروائیوں کے ذریعے اس چیلنج کا مقابلہ پورے عزم وہمت سے کیا۔ صدر مملکت نے اس موقع پر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمہ کے لئے دی جانے والی ان قربانیوں کے اعتراف میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ایک نئے میڈل '' تمغہ عزم '' کا اعلان بھی کیا ۔

 

تعبیر کا سفر

یومِ پاکستان پریڈ کے شائقین کے تاثرات پر مبنی ہلال کی نمائندہ خصوصی ازکیٰ کاظمی کی رپورٹ

اے صُبح ِ یومِ وطن تیری دِلکشی کو سلام!
آج ہم پاکستان کی تاریخ کا وہ دن منا رہے ہیں جو فکرِ اقبال کی اصل تصویر ہے۔۔۔ اسلام آبادشکر پڑیاں پریڈ گرائونڈ میں مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ نے جونہی اپنی جگہ لی اور پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کا عَلم بردار دستہ مارچ کرتے ہوئے سلامی کے چبوترے کی جانب گامزن ہوا تو حاضرین محفل سالمیت کے پرچم کی حُرمت و ناموس کی خاطر اپنی نشستوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
اس تقریب میںسول و فوجی افسران،ان کی فیملیز، اداکاروں، سکولوں کے بچوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے و الے لوگوں کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔مختلف سکولوں کے چند بچوں سے جب پوچھا گیا کہ آج کا دن ہمیں کیا پیغام دیتا ہے تو اس کے جواب میں، ہانیہ رضا جو اے پی ایس میں زیرتعلیم ہے، نے کہا کہ یہ دن ہمیں

Unity

کا میسج دیتا ہے۔ راسم رہبر جو طالب علم ہیں کا کہنا تھا کہ ہم یہ

Events

بہت انجوائے کرتے ہیں۔ خدا ہمارے وطن کو ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین! کثیرتعداد میں موجود اساتذہ میں سے ایک علی یوسف کا کہنا تھا کہ یہ دن ثمر ہے ان کاوشوں کا جو ہمارے رہنمائوں نے کیں۔ ہم پر اس مٹی کا قرض ہے اور یہ قرض ہمیں اس کو پُرامن اورخوشحال بنا کر اتارنا ہے۔ پاک فضائیہ سے تعلق رکھنے والے ایک آفیسرسکاڈرن لیڈر اقدس سجاد کی فیملی سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ وہ وطن کے لئے کس قدر محبانہ جذبہ رکھتے ہیں۔ آفیسر کی زوجہ اور بچے بے حد مُسکراتے چہروں کے ساتھ بری، بحری اور فضائی مظاہروں پر تالیوں کے ذریعے اظہارِ محبت کررہے تھے۔ ان معصوم بچوں کا کہنا تھا کہ ہم بڑے ہو کر پاکستانی فوجی بننا چاہتے ہیں، جیسے یہ آسمان پر اُڑ رہے ہیں، ایک دن ہم بھی ایسے ہی اُڑیں گے۔ آفیسر کی والدہ نے فخریہ انداز میں بتایا کہ ان کوآج بھی وہ دن یاد ہے جب اس قوم کے رہبر نے ہمیں غلامی سے آزاد کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ قائدِاعظم کی محنت اور کوشش تھی جس کی وجہ سے آج ہم ان آزاد فضا ئوںمیں سانس لے رہے ہیں۔
چند صفوں میں ریٹائرڈ فوجی افسران اور ان کی فیملیزبھی موجود تھیں۔ اِن میںسے ایک آفیسر لیفٹیننٹ کرنل سلیم رضا (ر) کے خیالات یہ تھے کہ اس وطن کی ناموس کی خاطرکل بھی ہماری جان حاضرتھی اور ہمیشہ رہے گی۔سروے آف پاکستان سے تعلق رکھنے والے اعجاز عباس صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کے والد عینی شاہد ہیں اُن تمام حالات و واقعات کے جو پاکستان کو حاصل کرنے کے دوران رونماہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اُس وقت قائد اعظم یہ بیڑا نہ اٹھاتے تو آج ہمارا سر اُٹھا کر جینا محال ہوتا۔
اگلی صفوں پر نظر ڈالی تو سفید کپڑوں میں ملبوس چند روشن چہروں پر نگاہ ٹھہرگئی اور کیوں نہ ٹھہرتی ، کہ یہ ہماری بری ، بحری اور فضائی افواج کے وہ فوجی جوان تھے جو اپنی خدمات وطنِ عزیز کو دیتے ہوئے کسی نہ کسی حادثے کی وجہ سے معذور ہو گئے۔ ان جوانوں کے جسم اتنی طاقت نہ رکھتے ہوں پر اِن کے جذبے آج بھی جوان ہیں۔ نعرئہ تکبیر کی صدا پر ان کی زبان جوش و جذبے سے اﷲ اکبر کی تکرار کرتی ہے۔ ان کی فیملیز ان کے شانہ بشانہ موجود تھیں اور ان کے دل بے حد مطمئن تھے۔
حاضرینِ محفل میں شہیدوں کی فیملیز بھی تھیں۔ ان بزرگ والدین سے بھی بات کرنے کا موقع ملا، ان والدین کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے لختِ جگر اِس دھرتی کے کام آئے۔ ایک والد جن کا اکلوتا بیٹاوطن کے کام آیا، اُن کا کہنا تھا کہ میرے اور بھی بیٹے ہوتے تو میں وطن پر قربان کرنے سے کبھی نہ گھبراتا۔ ایک شہید کی والدہ نے نم آنکھوں سے کہا کہ اولاد کا نعم البدل کوئی نہیں لیکن وطنِ عزیز کے لئے یہ سودا گھاٹے کا نہیں۔
عوام الناس کی جذبات سے بھرپور گفتگو سُن کر مجھے یہ احساس ہوا کہ ہمارے بزرگوں کی محنت، اقبال کے تفکر اور قائد کی رہنمائی سے ہمیں یہ وطنِ عزیز حاصل ہوا ہے۔ اس تقریب کا حصہ بننا میرے لئے بے پایاں مسرت کا باعث تھا۔ آئیں اس دن ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اس پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔پاکستان پائندہ باد!


صدر مملکت کے خطاب کے بعد مسلح افواج کے دستے باوقار اندا ز سے سلامی کے چبوترے کی طرف بڑھے۔ پاک فوج کے ٹرائی سروسز گروپ کے دستے نے اپنے مخصوص انداز میں پریڈ کرتے ہوئے صدر مملکت کو سلامی دی ۔اردن کے ملٹری بینڈ نے فضائوں میں جیوے جیوے پاکستان کی دھن بکھیر کر پاکستان سے اپنی دوستی کا اظہار بھر پور طریقے سے کیا اور پاکستانی عوام کے دل جیت لئے۔ اس کے بعد بکتر بند (اے پی سیز)، آرٹلری ، آرمی ائیر ڈیفنس، میزائل اور ٹریکنگ ریڈار سسٹم سے لیس ایف ایم ۔90 ، کور آف انجنیئرز اور کور آف سگنلزکے دستوں نے بھی مہمان خصوصی کو سلامی دی۔ پریڈ میں پاکستان کے جدید ترین نصر میزائل ، بغیر پائلٹ طیارے شہپراور براق سمیت دفاعی سامان حرب کا بھی مظاہرہ کیاگیا۔


آرمی ایوی ایشن اور بحریہ ایوی ایشن کے کوبرا ، ایم آئی 17، فینک اور پیوماہیلی کاپڑوں پر مشتمل دستوں نے 300 فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا شیر دل طیاروں کی فضائوں میں قوس قزح بکھیرتی فارمیشن نے شائقین سے بہت زیادہ داد و تحسین وصولی کی۔ ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر کے غیر معمولی فلائی کرتب وکمالات سے شرکائے تقریب محظوظ ہوئے۔ کمانڈوز کے 10 ہزار فٹ کی بلندی سے فری فال مظاہرے نے دیکھنے والوں کے جوش میں مزید اضافہ کیا۔ تینوں مسلح افواج کی چھاتہ بردار ٹیم میجر جنرل طاہر مسعود بھٹہ کی قیادت میں یکے بعد دیگرے سلامی کے چبوترے کے سامنے اتری ۔ اس ٹیم میں اُردن کے چھاتہ بردار بھی اپنے ملک کا جھنڈا اٹھائے فضا سے زمین پر اترے۔ ٹیم سے صدر مملکت نے فرداً فرداً مصافحہ کیا۔

pakamankanishan2.jpg
پاکستانی ثقافت کے سب رنگ بھی پریڈ کا نمایاں حصہ تھے جنہوں نے لوگوں سے خوب داد وصول کی ۔
پریڈ کے اختتام پر مختلف سکولوں کے بچوں نے ایک خوبصورت فلوٹ پر سوار ہو کر ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے لہراتے ہوئے فنکاروں کے ساتھ مل کر ملی نغمہ ''ہر ایک پاکستانی نے پکارا پاکستان۔ امن کا نشان یہ ہمارا پاکستان'' پیش کیا اور حاضرین کے جوش و جذبے میں اضافہ کیااور اپنی موجودگی کا احساس دلایا کہ پاکستان کی نوجوان نسل اپنے آباء کی طرح اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ جوش اور جذبے کا عزم دل میں لئے وفاقی وزرائ، پارلیمنٹ کے ارکان، غیر ملکی مندوبین، سفیروں اور ہائی کمشنرز، پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا کے ملکی اور غیر ملکی نمائندوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس طرح افواج پاکستان کی اس شاندار پریڈ نے حب الوطنی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ قومی ولولوں اور جذبوں کو بھی تازگی بخشی۔
(رپورٹ:غزالہ یاسمین)

 
Read 190 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter