بیانیے کی جیت

Published in Hilal Urdu

تحریر: عزخ

ایک زبردست لہر ہمارے قومی بیانیے کو تقسیم کرنے کے لئے اٹھائی گئی۔ چوتھی اور پانچویں نہج کی مہم جوئی

(4th and 5th generation warfare)

سے دشمن ہمیں دنیا کی نظروں میں ناقابل اعتبار، قصور وار اور نالائق ریاست ثابت کرنے پرتُلا بیٹھا تھا۔ عین اُس وقت ریاست کے مرکزِ ثقل کی قوت نے کمزور پڑنے سے انکار کر دیا اور گُریز یت کی منفی طاقتوں کا سّدِباب کیا۔ پاک فوج بِلا کسی تخصیص وتمیز ، قوم کی پوری آبادی کی نمائندگی کرتی ہے جس میں گلگت سے گوادر، کیماڑی تا کشمیر، چترال تا چھاچھرو کے جوان اپنا تن،من اوردھن قربان کرنے اورخون کا آخری قطرہ نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔ فوج کا اپنے نظریئے پر عزم ِصمیم اور ہمت نہ ہارنے والا جذبہ پوری قوم میں سرایت کر گیا۔ رنگ، نسل، زبان، مسلک، عقیدے، مذہب اور تعصب سے پاک اس فوج نے نظریۂ پاکستان کی عملی تشریح کی۔وہ قومی ترانہ،ہر روز سویرے جس کو ہم گاتے ہیں، قوم نے فوج کے ساتھ مل کر اس ترانے کے الفاظ کو تعبیر دی۔

وَالّسَمَِآئِ وَ اَ لطَّارِقِ ۔ وَ مَاْ اَدْرٰک َ ماَاَ لطَّارِقُ ۔ سحر کے اُجالے کی خبر لئے ستارہ طلوع ہوچلا ۔ نوید ہو کہ شبِ تاریک کا ا ختتام ہے۔ گھپُ اندھیرا ستر ہزارسے زائد قیمتی جانوں کو نگل گیا۔آزمائش کے ان دس طویل سالوںمیں ہماری پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑی رہی اور مسلح افواج اور پولیس کے سات ہزار جوانوں نے اپنے لہو سے صحنِ خاکِ پاک میں گل و لالہ کی آبیاری کی۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ 1947 میں آزادی کی نقد قیمت کے بعد یہ سب سے گراں ادائیگی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس جنگ میںعظیم کامیابی کے وہ شادیانے بجائے جائیں کہ جن کی نغمگی سے آنے والی نسلیں سر شار ہوں۔زمانہ آگاہ ہو کہ مصیبت کا پہاڑ سر کر لیا گیا اور مصائب کا ایک سمندر عبور ہوا۔
یہ بہت عظیم واقعہ ہے کہ ہزار ہا میل علاقہ دہشت گردوں کے قبضے سے اس طرح آزاد کروایا گیا کہ آج ایک انچ پر بھی کسی تحریک ِ جاہلان کا ناپا ک وجود نہیں۔ گو کہ وہی جہل اب سرحد پار اپنے ٹھکانوں سے سازشوں کے ستیزہ کار ہیں مگر اس کا بھی ارتداد کیا جا ر ہا ہے۔ دشمن کی کمزوری عیاں ہے اور وہ اُس پار کے ملک میں بھی خود کو غیر محفوظ سمجھ چکا ہے۔۔۔ کافی ہوا، بس کافی ہوا۔ ایک وہ وقت تھا کہ جب ہر روز ملک کے طول و عرض میں دھماکوں اور غارت گری کا بازار گرم تھا مگر دشمن کی سکت اب صرف سرحد پار سے چھوٹے چھوٹے بزدلانہ حملے اور خفیہ زمینی سرنگوں تک سمٹ چکی ہے۔ جو گروہ کبھی اپنی مرضی مسلط کرنے کی طاقت رکھتے تھے اب کمزور اور منتشر ہو چکے ہیں، ا ن گروہوں کے سرغنے سر چھپائے پھر رہے ہیں جن کے ہاتھ ملک کے ازلی دشمنوںکے آگے بھیک کے لئے دراز ہیں۔ طالبان جو کبھی دوسروں کے سر قلم کیا کرتے تھے، اب سر جھکائے رحم کے طالب ہیں۔مگر یہ سب کیوں کر ہوا، آیئے ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔
یہ کشمکش دراصل بیانیے کی فتح و شکست ہے۔ دہشت اورسفاکیت ایک عرصہ سر اٹھائے رکھنے کے باوجود پنپ نہ پائی۔ دوسری طرف فوج اور قوم کا بیانیہ مشترک و دیرپا ثابت ہوا۔2004میں انڈیا نے اپنی نو ترتیب حکمتِ عملی کولڈ سٹارٹ کے نام سے وضع کی تو پاک فوج اور پاکستانی قوم میں خلیج پیدا کرنے کے لئے باقاعدہ سٹریٹجی بنائی۔ دشمن کو یقین تھا کہ آنے والے وقت میںوہ اپنے زبردست مالی وسائل سے گروہی اختلافات کو ہوا دے کر اس خلیج کو اتنا وسیع کر دے گا کہ جس کا پاٹنا ہمارے لئے ممکن نہ ہوگا۔ 2002 تا 2013سب کچھ دشمن کے منصوبے کے عین مطابق ہوتا نظر آتا تھا۔ بغاوتی مسلح گروہ روز بروز مستحکم اور زور آور ہوتے جا رہے تھے اور ریاستی ادارے کمزورپڑتے نظر آتے تھے ۔ پاکستان کی بنیادوں کو ان سازشوں سے حقیقی نقصان پہنچنے کا احتمال ہو چلا تھا۔صوبائی عصبیت،نسلی سیاست اور لسانی شناخت اپنے عروج پر تھیں، اور یہ عناصر وفاق اور وحدانیت کو روز بروز کمزور تر کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ کسی فردِ واحد کے قتل کے ردِّعمل میں پورا ملک مفلوج اور انتظامیہ لاچار ہونے لگی تھی۔ چنانچہ عوام خود کوبے دست وپا محسوس کرنے لگی تھی۔اللہ اللہ؛ کیا آزمائش تھی دنیا بھر کے ممالک ہماری مملکت اور اثاثوں کے بارے میں سنجیدگی سے فکر مند اور لائحہ عمل ترتیب دیتے دکھائی دیئے۔
ایک زبردست لہر ہمارے قومی بیانیے کو تقسیم کرنے کے لئے اٹھائی گئی۔ چوتھی اور پانچویں نہج کی مہم جوئی
(4th and 5th generation warfare)
سے دشمن ہمیں دنیا کی نظروں میں ناقابل اعتبار، قصور وار اور نالائق ریاست ثابت کرنے پرتُلا بیٹھا تھا۔ عین اُس وقت ریاست کے مرکزِ ثقل کی قوت نے کمزور پڑنے سے انکار کر دیا اور گُریز یت کی منفی طاقتوں کا سّدِباب کیا۔ پاک فوج بِلا کسی تخصیص وتمیز ، قوم کی پوری آبادی کی نمائندگی کرتی ہے جس میں گلگت سے گوادر، کیماڑی تا کشمیر، چترال تا چھاچھرو کے جوان اپنا تن،من اوردھن قربان کرنے اورخون کا آخری قطرہ نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔ فوج کا اپنے نظریئے پر عزم ِصمیم اور ہمت نہ ہارنے والا جذبہ پوری قوم میں سرایت کر گیا۔ رنگ، نسل، زبان، مسلک، عقیدے، مذہب اور تعصب سے پاک اس فوج نے نظریۂ پاکستان کی عملی تشریح کی۔وہ قومی ترانہ،ہر روز سویرے جس کو ہم گاتے ہیں، قوم نے فوج کے ساتھ مل کر اس ترانے کے الفاظ کو تعبیر دی۔
آج قوم کا بیانیہ بہت واضح ہے اور فوج اس کا عملی پیکر۔ پاکستانی قوم نے کبھی دہشت گردی کو تسلیم نہیں کیا۔ جب کبھی مسلح جتھوں نے دشمن کی مالی مدد سے اس قسم کی کوشش کی بھی تو عام آدمی نے اپنی غربت اور لا تعداد معاشرتی مسائل کے باوجود اس ایجنڈے کو مسترد کردیا۔ حد تو یہ ہے کہ ناعاقبت اندیش ذہنوں نے مقدس قرآنی آیات،ا حادیثِ اور اعلیٰ اسلامی روایات کو بھی آلودہ کرنے میںکوئی کسر نہ چھوڑی اور اپنے باطل نظریئے کو مذہبی لبادہ اور مسلکی رنگ دینے کی کوشش کی۔ کم علم اور ناسمجھ تو ایک طرف، مذہب کی اس غلط تشریح نے یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور انتہائی پڑھے لکھے مگر کچے اور ناپختہ ذہنوں کو بھی حصار میں لئے رکھنے کی سعی کی اور یوں یہ سرطان آہستہ آہستہ قومی وجود کو نوچنے لگا۔ زمینی حقائق سے نابلد، بین الاقوامی صورتحال سے نا واقف، دلیل اور برہان سے ناشناس بالخصوص نوجوا ن اور ناپختہ اذہان اس عفریت میں ایندھن بنا کر جھونکے گئے۔ کچھ صاحبانِ منبر اور واعظان نے اپنا سودا سیاسی شعبدہ گری کی منڈی میں خوب بیچا۔ ان مکار شعبدہ بازوں کو جب اور جہاں موقع ملا، انہوں نے قوم کو کچوکے لگانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔قتال، جہاد کا وہ مرحلہ ہے جس کی اجازت صرف اور صرف ریاست کی افواج کو میدانِ جنگ میں اپنے دفاع کے آخری حربے کے طور پر حاصل ہے۔ ان مذہب فروشوں نے قتال کو مملکتِ اسلامیہ کی سڑکوں اور بازاروں میں عام کیا۔طُرفہ یہ کہ اپنے اس گناہ کو حورُوغلمان کے لالچ سے چمکانے کی کوشش بھی کی۔ معصوم پاکستانی شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگنے اور تباہی کے اس راستے کو نشاةِثانیہ کا نشان قرار دینے پر مُصر یہ سفاک دراصل قرآنی آیات کو نہایت کم قیمت پر بیچنا چاہتے تھے ۔ان کے اس مکروہ دھندے کو جب عروج ملنے لگا تو مذہب کے سچے پیروکاروں اور علمائے حق کی آواز ڈوبتی محسوس ہونے لگی۔ حق کا گلا گھونٹا جانے لگا۔ عام ذہن متفکر، رنجیدہ اور انتشار کا شکار ہوا۔ مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے نے قوم کو یوں ڈھانپا کہ سحر کی تمام امیدیں معدوم ہوتی جارہی تھیں۔
مگر آفرین ہے اسلامی دنیا کی اس مضبوط فوج پر کہ باوجود تمام کوشش، یہ زہر اس میں سرایت نہ کر پایا۔ جب کہ ہم دیگر ممالک اور ان کی افواج کی تباہی کا حال دیکھتے رہے ہیں، جیسا کہ عراق، لیبیا، افغانستان اور شام کی اقوام و افواج کے ساتھ ہوا۔ پاکستان کی فوج آزمائش کی اس مشکل گھڑی میں''بنیان المرصوص'' بن کر کھڑی رہی۔ اللہ پر ایمان اور حُبِ ر سولۖ جس کا بنیادی اثاثہ اور ڈسپلن قوت ہے۔ وطن کی خدمت اور قربانی کی وہ عملی مثال پاک فوج نے پیش کی جس کی پوری قوم نے تائیدو وفا کی۔ دشمن کی ہزار کوششوں کے باوجود ایمانی طاقت سے بھر پور افواج نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کا قبلہ بھی ایک ہے اور مسلک بھی یکساں۔ یہ ایک قومی فوج ہے جس میں ہر چپے سے' ہر قریے سے' ہر گاؤں اور شہر کے لوگ جوق در جوق شہادت کا جذبہ لئے موجود ہیں۔
بیانیہ اب مسلمہ ہے۔ مذہبی رواداری' قوتِ برداشت' مسلکی گروہ بندی کا انکار، قومی مفاد کا تحفظ اور جذبۂ قربانی اس بیانیے کے بنیادی اصول ہیں۔ فوج اور پوری قوم ایک صفحے پر ہے۔ فوج کے ساتھ ساتھ اب پوری قوم نے مسلک فروش دروغ گو دلالوں اور مذہبی لبادے میں سیاست چمکانے والوں کو مسترد کر دیا ہے۔ جہاد صرف اور صرف ریاست کی فوج کے لئے جائز ہے۔ذاتی استعمار اور مفادی گروہ انارکسٹ، وطن فروش اور دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے ایجنٹ ہیں۔غیر ریاستی عناصر کو پوری قوم نے یک جان و یک زبان ہو کر مسترد کردیا ہے۔ پاکستانی قوم نے
4th
جنریشن حملے کو پسپا کیا اب
5th
جنریشن(سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے) حملے کے دفاع کا عہد لئے ڈٹی ہوئی ہے۔ ہمارا بیانیہ واضح ہے۔ ایک مضبوط پاکستان جو ہر قسم کے تعصبات سے پاک ہو، دراصل مضبوط عالم اسلام کا ضامن ہے۔ملک کی حفا ظت کے لئے تعینات ا فواج پر عوام کا یقین اور مستحکم پاکستان کا جغرافیہ ہی نظریاتی سرحدوں کا ضامن ہے۔ ذہنوں کو قبض کر لینے والے جغادری اور شعلہ بجاں سوداگر اب ا ن معصوم جسموں اور روحوں کی تجارت نہیں کر سکیں گے؛ کبھی بھی نہیں۔ نظریہ ٔپاکستان جیت گیا اور قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے ''دستار بند'' ہار گئے۔ا سلامی عظمت کا امین سبز و سفید رنگوں والا (ستارہ و ہلالی) پرچم سر بلند ہے اور پاک عوام سرفراز کہ پاک فوج سرفروش ہے۔ یہی ہماراقومی بیانیہ ہے اور'' متحد قوم'' اس بیانیے کی جیت۔ شاباش پاکستان

 
 
Read 302 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter