سماج اور عدم برداشت کا کلچر

Published in Hilal Urdu

تحریر: خورشید ندیم

سماج کے لئے ایک نظامِ اقدار کی ضرورت ہوتی ہے، جس طرح ریاست کے لئے قانون کی۔ قانون خارجی سطح پر ایک قوتِ نافذہ کا تقاضاکرتا ہے اور سیاسیات کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ یہ قوت ریاست ہی کے پاس ہوتی ہے۔ سماج کے ہاتھ میں اخلا قی قوت ہوتی ہے جس کا ماخذ اس کا نظامِ اقدارہے۔ جب کوئی شخص اس نظام سے بغاوت کرتا ہے تو سماج اپنی اس اخلاقی قوت کی مدد سے اسے واپس نظام کے دائرے میں لے آتاہے یا پھر اسے اگل کے پھینک دیتا ہے۔ ایسا فرد معاشرے میں 'نِکُّو' بن کرجیتا ہے اوریوں معا شرتی حقوق سے محروم ہو جاتا ہے۔


سماج کی اس تشکیل کو ایک مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ والدین کا احترام ہماری ایک اہم سماجی قدر ہے۔ اگر کوئی فرد والدین کا احترام نہیں کرتا تو ریاست کے پاس کو ئی ایسا اختیار نہیں ہے کہ وہ اس پر کوئی سزانافذ کردے جیسے چوری یا قتل کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم جب کوئی فرد والدین کا احترام نہ کرے یا ان کے ساتھ بدتمیزی کا مرتکب ہو تو معاشرہ اس کے خلاف ایک ردِ عمل کا اظہار کرتا ہے۔ ایسے فرد کے بارے میں ایک رائے بنتی ہے جو پھیلتی چلی جاتی ہے۔ یہ رائے ایک بدنامی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس شہرت کی وجہ سے، ایسا فردتدریجاً ان معاشرتی حقوق سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے جس سے وہ بصورتِ دیگر فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ لوگ ایسے فرد کے ساتھ سماجی میل جول سے کتراتے اور اس کے ساتھ کوئی رشتہ قائم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ سماجی اجنبیت سے بڑی کوئی سزا نہیں ہو سکتی۔


ایک مضبوط نظامِ اقدار سماج کو بکھرنے سے روکتا ہے۔اسے فکری انتشار اور اخلاقی پراگندگی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اقدار معاشرے میں لوگوں کے حقوق و فرائض کا تعین کرتی ہیں اور یوں ایک خود کار سماجی بندوبست وجود میں آتا ہے جو معاشرے کے بہت سے سماجی و معاشی مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ شادی اور مرگ میں شرکت ہماری ایک اہم سماجی قدر ہے۔ اگر کسی گھر میں موت کا حادثہ پیش آ جائے تو خود کار سماجی نظام حرکت میں آجاتا ہے۔ سب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ میت کی تدفین سے لے کر مہمانوں کی تواضع تک، ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔


اس کے برخلاف جہاں نظامِ اقدار کمزور ہوتا ہے، وہاں ایک انتشار پیدا ہوجاتا ہے۔ ہر آدمی عدم تحفظ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یوں اجتماعی کے بجائے انفرادی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے بے نیاز ہونے لگتے ہیں۔ رشتے کمزور ہوتے ہیںاور یوں ایک معاشرہ جزیروں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ بظاہر مکان ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں مگر مکین ایک دوسرے سے بے خبرہوتے ہیں۔ ایسا معاشرہ اپنی اخلاقی قوت سے محروم ہو جاتا ہے اور پھر طرح طرح کے مسائل کا شکار ہو جاتاہے جس کا سب سے بڑا مظہرسماجی بدامنی ہے۔


نظامِ اقدار ایک تا ر یخی عمل کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے۔ کسی خطے میں بسنے والوں کے رسوم و رواج، ان کا مذہب، ان کی روایات اور پھر سماجی ارتقاء مل کر ایک نظام اقدارکو جنم دیتے ہیں۔ یہ نظامِ اقدار زیادہ تر مقامی اور داخلی عوامل سے وجود میں آتا ہے۔ تاہم دورِحاضر میں چونکہ دوسرے معاشروں سے تعامل اور رابطہ ناگزیر ہو چکا ہے، اس لئے خارجی عوامل کو اثر انداز ہونے سے روکا نہیں جا سکتا۔


پاکستان جس جغرافیائی خطے کا نام ہے، یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا مرکز ہے۔ موہنجو دڑو سے لے کر ٹیکسلا تک ان تہذیبوں کے آثار پھیلے ہوئے ہیں۔ بایں ہمہ اسلام نے بھی اس خطے کے مکینوں پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ آج پاکستان کی آبادی کی غیر معمولی تعداد جو کم و بیش 97 فی صد ہے، مسلمان ہے، لیکن اس کے ساتھ مقامی تہذیبی روایات کی بھی امین ہے۔


تاریخی تعامل اور مذہب کے اثرات سے یہاں جو تہذیب وجود میں آئی ہے، اس میں مذہبی و سماجی اعتبار سے تنوع کے احترام کو ایک اہم قدر کی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں تہذیبی و مذہبی تنوع کو ایک خوبی شمارکیا گیا ہے۔ سندھی، بلوچی، پختون، پنجابی،کشمیری، بلتستانی رنگوں سے مزین اس رنگا رنگی نے اس خطے کے حسن و جمال میں اضافہ کیا ہے۔اس طرح مذہبی تنوع سے بھی ان معاشرتی اقدار کو فروغ ملا ہے۔یہ اقدار انسانوں کے لئے محبت و الفت کے اوصاف پیدا کرنے کا باعث بنی ہیں۔ مسلمانوں کے اندر جو مسلکی تنوع ہے، اس کو بھی سماجی سطح پر قبولیتِ عامہ حاصل رہی اور اس کے مظاہرے ہم محرم اور ربیع الاوّل کی تقریبات میں بکثرت دیکھتے ہیں۔


بد قسمتی سے چار عشرے پہلے ہمارا یہ خطہ ایسی سیاسی و سماجی تبدیلیوں سے دو چار ہوا کہ ہم بطور معاشرہ ان تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ افغانستان میں سوویت یونین کی آمد اور مشرقِ وسطیٰ میں آنے والی بڑی سیاسی تبدیلیوں نے ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے میونخ کی عالمی کانفرنس میں اس افسوس ناک صورتِ حال کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1979 ء تک ہمیںیہی معلوم تھا کہ ہم مسلمان ہیں۔ اس کے بعد ہم شیعہ سنی شناخت کے بارے میں حساس ہونے لگے۔ اسی طرح جہاد کا پاکیزہ تصور جو دنیا میں ظلم کے خاتمے اور امن کی علامت ہے، اسے ایک ایسے تصور میں تبدیل کر دیا گیا جس نے عدم برداشت کو فروغ دیا۔


ہماری معاشرتی اقدار جب براہِ راست ان خارجی عوامل کی زد میں آئیں تو تنوع کی جگہ اختلاف اور باہمی احترام کی جگہ عدم برداشت نے لے لی۔ رویوں میں انتہا پسندی پیدا ہوئی اور اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ سماجی و مذہبی تنوع جو ہمارے تہذیبی حسن کا مظہر تھا، عدم برداشت کا عنوان بن گیا۔


آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے نظامِ اقدار کو زندہ کریں۔ ہم برداشت، رواداری اور باہم احترام کی ان قدروں کا احیا کریں جو چار دہائیاں پہلے ہماری پہچان تھیں۔ ہم مذہبی، سیاسی اختلاف کو سماجی ارتقا کے لئے ضروری سمجھیں اور اسے اپنی سماجی ترقی کے لئے استعمال کریں، تاکہ ہم ایک صحت مند معاشرہ بن سکیں۔ اس کے لئے مذہب کی حقیقی تعلیمات کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام قرآن و سنت کے جن ماخذات پر کھڑا ہے،ان میں انسان کی تکریم کو بطورِ قدر مستحکم کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مذہبی معاملات میں جزا و سزا کا اختیار اﷲ کے پاس ہے۔ ہمیں دوسروں کو بطور انسان مخاطب بنانا اور ان کی شخصی آزادی کا احترام کرنا ہے۔ اگرمذہب کے بارے میںخود اﷲ تعالیٰ نے انسان کو انتخاب کی آزادی دی ہے تو ہمیں بھی یہ حق نہیں کہ ہم دوسروں پر کوئی پابندی عائد کریں۔ رسالت مآبۖ کی سیرتِ مبارکہ میں اس کی بے پناہ شہادتیں موجود ہیں کہ کیسے آپۖ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کرتے تھے۔ مذہبی احترام کی یہ قدر مسیحیوں، ہندوئوں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں میںبھی پائی جاتی ہے جو پاکستان کے شہری ہیں۔ پاکستان کا آئین ریاست کے اسلامی تشخص کے باوجود،شہریوںکے حقوق میں مذہبی اعتبار سے کسی امتیاز کو روا نہیں رکھتا۔


نظامِ اقدارکی حفاظت سماجی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ایسے ادارے روایتی بھی ہیں اور جدید بھی۔ روایتی اداروں میں مکتب و مسجد، خاندان و چوپال شامل ہیں اور جدید ادرواں میں میڈیا بطور خاص اہم ہے۔ یہ محراب ومنبر کے ساتھ ٹی وی چینلز اور اخبارات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ ریاست ان مجرموں کو سزا دے سکتی ہے جو عدم برداشت کے رویے کو جرم میں بدل دیتے ہیں۔ تاہم عدم برداشت بطور کلچر اس وقت ختم ہو گا جب ہم معاشرتی سطح پر برداشت کوبطورقدر مستحکم کریں گے۔ یہ کام سماجی اداروں کا ہے۔ علمائ، اساتذہ، والدین، میڈیا، اگرسب اس پر اتفاق کریں کہ ہم نے معاشرے کو عدم براشت سے نکال کر باہمی احترام اور برداشت کا علمبردار بنانا ہے تو یہ حقیقی سماجی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے نظامِ اقدار کو زندہ کریں۔ ہم برداشت، رواداری اور باہم احترام کی ان قدروں کا احیا کریں جو چار دہائیاں پہلے ہماری پہچان تھیں۔ ہم مذہبی، سیاسی اختلاف کو سماجی ارتقا کے لئے ضروری سمجھیں اور اسے اپنی سماجی ترقی کے لئے استعمال کریں، تاکہ ہم ایک صحت مند معاشرہ بن سکیں۔

*****

 
Read 195 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter