کابل کانفرنس اور مثبت طرزِ عمل

Published in Hilal Urdu

تحریر: عقیل یوسف زئی

یہ بات کافی خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے کہ 2016-17 کے دوران افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں جو کشیدگی پیدا ہوگئی تھی رواں برس اس میں نہ صرف نمایاں کمی آگئی ہے بلکہ بہتر تعلقات کی جانب اہم پیش رفت بھی جاری ہے۔ اعلیٰ ترین سفارتی اور عسکری وفود کے تبادلوں اور نتیجہ خیز بات چیت کا جوسلسلہ سال 2018 کے پہلے ہفتے سے چل نکلا تھا اس نے بداعتمادی کے ماحول کو کافی حد تک تبدیل کردیا ہے اور اب دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان رابطوں کی بحالی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے ۔ ماہِ فروری میں (ٹاپی) منصوبے کے افتتاح کے موقع پر وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی اور افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے درمیان متعدد دوسرے پڑوسی ممالک کے سربراہان کی موجودگی میں خلافِ توقع جس جذبۂ خیرسگالی کا مظاہرہ کیا گیا اس نے افغانستان کی حکومت کو پھر سے پاکستان کے قریب لانے کا راستہ ہموار کردیا اور اس کا عملی مظاہرہ کابل میں مارچ کے پہلے ہفتے میںمنعقدہ25 ممالک کی اس امن کانفرنس کے دوران دیکھنے کو ملا جس میں پاکستان کے وزیرِاعظم وفد کے ہمراہ شریک ہوئے اور انہوںنے واضح انداز میں پیغام دیا کہ پُرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے اور اس ضمن میں پاکستان تمام تر الزامات اور خدشات کے باوجود اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہی خیالات کا اظہار انہوں نے ٹاپی منصوبے کی افتتاحی تقریب کے دوران بھی کیا۔ کابل کانفرنس میں عالمی طاقتوں کے علاوہ پڑوسی ممالک کے سربراہان اور وفود نے بھی شرکت کی۔ اس تقریب سے اپنے خطاب میں ڈاکٹر اشرف غنی نے غیر متوقع طور پر بہت مثبت اور حقیقت پسندانہ مؤقف اپنایا۔ جس کے باعث تلخیوں میں مزید کمی واقع ہوگئی اور پاکستان نے نہ صرف ان کے مثبت بیان اورطرزِ عمل کا خیرمقدم کیا بلکہ یہ یقین دہانی کرائی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ہر کوشش کے دوران پاکستان اپنا بھرپور تعاون بھی فراہم کرے گا۔ جناب اشرف غنی نے کابل امن کانفرنس سے اپنے تفصیلی خطاب میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے روائتی مخالفت کے بجائے پاکستان سے افغانستان میں قیامِ امن کے لئے مدد طلب کی اور ساتھ ہی انہوںنے افغان طالبان کو پھر سے مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے ان کو مشورہ دیا کہ وہ ہتھیار پھینک کر سیاسی عمل کا حصہ بن جائیں اور جاری جنگ سے دستبردار ہو جائیں۔ جناب اشرف غنی نے کہا کہ ان کی شدید خواہش ہے کہ طالبان افغانستان کے سیاسی اور جمہوری عمل کا راستہ اپناکر امن کوششوں کے سلسلے میں مذاکرات کی میز پر آجائیں اور اس کام میں پاکستان دونوں فریقین کے ساتھ تعاون کرے تاکہ جاری جنگ کا خاتمہ ہو سکے اور خطے میں امن قائم ہو۔ کانفرنس کے دوران جب افغان صدر سے سوال کیا گیا کہ اس سے قبل کابل کے علاوہ واشنگٹن نے بھی اعلیٰ ترین سطح پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کرکے کھلی جنگ کا اعلان کیا تھا تو انہوںنے جواب دیا کہ وہ کابل پر مسلسل حملوں کا رد عمل تھا اور اب ان کے علاوہ امریکہ کی بھی خواہش ہے کہ مذاکرات کے سلسلے کا پھر سے آغاز ہو۔ ان کی طرح امریکی سینٹ کام
(Centcom)
کے سربراہ اور امریکی وزیرِ دفاع نے بھی پاکستان کے بارے میں یکے بعد دیگرے اچھے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں کے سلسلے میں اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کرے۔فریقین کے اعلیٰ ترین حکام نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں پر بھی کسی حد تک اطمینان کا اظہار کیا۔ اور اسی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کے بارے میں سخت رویہ رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بعد میں پاکستان کے بارے میں مثبت طرزِ عمل اپنایا۔جناب اشرف غنی نے امن کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا کہ وہ افغان سرزمین اپنے پڑوسیوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور دوسروں سے بھی ایسا کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

kabil_confrence.jpg
قبل ازیں نیویارک ٹائمز سمیت متعدد مؤقر امریکی اخبارات نے اپنی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کے بارے میں سخت اور یکطرفہ رویہ اپنانے سے گریز کرے تاکہ افغانستان میں امن کی کوششوں کو اس اہم ملک کے ذریعے کامیابی سے ہمکنار کیا جاسکے۔۔۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے ایڈیٹوریل (اداریہ) میں واضح انداز میں لکھا کہ پاکستان کو دیوار سے لگانے کی کوشش سے گریز کیا جائے ورنہ دوسری صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور جنگ زدہ افغانستان کے حالات مزید خراب ہوں گے۔ وال سٹریٹ جنرل اور گارڈین نے بھی امریکی انتظامیہ کو سخت رویے سے باز رہنے کے مشورے دیئے۔ ان تمام مثبت اشاروں نے نہ صرف امریکی حکومت کو پاکستان کے بارے میں از سرِ نو مثبت سوچ پر مجبور کیا بلکہ افغانستان کے طرزِ عمل میں بھی کافی مثبت اور غیر متوقع تبدیلی آنے لگی اور اس کا اظہار اشرف غنی نے کابل کانفرنس سے اپنے خطاب میں پاکستان کو دوستی کا ہاتھ بڑھانے اور طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کرکے کیا۔ افغان طالبان نے اس پیش کش کے جواب میں روایتی بیان جاری کرکے مؤقف اپنایا کہ وہ کابل حکومت کے بجائے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہیں گے۔ انہوںنے کہا کہ چونکہ امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے اس لئے اسی سے مذاکرت کئے جائیں گے۔ دوسری بات یہ کہی گئی کہ امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے اپنی فورسز واپس نہیںکرتے۔ اس طرزِ عمل کے جواب میں امریکہ نے مؤقف اپنایا کہ طالبان کو افغانستان کی آئینی حکومت کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ دوسری طرف ماہِ مارچ کے وسط میں امریکہ اور افغان حکام کا یہ دعویٰ سامنے آیا کہ اشرف غنی کی پیشکش کا طالبان نے سنجیدہ نوٹس لیا ہے اور یہ کہ بعض اہم طالبان کمانڈرز یا گروپ مذاکرات کے حامی ہیں۔ بہرحال مشاہدے میں آرہا ہے کہ ٹاپی منصوبے اور کابل کانفرنس کے بعد نہ صرف حملوں کی تعداد کم ہوگئی ہے بلکہ بعض ممالک کے درمیان اعتماد سازی بھی بڑھ گئی ہے۔


کابل کانفرنس کے دوسرے اہم شرکاء نے بھی افغان حکومت کی پیشکش کا خیرمقدم کرکے اپنی بھرپورمعاونت کی یقین دہانیاں کرائیں۔ جبکہ متعدد ممالک نے نہ صرف افغانستان کی تعمیرِ نو کے لئے امداد کے اعلانات کئے بلکہ بڑی تعداد اور مقدار میں عسکری ساز وسامان کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ جن ممالک نے فوجی امداد کا باقاعدہ اعلان اور آغاز کیا ان میں چین سرفہرست ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین نہ صرف افغانستان کے امن اور تعمیرِ نو میں غیرمعمولی دلچسپی کا مظاہرہ کررہا ہے بلکہ وہ افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔ چونکہ پاکستان دوسروں کے مقابلے میں چین کے زیادہ قریب ہے اور دونوں ممالک سی پیک منصوبے کے ذریعے سنٹرل ایشیا تک پہنچنے کا پلان اور فارمولا بھی بنا چکے ہیں۔ اس لئے دونوں کی کوشش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو تاکہ سی پیک کے مطلوبہ مقاصد کو حاصل کیا جاسکے۔ ان تبصرہ کاروں کے اس تجزیے کو زمینی حقائق اور ضروریات کے تناظر میں بڑا اہم اور درست قرار دیا جارہا ہے اور شایداسی کا نتیجہ ہے کہ افغانستان میں چین اور روس کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ چین افغانستان کو نہ صرف امداد دینے لگا ہے بلکہ متعدد بڑے منصوبوں کے ٹھیکے بھی اس ملک کے پاس ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال2014 کے بعد پراجیکٹس کی تعدادکے لحاظ سے چین، امریکہ کے ہم پلہ بن چکا ہے اور اس کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نے افغانستان میں اس کے مفادات اور کردار کو ناگزیر بنا دیا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ چین پُرامن اور مستحکم افغانستان کے قیام کو اپنے مفادات کے تناظر میں بہت اہمیت دینے لگا ہے۔


دوسری طرف کابل کانفرنس کے ذریعے عالمی برادری نے طالبان اور دیگر کو بھی واضح پیغام دیا کہ عالمی اور علاقائی قوتیں افغان حکومت کی پشت پر کھڑی ہیں۔ اس طرزِ عمل نے افغان حکومت کے اعتماد میں اضافہ کردیا ہے اور افغان حکمران ماضی کے برعکس اب ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حال ہی میں افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ افغانستان میں55 ہزار جنگجو لڑ رہے ہیں جن میں30 سے40 ہزار تک مقامی باشندے یا طالبان ہیں جبکہ باقی کا تعلق پڑوسی ممالک سے ہے۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں داعش کے تین ہزار جبکہ القاعدہ کے چار سو جنگجو بھی لڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں جن ممالک کے جنگجو لڑ رہے ہیں ان میں ایران، تاجکستان، پاکستان ، چیچنیا اور یہاں تک کہ چین بھی شامل ہے۔ حنیف اتمر کا شمار ان حکام میں ہوتا ہے جو کہ پاکستان کے بارے میں بہت سخت رویہ رکھتے ہیں۔ تاہم اب کے بار انہوںنے پاکستان کے حوالے سے کسی بھی قسم کے الزام سے گریز کیاجو اس بات کا ثبوت ہے کہ اب افغانستان کو بھی ادراک ہونے لگا ہے کہ پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کا رویہ اور طریقہ درست نہیں تھا۔ اس تناظر میں لگ یہ رہا ہے کہ صورتحال اور علاقائی تعلقات میں اب نمایاں تبدیلی آئے گی جوخطے کے لئے بالعموم اور پاکستان و افغانستان کے لئے بالخصوص ایک خوش آئند امر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 230 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter