06
April
Published in Hilal Urdu
Read 35 times
اپریل 2018
شمارہ:04 جلد :55
تحریر: یوسف عالمگیرین
وطنِ عزیز میں 78واں یومِ پاکستان ملی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ یوں منٹو پارک لاہور میں 23مارچ 1940کو منظور ہونے والی قرارداد کی گونج 2018 کے پاکستان بھر میں سنائی دے رہی تھی کہ یہ مملکتِ خداداد اس قرارداد کے منظور ہونے کے ٹھیک سات برس بعد1947میں معرضِ وجود میں آ گئی تھی۔ یومِ پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں قومی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے لیکن سب سے بڑی قومی تقریب....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
یہ بات کافی خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے کہ 2016-17 کے دوران افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں جو کشیدگی پیدا ہوگئی تھی رواں برس اس میں نہ صرف نمایاں کمی آگئی ہے بلکہ بہتر تعلقات کی جانب اہم پیش رفت بھی جاری ہے۔ اعلیٰ ترین سفارتی اور عسکری وفود کے تبادلوں اور نتیجہ خیز بات چیت کا جوسلسلہ سال 2018 کے پہلے ہفتے سے چل نکلا تھا اس نے بداعتمادی کے ماحول کو کافی حد تک تبدیل کردیا....Read full article
 
 alt=
تحریر: طاہرہ حبیب جالب
1937کے الیکشن کے بعد تقریباً پورے ہندوستان پر کانگریس اور متعصب بنیئے کی حکومت قائم تھی۔ مسلم اقلیتی صوبوں میں کانگریسی حکومتوں کے خاتمے پر مسلم لیگ نے قائداعظم محمد علی جناح کی ہدایت پر 22دسمبر 1939کو ملک کے طول و عرض میں یومِ نجات منایا۔ اس وقت تک برصغیر میں مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کئی تجویزیں اورسکیمیں منظر....Read full article
 
تحریر: محمد کامران خان
گزشتہ کئی ماہ سے بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ہر دوسرے تیسرے دن بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی جاتی ہے جس سے سرحد سے ملحقہ دیہات میں مقیم معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں۔املاک کو نقصان پہنچتا ہے اور سرحدی گائوں میں رہنے والے جو کہ زیادہ تر غریب کاشتکار ہوتے ہیں ایک ہمہ وقت خوف اور نفسیاتی....Read full article
 
تحریر: خورشید ندیم
سماج کے لئے ایک نظامِ اقدار کی ضرورت ہوتی ہے، جس طرح ریاست کے لئے قانون کی۔ قانون خارجی سطح پر ایک قوتِ نافذہ کا تقاضاکرتا ہے اور سیاسیات کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ یہ قوت ریاست ہی کے پاس ہوتی ہے۔ سماج کے ہاتھ میں اخلا قی قوت ہوتی ہے جس کا ماخذ اس کا نظامِ اقدارہے۔ جب کوئی شخص اس نظام سے بغاوت کرتا ہے تو سماج اپنی اس اخلاقی قوت کی مدد سے اسے واپس نظام کے دائرے میں.....Read full article
 
تحریر: عزخ
سے دشمن ہمیں دنیا کی نظروں میں ناقابل اعتبار، قصور وار اور نالائق ریاست ثابت کرنے پرتُلا بیٹھا تھا۔ عین اُس وقت ریاست کے مرکزِ ثقل کی قوت نے کمزور پڑنے سے انکار کر دیا اور گُریز یت کی منفی طاقتوں کا سّدِباب کیا۔ پاک فوج بِلا کسی تخصیص وتمیز ، قوم کی پوری آبادی کی نمائندگی کرتی ہے جس میں گلگت سے گوادر، کیماڑی تا کشمیر، چترال تا چھاچھرو کے جوان اپنا تن،من اوردھن قربان کرنے اورخون ....Read full article
 
تحریر: غزالہ یاسمین ، ازکی کاظمی ازکیٰ کاظمی
راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکر پڑیاں گرائونڈ ہمیشہ کی طرح ولولوں اور جذبوں کی بھرپور عکاسی کررہا تھا۔ افواج پاکستان کے جدید ہتھیاروں سے لیس چاق چوبند دستے بڑے وقار سے ایستادہ تھے۔ ان کے شانہ بشانہ دوست ممالک اردن اور متحدہ عرب امارات کے فوجی دستوں کی شرکت نے ان لمحات کو مزید یادگار بنا دیا تھا ۔ سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا پاکستان ڈے پریڈ میں.....Read full article
 
تحریر: شوکت نثار سلیمی
میں نے اس نوجوان سے کہا میں نے بیٹے کو پاکستان کے پرچم میں لپٹے ہوئے تابوت میں وصول کر لیا، یہ کہتے ہوئے میری رگوں میں دوڑنے والا خون جم سا گیا۔ یہ لمحات کتنے جاں گسل ہوتے ہیں جب شہادت کے بعد جوان بیٹوں کو والدین کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ایسے جان گداز وقت میں تو شاید فلک بھی ترساں و خیزاں ہوتا ہو گا....Read full article
 
تحریر: سلمان عابد
کسی بھی ریاست کے قومی سکیورٹی بحران یا اس کو درپیش چیلنج کو سمجھنا ہو تو ہمیں ریاست کے مجموعی نظام کو سمجھنا ہوگا کہ یہ ریاستی نظام کیسے چل رہا ہے۔ کیونکہ قومی سکیورٹی کے بحران کا حل کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہوگا۔ بنیادی غلطی جو کی جاتی ہے وہ معاملات کو یکطرفہ نظر سے دیکھ کر حکمت عملی کو تیار کرنا ہوتا ہے۔ ایک دلیل دی جاتی ہے کہ اگر ہمیں سکیورٹی کے بحران کو ....Read full article
 
تحریر: ندیم بخاری
دنیا کے تقریباً ہر خطے کے لوگ مختلف وجوہات کی وجہ سے ہجرت کرتے رہتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے بین الاقوامی طورپر تارکینِ وطن کی کوئی باقاعدہ تعریف و تشریح موجود نہیں ہے۔ انگریزی زبان میںترکِ وطن، ہجرت، نقل مکانی، جلا وطنی وغیرہ جیسے الفاظ کی تعریف بہت واضح ہے۔ اُردو میں معاملہ ذرا مختلف ہے۔ اردو میں قانونی تعریف کم اور مذہبی، جذباتی، احساساتی اور تصوراتی معنی زیادہ ملتے ہیں....Read full article
 
تحریر: خالدمحمودرسول
بجٹ بظاہر تو مالی اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہے جسے جاننے والے ہی جانتے ہیں لیکن اس کا اثر اس قدر ہمہ گیرہوتا ہے کہ ہر عام خاص ایک حد تک اس میں دلچسپی ضرور لیتا ہے۔ ہر نئے بجٹ پر ماہرین اعدا و شمار کا دبستان کھول کر مالی اشاریوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ حکومت کے طرفدار بجٹ کی خوبیاں بتاتے نہیں تھکتے اور اس بات پر داد طلب بھی رہتے ہیں کہ اس قدر مشکل حالات میں ایسا عوام دوست.....Read full article
 
تحریر: ملیحہ خادم
علامہ اقبال اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں اقبال کا ذکر آئے گا وہاں پاکستان کا ذکر ضرور آئے گا اسی طرح جب جب پاکستان کی بات ہوگی تب تب علامہ اقبال کی بات بھی ہوگی، اقبال کے بغیر پاکستان کی تاریخ ادھوری ہے۔ آپ مفکر پاکستان اور مصلح قوم بن کر ابھرے اور تاریخ میں امر ہوگئے- پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے تعین سے پہلے ہی فکر اقبال نے اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کا تعین کردیا تھا۔.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
ایک ہوتا ہے ظاہری حُسن اور دوسرا ہوتا ہے باطنی حُسن۔ حُسن بہر حال متاثر کرتا ہے لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ باطنی حسن کا تاثر دیرپا ہوتا ہے جبکہ ظاہری حُسن کا اثر دیرپا نہیں ہوتا۔ منظر بدل جاتا ہے اورظاہری حسن نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے لیکن باطنی حسن منظر بدلنے کے باوجود ایک یاد بن کر، ایک خوشگوار حیرت یا تاثر بن کر زندگی کا حصہ بن جاتاہے۔ ظاہری حسن کا تعلق قدرتی مناظر، ماحول، انسانی شخصیت .....Read full article
 
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
پاکستان میں اب ترکی جانا فیشن اور سٹیٹس سمبل بن گیا ہے اور اس رجحان کا آغاز تب ہوا جب ترک ڈرامے ہماری سکرینوں تک پہنچے۔ جب میں نے پہلی مرتبہ ترکی کی سرزمین کو چُھوا تب ترکی جانے والے کو ہمارے ہاں مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا تھا یعنی ایسا نوجوان جو ترکی کے راستے، یورپ میں گم ہوجائے۔....Read full article

تحریر: صائمہ بتول

مختلف ڈکشنریوں کے مطابق
Harassment
کے معنی متشدّدانہ دبائو، غیر معمولی طور پر اپنے سے نیچا دکھانا، متعصبانہ رویّے، غیر مہذب جسمانی حرکات، جنسی دعوت دینے والے پوشیدہ لین دین، زبانی کلامی و جسمانی حرکات سے کسی کی عزت، غیرت اور حمیت کا تقاضا کرنا کسی بھی ناجائز مہربانی کے عوض کسی کو نیچا دکھانا وغیرہ ہیں........Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صدف اکبر
پُر سکون نیند انسانی جسم، دماغ اور ذہن کے لئے ازحد ضروری ہے۔ کیونکہ پُرسکون نیند انسانی نفسیات اور جسمانی اعضاء کے بہتر طور پر کام کرنے میں اہم کرادار ادا کرتی ہے اور انسان دن بھر اپنے آپ کو توانا اور فریش محسوس کرتے ہوئے اپنے کام بخوبی سرا نجام دیتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق بے خوابی جسے ہم انسو منیا کہتے ہیں۔ جدید دور کا ایک تحفہ ہے۔ انسومنیا یعنی نیند کا نہ آنا۔ اس بیماری سے.....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
محفل اپنے عروج پر تھی، لوگ نہایت دلچسپی سے اس ماڈرن ''بابے'' کی گفتگو سن رہے تھے، بابا تو میں نے یونہی کہہ دیا ورنہ اس کی عمر پیتالیس سے زیادہ نہیں تھی، تراشیدہ داڑھی میں کچھ سفید بال نظر آ رہے تھے، آنکھوں پر چشمہ تھا جس کے فریم کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ عمر میں پانچ برس کا اضافہ ہو جائے، البتہ شلوار قمیص کی جگہ موصوف نے پینٹ کوٹ پہن رکھا تھا اور ہاتھ میں .....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
موسم سرما کو پہننے، اوڑھنے اور کھانے پینے کا موسم بھی کہا جاتا ہے۔ عمومی خیال ہے کہ کھانے کا مزہ سردیوں میں ہی ہے۔ پاکستان میں سردیوں کی سوغات چکن، کارن سوپ، گرم اُبلے انڈے، مونگ پھلیاں اور گچک ہے۔ کسی زمانے میں ریڑھی پہ ڈرائی فروٹ بھی خوب بکا کرتے تھے۔ چلغوزے ،پستے ،اخروٹ، کشمش اور بادام، ان میں چلغوزے نسبتاً مہنگے ہوتے تھے۔ پھر کئی دکانوں پر کاجو بھی دستیاب تھے جو اب .....Read full article
 
تحریر: محمد ظہیر بدر
علم و دانش سے بہرہ ور اور تاریخ کے پیچ و خم کوتحقیق کی نظر سے دیکھنے والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ برِصغیر کی تاریخ میں سرسید اور علی گڑھ … ہمارے تابناک ماضی، شکست و زوال اور مد و جزر اسلام کی یاد داری کا اہم جزوہیں۔ نامور محقق شیخ اکرام نے کہا تھا، تحریک علی گڑھ کے سارے پھل میٹھے تھے۔ اسی تحریک سے اردو ادب و صحافت اور سیاست کے شہسوار وں نے جنم لیا۔چنانچہ.....Read full article
 
تحریر: کنول زہرا
کراچی جو کبھی خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا جہاں شہر کی سڑکوں پر دہشت کے سناٹوں کا راج تھا اور روشنیوں کے شہر کی رونقیں مانند پڑگئی تھیں ایسالگتا تھا جیسے اس شہر کی مسکراہٹیں اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گی مگر حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے 25 مارچ2018 کو ایسے محسوس ہوا جیسے کراچی ایک بار پھر سے روشنیوں کا شہر بن گیا ہے۔ شہرکی سڑکوں پر سناٹا تو اُس دن بھی تھا مگر یہ سناٹا....Read full article
06
April

تحریر: کنول زہرا

کراچی جو کبھی خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا جہاں شہر کی سڑکوں پر دہشت کے سناٹوں کا راج تھا اور روشنیوں کے شہر کی رونقیں مانند پڑگئی تھیں ایسالگتا تھا جیسے اس شہر کی مسکراہٹیں اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گی مگر حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے 25 مارچ2018 کو ایسے محسوس ہوا جیسے کراچی ایک بار پھر سے روشنیوں کا شہر بن گیا ہے۔ شہرکی سڑکوں پر سناٹا تو اُس دن بھی تھا مگر یہ سناٹا کچھ مثبت طرز کا تھا کیونکہ اس روز نیشنل اسٹیڈیم 9 سال بعد دوبارہ آباد ہوا تھا۔ کرکٹ اپنے اصل گھر منی پاکستان کراچی میں ایک بار پھر لوٹ آیا ۔ سال 2018 کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کرکٹ بوڈر کی جانب سے پی ایس ایل کے فائنل میچ کا انعقاد کراچی میں کئے جانے کا اعلان شہر قائد میں رہنے والوں کے لئے مسرت کا باعث تھا۔ 16مارچ تک ہی کراچی میں پی ایس ایل فائنل کی ٹکٹیں فروخت ہوچکی تھیں جو اس بات کی غمازی تھی کہ شہری کس بے چینی سے اس لمحے کا انتظار کررہے تھے۔فائنل کھیلنے کا دن آیا تو اہلیانِ کراچی کا جوش قابلِ دید تھا۔ نیشنل سٹیڈیم کراچی، شائقینِ کرکٹ سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ جہاں ہر سو سبز ہلالی پرچم تھے اورپاکستان زندہ باد کے نعرے تھے۔ میگاایونٹ سے لطف اندوز ہونے کے لئے انتظامیہ نے شہریوں کی سہولت کے لئے 40 ہزار سے زائد افراد کے بیٹھنے کا انتظام کیا تھا جبکہ اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کروں تو میں نے وہاں جتنے لوگوں کو بیٹھے دیکھا اتنے ہی شائقین کو کھڑے بھی دیکھا۔ اس روز صحیح معنوں میںکراچی کو امن کے کھیل میں رقص کرتے دیکھااورکراچی والوں کا جوش ہی الگ تھا۔ قابلِ تعریف بات یہ کہ نیشنل اسٹیڈیم میں یہ جوش وخروش اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلے گئے میچ کے دوران دیکھنے میں آیا۔ کراچی کی عوام نے کراچی گنگز کی ٹی شرٹس پہن کر اپنے شہر کی رونقوںکی بحالی کا جشن منایا۔ میچ شروع ہونے سے قبل روایت کے مطابق سارے شائقین نے قومی جذبے کے ساتھ پاکستان کا ترانہ پڑھا۔

pasfinalkarachi.jpg
اس بات سے سب واقف ہیں کہ کراچی میں 2013 سے رینجرز آپریشن کا آغاز ہوا تھا جو تاحال جاری ہے۔ پروردگار کے کرم سے اس کے مثبت نتائج بھی مل رہے ہیں۔ اب کراچی میں شٹرڈاون ہڑتالیں نہیں ہوتیں بلکہ زندگی خوشحال ہے۔ اب کراچی میں مادرِوطن کے خلاف نعرے نہیں لگتے بلکہ پاکستان زندہ باد کی گونج ہے۔اب کراچی میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے جھنڈے نظر نہیں آتے بلکہ عام عوام کے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم دکھائی دیتا ہے۔ یقینا یہ پاکستان سکیورٹی فورسز کی کامیابی ہے جن کی انتھک محنت اور لازوال قربانیوں کی بدولت ہم کراچی سمیت پورے پاکستان میں امن کا قیام دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے موقع پر سیاسی و شوبز شخصیات سمیت افواج پاکستان کی جانب سے کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کراچی کے عوام کو بہت نظم و ضبط والے شہری کہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے عوام کی خوشی دیکھ کر دلی اطمینان ہورہا ہے۔ اس ایونٹ کے اختتام پر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی کراچی کے شہریوں کے جوش اور نظم و ضبط کو سراہا۔


اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ کراچی سمیت پورے ملک کا امن ہمارے سکیورٹی اداروں کی ہی بدولت ہے۔ یہاں یہ کہنا ضروری سمجھتی ہوں کہ شہرقائد سے پاکستان آرمی بہت زیادہ پیار کرتی ہے اسی لئے وہ نہ صرف امن کے قیام کے لئے کمربستہ ہے بلکہ ابرِرحمت کے بعد نکاسی آب کا کام بھی پاکستان رنیجرز اور پاک افواج کرتی نظر آتی ہیں۔
بہرحال خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچا۔ اس کے پرامن اختتام پر پوری دنیا کو یہ پیغام ملا کہ پاکستان دہشت گرد ملک نہیں بلکہ دہشت گردی کا ستایا ملک ہے۔یہاں کے لوگ موت کے کھیل سے نہیں بلکہ کرکٹ اور ہاکی کے کھیلوں سے پیار کرتے ہیں۔کراچی سمیت پاکستان کا کونا کونا امن کے قیام پر پر سکون ہے اور اس امن کو مستقل خیمہ زن رکھنے کا خواہش مند ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کا لوٹ آنا اور نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں سبز ہلالی پرچموں کے ساتھ خوش اسلوبی سے فائنل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ دہشت گردی ہار گئی ہے اور پاکستان جیت گیا ہے۔ امن کا یہ قیام سکیورٹی فورسز کی بے شمار خدمات کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

 
06
April

تحریر: محمد ظہیر بدر

علم و دانش سے بہرہ ور اور تاریخ کے پیچ و خم کوتحقیق کی نظر سے دیکھنے والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ برِصغیر کی تاریخ میں سرسید اور علی گڑھ … ہمارے تابناک ماضی، شکست و زوال اور مد و جزر اسلام کی یاد داری کا اہم جزوہیں۔ نامور محقق شیخ اکرام نے کہا تھا، تحریک علی گڑھ کے سارے پھل میٹھے تھے۔ اسی تحریک سے اردو ادب و صحافت اور سیاست کے شہسوار وں نے جنم لیا۔چنانچہ اسی تحریک کے تحت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا قیام بر صغیر کے مسلمانوں کی سیاسی و سماجی تاریخ کا اہم واقعہ ہے۔ اس عظیم ادارے سے فارغ التحصیل طلبہ نے مسلمانوں کے قومی تشخص کو نہ صرف بحال کیا بلکہ اسلامیان بر صغیرکے لئے آزادی کی راہ بھی متعین کی۔یہی وجہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلبہ اپنے نام کے ساتھ نشان ِ فخر و امتیاز کے طور پر علیگ لکھا کرتے تھے۔اُن ہی علیگیوں میں سے ایک مختار مسعود بھی تھے جو زندگی بھر اسی تفاخر میں جئے جو انھیں علیگ ہونے کی وجہ سے حاصل تھا۔
مختار مسعود 1926میںسیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ عطاء اللہ علی گڑھ یونیورسٹی ہی میں معاشیات کے پروفیسر تھے۔اس لئے مختار مسعود نے اپنے تمام تعلیمی مراحل مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں طے کئے۔ ایم اے انگلش کرنے کے بعد1949 میں انھوں نے سول سروس کا امتحان دیا۔ اس امتحان میں صرف تین امیدوار کامیاب ہوئے جن میں سے ایک مختار مسعود تھے۔ملازمت کے دوران وہ کمشنر ،فیڈرل سیکریٹری اور مختلف انتظامی اعلیٰ عہدوں پر متمکن رہے۔ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن(پی آئی ڈی سی) کے سربراہ رہے۔ اس کے علاوہ وہ ایگریکلچر ل ڈویلپمنٹ بنک آف پاکستان ( اے ڈی بی پی، موجودہ زرعی ترقیاتی بنک )کے سربراہ بھی رہے۔ اسلام آباد( زیرو پوائنٹ ) میں انہی کے دور میں اے ڈی بی پی کی عظیم الشان عمارت تعمیر ہوئی۔ اس وقت تک یہ دارالحکومت اسلام آباد کی سب سے بڑی عمارت تھی۔

mukhtarmassod.jpg
عام طور پر کسی بھی پرشکوہ عمارت یا منصوبے کا افتتاح ملک کے صدر ، وزیراعظم یا پھر صوبے کے گورنر یا اعلیٰ انتظامی عہدے دارسے کروایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس عظیم الشان عمارت کا افتتاح بنک کے کسی اعلیٰ عہدے دار سے کروانے کی روایت کو توڑنے کا ارادہ کیا۔ہر چند انھیں متنبہ کیا گیا کہ وہ اپنے اس اقدام پر اس وقت کے وزیر اعظم کے عتاب کا نشانہ بھی بن سکتے ہیں۔جس کے نتیجے میں ان کو ملازمت سے برطرف بھی کیا جاسکتا ہے مگر انھوں نے سنگین نتائج کے تمام امکانات و خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنایا۔ انہوں نے بنک کے گروپ فور کے سینئر ترین ملازم سے اس عظیم الشان عمارت کا افتتاح کروا کر محنت کی عظمت اور محنتی طبقے کی پذیرائی کی بنیاد رکھی۔ مختار مسعود پاکستان، ایران اور ترکی کی تعاون کی تنظیم ،ریجنل کوآپریشن فار ڈویلپمنٹ (آرسی ڈی) کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے اور تینوں مسلم ممالک میں ترقیاتی تعاون بڑھانے کے لئے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ مختار مسعود ایک بااصول اور دیانت دار بیوروکریٹ تھے۔ان کا شماراِن معدودے چند بیوروکریٹس میں ہوتا ہے جو اپنے اختیار کو امتحان کے طور پر لیتے ہیں،جو اپنے اختیار کو اقتدار کے بجائے خدمت گزاری کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔


میرے خیال میں جس طرح غالب کے خطوط 1857 کی اجڑی دہلی کے بارے میں معلومات کا معتبرذریعہ ہیں، اسی طرح انقلاب ایران پر مختار مسعود کی کتاب '' لوح ایام '' اس وقت کے ایران کی شب و روز کروٹیں لیتی ہوئی سیاسی و سماجی زندگی کے بارے میں سب سے اہم دستاویز ہے کیونکہ انقلاب ایران کے ہنگامے اور شورش کے وہ عینی شاہد تھے۔ آواز دوست اورسفر نصیب کے بعد یہ ان کی تیسری تصنیف تھی۔ '' سفر نصیب '' میں انھوںنے سفرنامہ لکھنے والوں کو ایسے اسلوب سے آشنا کروایا ہے جس کے تحت مسافر کو اپنی تحریر میں دلچسپی کا رنگ بھرنے کے لئے وجود زن کے علاوہ دیگر رنگوں سے بھی کام لینا چاہئے۔ مقامات کے پیش منظر کے ساتھ پس منظر کو بھی سفری مونتاج کا جزو بنانا چاہئے۔ ان کی پہلی کتاب آواز دوست سے لے کر آخری کتاب حرف شوق تک کی تحریر میں موضوع و مواد کے لحاظ سے ایک تاریخی شعور کا نامیاتی تسلسل پایا جاتا ہے۔ میرا خیال تھا کہ اس مضمون میں مختار مسعود کی تمام کتب کا تذکرہ کر کے مختار مسعود کے فن پر روشنی ڈالوں گا۔ کیونکہ ان کے فن و شخصیت پر ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔لیکن ایک تو مقررہ گنجائش پیش نظر تھی دوسرا یہ کہ جوں ہی آواز دوست کھولی مولانا روم کے اس شعر نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا :
خشک مغزو خشک تار و خشک پوست
از کجا می آید ایں آوازِ دوست
اشاعت اول، جنوری 1973سے لے کردو بار اس کا مطالعہ کر چکا ہوں۔ اب تیسری بار جو کتاب کھولی تو ایسا ڈوبا کہ اس مضمون کو مختار مسعود کی جملہ کتب پر مضمون لکھنے کے بجائے آواز دوست تک محدود کرنے پر مجبور ہو گیا۔اردو نثر میں ایسی تحریر شاذونادر ہی ملے گی جس میں مصنف نے مختلف اصناف نثر سے کام لیا ہے۔ کہیں یہ رپوتاژ ہے کہیں روداد، کہیں تاریخ نگاری ویاد نگاری ، کہیں خاکہ و سفر نامہ نگاری جھلکتی ہے۔آواز دوست میں تاریخی حوالے سے کئی ایسی باتیں مصنف کے قلم کی زد میں آگئی ہیںجن کا تذکرہ ہمیں تاریخ پاکستان یا مشاہیر کے تذکروں میں نہیں ملتا۔' آواز دوست' نے اہل فکر و درد اور عوام الناس میں اپنی دھوم مچائے رکھی۔ اب تک اس کے دسیوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔کتاب کے مختصر سے دیباچے میں انھوںنے اس کتاب کی نوعیت و ماہیت کا تعارف یوں کروایا۔'' اس کتاب میں دو مضمون شامل ہیں۔ایک طویل مختصر اور دوسرا طویل تر۔ان دونوں مضامین میں فکر اور خون کا رشتہ ہے۔فکر سے مراد فکر فردا ہے اور خون سے مراد خون تمنا۔''


یہ دو مضامین مینار ِ پاکستان اور قحط الرّجال ہیں۔شاید انھوںنے مینار پاکستان کو فکر یعنی فکر فردا سے تعبیر کیا ہے۔ بقول مختار مسعود۔۔۔۔ ہماری نظریاتی تاریخ کی ضرورت ، تحریک آزادی کی علامت ، دین کی سرفرازی کا گواہ اور ہماری تاریخ کا نشان ِ خیر ہے۔۔۔، آوازدوست پر اپنے مضمون بعنوان '' آواز دوست کی چند لہریں '' میں … مینار پاکستان …کے بارے میں سید ضمیر جعفری بھی اسی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ''اس موضوع میں کچھ ایسے مقاماتِ آہ و فغاں بھی آتے تھے کہ جب تک ایک ہاتھ میں قلم اور دوسرے میںعَلَم نہ ہو ، آدمی ان مقامات سے گزر نہ سکتا تھا ، یہ مینار خشت و سنگ کا کوئی عام انبار نہ تھا۔'' حساس دل اور وطن عزیز کی محبت میں سرشار لوگوں کو اس کتاب کی تحریر خون کے آنسو رُلاتی ہے۔ آواز دوست کی تحریردل میں اتر کر رگ وپے کو حصار میں لے لیتی ہے۔
مینار پاکستان کا منصوبہ ان کی زیر نگرانی تکمیل پایا۔ چنانچہ کتاب کے پہلے باب مینار پاکستان میں اور دوسرے حصے قحط الرّجال میں آٹو گراف بک لئے سطر بہ سطر ان کی گہری شمولیت کا احساس ہوتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا :
اس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ
دریا سے اٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی
آواز دوست میں مختار مسعود بھنور کی وہی آنکھ دکھائی دیتے ہیں۔جو تخلیق پاکستان کے مقاصدکی عدم تحصیل اور مشرقی بازو کے کٹ جانے کی وجہ سے خُونابہ بار ہے۔ وطن عزیز جس نازک صور ت حال سے گزر رہا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ اسلاف نے پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی اہمیت سے آنے والی نسلوں کو متعارف نہیں کروایا۔جن قربانیوں اور دکھوں سے اس کا حصول ممکن ہوا، ان کا احساس اگلی نسلوں کو منتقل نہیں کیا۔آواز دوست اسی '' جرم'' کاکفارہ ہے جو اس کی مقبولیت کی دلیل ہے۔اس کتاب کے جملے اقوال زریں کے طور پر یاد رکھے جانے کے قابل ہیں۔آواز دوست ادب برائے زندگی اور ادب برائے ادب کا دلکش و دل پذیر امتزاج پیش کرتی ہے۔چند اقتباسات دیکھئے :
٭ اہل شہادت اور اہل احسان میں فرق صرف اتناہے کہ شہید دوسروں کے لئے جان دیتا ہے اور محسن دوسروں کے لئے زندہ رہتا ہے۔ایک کا صدقہ جان ہے اور دوسرے کا تحفہ زندگی۔
٭ مرنے والوں کو کسی نے دفن نہ کیا مگر بچ جانے والے زندہ درگور ہوگئے۔
٭جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہوجائیں ، جہاد کی جگہ جمود اور حق کی جگہ حکایت کو مل جائے ، ملک کے بجائے مفاد اور ملت کے بجائے مصلحت عزیز ہو ، اور جب مسلمانوںکو موت سے خوف آئے ،زندگی سے محبت ہوجائے تو صدیاں یونہی گم ہو جاتی ہیں۔
٭دراصل جرأت ایک کیفیت اور قربانی اس کیفیت پر گواہی ہے۔جرأت ایک طرز اختیار کانام اور قربانی ایک طریقِ ترک کو کہتے ہیں۔اس ترک و اختیار میں بسر ہو جائے تو زندگی جہاد اور موت شہادت کا نام پاتی ہے۔

مضمون نگار' معروف ماہرِ تعلیم' ادیب اور ناول نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
April
Published in Hilal Urdu
Read 45 times
بلوچستان میں یوم پاکستان کی تقریبات

newsbalcomainpakyoum.jpg

ملک کے دیگر صوبوں کی طرح صوبہ بلوچستان میں بھی یوم پاکستان روایتی جوش و جذبہ کے ساتھ منایاگیا۔ دن کا آغاز صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 21توپوں کی سلامی کے ساتھ ہوا جبکہ تمام یونٹوں میں واقع مساجد میں قرآن خوانی اور پاکستان کی ترقی کے لیے دعائیں کی گئیں۔ یوم پاکستان کے تناظر میں صوبے بھر میں پاک فوج کے زیر اہتمام مختلف تقاریب منعقد ہوئیں۔ پاکستان رمی کی جانب سے مرکزی تقریب کے طور پر شاندار عسکری میلے کا انعقاد کیاگیا تقر یب کے مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی تھے۔ اس موقع پروزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، وفاقی وزرائ، اعلیٰ سول وفوجی حکام کے علاوہ شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔سکول کے بچوں نے ملی نغمہ کی دھن پرشاندار ٹیبلو پیش کیا جسے سٹیڈیم میں موجود حاظرین نے بے پناہ سراہا۔ تقریب کے دوران مارشل آرٹ، جمناسٹک اور نیزہ بازی کے مظاہرے پیش کئے گئے جن پر حاضرین نے دل کھول کے داد دی۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ری پیلنگ، انسداد دہشتگردی مظاہرہ اور آرمی بینڈ کے دلچسپ مظاہرے حاضرین کی توجہ کامرکز رہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا کہ 23مارچ کا دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر قومی سوچ اپنائیں اور وطن عزیزکی حفاظت، سلامتی اور خوشحالی کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے ہمہ وقت تیا ر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ کسی قیمت پر بھی وطن عزیز پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ بعدازاں پاکستان آرمی ایوی ایشن کی جانب سے فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا گیا جس میں مشاق طیاروں، لاما ہیلی کاپٹرز، کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹرز، بیل 412ہیلی کاپٹرز اور MI17ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا ۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی اور دیگر مہمانوں نے پاکستان آرمی کی مختلف آرمز اور سروسز کی جانب سے لگائے گئے سٹالز کا دورہ کیا ۔ خضدار میں بھی فوجی سازوسامان کی نمائش کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقے کے لوگوں نے گہری دلچسپی لی۔ آواران میں پاک فوج کے زیر اہتمام ملی نغموں کا مقابلہ، والی بال اور کرکٹ کے نمائشی میچز کھیلے گئے ۔ جبکہ کشمور میں دیگر تقاریب کے علاوہ آتش بازی کا شاندار مظاہرہ بھی پیش کیا گیا۔ لورالائی ، دالبندین ،ژوب میں بھی تقاریب کا اہتمام کیا گیا جن میں فوجی سازوسامان کی نمائش ، میلہ میویشیاں اور بلوچستان کی ثقافت کو اُجاگر کرنے کے لیے ایک شو کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ڈیر ہ بگٹی، تربت ،مکران ،نوکنڈی اوتھل ، گوادراور چمن میں بھی پرچم کشائی اور پریڈ کی تقاریب منعقد ہوئیں جن میں مینا بازار ، تقریری مقابلے، سپورٹس کے مقابلے، ثقافتی رقص اور بوٹ ریس حاضرین کی دلچسپی کا مرکز رہے۔
خیبر پختونخوا اور فاٹا میں یوم پاکستان کے حوالے سے خصوصی تقاریب کا انعقاد

newsbalcomainpakyoum1.jpg

خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں یومِ پاکستان قو می یکجہتی و جذبۂ حبُ الوطنی سے منایا گیا۔ دن کا آ غاز مساجد میں قرآن خوانی سے ہوا جس کے بعد ملک کی خوشحالی ، سلامتی اور استحکام کیلئے دعائیں مانگی گئیں۔ اس مو قع پر سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیااور اُن کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ صو بائی دارالحکومت میں 21 تو پوں کی سلامی پیش کی گئی۔ صوبہ بھر کے مختلف علاقوں میں طلباء نے امن مارچ کا انعقاد کیا اور تقریری مقابلوں میں یومِ پاکستان کی اہمیت اور بزرگوں کی اُن لازوال قربانیوں کو اُجاگر کیا جو اُنھوں نے قیامِ پاکستان کے لئے دیں۔ اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان ایجنسی کے علاقے کانی گرم میں آرمی پبلک سکول میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں بڑی تعداد میں سکول کے بچوں نے مختلف قسم کے ملی نغمے پیش کئے .اور یوم پاکستان کی افادیت کے بارے میں تقریری مقابلے کا انعقاد کیا ۔شمالی وزیرستان ایجنسی میں بھی یومِ پاکستان کے حوالے سے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ خاص طور پر یونس خان سپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ میچ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میچ کو بڑ ی تعداد میں قبائلی عمائدین اور سکول کے بچوں نے دیکھا. کرم ایجنسی، اورکزئی ایجنسی،باجوڑایجنسی اورمہمند ایجنسی میں بھی یومِ پاکستان کے سلسلے میں بڑی تعداد میں تقاریب کا انعقاد ہوا،جس میں بچوں اور قبائلیوں نے امن ریلیوں اور مختلف قسم کے کھیلوں میں حصہ لیا.
06
April
Published in Hilal Urdu
Read 36 times
ملٹری کالج سوئیمیں پانچویں سالانہ یومِ والدین کی تقریب

newsmilcolgsui.jpg

گزشتہ دنوں ملٹری کالج سوئی میں پانچویں سالانہ یوم والدین کی تقریب منعقد ہوئی۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر انہوں نے پریڈاور مارچ پاسٹ کا معائنہ کیا اور کیڈٹس کی تربیت کے معیار کو سراہا۔قبل ازیں کمانڈنٹ بریگیڈیئر خالد سلطان نے استقبالیہ خطاب میں کالج کی سرگرمیوں سے متعلق حاضرین کو آگاہ کیا۔
ایک دن پاک فوج کے ساتھ

newsmilcolgsui1.jpg

گزشتہ دنوں بہاولپور کے مختلف سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں کے 300 سے زائد طالب علموں نے پاک فوج کے ساتھ ایک دن گزارا۔ انہیں پاک فوج کی تنظیم اور کارکردگی کے حوالے سے تفصیلات بتائی گئیں۔ اس موقع پر مختلف ہتھیاروں کی نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں طالب علموں نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
06
April
Published in Hilal Urdu
Read 35 times
کمانڈر گوجرانوالہ کور کا آپریشنل ایریا کا دورہ

newscdrgujran.jpg

گزشتہ دنوں کمانڈر گوجرانوالہ کور لیفٹیننٹ جنرل عامر عباسی نے سیالکوٹ میں آپریشنل ایریا کا دورہ کیا ۔اس موقع پر جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل رضا جلیل نے انہیں اگلے مورچوں میںتعینات سپاہ کی عسکری تیاریوںاور تفصیلات کے بارے میں آگاہ کیا۔ کور کمانڈرنے وہاں موجود افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی اور ان کی عسکری تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور ان کے جذبے اور لگن کی تعریف کی۔
کمانڈرپشاور کور کا دورہ باجوڑ ایجنسی

newscdrgujran1.jpg

گزشتہ دنوںکمانڈر پشاورکور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے باجوڑ ایجنسی میں سرحدی علاقے کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کور کمانڈر کو آ ئی جی ایف سی (نارتھ ) میجر جنرل وسیم اشرف نے سکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ دورے کے دوران کور کمانڈر نے اگلی چوکیوں پر تعینات افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں ان کے حوصلے کو سراہا۔ مزید برآںکور کمانڈر نے مؤثر بارڈرسکیورٹی انتظامات کی بھی تعریف کی۔
06
April
Published in Hilal Urdu
Read 38 times
آرمی بیس بال چیمپیئن شپ 2017/18

newsarmyabaseball.jpg

گزشتہ دنوںکراچی گیریژن میں آرمی بیس بال چیمپیئن شپ برائے سال 2017/18 منعقد ہوئی۔ ان مقابلوں میں ملتان کور کی ٹیم بیس بال چیمپیئن شپ ٹرافی کی حقدار قرار پائی ۔ ملتان واپسی پر چیمپیئن ٹیم کو کمانڈر ملتان کور لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ ڈوگرنے شاباش دیتے ہوئے کھلاڑیوں میں تحائف تقسیم کئے۔
پاک فوج کی جانب سے ضلع راجن پور کے علاقہ شاہ والی میں سپیشل فری آرمی میڈیکل کیمپ کا قیام

newsarmyabaseball1.jpg

گزشتہ دنوں پاک فوج کی جانب سے ضلع راجن پور کے علاقہ شاہ والی میں2 روزہ سپیشل فری آرمی میڈیکل کیمپ کا قیام عمل میں لایا گیا ۔جس میں پاک آرمی کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیموں نے علاقہ مکینوں کو مفت طبی سہولیات مہیا کیں۔ سپیشل فری میڈیکل کیمپ کے دوران تقریباً 4000 مریضوں کو طبی سہولیات اور مفت ادویات فراہم کی گئیں ۔ علاقہ مکینوں نے پاک آرمی کی طرف سے سپیشل فری میڈیکل کیمپ کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی پاک فوج کی طرف سے ایسے اقدامات کئے جاتے رہیں گے۔
06
April
Published in Hilal Urdu
Read 37 times
فرسٹ آرمڈ ڈیوبیٹل سکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ

newsfirsttrebunal.jpg

گزشتہ دنوں فرسٹ آرمڈ ڈیوبیٹل سکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقدکی گئی۔ جس میں گیریژ ن کمانڈر میجر جنرل محمد عارف مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا اور معیار کو سراہا۔ مہمانِ خصوصی نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔
شمالی وزیرستان ایجنسی کے صدر مقام میرعلی میں سویٹ ہوم کا افتتاح

newsfirsttrebunal1.jpg

گزشتہ دنوں کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے شمالی وزیرستان ایجنسی کے صد ر مقام میر علی میںسویٹ ہو م کا افتتاح کیا۔ اس سویٹ ہو م میںسو سے زائد یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش کی جائے گی اور اس سنٹر میں مزید سو یتیم بچوں کا ا ضافہ بھی کیا جائے گا۔اس موقع پر کمانڈر پشاور کورنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سویٹ ہوم کا قیام شمالی وزیرستان ایجنسی میں بے سہارا بچوںکی تعلیم و تربیت اور کردار سازی میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ کمانڈر پشاور کور نے ہرمز میر علی میں گولڈن ایرو آرمی پبلک سکول ،میر علی بس ٹرمینل اور سر بند گئی وِلیج میںپیس پارک اور جھیل کا افتتاح بھی کیا۔شمالی وزیرستان کے قبائل نے پاک فوج کی ان کاوشوں کا شکریہ ادا کیا اور پاک فوج کے جذبۂ خیرسگالی کو سراہا۔
06
April
Published in Hilal Urdu
Read 31 times
فرنٹیئر کور کے پی کے میں پاسنگ آؤٹ پریڈ

newsfckzereehtman.jpg

گزشتہ دنوں پشاور میں فرنٹیئر کور کے جوانوں کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیرداخلہ احسن اقبال تھے۔ اس موقع پر انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا اور اس کے معیار کو سراہا۔ اپنے خطاب کے دوران وزیرداخلہ نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہ بیٹھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ مہمانِ خصوصی نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔
فرنٹیئرکور کے زیراہتمام ریکرو ٹس پاسنگ آؤٹ پریڈ

newsfckzereehtman1.jpg

گزشتہ دنوںپشاور فرنٹیئرکور خیبرپختونخوا (نا رتھ)کے زیر اہتمام ایک سادہ اور پروقار ریکروٹس پاسنگ آوٹ پریڈ کی تقریب کا انعقاد دروش چترال میں کیا گیا۔ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (نارتھ) میجر جنرل محمد وسیم اشرف تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ میجر جنرل محمد وسیم اشرف نے ریکروٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے معیار پر اظہار اطمینان کیا۔انسپکٹر جنرل فرنٹیئرکور خیبرپختونخوا (نارتھ) میجر جنرل محمد وسیم اشرف نے دوران تربیت اعلیٰ کا رکردگی کا مظا ہرہ کرنے وا لے ریکروٹس میں انعامات بھی تقسیم کئے۔
06
April
Published in Hilal Urdu
Read 27 times
ملتان کور میں جنگی مشقیں

multancorejangimasknews.jpg

گزشتہ دنوں کمانڈرملتا ن کور لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ ڈوگرنے مظفرگڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز پرفوجی مشقوں کا معائنہ کیا ۔ کمانڈر ملتان کور نے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت وتربیتی معیار کی تعریف کی۔ اس موقع پر انہوں نے تعینات افسروںو سپاہیوں سے بات چیت کی اور ان کی جنگی حکمت عملی ومہارت کو سراہا۔
06
April
Published in Hilal Urdu
Read 28 times
کمانڈر لاہور کور کا کوٹلی رائے ابوبکر کےمقام پر فیلڈ ٹریننگ مشقوں کا معائنہ

newscorecdrlahorecorekotli.jpg

گزشتہ دنوں کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کوٹلی رائے ابوبکر کے نزدیک ایکسرسائز ایریا کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کور کمانڈر جوانوں سے ملے اور جاری فیلڈ مشقوں کا معائنہ کیا۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے افسروں اور جوانوں کی تربیت کے معیار کو سراہا اور آپریشنل تیاریوں کے حوالے سے مزید بہتری پر بھی زور دیا۔ مزید برآں اُنہیں جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل شاہد محمود نے مشقوں سے متعلق بریفنگ بھی دی۔
06
April
Published in Hilal Urdu
Read 29 times
آرمی پبلک سکول و کالج ہمایوں روڈ کے لئے اکیڈمک ایکسیلینس ایوارڈ

newsapsschoool.jpg 

گزشتہ دنوںچیف آف آرمی سٹاف سالانہ تقسیمِ انعامات اور اعزازات کی تقریب آرمی میوزیم راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں آرمی پبلک سکول و کالج ہمایوں روڈ نے نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں آٹھ اعزازات حاصل کرکے نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پورے سسٹم میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے پر پرنسپل بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) مقبول احمد، سکول سٹاف اور بچوں کی خصوصی تعریف کی اور پرنسپل بریگیڈیئر (ر) مقبول احمد کو اکیڈمک ایکسیلینس ایوارڈ سے بھی نوازا۔
ایف جی ڈگری کالج برائے خواتین میں تقریبِ تقسیمِ انعامات

newsapsschoool1.jpg

گزشتہ دنوں ایف جی ڈگری کالج برائے خواتین عابد مجید روڈ میں تقریبِ تقسیمِ انعامات منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر
FGEI
ڈاکٹر بریگیڈیئر محمد آصف اقبال تھے۔ اس موقع پر انہوں نے اساتذہ کی کوششوں اور طالبات کی کارکردگی کو سراہا۔ مہمانِ خصوصی نے نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

06
April
Published in Hilal Urdu
Read 25 times
ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان کے لئے نشانِ امتیاز (ملٹری) کا اعزاز

airchiefmarshalmujnews.jpg

گزشتہ دنوںصدر مملکت ممنون حسین نے ایوانِ صدر میں منعقد ہونے والی پُر وقار تقریب میں پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان کو نشانِ امتیاز ملٹری سے نوازا ۔ اس تقریب میں انجینئر خرم دستگیر خان وفاقی وزیر دفاع، رانا تنویر حسین وزیر دفاعی پیداوار، لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ (ریٹائرڈ) وزیر ِ سیفران ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور ایڈمرل ظفر محمود عباسی سربراہ پاک بحریہ کے علاوہ مسلح افواج کے دیگر اعلی افسران نے شرکت کی۔ بعد ازاں صدر پاکستان نے پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات کے دوران انہیں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کی کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
120 ویں کمبیٹ سپورٹ کورس کی تقریب

airchiefmarshalmujnews1.jpg

گزشتہ دنوںپاکستان ائیر فورس اکیڈمی اصغرخان میں 120 ویں کمبیٹ سپورٹ کورس اور 40ویں بی ایل پی سی کورس کی گریجویشن اور اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کے10کیڈٹس کی کمیشنگ کی تقریب منعقد ہوئی۔پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ایرانی سفیر جناب مہدی ہنر دوست بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس تقریب میں09خواتین کیڈٹس سمیت47 کیڈٹس گریجویٹ ہوئے۔مہمانِ خصوصی نے گریجویٹ ہونے والے کیڈٹس میں برانچ کا نشان اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں میں انعامات تقسیم کیے۔
06
April
Published in Hilal Urdu
Read 24 times
فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے کرنل کمانڈنٹ کی تعیناتی
گزشتہ دنوں فرنٹیئر فورس رجمنٹل سنٹر ایبٹ آباد میں کرنل آف کمانڈنٹ فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل غیور محمود کو کرنل کمانڈنٹ تعینات کیا گیا۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل (ر) راحیل شریف نے رینک کے بیجز لگائے۔ تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ پفر افسران نے شرکت کی۔

fccoreregcolcdt.jpg

چیف آف آرمی سٹاف کا بہاولپور کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ
گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بہاولپور کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کمانڈر بہاولپور کور لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن نے انہیںفارمیشن کی آپریشنل تیاریوں کے متعلق بریفنگ دی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کور کی مشرقی بارڈر کے حوالے سے ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لئے کی گئی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ کمانڈر ملتان کور بھی بریفنگ میںموجود تھے۔

newsmalirchawni1.jpg

06
April
Published in Hilal Urdu
Read 26 times
ملیر چھاؤنی میں یومِ پاکستان کی تقریبات

newsmalirchawni.jpg

یومِ پاکستان کے سلسلے میں ملیر چھائونی کراچی میں تین روزہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ان تقریبات کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی تقریبات لوگوں میں ملک سے محبت کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ ان تقریبات میں ملک بھر سے آئے ہوئے کھلاڑیوں، فنکاروں اور طالب علموں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ہارس ڈانس، علاقائی رقص، رائیڈرز مارچ، نیزہ بازی اور دیگر کھیلوں میں عوام نے خصوصی دلچسپی لی۔ تقریب میں خاص بات پاکستان نیوی کے سپیشل سروسز گروپ کا فضائی کرتب تھا۔ جس کو حاضرین نے بے حد سراہا۔ اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا تھے۔ انہوں نے اس موقع پر مختلف مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات تقسیم کئے۔

 

06
April

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

موسم سرما کو پہننے، اوڑھنے اور کھانے پینے کا موسم بھی کہا جاتا ہے۔ عمومی خیال ہے کہ کھانے کا مزہ سردیوں میں ہی ہے۔ پاکستان میں سردیوں کی سوغات چکن، کارن سوپ، گرم اُبلے انڈے، مونگ پھلیاں اور گچک ہے۔ کسی زمانے میں ریڑھی پہ ڈرائی فروٹ بھی خوب بکا کرتے تھے۔ چلغوزے ،پستے ،اخروٹ، کشمش اور بادام، ان میں چلغوزے نسبتاً مہنگے ہوتے تھے۔ پھر کئی دکانوں پر کاجو بھی دستیاب تھے جو اب بھی ہیں۔مگر ہم جو یہاں''تھے'' استعمال کر رہے ہیں وہ اس لئے کہ اب ڈرائی فروٹ اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ عام آدمی کے لئے یہ 'تھے' یعنی ماضی کا ہی بیان ہے۔ رات کو جب سب گرم کمبلوں میں سونے لیٹتے اور باہر گلی سے ڈرائی فروٹ والے کی مخصوص گھنٹی سنائی دیتی تو لپک کر ٹھٹھرتی سردی میں باہر کا رخ کرتے اور ڈھیروں خشک میوہ جات خریدتے۔ اب یہ باتیں قصۂ پارینہ ہیں۔ہم کچھ عرصہ قبل کوئٹہ گئے تھے جہاں بہت ڈھونڈنے کے بعد ہمیں ایک دکان پر ایرانی پستے نظر آئے ہم نے جھٹ آٹھ دس ڈبے خرید لئے۔ گھر واپس آ کر دیکھا تو اس میں کیڑے بھرے تھے، لہٰذا سب پھینکنا پڑا۔ وہاں چیز ایک بار خرید لی تو واپس یا تبدیل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس کینیڈا میں خریدا ہوا سامان اصلی رسید دکھا کر واپس کیا جا سکتا ہے۔ ہر دکان کی اپنی پالیسی ہوتی ہے۔ خریدی چیز واپس کرنے کی معیاد مقرر ہے جو ایک ہفتے سے لے کر چھ مہینے تک ہوتی ہے۔ بعض دکانیں پیکنگ کھل جانے پر اشیا واپس نہیں لیتیں جبکہ بعض بغیر سوال کئے پیکنگ کھل جانے پر بھی چیز واپس لے لیتی ہیں۔ ایک بار ہم جوتا خریدنے ایک دکان میں گئے۔ کینیڈا میں جوتے کا آدھے آدھے نمبر سے سائز میں فرق ہوتا ہے جیسے ہمارے یہاں 8-9-10 نمبر ہوتا ہے۔ یہاں 8-1/2- 9-1/2- 10-1/2 ہوتا ہے۔ یہ سہولت ہے کیونکہ اکثر موزے پہننے سے جوتا تنگ محسوس ہوتا ہے۔ آدھا نمبر بڑا جوتا اس لحاظ سے موزوں ہے کبھی ایک سائز بڑا جوتا زیادہ بڑا ہوتا ہے اور ایک سائز کم زیادہ تنگ، لہٰذا یہ آدھا نمبر کا فرق بڑی زبردست چیز ہے۔ پھر یہاں چاہے بہت بڑی جوتوں کی دکان ہو مگر کائونٹر پر ایک ہی بندہ ہوتا ہے کبھی دو بھی ہوتے ہیں یہاں جوتے کا ایک پیر شوکیس میں سجانے کے بجائے پورا جوڑا رکھا ہوتا ہے۔ انہیں یہ ڈر نہیں کہ کوئی پہن کے بھاگ جائے گا کیونکہ ہر طرف کیمرے لگے ہوتے ہیں اور ویسے اگر کیمرے نہ بھی ہوں تو یہاں پولیس کا خوف بھی لوگوں کو چوریوں سے باز رکھتا ہے۔ ایک جوڑی جوتا اوپر رکھا ہوتا ہے باقی اسی ڈیزائین کے مختلف سائز کے جوتے ڈبوں میں بند ایک کے اوپر ایک ترتیب سے رکھے ہوتے ہیں۔ آپ کو خود جوتا پسند کر کے اپنے ناپ کا ٹرائی کر کے پہننا ہوتا ہے۔کینیڈا میں یہ طریقہ نہیں کہ ایک پائوں کا جوتا سجا ہے وہ پہن کے یا دیکھ کے سیلز بوائے کو کہیںمیرے سائز کا دے دیں۔ وہ پھر آپ کا پیر دیکھ کر آواز لگائے گا۔ '40کا 8دینا کالے میں'۔ پھر اوپر سے کوئی دو تین ڈبے پھینکے گا جو مہارت سے نیچے والا کیچ کر لے گا۔ الگ ہی اسٹائل ہے اپنا !
ہاں تو ہم جوتا خریدنے گئے۔ ایک تو سینڈریلا کی طرح ہمارے پیر میں کوئی جوتا فٹ نہیںآتا۔ کوئی پنجے سے تنگ ہوتا ہے تو کسی کی ایڑی آرام دہ نہیں ہوتی۔ خیر ہم ڈھونڈتے رہے مگر ہمیں کچھ نہ ملا پھر ہم نے کائونٹر پر بیٹھی خاتون سے کہا اتنی بڑی دکان میں ہمارے سائز کا مناسب کوئی جوتا نہیں؟ اس نے ہمارا پیر دیکھا پھر کہنے لگی کہ آپ آگے سے نوکیلا جوتا دیکھ رہی تھیں جو ایک پیر کے ساتھ سے فرق ہو گا۔ آپ ایسا جوتا پسند کریں جو سامنے سے چوڑا ہو۔ ہم نے پوچھا یہ کونسا جوتا ہے۔ وہ بولی یہ الگ کیٹیگری ہے۔ ہر سائز میں دو تین اقسام کی کیٹیگری ہوتی ہے۔ کوئی پتلا، کوئی چوڑا اور کوئی نوکیلا۔ ہمیں جھنجھلاہٹ ہونے لگی۔ وہ کہنے لگی آپ کو جو جوتا پسند آ رہا ہے وہ لے جائیں اگر آرام دہ نہ ہوتو ایک ہفتے میں واپس کر دیجئے گا۔ ہمیں اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا کہ پہنا ہوا جوتا کبھی دکاندار واپس بھی لے لیتا ہے۔ ہم نے بے یقینی سے سیلز گرل کی طرف دیکھا۔ وہ اپنے کام میں مشغول ہو گئی۔ ہم نے دوبارہ سے کنفرم کیا اور جوتا خرید لیا۔ دو دن پہننے کے بعد ہمیں لگا کہ واقعی جوتا اتنا آرام دہ نہیں۔ ہم نے رسید سنبھالی اور دکان پرپہنچ گئے۔ ذہنی طور پر ہم بحث مباحثے کے لئے تیار تھے۔ مگر یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جوتا نہ صرف بلاچوں چرا واپس لے لیا گیا اور ہمارے پیسے واپس ہو گئے۔بلکہ ہمیں

Reward Program

میں رجسٹرڈ کر لیا گیا۔ ریوارڈ پروگرام عموماً ہرسٹور اپنے گاہکوں کو دیتا ہے یہ کسٹمر کے نام، فون نمبر اور ای میل ایڈریس کو نوٹ کر کے اسے رجسٹر کرتے ہیں۔ پھر ایک کارڈ دیتے ہیں جس کے ذریعے پوائنٹس حاصل کئے جاتے ہیں۔ بعض سٹورکارڈ نہیں بھی دیتے اور صرف ای میل کے ذریعے پوائنٹس بھیجتے ہیں۔

canadamaininpak.jpg

یہ ایک بہت زبردست پروگرام ہے جس کے بہت فوائد ہیں۔ ہم آپ کو اپنے کچھ تجربات سے سمجھاتے ہیں۔ مثلاً ایک بہت بڑی چین ہے سٹورز کی جہاں فارمیسی، الیکٹرانک، کاسمیٹکس اور دیگر اشیاء دستیاب ہیں۔ انہوں نے ہمیں رجسٹر کیا اور ہماری سالگرہ والے دن ہمیں ای میل کیا کہ ہمارا

Reward

پانچ ڈالر بنتا ہے۔ لہٰذا ایک ہفتے کے اندر ہم 5ڈالر کی کوئی بھی چیز سٹور سے خرید سکتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور سٹور ہے جو ہر دوسرے دن ہمیں ای میل بھیجتا ہے کہ فلاں دن اگر 30ڈالر کی شاپنگ کریں تو 8000پوائنٹس ملیں گے جو تقریباً 10ڈالر کے برابر ہیں یہ آفر ہمیں اپنے کارڈ پر لوڈ کرنی ہوتی ہے، پھر جب خریداری کریں تو کارڈ سوائپ کریں اور پوائنٹس بڑھاتے جائیں۔
ایک چیز

Store Credit

بھی ہوتی ہے۔ بعض دکانیں ایسی ہیں جو خریدار سے سامان واپس تو لے لیتی ہیں مگر

Refund

یعنی پیسے واپس نہیں کرتیں بلکہ اس کے بدلےدیتی ہیں یعنی اگر آپ نے 100ڈالر کی کوئی چیز خریدی اور واپس کر دی تو آپ کے پاس 100ڈالر کا سٹور کریڈٹ ہے جس سے آپ کوئی دوسری چیز اس سٹور سے خرید سکتے ہیں۔ اس کی مدت عموماً سال بھر تک ہوتی ہے۔
بعض بڑے سٹور ایسے بھی ہیں جو پیکنگ کھل جانے پر بھی سامان واپس لے لیتے ہیں۔ ایک بار ہم نے ایک مووی کیمرا خریدا جس کی مالیت 400ڈالر تھی۔ ہم نے اس کو استعمال کیا پھر لگا کہ یہ بہت زیادہ تکنیکی ہے ہمیں کوئی سادہ سا چاہئے۔ ہم سٹور پر گئے اور واپس کر دیا۔ انہوں نے رسید بھی نہیں مانگی کیونکہ اس سٹور کا اپنا کارڈ ہوتا ہے۔ جس سے شاپنگ کی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ بھی آسانی ہو گئی۔
کسٹمر سروس کیا ہوتی ہے؟ کیسے اپنی دکان یا برانڈ کو معتبر کیا جاتا ہے؟ کیسے کسٹمر سے بات کی جاتی ہے؟ یہ سب دیکھنا ہوتو کینیڈا ضرور تشریف لائیں۔
ایک مرتبہ ہم کراچی میں واقع بہت بڑے مال کے سب سے بڑے سٹور میں گئے۔ وہاں ہزاروں روپے کی شاپنگ کے بعد ہم نے پوچھا کوئی

Customer Loyalty Program

یا ڈسکائونٹ کارڈ یا اس قسم کی کوئی چیز آپ کے پاس ہوتی ہے؟ منیجر صاحب بولے جی جی بالکل، ہم تو لاکھوں کا سامان فروخت کرتے ہیں۔ ظاہر ہے ڈسکائونٹ کارڈ تو ہو گا ہی بس آپ یہ فارم پر کر دیں۔ ہم آپ کو کارڈ دے دیں گے۔ ہم نے فارم بھرنا شروع کیا نام، پتہ، فون نمبر، عمر سے شروع ہو کر معلوماتی سوال نامہ ہماری والدہ کے نام اور ان کے کوائف ہماری آمدن سے لے کر دیگر ذاتی تفصیلات تک پہنچ گیا۔ آدھا فارم پُر کیا تھا کہ ہمارا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور ہم پیچ و تاب کھاتے ہوئے فارم کو ریزہ ریزہ کر کے ڈسٹ بن میں ڈال کے واپس گھر کو روانہ ہو گئے۔
شاپنگ کرنا ضرورت بھی ہے اور تفریح بھی۔ یہ مشغلہ بھی ہے اور عادت بھی۔ ویسے ایک بات تو سب کو ماننی پڑے گی کہ یہ بڑے بڑے شاپنگ مال صرف خواتین کی بدولت ہی چل رہے ہیں۔ اگر خواتین ان کا رخ نہ کریں تو یہ بند ہو جائیں۔ پاکستان میں بھی بڑے بڑے اچھے شاپنگ سینٹر ہیں جہاں لوگ گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔ ہم نے امریکہ، یورپ، کینیڈا، مشرق وسطیٰ سمیت بہت سی جگہوں کے شاپنگ سینٹر دیکھے ہیں۔ یہاں وقت کیسے گزرتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ ایک مرتبہ ہم ونکوور شہر کے مضافات میں واقع ایک نئے مال میں گئے۔یہ مال گزشتہ برس ہی کھلا ہے اور سمندر کے کنارے واقع ہے۔ اس مال میں گھومنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ ملبوسات کی ایک دکان پر ہم رک گئے۔ چمڑے کی جیکٹیں دیکھیں توا لٹ پلٹ کر یہ دیکھنے لگے کہ بنی ہوئی کہاں کی ہیں اور اصلی چمڑا ہے یا نہیں۔ دیکھا کہ اصلی چمڑا ہے۔ نہایت ملائم اور اس پر لکھا ہے میڈ ان پاکستان۔ ہماری وہ حالت ہوئی کہ کیا بیان کریں۔ بے اختیار ہم نے تو وہ حرکت کی کہ بس۔ یعنی جیکٹ اٹھا کر آنکھوں سے لگائی اور فرطِ محبت سے دو آنسو بھی ٹپک پڑے اور فخریہ انداز سے کائونٹر پر لے گئے کہ ہمارے ملک کی بنی چیز ہے ہم ضرور خریدیں گے۔ ہم نے والدہ کو فون کر کے اس بابت بتلایا تو وہ خوب ہنسیں، کہنے لگیں کہ تم ہی لوگ اپنے وطن میں تو امپورٹڈ چیزیں خریدنے میں فخر کرتے ہو اب باہر جا کر پاکستانی مصنوعات خرید رہی ہو۔ یہ بات ویسے سچ ہے کہ ہمیں اپنے ملک کی بنی اشیاء کی کوئی قدر نہیں۔ جبکہ پاکستانی مصنوعات دنیا بھر میں اپنی عمدہ کوالٹی اور معیار کے باعث مقبول ہیں۔ کینیڈا کے بازاروں میں پاکستانی کاٹن کے کپڑے اور چمڑے کی مصنوعات بہت مقبول ہیں۔ پاکستانی کاٹن اور پاکستانی چمڑا دنیا کا سب سے بہترین کاٹن اور چمڑا ہے۔ یہاں بنگلہ دیش اور ویتنام کی بنی کاٹن کی چیزیں بھی ہیں جبکہ چین میں بنی مصنوعات سے مارکیٹیں بھری پڑی ہیں۔ ایسے میں

Made in Pakistan

نہ صرف سب سے عمدہ ہے بلکہ لوگوں کا بھی پسندیدہ ہے۔ بڑے بڑے سٹورز میں پاکستان کی بنی اشیاء دیکھ کر ہمارے کیا احساسات ہوتے ہیں اسے قلمبند نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جو وطن عزیز سے دور ہوں اور اپنی مٹی کی محبت سے سرشار ہوں۔
وطن عزیز اور اس کی عوام دنیا میں سب سے بہترین، ہمارے وسائل محدود لیکن جذبہ لامحدود، ہمارے یہاں موروثی سیاسی نظام نے اور وڈیرا شاہی نے اگرچہ بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی پھر بھی اﷲ کا کرم ہے کہ ہم یعنی پاکستانی سب سے ممتاز ہیں۔ ہمارے

Export

لاجواب، چاہے وہ کھیلوں کا سامان ہو، کھانے پینے کی اشیاء ہوں جیسے پیکٹ مصالحے، تیار کھانے، اچار، چاول، چائے کی پتی، یا کاٹن ہو، چمڑے کی مصنوعات ہوں، جیولری ہو، الحمدﷲ جواب نہیں ہمارا۔ ہمیں یاد ہے کئی برس قبل ہم پاکستان ٹیلی ویژن سے حالات حاضرہ کا ایک پروگرام کیا کرتے تھے۔ جس کی پروڈیوسر گلزار فاطمہ تھیں جو آج کل شعبہ کرنٹ افیئرز کی سربراہ ہیں۔ اس پروگرام کا نام

Made in Pakistan

تھا۔ اس پروگرام میں ہم مختلف فیکٹریوں میں جاتے تھے۔ باہر ایکسپورٹ ہونے والی مصنوعات کے بارے میں عوام کو آگاہی دیتے ہیں۔ اب کینیڈا کی دکانوں میں پاکستانی پراڈکٹس دیکھ کر اپنا پروگرام

Made in Pakistan

یاد آتا ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ونکوور میں کوئی ٹریڈ نمائش یا صنعتی کانفرنس یا اسی قسم کے کچھ ایسے اقدامات ہوں جن سے پاکستانی تاجر استفادہ کریں اور مارکیٹ پھیلے بڑھے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ونکوور کے قونصل خانے میں کوئی ٹریڈ یا بزنس کا کوئی مخصوص شعبہ نہیں۔ پہلے بزنس سیکشن ہوتا تھا جو اب بند ہو گیا ہے۔ اب تین صوبوں یعنی برٹش کولمبیا، البرٹا اور

Saskatchewan

کے لئے ایک ہی کمرشل سیکشن ہے۔
پاکستانی قونصل خانہ ثقافتی اور سماجی لحاظ سے نہایت فعال ہے۔ یوم آزادی، یوم پاکستان، یوم اقبال وغیرہ کے حوالے سے ہر سال کامیاب پروگرام منعقد کرواتا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کلچر کے ساتھ ساتھ کچھ کاروباری سرگرمیوں کے لئے بھی سوچا جائے۔ پاکستان میں بھی تجارت کے فروغ اور ٹریڈ کے حجم میں اضافے کے لئے تاجروں کو سہولیات، ٹیکس میں اصلاحات اور دیگر ریفارمز کی ضرورت ہے۔ جو لوگ کینیڈا میں تجارت کرتے ہیں انہیں ٹیکس ڈیوٹی وغیرہ کے لحاظ سے بہت سکون ہے۔ کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس سب ہے یہاں مگر سسٹم اتنا مضبوط ہے کہ محصولی حکومت ہی کرتی ہے۔ یہاں پر کوئی ذاتی مفاد لے کر چھوٹ نہیں دے سکتا۔ یہ شفافیت ہمارے یہاں ہو تو پراڈکٹس بہتر ہو جائیں۔ جب رشوت اور دیگر ناسور تجارت میں رکاوٹیں ڈالیں تو تاجر پربوجھ بڑھ جاتا ہے۔ لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجے میں قیمت زیادہ ہو جاتی ہے۔ کینیڈا میں کسٹم، انکم ٹیکس، پولیس کے محکمے کمائی کے نہیں بلکہ خدمت کے محکمے ہیں۔ ونکوور میں پورٹ ہے جس شہر میں بندرگاہ ہو وہاں تجارت خوب ہوتی ہے۔ یہاں بہت شاپنگ ہوتی ہے۔ ویسے تو سارا سال دکانوں پر مختلف آئٹمز پر سیل ہوتی ہے۔ مگر دسمبر سے کرسمس سیل کا کھڑکی توڑ مہینہ شرو ع ہوتا ہے۔ بلکہ نومبر کے آخری ہفتے سے یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جو جنوری کے اوائل تک جاری رہتا ہے۔
بلیک فرائیڈے، کرسمس، نیوائیر، یہ سب سیل کے دن ہیں۔ شاپنگ سیزن ہے یہ۔ ان دنوں میں دکانیں، شاپنگ سینٹر کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں۔ اب یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں کہ سیل کا مطلب واقعی سیل ہے۔ کرسمس مذہبی تہوار ہے۔ اس موقع پر اشیاء مہنگی نہیں بلکہ سستی ہوتی ہیں تاکہ ہر کوئی خوشی منا سکے۔ ایسے مذہبی تہوار پر یہاں کوئی ذخیرہ اندوزی، گراں فروشی، اور لوٹ مار نہیں کرتا۔ یہاں رات گئے تک کنڈے سے بجلی حاصل کر کے ہزار ہزار واٹ کے بلب بھی کوئی روشن نہیں کرتا۔ دکاندار کو سچ بولنے کا عارضہ ہے۔ یہاں نہ عیب دار مال جھوٹ بول کے بیچتے ہیں نہ قسم کھاتے ہیں۔ معلومات نہ ہو تو کہہ دیتے ہیں

I don't Know

یعنی مجھے نہیں معلوم۔ پھر ایک عجیب بات یہ ہے کہ کوئی دکاندار آپ کو آوازیں دے دے کے سٹور کے اندر نہیں بلائے گا۔'' آیئے باجی! ہمارے پاس نئی ورائٹی آئی ہے۔''''جی آپا! کیا خریدیئے گا؟'' ''یہ دیکھئے بنارسی ساڑھیاں، یہاں تشریف لایئے۔''
ان آوازوں کو سُنے عرصہ بیت گیا ہے۔ بھائوتائو کرنا ہی ہم بھولتے جا رہے ہیں۔ ویسے کراچی ایئرپورٹ پر جب کبھی بین الاقوامی پرواز ہو یعنی کراچی سے واپس ونکوور جا رہے ہوں تو کراچی کی ڈیوٹی فری شاپس پر وہی جامع کلاتھ مارکیٹ کا منظر ہوتا ہے۔ ویسے ہی دکاندار دکان سے باہر نکل نکل کر آوازیں لگا لگا کے مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہوتے ہیں۔کراچی سے نکل کر اگلی منزل دبئی ہوتی ہے، جہاں سے فلائٹ

Connect

ہوتی ہے۔ اب کراچی کی ڈیوٹی فری سے نکل کے دبئی کی ڈیوٹی فری شاپس پہ جانا ایسا ہی ہے جیسے، جیسے، جیسے، جیسے پتہ نہیں، ہمیں نہیں معلوم کہ اس بات کو کس سے تشبیہہ دیں۔ کیسے دونوں کا فرق بیان کریں۔ خیر چھوڑیں اس بات کو، دبئی ایئرپورٹ کی ڈیوٹی فری شاپس پر شاپنگ کرنے کے لئے قارون کا خزانہ چاہئے۔ اتنی دکانیں، اتنی اشیا کہ بس یہاں سے باہر آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔ ہم نے دنیا کے بہت ایئرپورٹ دیکھے ہیں۔ پیرس ہو نیویارک، ٹورانٹو ہو یا ونکوور، قطر ہو یا بحرین، سنگاپور ہو یا بنکاک، جیسی دکانیں دبئی کے ایئرپورٹ پر ہیں اُن کی مثال نہیں ملتی۔
کچھ بھی ہو شاپنگ شاپنگ ہے۔ شاپنگ کے بغیر زندگی کچھ نہیں مگر جب سجی سجائی دکانیں دیکھتے ہیں اور پھر اُن غریبوں کا خیال آتا ہے جو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پوری کر پاتے ہیں تو کلیجہ جل کے خاک ہو جاتا ہے۔کراچی کے پوش علاقوں میں بڑے بڑے شاپنگ سنٹرز اور مہنگے ریستوراں کے باہر ہم نے سردی میں ٹھٹھرتے ننگے پائوں پھرنے والے اور فٹ پاتھ پر سونے والے دیکھے ہیں۔ کینیڈا میں جو لوگ صاحبِ ثروت نہیں اُن کے لئے ایسے سٹور ہوتے ہیں جہاں استعمال شدہ اشیا بہت عمدہ حالت میں بالکل معمولی قیمت پر دستیاب ہیں انہیں

Thrift Store

کہتے ہیں۔ جیسے ہمارے یہاں کا لنڈا بازار، مگر اعلیٰ درجے کا۔

Thrift Store

کی سجاوٹ و آرائش دیکھ کر لگتا نہیں کہ یہ استعمال شدہ چیزیں بیچتے ہیں۔ ہر شئے نہایت سلیقے سے سجی ہوتی ہے۔ اس میںکپڑے، جوتے، برتن، گھریلو استعمال کی اشیائ، فرنیچر، ڈیکوریشن وغیرہ سبھی کچھ ملتا ہے ان سٹورز پر لوگ کثرت سے عطیات دیتے ہیں۔

مضمون نگار: مشہور ادا کارہ، کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اچھی ماں
اولاد کو صرف اچھی ماں چاہئے ہوتی ہے۔ ان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ کتنی اچھی مصورہ، کتنی اچھی مصنفہ یا کتنی اچھی اداکارہ ہے اور دنیا نے اس کو کہاں بٹھایا ہوا ہے… ایک انسان اور جانور کی ماں میں یہی فرق ہوتاہے۔ پیدا تو جانور بھی کرلیتا ہے بچہ۔ مگر جانور تربیت نہیں کرسکتا، وہ اولاد پیدا کرکے چھوڑ دیتا ہے…
ایسی مائوں کے پیروں کے نیچے کوئی جنت تلاش کرنے نہیں جاتا اور جنت کسی دوسری دنیا میں نہیں ملتی۔ اچھی ماں اپنی اولاد کو اس دنیا میں جنت دے دیتی ہے۔ اولاد کو جینے کا گُر سکھا دیا تو آپ نے اُس کی زندگی جنت بنا دی۔
(عمیرہ احمد۔ لاحاصل)

*****

 
06
April

تحریر: یاسر پیرزادہ

محفل اپنے عروج پر تھی، لوگ نہایت دلچسپی سے اس ماڈرن ''بابے'' کی گفتگو سن رہے تھے، بابا تو میں نے یونہی کہہ دیا ورنہ اس کی عمر پیتالیس سے زیادہ نہیں تھی، تراشیدہ داڑھی میں کچھ سفید بال نظر آ رہے تھے، آنکھوں پر چشمہ تھا جس کے فریم کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ عمر میں پانچ برس کا اضافہ ہو جائے، البتہ شلوار قمیص کی جگہ موصوف نے پینٹ کوٹ پہن رکھا تھا اور ہاتھ میں ''کائونٹر'' جسے وہ تسبیح کے طور پر استعمال کر رہے تھے ۔یہ کوئی مجمع نہیں تھا، فقط آٹھ دس لوگوں کی مجلس تھی جن میں' بابے' کے صرف خاص مرید شامل تھے، مگر انہیں ان معنوں میں مرید بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بابا جی ان کے ساتھ کافی فرینک لگ رہے تھے اور مرید بھی بابا جی کو چٹکیاں بھر رہے تھے، ایک موقع پر تو کسی مرید نے فحش لطیفہ بھی سنادیا جس پر بابا جی نے تحسین آمیز نظروں سے داد دی اور ساتھ ہی ایک اور لطیفے کی فرمائش بھی کر دی، شرط صرف یہ تھی کہ پہلے سے زیادہ فحش ہو۔

fivestarsadhoo.jpg
گفتگو جاری تھی کہ اچانک میرے دوست نے جو مجھے یہاں لے کر آیا تھا، سوال کردیا کہ ''کیا دولت سے خوشی خریدی جا سکتی ہے ؟'' سوال سن کر بابے کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ آئی کہ لگا جیسے کسی نے اس کا پسندیدہ موضوع چھیڑ دیا ہو، میرے دوست نے سوال کی مزید تشریح کی ''اصل میں پچھلے دنوں ایک تحقیق کی خبر میری نظروں سے گزری جس میں یہ ثابت کیا گیاتھا کہ دولت سے خوشی خریدی جا سکتی ہے، اس کی مثال انہوں نے یوں دی کہ جب آپ کے پاس پیسے ہوں تو آپ شاپنگ کرتے ہیں، اپنی پسند کی چیزیں خریدتے ہیں، اس سے آپ کو خوشی ملتی ہے، جب آپ کا بینک بیلنس بڑھتا ہے تو آپ کا خون سیروں بڑھ جاتا ہے، یہ بھی خوشی کا اشاریہ ہے، دولت آپ کو اعتماد دیتی ہے، غریب آدمی چاہے کتنا ہی دانا ہو، اس کی بات میں دم نہیں ہوتا، مگر امیر شخص…!'' بابے نے ہاتھ کے اشارے سے میرے دوست کو روک دیا، سب بابے کی طرف متوجہ ہو گئے، کیونکہ بابے کے اس سٹائل کا مطلب تھا کہ اب بابا کوئی بہت گہری اور دانائی کی بات کرنے لگا ہے، جھولی پھیلا کر سمیٹ لو۔بابے نے حاضرین پر ایک نظر ڈالی اور تسبیحی کائونٹر کو گھماتے ہوئے بولا''فرض کرو کہ آج تمہارے پاس بِل گیٹس جتنی دولت آ جائے تو کیا تم خوش ہو جائو گے ؟'' بابے کا یہ سادہ سوا ل سن کر مجھ سے رہا نہ گیا ''حضرت، اس کا تو پتہ نہیں، البتہ میں بہت خوش ہوں گا!'' بابے نے مجھے گھور کر دیکھا اور پھر اگلا سوال مجھ سے ہی پوچھا''ٹھیک ہے، لیکن اگر آپ کو تین دن تک پانی کا ایک قطرہ بھی پینے کو نہ دیا جائے تو کیا تیسرے دن آپ اپنی ساری دولت ایک گلاس پانی کے عوض دینے کے لئے تیار نہیں ہو جائیں گے ؟'' مجھے اس ماڈرن اور
rational
بابے سے اس قسم کی گھسی پٹی مثال کی امید تو نہیں تھی تاہم محفل کا بھرم رکھنے کے لئے میں نے ہاں میں سر ہلا دیا ۔


بابے نے فخریہ انداز میں حاضرین پر نظر ڈالی اور بولا ''یہی تمہارے سوال کا جواب ہے، ہم لوگ ساری عمر دولت کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں ، اپنی تمام توانائی دولت کمانے میں صرف کر دیتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ دنیا کی تمام دولت کی قیمت ایک گلاس پانی سے زیادہ نہیں ہو سکتی، ہم سمجھتے ہیں کہ دولت ہمیں سکون اور خوشی دے گی، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ سکون حاصل کرنے کے لئے دولت حاصل کرنا ضروری نہیں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہی سکون کا باعث ہے اور خوش ہونے کے لئے مجھے دولت کی ضرورت نہیں، میں ڈوبتے سورج کو دیکھ کر خوش ہو سکتا ہوں، بادلوں کی اوٹ میں جاتے ہوئے چاند کو دیکھ کر خوش ہو سکتا ہوں، بارش کی بوندوں کو ناچتے دیکھ کرخوش ہو سکتا ہوں، سمندر کی لہروں کو اچھلتے دیکھ کرخوش ہو سکتا ہوں او ر دریا کی خاموشی مجھے سکون دینے کے لئے کافی ہے، اس کے لئے مجھے اپنی تمام عمر دولت جمع کرنے کی ضرورت نہیں، کسی بچے کو قلقاریاں مارتا دیکھ کر میں خوشی سے نہال ہو جا تا ہوں،مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں سریے کا کاروبار کروں، دن رات سٹاک مارکیٹ کا اتار چڑھائو دیکھوں یا اپنے بہی کھاتے سیدھے کرتا پھروں! انسان اپنی زندگی کا بہترین حصہ مادی دولت کے حصول میں گزار دیتا ہے، اسے احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ اصل دولت تو وہ سکون ہے جس کا حصول دولت سے ممکن نہیں، کیونکہ اگر دولت سے سکون ملتا تو دنیا میں کوئی اینٹی ڈپریشن دوا نہ بکتی، کوئی امیر نیند کے لئے سونے کی گولیاں نہ کھاتا، کسی کروڑ پتی کو بلڈپریشر کا مرض نہ ہوتا اور کسی سرمایہ دار کو ذہنی تنائو کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔انسان کے دل میں سکون ہو تو سوکھے پتوں کے بستر اور اینٹوں کے سرہانے پر سر رکھ کر بھی نیند آ جاتی ہے،اور یہ سکون حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر قناعت پیدا کرے، مادہ پرستی کی دوڑ سے باہر نکلے اورانسان دوستی کی دوڑ میں شامل ہو، اور اس کام کے لئے بِل گیٹس کی دولت کی ضرورت نہیں !'' بابے نے گویا پنچ لائن دے ماری۔حاضرین نے داد و تحسین کے ڈونگڑے برسائے اورکچھ دیر میں محفل برخاست ہو گئی ۔


گاڑی میں بیٹھتے ہی میرے دوست نے سوال کیا ''کیا تم بابا جی کی باتوں سے متفق ہو؟''
''نہیں '' میں نے کہا''تمہارا نوجوان بابا وہ چورن بیچ رہا ہے جس کے آج کل بے شمار گاہک ہیں، سکون، روحانیت، خوشی، اطمینان، شادمانی، یہ وہ الفاظ ہیں جنہیں انگریزی میں
buzz words
کہتے ہیں، ان الفاظ کی مارکیٹ میں ہمیشہ مانگ رہتی ہے ، ہم سبھی ان کے خریدار ہیں، کوئی امیر،غریب یا مڈل کلاس شخص یہ نہیں کہہ سکتاکہ اسے زندگی میں سکون یا خوشی نہیں چاہئے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ دولت کا حصول بری چیز ہے یا دولت سے خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ تمہارے بابے کو ڈوبتا سورج دیکھ کر ٹھنڈ پڑ جاتی ہے بشرطیکہ وہ سورج میامی کے ساحل پر ڈوب رہا ہو، بابے کو نیویارک کے ساحل پر سمندر کی لہروں کا شور خوشی دیتا ہے، لندن میں دریائے ٹیمز کی خاموشی اس کے دل کے تار چھیڑتی ہے، مسجد قرطبہ میں اسے طمانیت کا احساس ہوتا ہے اور مونٹ بلانک کی برف پوش چوٹیاں اس کے دل میں محبت کے جذبات موجزن کرتی ہیں! رہی بات انسان دوستی کی تو یقینا اس سے بڑی کوئی چیز نہیں مگر جیسے دولت ہی سب کچھ نہیں اسی طرح کوئی بھی اور جذبہ کسی دوسری شے کا متبادل نہیں، اگر آپ کے پاس دولت ہے تو آپ کی بیماری کے علاج کے امکانات کسی غریب کے مقابلے میں سو گنا زیادہ ہیں، دولت کی قدر اس غریب سے پوچھو جس کا بچہ کسی موذی مرض سے نہیں بلکہ صرف اس لئے مر جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس ایک ہزار روپے کی دوا کے پیسے نہیں ہوتے اور ایک گلاس پانی کے عوض پوری دولت لٹانے والی مثال بھی غیر متعلق ہے، دنیا میں ہمیشہ اس جنس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے جو نایا ب ہو،جس روز پانی نایاب ہو گیا اس روز وہ مہنگا ہو جائے گا،جس روز سونا ہرجگہ سے نکلنا شروع ہو گیا اس روز اس کی قیمت صفر ہو جائے گی، کیا تمہیں آج تک کوئی ایسا کروڑ پتی ملا ہے جس نے ایک گلاس پانی کی قیمت ایک کروڑ روپے چکائی ہو؟نہیں! مگر تم نے ایسے غریب ضرور دیکھے ہوں گے جنہیں ایک گلاس پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔ تمہارا بابا خود کروڑ پتی ہے، پوری دنیا گھوم چکا ہے اور اب دوسروں کو قناعت کا چورن بیچ کر سادھو بننے کا درس دے رہا ہے، اگلی محفل میں اسے کہنا کہ میں بھی تمہارا سادھو بننا چاہتا ہوں…فائیو سٹار سادھو!''

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

کار۔روائی

روڈیوز ایج بل1998

(Road Usage Bill)

کے مطابق بوڑھوں کے گاڑی چلانے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور کہا ہے کہ55 سال اور اس سے زائد عمر کے بوڑھے ڈرائیونگ نہیں کرسکیں گے۔ ہم مانتے ہیں ہمارے ہاں ناممکن کے علاوہ بھی بہت کچھ ممکن نہیں۔ ہمیں اتنا اعتراض ڈرائیونگ پر پابندی لگانے پر نہیں۔جتنا55 برس کے افراد کو بوڑھا کہنے پر ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ بوڑھا ہونا کوئی بری بات ہے ۔ بوڑھا ہونا آسان نہیں، اس پر برس ہا برس لگتے ہیں۔ ایک سیانے کے بقول بڑھاپے سے اتنا پریشان ہونے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ کچھ لوگ اتنے خوش قسمت نہیں بھی ہوتے۔ دانشور تو کہتے ہیں زندگی40 سال کی عمر سے شروع ہوتی ہے۔ اسے حساب سے55 کی عمر تو ابھی لڑکپن ہے۔ یہ الگ بات ہے پاکستان میں یہ لڑکپن زیادہ ہو جاتا ہے۔ یاد رہے جتنے برس میں مرد55 سال کا ہوتا ہے ضروری نہیں کہ اتنے برسوں میں عورت بھی اسی عمر کی ہو۔ کیونکہ وقت کسی مرد کے لئے رُک کر انتطار نہیں کرتا لیکن35 برس کی خاتون کے لئے ایک جگہ پر ٹھہر جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو عجیب زندگی ہے۔ جب جا کے بندہ اس قابل ہوتا ہے کہ پیٹ بھر کر کھاسکے ڈاکٹر منع کردیتے ہیں، جس عمر میں بندہ گاڑی خریدنے جوگا ہوتا ہے اس عمر میں اس کے لئے گاڑی چلانا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ ویسے تو جن کے پاس پہلے سے گاڑی ہے اُنہیںکون سا ڈرائیوکرنے کا موقع ملتا ہے۔ ہم نے ایک 55 سالہ شخص سے پوچھا ''یہ کار آپ کی ہے''؟ بولے ''کبھی کبھی''۔ پوچھا ''کیا مطلب'' کہا ''جب یہ سروس ہوکر آتی ہے تو بیوی کی ہوتی ہے، جب کہیں پارٹی ہو تو بیٹے کی، جب مینابازار یا شاپنگ پر جانا ہو تو بیٹی کی اور جب ٹینکی خالی ہو تو میری۔

 (ڈاکٹر محمد یونس بٹ ۔بٹ پارے)

*****

 
06
April

تحریر: ڈاکٹر صدف اکبر


پُر سکون نیند انسانی جسم، دماغ اور ذہن کے لئے ازحد ضروری ہے۔ کیونکہ پُرسکون نیند انسانی نفسیات اور جسمانی اعضاء کے بہتر طور پر کام کرنے میں اہم کرادار ادا کرتی ہے اور انسان دن بھر اپنے آپ کو توانا اور فریش محسوس کرتے ہوئے اپنے کام بخوبی سرا نجام دیتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق بے خوابی جسے ہم انسو منیا کہتے ہیں۔ جدید دور کا ایک تحفہ ہے۔ انسومنیا یعنی نیند کا نہ آنا۔ اس بیماری سے جڑے افراد زیادہ ترنیند نہ آنے کے مختلف مسائل سے ہمہ وقت دوچار رہتے ہیں۔


نیند کی کمی کی شکایت یا مسئلہ زیادہ تر اُن افراد میں ہوتا ہے۔ جو رات گئے تک مسلسل کام کرتے رہتے ہیں یا وہ افراد جو ہر وقت کسی سوچ وبچار میں غرق رہتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ لوگ جو کسی پریشانی یا ڈپریشن میں مبتلا ہوں ان کو بھی بے خوابی کی شکایت ہوسکتی ہے۔دن میں حد سے زیادہ سونا یا پھر بے وقت سونے والے افراد بھی بے خوابی کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگ جو کسی ایسے خوف یا پریشانی میں مبتلا ہوں جس کی وجہ سے انہیں بُرے خواب آتے ہوں جو انہیں جاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یا پھر وہ افراد جو اپنے ماضی یا مستقبل کے کسی خوف یا اندیشے میں ہمہ وقت گھرے رہتے ہیں۔ بے خوابی طرز زندگی پر برے اثرات مرتب کرتی ہے جس کی وجہ سے انسان کا مزاج غصے والا اور ہر وقت چڑچڑاپن والا ہو جاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کے مسئلے کے علاوہ متاثرہ فرد اپنے کام اور روزمرہ کے شیڈول یا روٹین میں دماغی طور پر اکثر غیر حاضر رہتا ہے۔

bekhawbikaasrat.jpg
بے خوابی کی سب سے اہم قسم دائمی بے خوابی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی تمام اقسام زندگی کے کسی نہ کسی دور میں انسان کو کسی بھی وقت اپنا شکار بنا سکتے ہیں۔ بعض اوقات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ختم بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن دائمی بے خوابی کا شکار فرد ہمیشہ کے لئے اس کے شکنجے میں پھنسا رہتا ہے۔ دائمی انسومنیا کی زیادہ تر وجوہات میں کسی ایک بیماری میں مبتلا ہو نا یا پھر کیفین، الکوحل اور نکوٹین وغیرہ کا استعمال کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگ جو مسلسل پریشانی اور ڈپریشن جس میں کسی ماہر نفسیات کی ضرورت ہو یا پھر کام کی زیادتی کی وجہ سے سونے اور جاگنے کی ایک نارمل اور باقاعدہ روٹین نہ بن ر ہی ہو ایسے افراد بھی دائمی بے خوابی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی سوچ کو حد سے زیادہ ہر وقت اپنے دماغ پر حاوی کر لینا اور پھر مسلسل اس کے بارے میں سوچنا بھی دماغ پر اثر انداز ہو تاہے اور پھر آہستہ آہستہ کر کے نیند کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔


بے خوابی کے مرض سے نجات پانے کے لئے سب سے پہلے اپنے سونے اور جاگنے کی روٹین کو درست کرنا چاہئے کہ جس وقت سوئے اس سے اگلے دن بھی اسی وقت پر سو جانا چاہئے۔ ماہرین کے مطابق رات دس بجے سے صبح چار بجے کی نیند انسانی دماغ اور اعصاب کے لئے بے حد فائدہ مند ہوتی ہے اور مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ سونے سے پہلے کچھ بھی بھاری اور مرغن غذائیں کھانے پینے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ عموماً رات کے وقت اگر کچھ بھی کھاتے پیتے ہیں تو اسے معدہ ہضم نہیں کر پاتا جس کی وجہ سے معدے پر ایک بوجھ پڑجاتا ہے اور پھر ٹھیک طرح سے نیند نہیں آتی۔ ایک تحقیق کے مطابق رات سونے سے قبل ایک گلاس دودھ میں شہد ملا کر پینے سے نیند آجاتی ہے کیونکہ دودھ میں
Tryptophan
موجود ہوتا ہے جو ایک ہارمون
Serotonin
جو کہ دماغ کو نیند کے پیغامات بھیجتا ہے، کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے اور شہد میں کاربو ہائیڈر یٹ موجو د ہوتا ہے جو اس ہارمون کو تیزی سے دماغ میں پہنچاتے ہیں۔
سونے سے پہلے تمام سرگرمیاں ایک طرف رکھ کر ذہن کو ریلیکس کرنا چاہئے یا پھر کچھ دیر پہلے کوئی اچھی کتا ب پڑھ لی جائے یا کوئی ہلکا پھلکا سا ٹی وی پروگرام دیکھ لیا جائے تو ذہن ریلیکس ہو سکتا ہے۔ سونے والے کمرے کو مکمل طور پر سونے کے لئے موزوں ہونا چاہئے تیز اور چبھتی ہوئی روشنی کے بجائے کمرے میں مکمل اندھیرا یا پھر بہت ہلکی روشنی ہونی چاہئے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ موبائل فون یا لیپ ٹاپ وغیرہ کو سونے والی جگہ سے دور رکھا جائے کیونکہ ان تمام
Gadgets
کے سگنلز یا شعاعیں ایک تو صحت کے لئے بھی نقصان دہ ہوتی ہیں اور پھر ان پر آنے والے پیغامات بھی نیند کے اوقات کو خراب کر سکتے ہیں۔ سونے کے لئے بستر بھی آرام دہ اور صاف ستھرا ہونا چاہئے۔ ایک تحقیق کے مطابق رات کے وقت کی جانے والی ہلکی پھلکی ورزش یا چہل قدمی بھی جلد نیند لانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔


بے خوابی کی حالت میں انسانی جسم میں مختلف رطوبتوں کی تشکیل اور ان کے اخراج کا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ جب ہم جاگ رہے ہوتے ہیں اس وقت تمام دن بھر کے کاموں میں محنت مشقت اور تما م اعضاء کی حرکات وسکنات سے یہ اندرونی رطوبتیں تحلیل ہوتی رہتی ہیں جن سے دن کے اختتام پر ہمیں تھکاوٹ کا احساس ہونے لگتا ہے اور پھر جب ہم سوتے ہیں تو نیند کی حالت میں تحلیل شدہ رطوبت کی کمی پوری ہونے پر سو کر اٹھنے کے بعد ہم تروتازگی والی کیفیت محسوس کرتے ہیں۔ اگر ہم رات میں ٹھیک طریقے سے نہ سو پائیں تو جسم میں تحلیل شدہ رطوبت کی کمی پوری نہیں ہوتی اور پھر یہ مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہیں جن میں موٹاپا، دماغی کمزوری ، ذیابیطس ، ڈپریشن اور الزائمر وغیرہ شامل ہیں۔ مختلف میڈیکل ریسرچ کے مطابق بے خوابی کے باعث انسان کی قوت اعتمادی ، قوت مدافعت اور قوت فیصلہ کے کمزور پڑنے کے علاوہ وہم اور ہسٹریا جیسے نفسیاتی امراض بھی جنم لیتے ہیں۔ کیلیفورنیا کی سان ڈیا گو یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو اچھی نیند نہیں آتی ہے ان کے ذہن کو اپنے کام پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ جبکہ
Sleep
نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق کے مطابق بے خوابی کے شکار افراد کو رات میں سوتے وقت مشکل ہوتی ہے جس کا اثر ان کے دن بھر کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔کم سے کم سات سے آٹھ گھنٹوں کی نیند ایک صحت مند شخص کے لئے ازحد ضروری ہے۔ مگر بڑی عمر کے افراد کو کم نیند آتی ہے لیکن ان کو بھی کوشش کرکے کم ازکم آٹھ گھنٹے کی لازمی نیند لینی چاہئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ :


 * اگر سونے سے پہلے اگلے دن کے کاموں کی ایک لسٹ بنا لی جائے تو ذہن پر سے اگلے دن کے کاموں کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور میٹھی نیند سونے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح ہم تمام پریشانیوں اور مسئلوں کو اپنے دماغ سے کاغذ پر منتقل کر دیتے ہیں۔
* رات کو سونے سے قبل ایک گلاس شہد ملا گرم دودھ نیند لانے کا بہترین طریقہ ہے۔
 * رات کی پرسکون نیند کے لئے دن کے وقت زیادہ نہ سوئیں اور سونے سے پہلے کم از کم چار گھنٹے پہلے تک کافی یا چائے نہ پیئیںاور سگریٹ نوشی سے بھی دور رہیں۔
-7 بھوکے پیٹ یا بہت زیادہ کھانے کے فوری بعد سونے سے گریز کرنا چاہئے اور سونے سے پہلے ہلکا پھلکا لباس پہنیں۔
* کوشش کریں کہ آپ کے سونے کی جگہ بالکل پُرسکون ہو اور وہاںمکمل اندھیرا ہو۔ 
* تکئے کو سر کے نیچے اس انداز میں رکھنا چاہئے کہ گردن کو آرام ملے اور کمرے کا درجہ حرارت ایسا ہوناچاہئے جس سے سکون محسوس ہو۔
* کوشش کر کے سونے اور جاگنے کے لئے ایک شیڈول بنا لینا چاہئے اور روزانہ ایک ہی وقت پر بستر پر جانے اور صبح اٹھنے کو تر جیح بناناچاہئے۔ 
 * اگر آدھی رات کو اچانک آپ کی آنکھ کھل جائے تو آپ کو چاہئے کہ آپ اس وقت آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کریں ممکن ہو تو مقدس آیات کا ورد کریں۔
 * پھر بھی اگر بے خوابی کے مسئلے سے دوچار ہیں تو لازمی طور پر کسی ماہر نفسیات سے رابطہ کرنا چاہئے اور اپنے ذہن کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
یاد رکھیں پریشانی کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔پریشانیوں کو اپنے دماغ پر سوار کرنے کے بجائے جواں مرد ی اور مسکراتے تروتازہ چہرے کے ساتھ ان کا سامنا کرنا چاہئے اور یہ مسکراتا چہرہ تب ہی ممکن ہو گا جب ہم بے خوابی کی گرفت سے نکل کر اپنی نیند کو پورا وقت دے سکیں گے۔

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ مضمون نگار دادا بھائی انسٹیٹوٹ آف ہا ئر ایجوکیشن میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں اورمختلف اخبارات میں کالم نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

او وی خوب دیہاڑے سن !
او وی خوب دیہاڑے سن
بھُک لگدی سی، منگ لیندے ساں
مل جاندا سی، کھا لیندے ساں
نہیں سی ملدا، رو پیندے ساں
اے وی خوب دیہاڑے نیں
بھُک لگدی اے، منگ نہیں سکدے
ملدا اے تے کھانہیں سکدے
نئیں ملدا تے، رو نہیں سکدے
نہ رویئے تے، سوں نہیں سکدے
منو بھائی

*****

کھانے کی چیزیں
''بابو جی۔ پرمٹ دو''
''بابا جا۔ پیسہ لا''
''بابوجی، ٹھیکہ دو''
''باباجا ۔ ڈالی لا''
''بابوجی نوکری دو''
''بابا جا۔ سفارش لا''
''بابوجی۔ اب ایسا مت بولو۔ آنکھیں کھولو،
پبلک سے ڈرو، خدا کا خوف کرو
جو پیسہ کھائے گا۔ ڈنڈا کھائے گا
انڈا کھانا چاہئے
ڈنڈا نہیں کھانا چاہئے
ابنِ انشاء کی ''اُردو کی آخری کتاب'' سے اقتباس

*****

 
06
April

تحریر: صائمہ بتول


مختلف ڈکشنریوں کے مطابق
Harassment
کے معنی متشدّدانہ دبائو، غیر معمولی طور پر اپنے سے نیچا دکھانا، متعصبانہ رویّے، غیر مہذب جسمانی حرکات، جنسی دعوت دینے والے پوشیدہ لین دین، زبانی کلامی و جسمانی حرکات سے کسی کی عزت، غیرت اور حمیت کا تقاضا کرنا کسی بھی ناجائز مہربانی کے عوض کسی کو نیچا دکھانا وغیرہ ہیں۔
یاد رہے کہ ہر عورت یکساں طور پر قدرو قیمت اور اہمیت رکھتی ہے، عورت کسی مختلف ماحول، کسی بھی مذہب، کسی بھی معاشرے، والدین یا ملک میں پیداہوئی ہو، اس سے اُس کے 'عورت' ہونے کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم سب کو مختلف حالات، ماحول، موسم، ثقافت، رہن سہن اور غذا ایک دوسرے سے مختلف بنا دیتی ہے۔ اس اختلافِ باہمی کے باوجود زندگی میں ایساکچھ بھی نہیں جسے جواز بنا کر عورت کی زندگی کو معاشرے میں بے وقعت یا اہم بنا کر خلل ڈالا جائے۔ انسانی معاشرے کی ترقی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو تقریباً بیس ہزار سال پہلے زمین پر انسانوں کی دو مختلف شناختیں تھیں۔ ایک کو ''شکاری'' کہا جاتا تھا اور دوسرے کو ''اکٹھا کرنے والا، جسے انگریز محققین نے
Hunter
اور
Gatherer
کے نام سے لکھا ہے، قدیم تاریخ کے مادرانہ نظام میں ابراہیم کا ذکر ملتا ہے۔ عورت کبھی ایک کار آمد جنس کے طور پر 'کاروباری' اور بقاء کی منڈی کا حصہ بنی، عورت کنیز اور غلام بنی، عورت جوئے میں ہاری اور جیتی گئی۔ عورت 'جنسی' کاروبار میں اہم اور قیمتی رُکن بنی، پھر شادی کے قانون اور ثقافت میں اُلجھ گئی، ونی سوارہ جیسی رسموں کی بھینٹ چڑھی۔ زندہ درگور ہوئی، ماضی کے یہ قصے کسی نہ کسی صورت 'حال' کے آئینے کا منہ بھی چڑاتے رہے۔ حال ہی میں ایک اکیس سالہ امریکی خاتون کو یرغمال بنا کر6.6 ملین ڈالر اس کا تاوان مانگا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے شعبۂ آبادی کے ڈائریکٹر گاہے بگاہے اپنے بیانات میں عورت کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھنے کی ہدایت کرتے رہتے ہیں۔ یہ تو ہے ایک نپا تلا پیمانہ، اب آیئے اپنے معاشرے کی جانب جہاں مرد کی انا، شادی، جہیز، طلاق کا حذف شدہ حق، تعلیم کی کمی، شعبہ ہائے زندگی میں یکساں مواقع کی فراہمی میں ناانصافی، کم عمری کی شادیاں،ونی سوارہ کے لین دین، زبردستی کے نکاح، غیر فطری نکاح (قرآن، مصلیٰ وغیرہ) جیسے کئی ایک مسائل میں گھِری عورت بے شمار خوبیوں کے باوجود ایک خاص مقام سے اوپر نہ جاسکی، معاشی، معاشرتی، شہری، دیہاتی، قبائلی، جاگیردارانہ نظام جیسی اَن گنت طاقتیں اس کے خلاف نبرد آزما رہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ آج کی پاکستانی عورت ماضی سے کہیں زیادہ مؤثراور بہتر زندگی گزار رہی ہے۔ اس بہتری کو بہترین کے پیمانے تک لے جانے کے لئے ہمارے لئے بہت سارے زمینی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پاکستان کے معاشرتی نظام میں پدرسری نظام بہت ہی طاقت سے حکومت کررہا ہے جب کہ دوسری جانب قصبوں اور نیم دیہاتی علاقوں میں حالات آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں۔ بہت سے امور مل جل کر چلائے جاتے ہیں اور ماضی میں فقط مردوں سے انجام پانے والے کام اب اسی لگن اور جانفشانی سے عورتیں بھی کررہی ہیں۔ (ایشین ڈویلپمنٹ بنک2016 کی رپورٹ سے ماخوذ)
غربت ایک ایسا اژدھا ہے جو عورت کو آسان اور تر نوالہ سمجھ کر ہڑپ کرنے پر تُلا بیٹھا ہے۔ گھر کے اندر حاصل شدہ نعمتوں پر بھی پہلا حق بیٹے کا ہی ہے۔ اسی طرح بہتر تعلیم اور صحت میں بھی فوقیت لڑکے ہی کو حاصل ہے۔ اس فرسودہ نظام کے پیچھے وہی ایک گھِسا پِٹا خیال کار فرما ہے کہ مرد کو باہر کے کام سرانجام دینے ہیں، اس لئے بہتر صحت، تعلیم اور ہنر سے لیس کیا جائے۔ (حالانکہ گھر میں بھی وہ اسی خیال سے پرورش پاتا ہے) اور لڑکی کو گھریلو کام کاج سکھا کر اچھی ماں، بہن، بیوی، ہی بنایا جاتا ہے تعلیم کی اہمیت پاکستان کے کئی دُور دراز علاقوں میں اب تک واضح ہی نہیں، اہم کیا ہوگی؟ آج کی ترقی یافتہ پاکستانی عورت اپنے دفاتر اور کام کی جگہوں پر امتیازی سلوک کا شکار ہے جس کی وجہ سے وہ نہ صرف کم تنخواہ یافتہ کاموں بلکہ حقیر ترین نوکریوں کی طرف دھکیل دی جاتی ہے۔ گورنمنٹ کی ملازمت میں مواقع نسبتاً کم ہیں، بے روز گاری کی شرح شہروں اور دیہاتوں میں تقریباً زیادہ ہے جس کی بنیادی وجہ صحت کی سہولتوں اور اعلیٰ تعلیم کی کمی ہے جبکہ تعلیم معاشرے میں برابری کی بنیاد رکھنے کی اہم کڑی ہے۔ تعلیم ہی بہتر صحت اور زندگی، تحفظ اور سالمیت کے ساتھ قانونی طریقوں کے حصول تک مدد گار ہوتی ہے۔
پاکستان میں عورتوں کی تعلیم پر ایک نظر:
ابتدائی تعلیم لڑکے 59 فیصد
لڑکیاں 41فیصد
درمیانی تدریسی تعلیم لڑکے 66 فیصد
لڑکیاں 34 فیصد
ہائی سکول کی تعلیم لڑکے 72 فیصد
لڑکیاں 28 فیصد
ہراساں کئے جانے والے قوانین پر
بین الاقوامی برادری کا ایک ممکنہ جائزہ اور لائحہ عمل
لڑکیوں اور خواتین پر دورانِ کام جنسی طور پر ہراساں کئے جانے سے متعلق اَن گنت شکایات، رپورٹ، شواہد، فلمیں خبریں وغیرہ شامل ہیں۔ جن کی چیدہ چیدہ کی تفصیل اس طرح ہے!
UN Convention Documents
UN Declaration For The Elimination Of Violance Against
اور Women
International Labour Organisation
Convention
شامل ہیں۔
یورپی یونین کی کونسل ڈائریکٹو
(Council Directive)
کے آرٹیکل(2004/113CE) 23 میںعورت کو یکساں حقوق دینے کا پابند ہے جس کی تفصیل میں مرد اور عورت کو یکساں حیثیت حاصل ہے جہاں پر تمام ملازمتیں یکساں طور پر مرد اور عورت میں تقسیم ہوں گی اس طرح آجرقانونی طور پر پابند ہے کہ وہ عورتوں کو ہراساں کرنے والے ماحول کو نہ صرف صاف کرے بلکہ جنسی امتیازی سلوک سے بھی کام کرنے کی جگہ کو پاک رکھے۔ اس لمبی تمہیدکا مقصد فقط موضوع کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ اب تک دنیا میں 114ممالک میں یہ قانون نافذ ہو چکا ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔
دفاتر یا کام کاج کی جگہ پر مختلف قسم کی
Harassment
پیش آسکتی ہے جس میں ناپسندیدگی، زبانی، جسمانی حرکات سے لے کر رنگ و نسل مذہب، جنس (حمل سمیت) جنسی شناخت باقاعدہ طور پر (مرد، عورت یا خواجہ سرا) قومیت، عمر، ذہنی یا جسمانی معذوری، جینیاتی معلومات کو افشا کرنا( ڈی این اے سے حاصل شدہ سائنسی ترکیب انسانی کو افشا کرنا)
Verbal Harassment
زبانی تشدد
جنسی موضوع یا جنسی فعل سے متعلق گھٹیا مذاق، جنسی تعلقات بنانے کے لئے، باوجود انکار کے بار بار زچ کرتے رہنا، بار بار کسی بھی بیانیے سے دفاتر سے باہر ملنے پر اصرار کرتے رہنا، از راہِ تفنن محبت کا اظہار کرنا، فلرٹ کرنا، جنسی مقصد کے حصول میں ناکامی کی صورت میں نوکری سے نکالنے، نکلوانے یا کوئی اور نقصان دینے کی دھمکیاں دینا، غیر مہذہب، غیر شائستہ جنسی خصوصیات کی تعریف کرنا۔
غیر زبانی، حرکاتی تشدد، خاموش تشدّد
Non-Verbal Harassment
انسان کو سر سے پیروں تک تاڑنا جسے انگریز ی میں
Elevator Eyes
کہا جاتا ہے، آنکھوں سے گھورنا، رستہ بند کر لینا، بلامقصد پیچھے چلتے رہنا یا قربت کے ذرائع ڈھونڈنا، تحائف دینا، جسم سے جنسی حرکات کی ترغیب دینا، بلاوجہ کندھے سے کندھا ٹکرانا، کتابیں یا کاغذ پکڑانے کے بہانے ہاتھ سے ہاتھ کو ٹکراناوغیرہ۔
غیر جنسی تشدد
Non-Physical Harassment
harasmentaik.jpg
کارگزاری کی جگہ پر کارندوں کے بارے میں منفی رائے کا اظہار، مذہبی اعتقاد کو ناپسندیدہ قرار دینا یا کسی کے مذہبی عقیدے کو بدلنے کی کوشش کرنا، نسلی تعصب کا اظہار کرنا، خصوصی نام رکھنا، نسلی خصلتوں، جلد کے رنگ کو موضوع بنانا، متعلقہ ضرب المثال کو دہرانا، نسلی تعصب سے آراستہ فن پارے یا ڈرائینگ وغیرہ دکھانا یا ایسے پوسٹر بنانا جو کسی خاص طبقے، مذہب یا ثقافت کے لئے نقصان اور تکلیف کا باعث بن جائیں، جارحانہ رویہ رکھنا (اونچا بولنا، کرخت لہجہ اپنانا، غیر موزوں الفاظ استعمال کرنا) غیر شائستہ تصاویر، فلم، ای میل، دستی خط یا تحریر بھیجنا، عمر سے متعلق توہین آمیز تبصرہ کرنا، ایسا لباس زیبِ تن کرنا جو جارحانہ سمجھا جائے(بہتر ہے ڈریس کو ڈ نافذکیا جائے) اس کے علاوہ دھمکی آمیز لہجہ، گفتگو، دوسرے کو احساسِ کمتری دلانے کی کوشش اور احساس برتری کا برملا اظہار، اسی طرح دورانِ انٹرویو آجر کسی بھی اُمیدوار کی نسل، جنس، مذہب یا ازدواجی زندگی، عمر یا ذاتی کمزوریوں کے بارے میں دریافت نہیں کرسکتا اور اگر ایسا ہے تو یہ ایک خطرے کی جھنڈی ہے۔ جو آپ کو باور کررہی ہے کہ آپ اپنے مستقبل اور کام کی جگہ کا تعین کرنے کے بارے میں ایک بار پھر سوچ لیں۔
آن لائن تشدد/سائبر بُلنگ
Cyber Bullying
اس زمرے میں جھوٹی خبریں، دھمکیاں،جنسی تبصرے جس میں نشانہ بننے والے کی ذات میں خود کشی کے رجحانات، مختلف قسم کے جذباتی ہیجان آمیز دورے، بے چینی، غصہ اور اعصابی تنائو اور کھچائو شامل ہے۔ آن لائن تشدد میں سوشل میڈیا تیار شدہ جوابات
(Instant Messages)
برقی خط وغیرہ شامل ہیں۔
نگران کا تشدّد
Supervisor's Harassment
کام کی جگہ کا تعین اب انٹرنیٹ نے بدل کر رکھ دیا ہے۔ دفتر، ڈیسک، فیکٹری، کارخانہ، کھیت، باغ، چار دیواری کے علاوہ
Work From Home
گھر سے کام کرنے کی ایک نئی اختراع بھی شامل ہے۔ بہر حال نگران ہر جگہ پر تعین کیا جاتا ہے جہاں ترقی یافتہ ممالک میں انسانوں کی جگہ کیمروں اور مختلف مشینوں نے لے لی ہے۔ نگران کا فرض نئے ورکروں کی تربیت، رہنمائی، نگہداشت اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ نگران کے تشدد میں بلاوجہ اپنی برتری کا اظہار، غیر قانونی، غیر اخلاقی طریقہ کار شامل ہیں جس سے نئے کام کرنے والے لوگ خود کو جال میں پھنستا ہوا محسوس کرتے ہیں اِن رویوں میں
Probation
یعنی عملی آزمائش کی مدت کا تعین نہ کرنا بلاوجہ ذاتی عناد سے تعین شدہ مدت کو بڑھادینا، ذاتی نوکر بنالینے کی کوشش کرنا، نئے ملازمین کو متعلقہ کام نہ سکھانا اور تربیت کے بدلے میں جنسی تعلقات کی مانگ وغیرہ شامل ہے۔ متشددانہ رویہ ایک صحت مند انسان کو متاثر کرسکتا ہے جس میں معمولی کوفت سے لے کر بدترین اعصابی بیماریاں تک لاحق ہو سکتی ہیں۔ اس رویے سے مظلوم زیادہ تر اپنی عزتِ نفس اور اخلاقیات سے عاری ہو جاتے ہیں۔ کام کرنے کا شوق، مستقبل کی لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے کام لینے سے ہچکچانے لگتے ہیں۔اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ سست اور کاہل ہو جاتے ہیں پھر کام سے زیادہ غیر حاضر رہتے ہیں، کام میں دلچسپی نہیں لیتے اور اگر حالات پر بروقت قابو نہ پایا جاسکے تو، بالآخر تنگ آکر استعفیٰ دے دیتے ہیں۔ ایسے رویے کے شکار انسان، بلڈ پریشر، نیند کی خرابی، پیٹ کی خرابی یا نظامِ انہضام کے دائمی مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
تدارک
باقاعدہ پالیسی بنائی جائے جس میں
Harassment
کی تفصیل کو واضح کریں اور پالیسی بنانے کے لئے کسی پیشہ ور قانون دان سے مشورہ بھی ضروری ہے (بہتر ہے کمپنی کے وکیل کو یہ ذمہ داری سونپی جائے) ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ میں کسی ماہر کی مدد سے باقاعدہ تربیت کا منصوبہ بنایئے۔ ایچ آر کے شعبے میں شکایت درج کرانے کا طریقہ، سوال و جواب، باقاعدہ تحقیق اور شکایات کے ازالے، سزا، جزا اور اپیل کے حق کو بھی واضح کیا جائے۔ بغیر کسی تاویل، یا دیر، کے جنسی تشدد کی شکایت پر عمل شروع کیا جائے۔ اپنے دفتر یا
Work Place
پر کام کرنے والے لوگوںکی طاقت اور اعتماد میں اضافہ کرتے ہوئے اُنہیں علوم سے لیس کریں، اعلیٰ درجے کے افسران اپنے ماتحت کو تشدد سے نبرد آزما ہونے کی تربیت دیں اور اس تربیت کا حصول اگلے درجے کی ترقی کے لئے ایک لازمی جزو قرار دیا جائے۔ تمام کمپیوٹر، کیمرے، برقی آلات، موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، کِنڈل، ای میل اور تمام دستاویزی ترسیل اور آمد ورفت کا حساب رکھا جائے اور اُس پرنظر بھی رکھی جائے جسے باقاعدہ نگرانی کرنا کہا جاتا ہے۔ کمپنی کے مالک، آجر یاذمہ دار لوگ، اس بات کی یقین دہانی کریں کہ تمام ورکر اس قانون سے واقف ہوکر عمل پیرا ہوں اور کسی قسم کی لیت و لعل سے کام نہ لیا جائے۔ کام کی جگہ کو مہذب، ترقی پذیر، شگفتہ، قابلِ قبول اور صحتمندانہ بنانے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھا جائے۔
کام کی جگہ سبز یا سرخ رنگ کی نہیں بلکہ پیلے، گہرے مالٹائی رنگ کی جگہ ہے جو نہ تو گھر ہے اور نہ ہی جیل جہاں اخلاقی، تہذیبی، سماجی اور پیشہ ورانہ حدود و قیود کی پابندی کی جائے۔ ہر ایک ورکر کو اس کا دائرہ اختیار معلوم ہونا ضروری ہے جس پر کام کرنے کا ہنر بھی ضروری ہے۔ نااہل کارندے کمپنی میں برے اسباب پیدا کرسکتے ہیں۔ دورانِ تحقیق ٹال مٹول یا کسی حربے کا استعمال نہ کیا جائے۔ باقاعدہ تحقیق کے بعد فیصلے پر عمل کیا جائے، چاہے وہ معمولی سرزنش سے لے کرنوکری کی برخواستگی تک ہی کیوں نہ ہو! اس کے ساتھ ساتھ شکایت کنندہ کے خلاف دفتری جارحیت کو بھی برداشت نہ کیا جائے۔ تحقیق کے عمل کو شفاف اور واضح رکھا جائے فریقین کو برابری کی بنیاد پر انصاف مہیا کیاجائے۔ حکومتِ پاکستان 11مئی 2010 کو اس سلسلے کا ایکٹ منظور کرچکی ہے جس کے تحت انکوائری کمیٹی میں ایک خاتون رکن کا ہونا بھی ضروری ہے۔ شکایت موصول ہونے کی صورت میں ''تین دن'' کے اندر جس کے خلاف شکایت کی گئی ہو، کو مطلع کیا جائے اور تحریری جواب دینے کی مدت سات ورکنگ دن رکھی گئی ہے۔ سات دن کے اندر تحریری جواب موصول نہ ہونے پر کمیٹی اس بات کی مجاز ہے کہ یکطرفہ فیصلہ کردے، اس سارے عمل کو بجا لانے کی قانونی مدت 30 دن ہے۔ ملزم پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں مجاز اتھارٹی مندرجہ ذیل سزا کا فیصلہ سُنا سکتی ہے۔
1۔ تحریری مذمت، ملامت وغیرہ
2۔خاص مدت کے لئے ترقی یا انکریمنٹ کو روکنا
3۔ خاص عہدے تک ترقی پانے سے نااہل قرار دینا
4۔ ملزم کی تنخواہ سے رقم وصول کرکے مظلوم کو ازالے کے طور پر ادا کرنا
5۔ نوکری سے برخواستگی
6۔جبری ریٹائرمنٹ
7۔ نقد جرمانہ
اسی طرح سزا کے خلاف30 دن کے اندر محتسب کی عدالت میں اپیل کی جاسکتی ہے جس کا فیصلہ بھی30 دن کے اندر سنانا ضروری ہے۔
اگر محتسب کی عدالت میں کسی بھی وجہ سے محتسب کا تقرر نہ ہو سکا تو ڈسٹرکٹ کورٹ میں یہ اپیل سُنی جاسکتی ہے۔ اور عرصۂ دورانِ سماعت میں اگر محتسب کا تقرر ہو جائے تو ڈسٹرکٹ کورٹ سے کیس محتسب کی عدالت میں ٹرانسفر کیا جاسکتا ہے۔محتسب کی حکومت کا قیام دارالحکومت سمیت تمام صوبوں میں ضروری ہے۔ محتسب صدرِ پاکستان یا صوبے کے گورنر کے تحت کام کرتے ہیں جو کہ
Code of Civil Procedure Act/1908
کے برابر کے اختیار رکھتے ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے بہت ساری محتسب عدالتوں میں خواتین محتسب کو ذمہ داری دے رکھی ہے جس کے لئے لفظ
Ombudsperson
کا استعمال ہوتا ہے تاکہ انصاف کی حصولی کو غیر ضروری تعصب وغیرہ سے پاک رکھا جائے، اب تو حکومت نے ایک خاتون ہی کو وفاقی محتسب برائے انسدادِہراسیت مقرر کیا ہے۔ ایک نظام آن لائن بھی موجود ہے جو عورتوں کے خلاف جرائم میں حفاظت دیتا ہے۔ 092 333 1000015 ٹول فری نمبرجو
ICT- Police
کو دیا جاچکا ہے، اُس خود کار نظام کے تحت 8090 ایک ہیلپ لائن قائم ہے جو اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل کے دفتر سے منسلک ادارہ ہے جو اس پر کام کررہا ہے۔ دوسری جانب آجر کو قانون اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ اس ایکٹ کو انگریزی اور علاقائی زبانوں میں ترجمہ کرکے دفاتر میں کسی واضح جگہ پر آویزاں کرے۔ تحریری بورڈ نہ ہونے کی صورت میں تقریباً25000 سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ممکن ہے۔ ترقی کی اس گاڑی کو برابری کی بنیاد پر چار پہیئے ملیں گے تو یہ زیادہ بہتر کارکردگی کرسکے گی۔ مہذب قومیں اپنی عورتوں کے حقوق اور عزت کا خیال رکھتی ہیں۔ پاکستان ہمارا پیارا ملک ہے اور ہمیں اس میں بسنے والی مائوں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتِ نفس کو یقینی بنانے کے لئے تمام اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہ نئے وقت کا تقاضا بھی ہے اور ضرورت بھی۔ بلاشبہ نئے اور بدلتے حالات میں پاکستانی مرد اور عورت مل کر ہی اپنی قوم کے شاندار مستقبل کی ضمانت ہیں۔
آئین نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
06
April

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

پاکستان میں اب ترکی جانا فیشن اور سٹیٹس سمبل بن گیا ہے اور اس رجحان کا آغاز تب ہوا جب ترک ڈرامے ہماری سکرینوں تک پہنچے۔ جب میں نے پہلی مرتبہ ترکی کی سرزمین کو چُھوا تب ترکی جانے والے کو ہمارے ہاں مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا تھا یعنی ایسا نوجوان جو ترکی کے راستے، یورپ میں گم ہوجائے۔


لاہور سے ٹرین پر سوار ہوا تو کسی کو یقین نہ آیا کہ میں کسی دوسرے ملک جا رہا ہوں۔ ویسے بھی پہلا پڑائو تو کوئٹہ ہی تھا۔ 1983ء اور اگست کا مہینہ۔ جوانی اور جنونِ جہاں گردی ۔ کوئٹہ سے ایران کی سرحد تفتان تک میری زندگی کا ایک یادگار سفر تھا۔ اس وقت تک بچے کھچے ہپی ان راستوں میں کہیں کہیں مل جاتے تھے۔ رات گئے بلوچستان کے صحرا میں ہماری بس کے ڈرائیور نے بس کا رخ ہلکا سا موڑ کر صحرا کی دوسری طرف بس کی تیز لائٹس ماریں۔ دالبندین سے نوکنڈی تک کوئی سڑک تو تھی ہی نہیں، بس ایک راستہ سا تھا جو انہی بسوں، ٹرکوں اور بڑی ویگنوں کی آمدورفت سے پگڈنڈی کی طرح پختہ ہوگیا تھا۔ڈرائیور نے شرارتی انداز میں صحرا کے اندر تاریکی میں ہلتے چند انسانوں پر لائٹ ماری تو جیپوں کا ایک قافلہ نظر آیا۔ یورپ سے ایشیا تک معروفِ زمانہ ڈبل ڈیکر بس

Top Deck

ایک طرف پارک تھی اور چہارسُو ہپی لیٹے اور کچھ چل پھر رہے تھے۔کھلے آسمان تلے، صحرائی ریت کا بستراور کش پہ کش لگاتے ہپی۔ مغرب کی مادی زندگی سے بیزار اور مفرور ان مردوخواتین کے لباس بس' پورے پورے' ہی تھے۔ ان ہپیوں نے جس طرح مغرب کی مادی زندگی سے فرار کے راستے تلاش کئے، اب تو ان کی بس کہانیاں ہی رہ گئی ہیں۔ اسّی کی دہائی کے آغاز تک میں نے اِکا دُکا ہپیوں کے کارواں دیکھے۔

تفتان کی پاک ایران سرحد عبور کرنے کے بعد جس چیز نے مجھے حیران کن حد تک متاثر کیا، وہ تھی ایرانیوں کا نہایت قوم پرست ہونا۔ میری جہاں گردی نے مجھے جس قدر قوم پرست پاکستانی بنایا، اگر میں اس کو کتابوں میں تلاش کرکے جاننے کی کوشش کرتا تو شاید میں اس قدر دلگیر پاکستانی نہ ہوتا جو میں آج ہوں۔ اپنی سرزمین پر اور اپنے وطن میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ عشق۔ اس کا پہلا سبق ایرانیوں، پھر عربوں اور ترکوں سے ہی سیکھااور جہان جہان کی گرد اڑانے والا یہ مسافر اسی لئے کبھی تارکِ وطن نہیں ہوا۔ مشاہدے سے حاصل علم اسی لئے صفحات پر چھپے علم سے گہرا ہے۔

آزاد ہپیوں پر پڑتی بس کی روشنی نے اُن کے سفید فام بدنو ں پر اٹی مٹی کو پار کر لیا۔ ڈرائیور اپنی شرارت پر ایسے خوش تھا جیسے اُس نے کوہ قاف سر کر لیا ہو۔ وہ بس سٹارٹ رکھتے ہوئے نیچے اترا اور ان ہپیوں سے محو گفتگو ہوا۔ اپنے ذہن سے تلاش کرکے ایک آدھ فقرہ کہتا،
You are going or coming?
(تم پاکستان جا رہے ہو یا پاکستان سے ایران جا رہے ہو)۔ گفتگو بس بہانہ تھی۔اس ڈرائیور کا اصل مقصد بس کی روشنی میں مغرب کے ان سفید فام باسیوں کو ''غور سے'' دیکھنا تھا۔ چند منٹ بعد وہ واپس اپنی ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔
بس میں میرے سوا کوئی جہاں گرد نہیں تھا۔تمام کے تمام وہ افغان تھے جو افغان جہاد کے سبب پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ دراز قد، منگول نسل۔ ہاں کانسٹیبلری کا ایک سپاہی بھی تھا جو چھٹی کے بعد نوکنڈی جا رہا تھا۔پنجابی ہونے کے سبب عملاً وہ ہی میرا ہمسفر تھا۔ سپاٹ منگول چہروں والے یہ دراز قد افغانی مہاجر میری طرف جب دیکھتے تو یوں لگتا جیسے کھا جانا چاہتے ہوں۔ بس ڈرائیور بھی مجھے انہی نگاہوں سے دیکھ رہا تھاجیسے لاہور میں میرے دوست احباب، کہ جرمنی جا رہے ہو یا انگلینڈ۔ اُن دنوں یورپ میں
Slip
(گم) ہو جانے والے لوگوں کے لئے ترکی ایک راہ گزر تھا۔ جب میں نے ڈرائیور کے اس سوال کا جواب دیا کہ نہیں، میں یورپ سلپ ہونے نہیں بلکہ سیاحت کرنے جا رہا ہوں تو اُس نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا، ''سب ایسے ہی کہتے ہیں۔ بھلا ترکی بھی کوئی سیر کرنے والا ملک ہے۔ سیر کے لئے تو لوگ بنکاک جاتے ہیں۔'' بس ڈرائیور کو پہلے تو یہ یقین ہی نہیں آیا کہ میرے پاس ایران کا ویزا ہے۔ اسی لئے اُس نے میرا پاسپورٹ بھی چیک کیا۔ چوں کہ اکثر ''مسافرین'' جو سرحدیں عبور کرتے ہوئے یورپ سلپ ہوتے تھے، اُن کو سرحدیں پار کروانے والے مافیاز ہر جگہ موجود تھے۔ یہ ''فریضہ'' بس ڈرائیور بھی انجام دینا چاہتا تھا کہ چلو سرحد پار کرنے والا ایک گاہک ملا۔ یہ ''گاہک'' نہ ملنے پر سارے سفر کے دوران اس کا رویہ میرے ساتھ سوتیلوں جیسا رہا۔

 


بس ساری رات سفر کرتی رہی۔ صبح ہوئی تو ہم ایرانی سرحد کے قریب تھے۔وہاں بھی درۂ آدم خیل کی طرح ایک باڑا بازار سجا ہوا تھا۔ ہر قسم کی کرنسی اور ہر ''مال'' اور ہر طرح کے مسافر۔ سلپ ہونے والے بھی اور ایران کی زیارتیں کرنے والے بھی۔ پاک ایران سرحد پر سبز ہلالی پرچم اور ایرانی پرچم تیز ہوا کی شدت سے لہرا رہے تھے اور وہیں ایرانی سرحد کے اندر رہبرِ انقلاب امام خمینی کی قدآور تصویر آویزاں تھی۔ اس کا رخ پاکستان کی طرف تھا۔ تصویر پر رہبرِ انقلاب امام خمینی کے لئے تعریفی کلمات تو لکھے ہی تھے، ساتھ فارسی میں ''مرگ بر امریکہ'' (امریکہ مردہ باد) بھی لکھا تھا۔ یہ نعرہ انقلابِ ایران کا سب سے مقبول نعرہ تھا۔ جہاں گرد بازار کے 'مال' اور مسافروں سے بے نیاز تھا اور جلدازجلد پاکستانی سرحد پار کرکے ایران میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ ایران جو کبھی آریہ مہر شہنشاہ ِایران رضا شاہ پہلوی کا ایران تھا اور اب امام خمینی کا ایران۔
پاسپورٹ پر دخول کا ٹھپا کیا لگا، یوں محسوس ہوا، جہاں گردی کا کوئی اعزاز مل گیا ہو۔ پاک ایران سرحد پار کرکے تیزی سے زاہدان کی بس تلاش کی۔ ٹکٹ خرید کر بے چینی سےاس کے چلنے کا انتظار کرنے لگا۔ زاہدان، زاہدان ریڈیو کی اردو سروس کے سبب میرے لئے ایک مانوس شہر تھا۔

erranisarhadpar.jpg

پاکستان سے ایران کی سرحد پار کرتے ہوئے یوں لگا کہ میں واقعی اب مقامی سیاح سے عالمی سیاح بن گیا ہوں۔ ایک نئی تہذیب وتمدن۔ فارس کی قدیم تہذیب۔ نیا نیا انقلاب برپا ہو چکا تھا۔ انقلاب کی حدت ابھی مکمل طور پر محسوس کی جا رہی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ کا اہم اور تیل پیدا کرنے والا ایک نمایاں ملک۔ ہوائی جہازوںکے سفر میں بھلا یہ لطف اور یہ احساس کہاں جو سرحدوں کو پار کرتے ہوئے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ میں کم بلکہ نہایت کم وسائل کے سبب لاہور سے یورپ، زمینی راستے پر سفر کرنے جا رہا تھا، لیکن یہ طے تھا اگر جیبیں خوب گرم ہوئیں تب بھی سفر زمین کے سینے پر ہی کرنا تھا۔ جہاز کے ذریعے ہوا میں معلق ہوکر کسی دوسرے ملک میں داخل ہونا تو جہاں گردی کے حقیقی فلسفے سے کافی دور ہے۔
تفتان سرحد ایسی دوسری بین الاقوامی سرحد تھی جو میں نے اپنے وطن کی سرزمین کو عبور کرتے ہوئے پار کی۔ پہلی سرحد واہگہ کی تھی جو میں اس سے پہلے تین بار عبور کر چکا تھا۔ سرحدات عبور کرنا کیا ہوتا ہے، اس کا احساس ایک حقیقی جہاں گرد ہی کر سکتا ہے۔ میرا یہ سفر اس حوالے سے زندگی کا یادگار ترین سفر ہے۔ کم وسیلہ ہونا بھی آپ کو مشکلات کا سامنا کرنے والا انسان بنا دیتا ہے۔ میرے والد صاحب مجھے ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ سفر انسان کی تربیت کرتا ہے۔ کم وسیلہ جہاں گردی نے مجھے جو سبق دئیے، انہیں میں نے عملی زندگی میں اپنایا۔


میرے لئے جہاں گردی مشاہدات کے ذریعے مطالعے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس میں تہذیب و تمدن، سماج، تاریخ، سیاست اور آرکیالوجی سرفہرست موضوعات ہیں۔ سماج اس میں اہم ترین ہے۔ جب آپ ایک ملک کی سرحد عبورکرتے ہیں تو آپ یکایک ایک نئے سماج میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لاکھ مماثلتیں ہوں لیکن کسی ملک کی سرحد عبورکرکے درحقیقت ایک مکمل مختلف سماج کا مشاہدہ شروع کردیتے ہیں۔ واہگہ سرحد عبور کرنے کے بعد بھی ایسا ہی ہوا، جہاں پنجابی تو بولی جا رہی تھی، مگر سماج سیاسی اور سماجی حوالے سے کہیں مختلف پایا، حتیٰ کہ انسانوں کے رویے بھی۔


تفتان سرحد عبور کرنے کے بعد میں سرزمین فارس پر موجود تھا، دنیا کی قدیم ترین تہذیب۔ مشرقِ وسطیٰ کی اہم ترین تہذیب۔ مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کی دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ عرب اور فارس۔ ''عرب وعجم'' کی اصطلاح نے اسی قدیم تہذیبی کشمکش کے بطن سے جنم لیا۔ یہ کشمکش ظہورِاسلام سے بھی پہلے موجود تھی۔ فارس کے لوگوں کا اپنا غرور وفخر ہے اور اسی طرح عرب دنیا کا اپنا غرور وتفاخر۔ اب میں ایک ایسے ایران میں کھڑا تھا جہاں جاری صدی کا ایک بڑا انقلاب برپا ہو چکا تھا، جو شہنشاہیت اور سامراج کو شکست دے کر کامیاب ہوا، جس نے خطے اور عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جو اپنے فارسی ہونے اور مشرقِ وسطیٰ کی اہم ترین تہذیب کا وارث ہونے پر نازاں ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی اور اسلام کے ظہور کے بعد بھی۔


تفتان کی پاک ایران سرحد عبور کرنے کے بعد جس چیز نے مجھے حیران کن حد تک متاثر کیا، وہ تھی ایرانیوں کا نہایت قوم پرست ہونا۔ میری جہاں گردی نے مجھے جس قدر قوم پرست پاکستانی بنایا، اگر میں اس کو کتابوں میں تلاش کرکے جاننے کی کوشش کرتا تو شاید میں اس قدر دلگیر پاکستانی نہ ہوتا جو میں آج ہوں۔ اپنی سرزمین پر اور اپنے وطن میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ عشق۔ اس کا پہلا سبق ایرانیوں، پھر عربوں اور ترکوں سے ہی سیکھااور جہان جہان کی گرد اڑانے والا یہ مسافر اسی لئے کبھی تارکِ وطن نہیں ہوا۔ مشاہدے سے حاصل علم اسی لئے صفحات پر چھپے علم سے گہرا ہے۔

مضمون نگار معروف صحافی ' کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

''خوبصورت بات''

ہر وقت اﷲ کے کرم کا شکر ادا کرتے رہو، صرف پیسہ ہی رزق نہیں ہے، علم، عقل ،اولاد اور اخلاق بھی رزق میں شامل ہیں اور مخلص ہمدرد دوست بھی بہترین رزق میں شامل ہیں…

(مولانا جلا ل الدین رومی)

*****

ہم پاکستانی صرف اس وجہ سے بنے کہ ہم مسلمان تھے۔ اگر افغانستان، ایران، مصر، عراق اور ترکی اسلام کو خیر باد کہہ دیں تو پھر بھی وہ افغانی، ایرانی، مصری، عراقی اور ترک ہی رہتے ہیں۔ لیکن ہم اسلام کے نام سے راہِ فرار اختیارکریں تو پاکستان کا اپنا الگ کوئی وجود قائم نہیں رہتا۔ (قدرت اﷲ شہاب کی کتاب۔ ''شہاب نامہ'' سے اقتباس)

*****

 
06
April

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

ایک ہوتا ہے ظاہری حُسن اور دوسرا ہوتا ہے باطنی حُسن۔ حُسن بہر حال متاثر کرتا ہے لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ باطنی حسن کا تاثر دیرپا ہوتا ہے جبکہ ظاہری حُسن کا اثر دیرپا نہیں ہوتا۔ منظر بدل جاتا ہے اورظاہری حسن نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے لیکن باطنی حسن منظر بدلنے کے باوجود ایک یاد بن کر، ایک خوشگوار حیرت یا تاثر بن کر زندگی کا حصہ بن جاتاہے۔ ظاہری حسن کا تعلق قدرتی مناظر، ماحول، انسانی شخصیت یا چہرے کے نقش و نگار سے ہوتا ہے جبکہ باطنی حسن، عکسِ انسانی، کردار، خصائل،عادات، فطرت اور قومی اطوار و انداز میں نظر آتا ہے۔ میں نے چہروں کی خوبصورتی کو بیس تیس برسوں میںڈھلتے اور پھر بدصورتی میں بدلتے دیکھا ہے، بڑی بڑی وجیہہ اور بارعب شخصیات کو لاغری کا شکار ہو کر محتاج ہوتے دیکھا ہے لیکن باطنی حسن کو زوال کا شکار ہوتے کبھی نہیں دیکھا، خوش اخلاقی، وعدہ ایفائی، بے لوث خدمت، مہمان نوازی، حق گوئی، دُکھ سُکھ میںساتھ، مسکراہٹوں کی فتوحات وغیرہ وغیرہ کو نہ کبھی زوال پذیر دیکھا اور نہ ہی کبھی تاثیر سے محروم دیکھا۔

zahirihussan.jpg
ایک مہمان یا سیاح کا مشاہدہ قدرے سطحی ہوتا ہے اس لئے ان مشاہدات میں ابدی سچائیوں کی تلاش سعی لاحاصل ہوتی ہے۔ میرا 1980 سے امریکہ آناجانا رہا ہے۔ اس بار میرا قیام قدرے طویل تھا اور پُرامن بھی، اس لئے مجھے کچھ ایسے پہلو دیکھنے کا موقع ملا جو دلچسپ بھی تھے، منفرد اور حیران کن بھی۔ بلاشبہ میں جس علاقے میں تھا وہ قدرتی حسن سے اس قدر مالا مال تھا کہ انسان داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ چھوٹی چھوٹی نہایت سرسبز و شاداب پہاڑیوں اور میدانی علاقوں پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی آبادیاں یا قصبے اور ان پہاڑیوں کے ساتھ بہتا ہوا جھیل یا سمندر کا پانی اورجنگلات ۔ صفائی اس قدر کہ آپ کو کسی سڑک پر آوارہ کاغذ کا ٹکڑا تک نظر نہ آئے لیکن ان کے علاوہ جو چیز میرے دل کو بہت اچھی لگی وہ واک، جاگنگ یا سائیکلنگ کرنے والوں کے لئے میلوں پر مشتمل ٹریک اور پہاڑوں کو پیدل فتح کرنے کے لئے راستے اور سائیکل سواروں کے لئے سہولیات۔ کوئی سڑک یا گلی دونوںطرف فٹ پاتھوں کے بغیر نہیں بنتی اورپھر ان کے ساتھ موٹرویز، فری ویز اور چھ چھ آٹھ آٹھ رویہ سڑکیں جو فاصلوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہیں۔ ہر شئے، ہر انسان، ہر کار، اور تعمیرات وغیرہ قانون کے تابع۔ قانون شکنی کا کوئی تصور ہی نہیں لیکن اگر کوئی ذہنی مریض قانون شکنی کا ارتکاب کرے تو قانون کی نظر میں سب برابر، نہ کوئی حاکم اور نہ ہی کوئی محکوم۔ میںجب شام کو شفاف ندی کے کنارے واکنگ ٹریک پر چلتا ہوا جنگلوں اور سبزہ زاروں سے نکلتا تو اپنے ڈیفنس لاہور کو بہت یاد کرتا جو مالی حساب سے کھربوں کی آبادی ہے، جس پر عساکرِ پاکستان کو ناز ہے لیکن جابجا گندگی کے منظر، فٹ پاتھوں کا قحط، سیرگاہوں کی شدید قلت اور بڑے لوگوں کے دہائیوں سے خالی پلاٹوں سے دھول کے بادل اٹھتے نظر آتے ہیں اور قریبی گھروں میں مٹی پھیلاتے ہیں۔ فٹ پاتھ تو درکنار ڈی ایچ اے اتنا بھی نہیں کرتی کہ شاہراہوں کے دونوں طرف پیدل چلنے والوں کو گہرے کھڈوں اور کیچڑ سے ہی بچانے کا انتظام کرے۔ خالی پلاٹوں میں گھاس لگا دے اور ان میں ٹریفک کا راستہ بند کردے تاکہ دھول کے بادل نہ اڑیں۔ چلئے چھوڑیئے میں کس کا ذکر لے بیٹھا۔ کوئی تین چار برس قبل میںنے ڈی ایچ اے لاہور سے درخواست کی کہ رمضان میں گرم موسم کی شدت کے سبب گھروں میں بندروزے داروں کو نہ افطاری کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی سحری کے خاتمے کا۔ آپ مرکزی مسجد میں سائرن لگا دیجئے جسے سحری اور افطاری کے وقت چند سیکنڈ کے لئے بجا دیجئے۔ روزے داروں کو سہولت ہو جائے گی۔ فرمایا گیا''اس سے لوگوں کی نیند میں خلل پڑے گا، ''عرض کیا حضور تو وہ اذان سے بھی پڑتا ہوگا۔


ہاں تو میں عرض کررہا تھا کہ فطرت کا حسن، قدرتی مناظر اور ظاہری خوبصورتی بھی متاثر کرتی ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ گہرا اور دیرپا اثر باطنی حسن کا ہوتا ہے۔ باطنی حسن انسان کا بھی ہوتا ہے اور معاشرے یا ادارے کا بھی۔ اس بار امریکہ کی سائنسی ترقی اور الیکٹرک کاروں نے میری معلومات میں اضافہ کیا۔ الیکٹرک کار دو سو میل تک بجلی پر مفت چلتی ہے اورپھر اسے چارج کرنا پڑتا ہے۔ جس کا انتظام تقریباً ہر گیس اسٹیشن پر موجود ہے اور اپنے گھروں میں بھی موجود ہے جنگ خاصی سستی ہے۔ اب گوگل نے بغیر ڈرائیور کار ایجاد کرلی ہے۔ جس میں بیٹھ کرآپ اُسے اپنی منزل بتادیں، خود کمپیوٹر پر کام کرتے رہیں اور وہ کار خود بخود بازاروں، سڑکوں اور شاہراہوں سے گزرتی آپ کو منزل پر پہنچائے گی۔ تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ایجادات کا سلسلہ جاری ہے اور اس کی کوئی حد نہیں آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔


امریکی معاشرے میں اَن گنت برائیاں ہیں جو نفرت کا سبب بنتی ہیں اور یہ عام طور پر جنسی بے راہ روی اور بے لگام آزادی کا ثمر ہیں لیکن اس بار مجھے تین ایسے تجربات ہوئے جو اس معاشرے کے باطنی حسن کی عکاسی کرتے ہیں۔ میراایک قریبی عزیز ایک آئی ٹی کمپنی میں کام کرتا ہے۔ وہ گزشتہ پندرہ برسوں میں تین کمپنیاں تبدیل کرچکا ہے۔ ایک روزہ وہ مجھے اپنی کمپنی دکھانے لے گیا۔ ہم پارکنگ ایریا میں کار پارک کرکے جارہے تھے تو ایک بھاری بھر کم، عام کپڑوں میں ملبوس امریکی نظر آیا۔ جس نے مسکرا کر ہم سے ہیلو ہائے کیا، خیریت پوچھی اور دعائیہ فقرے کہہ کر چلا گیا۔ میرے عزیز نے مجھے بتایا کہ یہ میری کمپنی کا مالک ہے اور ارب پتی ہے وہ ہر ملازم سے برابری کی سطح پر ملتا، خوش اخلاقی اور مسکراہٹ سے پیش آتا، نہ رعونت نہ دولت کا نشہ۔ مجھے اس تجربے نے متاثر کیااور مجھے اپنے اسلامی ملک کے صنعت کار، دولت مند، اور مغرور مالکان بہت یاد آئے۔ ہر کمپنی میں فری ناشتے، فری کافی اور سنیکس وغیرہ کا انتظام ہوتا ہے۔ دوران گفتگو اُس نوجوان کے ایک انکشاف نے مجھے حیرت زدہ کردیا۔ اُس نے بتایا کہ میں ہر سال زکوٰة اور صدقہ کی رقم ڈالروں میں شوکت خانم کو بھجواتا ہوں۔ میںنے پوچھا کہ کسی دوسرے ادارے کو کیوں نہیں بھجواتے۔ جواب ملا کہ دنیا بھر میں کچھ خیراتی، رفاہِ عامہ وغیرہ کے ادارے امریکی حکومت کی منظور شدہ لسٹ پر ہیں جن میں شوکت خانم بھی شامل ہے۔ میں جتنی زکوٰة صدقہ، خیرات چندہ ڈالروں میں شوکت خانم کو بھجواتا ہوں اُتنی ہی رقم میری کمپنی اپنی طرف سے اس میں ڈال کر بھجواتی ہے اس سال میںنے اپنی کمپنی کے ذریعے دو ہزار ڈالر بھجوائے تو ان میں دوہزار ڈالر کمپنی نے بھی ڈالے۔ باطنی حسن کی یہ ادا مجھے بہت اچھی لگی ورنہ کمپنی کہہ سکتی ہے کہ ہم صرف اپنے ملک کے خیراتی اداروں کی مدد کریں گے لیکن اصول انسانیت کی خدمت ہے جو جغرافیائی حدود سے ماوراء ہے۔ دنیا کے رئیس ترین شخص بل گیٹس کے انسانی خدمت کے کارنامے بھی تمام ممالک کے لئے ہیں جن میں پاکستان کا پولیو پروگرام بھی شامل ہے۔ آپ کو علم ہے کہ بل گیٹس امریکی ہے۔ باطنی حسن کی تیسری علامت متاثر کن تھی۔ میر ے عزیز نے مجھے بتایا کہ میںنے جب یہ کمپنی جائن کی تب یہ نئی نئی تھی۔ یہاں کمپنیوں کی روایت ہے کہ یہ اپنے ملازمین کو کمپنی کے شیئرز نہایت معمولی قیمت پر دیتی ہیں۔ جب کمپنی ترقی کرتی ہے تو شیئر کی قیمت کئی سو گنا بڑھ جاتی ہے تب ان کو فروخت کرکے آپ راتوں رات کروڑ پتی بن جاتے ہیں اگرچہ ٹیکس بہت دینا پڑتا ہے۔ میرے اس عزیز نے کمپنی کے شیئرز (سٹاکس) فروخت کرکے نہ صرف ہر قسم کے سُود سے نجات حاصل کرلی ہے بلکہ اتنا کمالیا ہے کہ عمر بھر کھانے کو کافی ہے۔ مطلب یہ کہ وہاں صنعت کار اور کاروباری حضرات اپنی دولت میں اپنے کارکنوں کو بھی شریک کرتے ہیں۔ کیا پاکستان کا کوئی صنعت کار بڑا کاروباری اپنے ملازمین کو اپنی دولت اور منافع میں اس طرح شریک کرتا ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ میں اس ادا، سوچ یا پالیسی کو باطنی حسن کی علامتیں سمجھتا ہوں۔ جو شخص، ادارہ یا معاشرہ جھوٹ، ملاوٹ، غرور، ہوس، خوشامد، قانون شکنی، رشوت اور بے انصافی سے پاک ہو اور خدمت کا جذبہ رکھتا ہو وہ باطنی حسن سے منور ہوتا ہے، وہ متاثر کرتا ہے۔ باطنی حُسن کا تاثر دیرپا ہوتا ہے جبکہ ظاہری حُسن بقول شاعر:
حُسن والے حُسن کا انجام دیکھ
ڈوبتے سورج کو وقتِ شام دیکھ

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
05
April

تحریر: ملیحہ خادم

علامہ اقبال اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں اقبال کا ذکر آئے گا وہاں پاکستان کا ذکر ضرور آئے گا اسی طرح جب جب پاکستان کی بات ہوگی تب تب علامہ اقبال کی بات بھی ہوگی، اقبال کے بغیر پاکستان کی تاریخ ادھوری ہے۔ آپ مفکر پاکستان اور مصلح قوم بن کر ابھرے اور تاریخ میں امر ہوگئے- پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے تعین سے پہلے ہی فکر اقبال نے اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کا تعین کردیا تھا۔ علی گڑھ تحریک اور مسلم لیگ نے برصغیر کے مسلمانوں کی جداگانہ حیثیت اور تشخص کا جو پودا لگایا تھا اسے علامہ اقبال کے فلسفے اور فکرانگیز شاعری نے تناور درخت بنا ڈالا۔ آپ نے مسلمانوں کے ذہنی اور فکری جمود کو اپنی شاعری سے جھنجھوڑ ڈالا اور غفلت کی نیند سوئی قوم کو بیدار کردیا ۔
حکیم الامت علامہ اقبال نے کہا
میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری، نفس مرا شعلہ بار ہوگا
اور واقعی آپ نے 1857 کی راکھ میں دبی مسلم بقا کی چنگاری کو معاشرتی و سیاسی حقوق اور آزادی کے شعلوں میں بدل دیا۔ اگرچہ شروع میں اقبال بھی دیگر مسلم قائدین کی طرح ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے، اسی لئے وہ کہتے تھے کہ مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا، سو ہندوستان ہم سب کا وطن ہے، لیکن انڈین نیشنل کانگریس کی مسلم مخالف سرگرمیوں اور سازشوں نے اقبال کو یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے مصائب کا مکمل حل صرف اور صرف ایک الگ ریاست کے قیام میں پنہاں ہے، برصغیر کے شمال مغربی حصوں پر مشتمل ایک ایسی ریاست جہاں وہ ہندوئوں کی معاندانہ سرگرمیوں سے محفوظ رہ کر اپنے عقائد اور سماجی روایات کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔ اس منزل تک پہنچانے کے لئے انہوں نے مسلمانوں کی معاشرتی اور سیاسی اصلاح پر بھرپور توجہ دی اور مسلمانانِ ہند کے زوال کے اسباب کا تجزیہ کرکے مسلمانوں کے سماجی ڈھانچے میں در آنے والی خرابیوں کو اجاگر کیا۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

bayadeiqbal.jpg
یہ اقبال ہی تھے جنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو انگلستان سے واپس بلا کر انہیں ایک بار پھر ہندوستان کی سیاست میں متحرک کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی کیونکہ آپ جانتے تھے جناح ہی وہ واحد فرد ہیں جو اپنے انتھک عزم اور سیاسی بصیرت کے باعث مسلمانوں کے حقیقی لیڈر بننے کے اہل ہیں اور جناح کی لیڈرشپ ہی بے شمار مسائل میں جکڑے مسلمانوں کی دوا بنے گی۔ ہم بآسانی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر فکرِ اقبال نہ ہوتی تو ایک الگ وطن کا اتنا واضح نظریہ سامنے نہ آتا اور نہ ہی قائداعظم میں وہ تحریک پیدا ہوتی جس نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے کانگریس کے مسلمانوں کو اقلیت قرار دے کر ہندو مطلق العنانی کے خواب کو چکناچور کردیا، ساتھ ہی تاج برطانیہ پر بھی واضح کردیا کہ مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کو مانے بغیر ہندوستان میں سیاسی استحکام نہیں آسکتا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہندوستان کو دو الگ اور آزاد ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے۔ اس طرح علامہ اقبال نے الٰہ آباد میں جوخواب دیکھا اس کی تعبیر 14 اگست 1947 کو پاکستان کی صورت میں مسلمہ حقیقت بن کر ابھری۔
علامہ اقبال کو قدرت نے غیر معمولی ذہن عطا کیا تھا۔ آپ نے دین او دنیا دونوں کو معنویت اور جانچ کے اصولوں پر پرکھا۔ علامہ اقبال نے اسلام کو مسلمان ہونے کے ناتے ہی تکریم نہیں دی بلکہ اس مذہب کی تعلیمات کے باعث مسلمانوں کی کامرانی کا تجزیہ انتہائی غیر جانبداری اور میزان کے ساتھ کیا۔ آپ نے مسلمانوں کے عروج و زوال پر غور کیا اور اس کے اسباب و نتائج کو اپنی شاعری میں سمودیا۔ اقبال نے شکوہ لکھ کر مسلمانوں کے دورِ عروج اور فتوحات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زعم کو بے مثال انداز میں پیش کیا۔ اس کے بعد جواب شکوہ کے ذریعے ملتِ اسلامیہ میں جنم لینے والی برائیوں اور بتدریج زوال کو بھی انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا۔
دم تقریر تھی مسلم کی صداقت سے بے باک
عدل اس کا تھا قوی، لوث، مراعات سے پاک
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم
علامہ اقبال ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں سرزمین حجاز سے شروع ہونے والی رزم و بزم کی کامیابیوں کے راستے پر چلاتے ہوئے قرطبہ، غرناطہ اور قسطنطنیہ لے جاتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ کبھی آدھی دنیا پر مسلمان حکومت کرتے تھے، اس طرح وہ ملت سے ہمارا رابطہ استوار کرتے ہیں، پھر وہ ان ہی راستوں پر چھائی مسلم حکمرانوں اور اکابرین کی غفلت کی دھول میں سے گزار کر ہمیں ہندوستان واپس لے آتے ہیں۔ یہاں وہ مسلمانانِ ہند کے تشخص، بقا اور حقوق کی جنگ لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ قلم کو ہتھیار بنا کر سازش، جہالت اوراستبداد کے خلاف میدان میں اترتے ہیں اور قوم کے تنِ مردہ کو استقامت کے گھوڑے پر بٹھا کر خود جدوجہد کی باگ پکڑکر فتح کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔
نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزر بیٹھا ستم کش انتظار ہو گا
علامہ اقبال اس بات کے قائل تھے کہ مذہب، انسانوں کو ایک مرکز پر جمع کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے چنانچہ وہ اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے عالم اسلام اوربالخصوص مسلمانان پاک وہند پر زور دیتے ہیں کہ اسلام کے بتائے ہوئے اخوّت اور یکجہتی کے راستے پر چلیں۔ اسلام کی تعلیمات سے اپنی مشکلات کا حل تلاش کریں۔ اقبال نے اسلام کو مسلمانوں کا نجات دہندہ قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ اس دین میں بیان کئے گئے مکمل ضابطہ حیات کو خود پر لاگو کریں تاکہ دنیا میں اپنا الگ تشخص برقرار رکھ سکیں۔ آپ نے مغربی نظام اور سیاست کی خرابیوں کو بیان کرتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ ایسا نظام مسلمانوں کی اقدار اور تاریخ سے بالکل جدا ہے اس لئے مسلمانوں کو اپنا نظام اورمعاشرت، ازسرنو اسلام کو سامنے رکھتے ہوئے، ترتیب دینا ہوگا۔ تہذیب و تمدن کو علاقائیت اور سرحدوں کی قید سے آزاد کرکے اسے اسلامی طرز زندگی کے ساتھ جوڑ کر ایک قابل تقلید معاشرہ قیام کرنے کی خواہش علامہ اقبال کی شاعری میں خاص مقام رکھتی ہے۔ اس ضمن میں وہ مقامی خدوخال اور وقت کے تقاضوں کو بھی نظرانداز نہیں کرتے۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو عظمت رفتہ کے دھندلکے سے نجات حاصل کرنے کی تعلیم دی۔
کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد
میری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد
علامہ اقبال نے دینی معاملات کو مسجد اور منبر سے باہر لا کر روزمرہ زندگی میں ان سے راہ نمائی حاصل کرنے پر زور دیا۔ اقبال نام نہاد مذہبی راہنمائوں اور ان کی مخصوص محدود سوچ کے سخت ناقد تھے، ان کی نظر میں اسلام کی تعلیمات اور اصول عالمگیریت کے لئے نازل کئے گئے ہیں اس لئے ان کو خانوں میں بانٹنے کے بجائے ان کی صحیح تشریح کی جائے تاکہ اسلام کوخانقاہوں اور درباروں سے باہر نکال کر دوبارہ سے اطلاقی مذہب بنایا جاسکے۔
اقبال کے یہاں اسلام کو تنگ نظری سے دیکھنے کی ممانعت ہے۔ وہ اس الہامی مذہب کی وسعت اور آفاقیت کو کھوجنے کے قائل ہیں۔ وہ دین کو عبادات تک محدود نہیں کرتے بلکہ اس میں چھپے اس پیغام تک پہنچنے کا درس دیتے ہیں جس نے اسلام کے اولین دنوں میں معاشروں کی کایا پلٹ کر رکھ دی تھی۔ وہ قدرت کے رازوں تک پہنچنے کی جستجو کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اقبال کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے مابعد الطبیعات پہلوئوں کو آسان کرکے پیش کیا اور اسلامی تعلیمات کی نئی جہتیں متعارف کروائیں۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال کو ایران اور ترکی میں بھی اتنی ہی پذیرائی ملی جتنی برصغیر پاک و ہند میں۔ وہاں آج بھی علامہ اقبال کے فلسفے اور شاعری کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے دینی معلومات کے دائرے کو کائنات اورذرات کی منزلوں سے آگے لے جاکر اسلام کو سائنس کے ساتھ ملا کر پڑھنے کے لئے آسان کردیا۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
علامہ اقبال نئی نسل کو الگ تھلگ کرکے قوم کے مستقبل کا خاکہ تیار کرنے کے مخالف تھے۔ آپ بطور خاص نوجوانوں کی فکری تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ اقبال جوانوں کو شاہین بن کر جینا سکھاتے ہیں۔ اپنی شاعری کے ذریعے علامہ اقبال نوجوانوں کو جابجا مخاطب کرتے ہوئے انہیں اسلامی تصورات سے روشناس کراتے ہیں اور انہیں ترغیب دیتے ہیں کہ زندگی کو صرف دنوں کی گنتی کی طرح گزارنے کے بجائے اپنے مقصدِ حیات کا تعین کریں اور قدرت و کائنات کے اسرار و رموز کو پَرکھیں۔ خدا نے کائنات کو لامتناہی اکائیوں اور سلسلوں کے ساتھ ترتیب دیا ہے اور قرآن نے مسلمان کو پابند کردیا ہے کہ وہ قدرت کے پوشیدہ رازوں کو جانچنے کی سعی کرے لہٰذا اقبال اس کی ناتمام حدوں کو کھوجنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں چرخ نیلی فام سے پرے ہے منزل، سو نوجوان رکنے جھجکنے کے بجائے اس منزل کو تلاش کریں اور نت نئے افکار و خیالات کا مطالعہ اور تجزیہ کریں ۔ وہ لگے بندھے پرانے نظریات کو نوجوانوں کی سوچ سے ہم آہنگ کرنے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں۔
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پِیروں کا استاد کر
اقبال مایوسی کے بجائے امید کا پیغام دیتے ہیں اور اس امید کو نوجوانوں سے وابستہ کرتے ہیں۔ وہ انہیں نام نہاد درویشی صفات اختیار کرنے سے روکتے ہیں اور صرف حکمرانی کی لذت میں گم ہونے سے بھی منع کرتے ہیں۔ اس کے بجائے نوجوان نسل کو اپنی نگاہ بلند اور سخن دل نواز رکھتے ہوئے پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ چونکہ اقبال جانتے تھے کہ جس قوم کی نوجوان نسل سوجائے اس قوم کی تباہی لازم ہوجاتی ہے اس لئے اپنی شاعری اور افکار کے ذریعے انہیں متحرک رکھتے ہیں۔ آپ انہیں گفتار کا غازی بننے کے بجائے عمل پیہم کے سہارے زندہ رہنا سکھاتے ہیں۔ علامہ اقبال نوجوانوں کو عقلی، عملی جمود کی زنجیروں سے آزاد ہو کر نت نئے فکری مشاہدات اور تجربات کی ترغیب دیتے ہیں۔
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں
علامہ اقبال نے مروجہ مغربی نظام یکسر مسترد کردیئے اور مستقبل کو مشرق سے وابستہ کرکے ہندوستان کے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ بھی آنے والے وقت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو تیار کریں اور اپنی ذہنی صلاحیت اور استعداد بڑھائیں تاکہ دوسروں کے محتاج بننے کے بجائے آپ اپنا جہاں آباد کریں۔ انہوں نے اسلامی دنیا کے مصائب پر بھی بات کی اور مسلمان حکمرانوں کی کاسہ لیسی کو بھی ہدفِ تنقید بنایا۔ یہ اقبال کا وصف ہے کہ وہ دلیری کے ساتھ حق بات کی نشان دہی کرتے رہے اور ملت پر چھائے قحط الرجال کے دور میں دیدہ ور بن کر زندہ رہے۔ علامہ اقبال نے مغرب کی بچھائی گئی سیاسی شطرنج پر مسلمان پیادوں کی پیش رفت پر دکھ کا اظہار کیا اور مسلمانوں کو مغربی طاقتوں کی اسلام دشمنی میں ان کا ہرکارہ بننے سے روکا۔
بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش
لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل
خشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاک حجاز
قدرت نے انسان میں انا، عزت نفس اور اپنی ذات کا غرور پیدائشی طور پر رکھا ہے لیکن احساس کمتری، دوسروں پر انحصار اور اپنی بنیادوں سے دوری انسان سے یہ اوصاف چھین لیتی ہے۔ علامہ اقبال شدت کے ساتھ ان اوصاف کی حفاظت پر زور دیتے ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ خودی مسلمانوں کے کردار کا لازمہ (لازمی جزو) ہے اور اس خوبی کو بقا، ترقی اور اغیار کی حاشیہ برداری سے نجات کا ذریعہ قرار دیا۔ اقبال قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت کو مسلمان کی میراث قرار دیتے ہیں اور ان صفات کو حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے خودی کا حصول ضروری ہے ۔ آپ نے انسان کی کی فلاح کا سرچشمہ خودی کو قرار دیاکیونکہ اسی کی بنیاد پر انسان اپنا منفرد مقام اور وجود قائم رکھ سکتا ہے۔
وجود کیا ہے فقط جوہرِ خودی کی نمود
کر اپنی فکر کہ جوہر ہے بے نمود ترا
علامہ اقبال کی فکر اور فلسفہ وقت کی قید سے آزاد ہے۔ آپ کی شاعری کی تروتازگی آج بھی برقرار ہے۔ نومبر کی طرح اپریل بھی اقبال کا مہینہ ہے۔ ہم اس دن علامہ اقبال کو زبردست خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن صرف سیمینار اور تقاریر اس عظیم فلسفی اور مفکر کے کام اور مسلمانانِ ہند پر ان کے احسانات کا بدلہ نہیں چکاسکتے۔ ہمیں چاہئے کہ اقبال کی سوچ اور ان کے فلسفے کو اپنی نئی نسل خصوصاً طالب علموں، تک پہنچانے کا غیر معمولی بندوبست کریں۔ اس کے لئے نصاب میں مناسب تبدیلیاں کی جائیں اور فکر اقبال کوسکول کی سطح پر لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے کیونکہ علامہ اقبال کی شاعری اور فلسفہ رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہے جو قومی سطح پر ہماری راہ نمائی کرکے ہمیں سر اٹھا کر جینا سکھاتا ہے۔
------------------------------------

مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
05
April

تحریر: خالدمحمودرسول

بجٹ بظاہر تو مالی اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہے جسے جاننے والے ہی جانتے ہیں لیکن اس کا اثر اس قدر ہمہ گیرہوتا ہے کہ ہر عام خاص ایک حد تک اس میں دلچسپی ضرور لیتا ہے۔ ہر نئے بجٹ پر ماہرین اعدا و شمار کا دبستان کھول کر مالی اشاریوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ حکومت کے طرفدار بجٹ کی خوبیاں بتاتے نہیں تھکتے اور اس بات پر داد طلب بھی رہتے ہیں کہ اس قدر مشکل حالات میں ایسا عوام دوست بجٹ انہی کا کمال تھا۔ اس کے برعکس حکومت مخالف ماہرین اور سیاسی نمائندے اس بجٹ کی ہر کل ٹیڑھی بتاتے نہیں تھکتے۔ حکومتی پارٹی بدل جائے تو توصیف اور تنقید کرنے کی ترتیب الٹ ہو جاتی ہے لیکن توصیف اور تنقید کے نکات ایک سے رہتے ہیں۔ عام آدمی اسی الجھن میں رہتا ہے کہ مانیں تو کس کی، نہ مانیں تو کس کی۔
سالہا سال سے بجٹ دستاویزات دیکھتے ، ان پر بحث سنتے اور اکانومی کے مدوجزر دیکھتے ہوئے ہمیں دلاور فگار کے مشہور اور حسبِ حال اشعار یاد آتے ہیں۔
حالاتِ حاضرہ میں اب اصلاح ہو کوئی
اس غم میں لوگ حال سے بے حال ہو گئے
حالاتِ حاضرہ نہ سہی مستقل مگر
حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے
بجٹ کیا ہے؟ بجٹ معیشت کا مالی میزانیہ ہے، ریونیو ( محاصل ) کیا ہیں؟ اخراجات کیا ہیں ؟ ان دونوں کا فرق خسارے کی صورت میں ہے یا کچھ فاضل ہے؟ اگر خسارہ ہے تو یہ کیسے پورا ہوگا؟ ان بنیادی سوالوں کے جوابات میں گزشتہ سال کی مالی و معاشی کارکردگی، معیشت کی موجودہ صورتحال اور اگلے سال کے لئے اہداف، ان اہداف تک پہنچنے کے لئے مالیاتی اقدامات اور مالیاتی میزانیہ بجٹ کی صورت میںپیش کیا جاتا ہے۔ گزشتہ مالیاتی سال 2017-18 کے میزانیے کے نمایاں خدوخال کچھ یوں تھے۔ گزشتہ دس سالوں میں معیشت کی سالانہ شرح نموبلند ترین سطح پر رہی یعنی 5.28فیصد ۔ معیشت کی شرح نمو میں صنعت 5فیصد، زراعت 3.46فیصداور سروسز میں 5.98 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ افراطِ زر 4 فیصد سے کچھ زائد رہی۔ مجموعی قومی پیداوار کا حجم تین سو ارب ڈالر تک پہنچا۔ یوں فی کس آمدن امریکی 1,629 ڈالر تک بتائی گئی۔ یہ سب حوصلہ افزاء اشارئیے تھے لیکن دوسری طرف معیشت کے چند رجحانات بدستور پریشان کن رہے۔


پاکستان کی برآمدات میں اضافہ نہ ہو سکا جبکہ اس کے بر عکس درآمدات میں اضافہ جاری رہا ۔ یوں پہلی بار تجارتی خسارہ بتیس ارب ڈالر تک جا پہنچا یعنی کل برآمدات سے بھی زیادہ ! ٹیکس جی ڈی پی تناسب حسبِ معمول عملاً وہیں کا وہیں رہا۔ مالیاتی خسارے کا تناسب ہدف سے زیادہ رہا۔ بیرونی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ محاصل میں بالواسطہ ٹیکسوںکا تناسب حسبِ معمول بڑھ گیا۔ بجٹ کا سب سے بڑا خرچ قرضوں اور سود کی مد میں ادائیگیوں کا رہا۔ نہ قومی بچتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکا اور نہ سرمایہ کاری میں کوئی غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ سی پیک کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کاری مایوس کن رہی۔ بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ
(Circular Debt)
ایک بار پھر بڑھ کر خوفناک مالی بوجھ کی صورت میں نمایاں ہونا شروع ہوا۔ پبلک سیکٹر کارپوریشنز میں ایک آدھ کے سوا بیشتر میں خسارے کا رجحان جاری رہا ہے۔ یوں کئی مثبت اشاریوں کی موجودگی میں اتنے ہی پریشان کن رجحانات نے معیشت کی صحت مندی کے بارے میں سوالیہ نشانات بھی کھڑے رکھے۔


ایک بار پھر بجٹ سر پر ہے۔ جمہوری حکومت کی مدت کی انہی دنوں تکمیل کی وجہ سے بجٹ چند ہفتے قبل از وقت ہی پیش کر دیا جائے گا۔ انتخابات کے بعد آنے والی حکومت کو یقینا اس بجٹ میں اپنی ترجیحات کے مطابق کچھ ردوبدل کرناشاید ناگزیر بھی ہو۔ اپنی نوعیت میں یہ ایک انتخابی بجٹ ہو گا لہٰذا اصلاحات اور معیشت کے لئے درکار سخت فیصلے شاید اس بجٹ کا حصہ نہ بن پائیں، تاہم بجٹ کی ترجیحات بالعموم کیا ہونی چاہئیں، اس ضمن میں ذیل میں چند نمایاں اور بنیادی نکات کا ذکر ہے۔

mustakbilshanas.jpg
اوّل: معیشت میں مسلسل اور مناسب شرح نمو کو یقینی بنایا جائے۔ نوے کی دِہائی اور بعد ازاں 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد معیشت کو مسلسل کئی برس سے کم شرح نمو کا سامنا رہا۔معیشت کے اپنے بنیادی مسائل او ر بے روزگاری جیسے پھن اٹھائے مسائل کا سامنا کرنے کے لئے آنے والے کئی سالوں کے لئے کم از کم چھ فیصد شرح نمو کا حصول ضروری ہے۔ ایسی قلیل اور وسط مدتی پالیسیاں اور اقدامات وقت کی ضرورت ہیں جن سے شرح نمو کا یہ ہدف حاصل کرنا ممکن ہو سکے۔
دوم: بجٹ کے مالیاتی خسارے کو ہر صورت کنٹرول کرنے کی تدبیر۔ حکومت کو ایک جانب اپنے اخراجات پر کنٹرول اور وسائل کے بہتر اور مؤثر استعمال کی ضرورت ہے اور دوسری طرف اپنے محاصل بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان کا ٹیکس جی ڈی پی تناسب خطے اور زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کے مقابل بہت کم رہا ہے۔ مختلف حکومتوں کی نیم دلانہ کوششوں کی وجہ سے یہ تناسب عملاً دس فی صد سے کم ہی رہا۔ اس تناسب میں بھی زیادہ تر حصہ تنخواہ دار ٹیکس گزاروں کا ہے۔ محاصل کے ذرائع دیکھیں تو براہِ راست ٹیکسوں کی شرح بڑھانے کی تمام کوششیں بیکار ثابت ہوئیں۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے، براہِ راست ٹیکسز کا تناسب بڑھانے اور ٹیکس کو بتدریج
consumption
سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔ مسلسل خسارے کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ اب ناقابل برداشت ہو رہا ہے ۔ ایک اہم مسئلہ وسائل کے استعمال میں کرپشن کا بھی ہے۔ منصوبوں میں شفافیت اور ہر سطح پرکرپشن کی حوصلہ شکنی قومی ترجیح ہونی چاہیے۔
سوم: مالیاتی انڈیکیٹرز میں مستقل نوعیت کی بہتری۔ ملک کی معیشت کا ڈھانچہ کچھ ایسا ترتیب پا گیا ہے کہ برآمدات چند بنیادی اور
low value added
پراڈکٹس پر مشتمل ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی برآمدات میں ٹیکنالوجی مصنوعات کا تناسب مسلسل بڑھتا ہوا دیکھا گیا ہے مثلا انجینئرنگ، آٹوموبائل، ٹرانسپورٹ، کیمیکلز، آئی ٹی وغیرہ۔ اس کے بر عکس پاکستان کی برآمدات کا نصف سے کچھ زائد ٹیکسٹائل اور اپیرل، چاول، چمڑہ اور چمڑے کی مصنوعات ۔ سرجیکل و سپورٹس مصنوعات وغیرہ پر مشتمل ہے جو کم ویلیو ایڈڈ پراڈکٹس پر مشتمل ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی پراڈکٹس کی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حلال مصنوعات کی دنیا میں بہت بڑی اربوں ڈالر کی مارکیٹ ہونے کے باوجود پاکستان کا عالمی شیئر ایک فی صد بھی نہیں۔ ضرورت ہے کہ برآمدات کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کے لئے ایک نیا وژن بنایا جائے تاکہ برآمدات میں جمود کو ختم کرنے کا سدِباب کیا جاسکے۔
اسی طرح درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ملک فقط ایک ٹریڈنگ نیشن بن کر نہ رہ جائے۔ درآمدات کے لئے بظاہر معاشی اور انتظامی ماحول زیادہ موزوں اور موافق ہے جس کی وجہ سے مقامی صنعت کو
unfair
مسابقت کا سامنا ہے جس کا نتیجہ اندسٹری کی شرح افزائش میں مایوس کن اضافہ ہے۔ اسی پسِ منظر میں چند ماہرین معیشت اب یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان
De- industrilization
کے مرحلے میں پھنس چکا ہے۔ جب تک بنیادی اور دوررس پالیسیاں وضع نہیں کی جاتیں، یہ رجحان جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ بجٹ اس سلسلے میں کلیدی کردار کا حامل ہے، لہٰذا ضرورت ہے کہ اس سمت میں مؤثر اور دوررس اقدامات اٹھائے جائیں۔
چہارم: ملک میں سالہاسال سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں چند بڑے شہروں میں سمٹ گئی ہیں۔ چھوٹے شہروں اور علاقوں سے لوگ بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جس سے شہروں کی جانب مسلسل مائیگریشن کا خوفناک رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ اس رجحان سے بہت سے پیچیدہ معاشرتی اور انتظامی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ علاقائی عدم مساوات کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔
پنجم: پاکستان کی آبادی حالیہ مردم شماری میں توقع سے کہیں زیادہ نکلی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جس کا ایک واضح مطلب یہ ہے کہ کام کی عمر کو پہنچنے والوں کے لئے روزگار کی فراہمی کا ہدف مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ایک مسلسل چیلنج ہے۔ بجٹ ترجیحات اور پالیسیاں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ششم: دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی معاشی ناہمواری اور عدم مساوات گزشتہ چند دِہائیوں میں بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ حالیہ سالوں میں اکانومی میں پراپرٹی کی صورت میںچند لوگوں کے ہاتھ میں بہت سرمایہ آیا جو صنعت و تجارت میں لگانے کے بجائے پھر سے پراپرٹی وغیرہ جیسی معاشی سرگرمیوں میں کھپ جاتا ہے۔یہ اور اس طرح کی دیگر معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے تیزی سے دولت کا ایک خاص طبقے میں ارتکاز ہو رہا ہے۔ یہ رجحان اپنے اندر خوفناک معاشرتی اور سماجی مسائل کو پال رہا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
ہفتم: پاکستان کی اکانومی کا ایک بہت بڑا حصہ بلیک اکانومی پر مشتمل ہے۔ یہ اکانومی عملاً ٹیکس نیٹ کی دسترس سے باہر ہے اور مجبوراً کچھ بالواسطہ ٹیکسز دے کر اپنا دامن مکمل ٹیکس نیٹ سے بچائے رکھتی ہے۔ مزید یہ کہ بلیک اکانومی میں کاروباری سرگرمیوں کو مکمل دستاویزی صورت میں رکھنے اور حکومتی اداروں میں رجسٹر کروانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ یوں حکومت کو صحیح اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ اس بلیک اکانومی کا حجم کیا ہے۔ کچھ ماہرین کے محتاط اندازوں کے مطابق بلیک اکانومی کا حجم کل معیشت کا ساٹھ فی صد یا اس سے بھی زائد ہے ۔ ماضی کی تمام حکومتوں کی غیرسنجیدہ اور نیم دلانہ کوششیں بلیک اکانومی کو مین اسٹریم اور ٹیکس نیٹ میں لانے میں ناکام رہیں۔ ماہرین کا یہ خیال ہے کہ جب تک بلیک اور کیش اکانومی کی حوصلہ شکنی ایک قومی ترجیح کے طور پر نہیں کی جائے گی، ملکی معیشت کے بہت سے بنیادی مسائل میں دوررس تبدیلی کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
پاکستان کی معیشت کو بہت سے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے لیکن یہ مسائل لاینحل نہیں ہیں۔ وقتی مفادات سے بلند ہو کر قلیل مدت اور دوررس اقدامات اور مناسب اصلاحات کے نفاذ سے معیشت کی شکستہ بنیادوں کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں بجٹ کی ترجیحات اور پالیسیاں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

عقل و دِل
ہر خاکی و نوری پہ حکومت ہے خِرد کی
باہر نہیں کچھ عقلِ خداداد کی زد سے
عالم ہے غلام اس کے جلالِ اَ زلی کا
اِک دل ہے کہ ہر لحظہ الجھتا ہے خِرد سے

*****

 
05
April

تحریر: ندیم بخاری

برطانیہ میں مقیم ندیم بخاری کی ماہنامہ ہلال کے لئے خصوصی تحریر

دنیا کے تقریباً ہر خطے کے لوگ مختلف وجوہات کی وجہ سے ہجرت کرتے رہتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے بین الاقوامی طورپر تارکینِ وطن کی کوئی باقاعدہ تعریف و تشریح موجود نہیں ہے۔ انگریزی زبان میںترکِ وطن، ہجرت، نقل مکانی، جلا وطنی وغیرہ جیسے الفاظ کی تعریف بہت واضح ہے۔ اُردو میں معاملہ ذرا مختلف ہے۔ اردو میں قانونی تعریف کم اور مذہبی، جذباتی، احساساتی اور تصوراتی معنی زیادہ ملتے ہیں ایسا شاید اُردوزبان پر ادبی اثرات کی وجہ سے ہے۔تاہم اردو میںتارکِ وطن یا انگریزی میں
Immigrant
کاعمومی لفظ وطن چھوڑ کر دوسرے ملک جانے والے کسی بھی شخص کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔
ماہرین اِس بات پر تقریباََ اتفاق کرتے نظر آتے ہیں کہ بین الاقوامی مہاجر کسی ایسے شخص کوکہتے ہیں جو اپنے ملک کو کسی بھی وجہ سے چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں رہائش اختیار کرتا ہے،چاہے اِس عمل میں منتقلی کا طریقہ یا قانونی حیثیت کچھ بھی ہو۔عموماََ مختصر مدت یا عارضی نقل مکانی کے درمیان تین اور بارہ ماہ کی مدت کوفرق مان لیا جاتا ہے،اور طویل مدتی یا مستقل منتقلی میں ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے کو بنیاد بنایا جاتا ہے.
مجھے چند مرتبہ ترک وطن کرکے یورپ آنے والے مہاجرین کے لئے کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کی وجہ میرا فوٹو گرافی کا شوق بنا ۔ میں اکثر برطانیہ میں کام کرنے والی فلاحی تنظیموں کے لئے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کرتا رہتا ہوں۔ جب یورپ نے عرب اور افریقہ سے ہجرت کر کے آنے والے پناہ گزینوں کو پناہ دینے سے انکار کر دیا تو ان ممالک کی سرحدوں پر مہاجرین کیمپ لگنے شروع ہو گئے۔ سردی، بارش اور ضروریات زندگی کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان مہاجرین کی صحت ہی نہیںبقا کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا۔

tarkeenwatan.jpg
کالے (کالایئس) فرانس کے مہاجرین
یہ وہ مہاجرین ہیں جو فرانس میں تو گھس آئے مگرجانا وہ برطانیہ چاہتے تھے۔ جبکہ برطانیہ ان کو تکنیکی اورسکیورٹی کی بنیادوں پرنہیں لینا چاہتا تھا۔ چونکہ یہ مہاجرین فرانس میں ہونے کی وجہ سے فرانس ہی میں پناہ لے سکتے تھے تو ان کے برطانیہ آنے کی کوئی قانونی توجیہہ نہیں تھی۔ برطانیہ چاہتا تھا کہ چونکہ یہ مہاجرین پہلے سے ہی فرانس میں ہیں، لہٰذا فرانس ہی ان مہاجرین کو پناہ دے۔ دوسری طرف نہ ہی فرانس اِن مہاجرین کو رکھنا چاہتا تھا اور نہ ہی مہاجرین، فرانس کے حالات کی وجہ سے، فرانس میں رہنا چاہتے تھے۔
اس صورتحال کی وجہ سے یہ چند ہزار مہاجرین، فرانس اور برطانیہ کے درمیان انگلش چینل کی پورٹ کالے (کالایئس) کے کناروں پر خیمہ زن ہو گئے۔ جونہی ان کو موقع ملتا وہ ہر قسم کی ٹرانسپورٹ مثلاً مال بردار ٹرکوں، ٹرینوں، بسوں وغیرہ میں چھپ کر انگلش چینل پار کرنے کی کوشش کرتے۔ ان میں سے اکثر پکڑے بھی جاتے۔ فرانس کی سرحدی پولیس اور کسٹم والے اپنی آنکھیں بند رکھنے کی کوشش کرتے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سمگل ہو کر برطانیہ چلے جائیں اور یوں مہاجرین کی بلا ان کے سر سے ٹل جائے۔ دوسری طرف برطانیہ کے حکام کی کوشش تھی کہ مہاجرین برطانیہ میں نہ گھسنے پائیں۔ یوں زیادہ تر مہاجرین کالے (کالایئس) کی بندرگاہ ہی میں پھنس کر رہ گئے۔ چونکہ یہ مہاجرین فرانس کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے لہٰذا فرانس ان کو کوئی امداد بھی نہیں دیتا تھا۔ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی تھی مگر فرانس اور برطانیہ دونوں اس چارٹر کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ جب مہاجرین کے مسائل خطرناک حد تک بڑھنے لگے تومیڈیا میں آنے والی خبروں کی وجہ سے فلاحی تنظیمیں مہاجرین کی مدد کے لئے میدان میں اتر آئیں۔ ان میں زیادہ تر تعداد برطانوی اور سکینڈے نیوین تنظیموں کی تھی۔ ایک ایسی ہی تنظیم آئی یو ایس

 

جس کے لئے میں عموماً رضاکارانہ طور پر کام کرتا رہاہوں، کے روحِ رواںسید موسیٰ نقوی نے مجھ سے ملاقات کی اور مہاجرین کی صورتحال بیان کی اور مشورہ کیا کہ وہ دیگر ممالک میں جا کر تارکین وطن کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تنظیم کے پاس فنڈز کی کمی نہیں تھی۔ مگر یہ پہلی بار تھا کہ ہم اپنے شہر ہی نہیں ملک سے باہر کسی کی مدد کرنے جا رہے تھے۔ یوں چند ہی روز میں تمام پروگرام فائنل کر دیا گیا۔اسی تنظیم کے ذریعے فرانس میں پہلے سے موجود تنظیموں سے رابطہ کیا گیا جن کو سامان سے زیادہ مالی اور افرادی قوت کی ضرورت تھی تاکہ اشیاء مہاجرین تک پہنچائی جا سکیں۔ ہم نے ایک بس کا انتظام کیا اور لگ بھگ پچاس افراد کو لے کر فرانس کے شہر کالے پہنچ گئے۔ یاد رہے کہ تمام رضاکاروں نے فرانس جانے اور آنے کے سارے اخراجات اپنی جیب سے کئے۔ ہم نے نہ صرف تمام حالات کی رپورٹ تیار کی جو کہ برطانوی تنظیموں کی رہنمائی کے لئے ضروری تھی بلکہ مالی مدد بھی کی۔ ہمارے پچاس رضاکاروں نے چند گھنٹوں میں بڑی حد تک صدقات میں آنے والے مال کو نہ صرف پیک کیا بلکہ ویئر ہاؤس مال کو ترسیل کے لئے بخوبی منظم کر دیا۔


لیسبوس، یونان
یونان میں بھی دنیا بھر سے آئے ہوئے تارکینِ وطن مختلف تکالیف اور مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور تھے۔ اِسی اثناء میں عرب مہاجرین کو لانے والی ایک بوٹ سمندر میں ڈوب گئی اور اس پر سوارتقریباً تمام لوگ ڈوب کر مر گئے۔ ان میں ایک چار سالہ ننھا بچہ ایلان بھی تھا۔ سمندر نے ایلان کی لاش کنارے پر پھینکی تو ایک فوٹوگرافر،جو وہاں موجود تھا، نے اس کی تصاویر بنا کر شائع کیں، جس سے دنیا بھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ اس ننھے ایلان کی لاش نے یورپ کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جرمنی نے سب سے پہلے اپنے بازو مہاجرین کے لئے کھول دئیے ۔مگر دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو یہ بات پسند نہیں آئی اور جرمنی میں مختلف حیلے بہانوں سے نسلی مسائل اور جھگڑوں کو ہوا دی جانے لگی۔ مہاجرین پر لگنے والے الزامات میں سے زیادہ تر جنسی، اور دہشت گردی سے متعلق، تھے۔جلد ہی نسلی منافرت کی یہ ہوا فرانس اور دوسرے یورپی ممالک میں بھی پھیل گئی۔اس سے یہ ہوا کہ مہاجرین کو یورپی ممالک کی سرحدوں پرہی روک دیا گیا اور مہاجرین کسمپرسی کے عالم میں بدترین حالات کا سامنا کرنے لگے۔ کوئی ملک اِن کوداخلے کی اجازت نہیں دینا چاہتا تھالہٰذا مہاجرین کے مسائل گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتے چلے گئے۔شام میں اسرائیلی اور مغربی افواج کی وحشیانہ بمباری کی وجہ سے شامیوں نے ہجرت اختیار کی۔ علاوہ ازیں داعش کی حمایت یافتہ باغی افواج کی شامی فوج کے ہاتھوں شکست نے بھی باغی علاقوںمیں رہنے والے شامیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔ یوں شام کے مہاجرین شام کے شمالی شہرایلپو سے گزر کر ترکی کے بارڈر پر جمع ہو گئے جہاں سے ترک سمگلرز بھاری رقوم لے کر ان کو یونان میں داخل کرنے کی کوششیں کرتے۔
ترکی اور یونان کے سرحدی جزیرے لیسبوس سے لگنے والا سمندر ایجیئن سی
(Aegean Sea)
اِس جگہ پر زیادہ بڑا نہیں ہے اور فقط چند میل دور ہے مگر یہ سمندر اپنے اندر زبردست تَلاطُم یعنی انڈر کرنٹس رکھتا ہے۔ پلاسٹک یا لکڑی سے بنی بوٹس جو کہ اپنی صلاحیت سے دوگُنا یا تین گُنا مسافروں کے بوجھ تلے دبی ہوتی ہیں، زبردست ہچکولے لیتی ہیں۔ جس کی وجہ سے مسافر ایک دوسرے پر ایسے گرتے کہ اُن کا سارا وزن ایک طرف ہو جاتا ہے اور یوں یہ بوٹ الٹ جاتی ہے۔تیراکی نہ جاننے اور لائف جیکٹس نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ڈوب کر مر جاتے ہیں۔ بروقت اطلاع مل جانے پر چند ایک کو کوسٹ گارڈ بچا لیتی ہے۔
ہماری تنظیم نے فیصلہ کیا کہ یونان کے جزیرے لیسبوس میں اترنے والے مہاجرین کی مدد کی جائے۔ چنانچہ ہم ایک ڈاکٹر کے ہمراہ لیسبوس کے شہر متلینی
(Mytilini)
پہنچے۔ وہاں لندن سے آنے والی دو رضاکار عربی خواتین بھی ہمارے ساتھ ہو لیں۔ عربی بولنے کی وجہ سے ان خواتین نے مہاجرین کے لئے زبردست خدمات انجام دیں اوریوںمہاجرین کے بیشمار مسائل حل کئے گئے۔ باوجود اس کے کہ یونانی حکام اِن مہاجرین کی پوری طرح مدد کرنا چاہتے تھے مگر لاجسٹکس کی کمی اور زبان کے مسائل اُن کے آڑے آتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے مسائل و خدشات کی وجہ سے مہاجرین کی مدد تقریباً ناممکن ہو گئی تھی۔


زیادہ تر رضا کار مہاجرین کی جانیں بچانے میں لگے ہوئے تھے۔ وہ ساری ساری رات سخت سردی میں سمندر کے کنارے آگ جلا کرگرم سوپ، گرمی اور طاقت دینے والی خوراک بناتے، دوربینوں سے سمندر میں بوٹس تلاش کرتے، وائرلیس پر لینڈنگ کی اطلاع کرتے تاکہ سب مدد کے لئے اکٹھے ہو سکیں۔ بوٹس ڈوبنے کی وجہ سے مسائل بہت بڑھ جاتے۔ ان تمام کاموں میں کسی حکومت کی کوئی اخلاقی، سرکاری یا مالی مدد ہرگز شامل نہیں تھی۔ یہ سب انسانیت کے لئے اپنے اپنے اخراجات پر مختلف ممالک سے یہاں آئے تھے تاکہ ان مہاجرین کی مدد کی جائے جن کو کوئی پناہ دینے والا نہیں تھا۔ ان مہاجرین کو اونچی جالی کی دیواروں والی اوپن جیل میں رکھا جا رہا تھا۔ جس خوش نصیب کے کاغذات بن جاتے وہ مین لینڈ یونان چلا جاتا تاکہ وہاں سے کسی طرح مغربی یورپ کے کسی ملک میں جا کر آباد ہو سکے۔ہم نے اپنی تنظیم کی طرف سے نہ صرف لُٹے پُٹے بے یار و مددگار مہاجرین کے لئے کھلے دل سے مالی امداد کی بلکہ ان کے ذاتی اور قانونی معاملات سے لے کر سفری دستاویزات بنوانے اور مین لینڈ جانے کے لئے ٹکٹ وغیرہ بھی مہیا کئے۔


ہم نے کوشش کی کہ جس کسی کی مدد کریں وہ بغیر کسی رنگ و نسل، قومیت اور فرقے کے ہو اور بھرپور انداز میں مدد ہو۔ ان میں سے ایک میاں بیوی اور ان کا چند سال کا بیٹا تھا۔ ان کو اوپن جیل سے نکلوا کر متلینی شہر لانا اچھا کھانا کھلانا، ہوٹل میں ٹھہرانا، اور بحری جہازپر سوار کرکے مین لینڈ روانہ کرنا تھا۔ ان کو اتنی رقم مہیا کی کہ وہ ہالینڈ میں اپنے عزیزوں سے جا ملیں۔ زیادہ تر مہاجرین یونان سے مشرقی یورپ اور وہاں سے مغربی یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے۔ مشرقی یورپ کے ممالک کوشش کرتے کہ مہاجرین ان کے ملک سے نہ گزریں کیونکہ اگر دوسرے ممالک اپنی سرحدیں بند کر دیں تو یہ مہاجرین ان غریب ممالک کی ذمّہ داری بن جاتے اور اکثر اوقات ایسا ہی ہوتا۔ جونہی مغربی یورپ کے ممالک نے دہشت گردی اور جرائم جیسے مسائل کو اچھالا اور حیلے بہانوںسے اپنے بارڈر بند کئے تقریباً سبھی مہاجرین بارڈر پر خاردار تاروں کے بیچوں بیچ نومینز لینڈ
(No Man's Land)
میں پھنس کر رہ گئے۔ نہ آگے والے اور نہ ہی پیچھے والے ان کو اپنانے کو تیار تھے۔ اس سے انسانی المیوں نے جنم لیا اور یورپ کی خوب بدنامی ہوئی۔ یہ تو بھلا ہو ایلان کا کہ جس نے مر کر پوری دنیا کا عموماً اور یورپ کا خصوصاً ضمیر جھنجوڑ کر رکھ دیا اور مغربی یورپ کو اپنے دروازے کھولنے ہی پڑے۔ شام میں مسلسل جنگ کی وجہ سے ترکِ وطن کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہجرت پر مجبور تھی۔ مگرجو عیسائی اور یہودی مہاجرین امریکہ اور یورپ میںکسی طرح پہنچ گئے ، اُ نہوں نے بآسانی پناہ حاصل کر لی۔ زیادہ مشکلات و مصائب مسلمانوں کے حصے میں آئے، چاہے وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ کینیڈا واحد ملک ہے جس نے بلا امتیازِ نسل و مذہب شامیوں کو پناہ دی۔ انگلینڈ نے پانچ ہزار مہاجرین لینے کا وعدہ کیا مگر ہر سال تھوڑے تھوڑے کر کے۔ تب تک ان کا کیا بنے گا اور وہ کس حالت میں رہیں گے، یہ معلوم نہیں۔ فرانس نے بھی بالآخر کالائیس کا کیمپ خالی کروا لیا ہے اور یہ مہاجرین نہ چاہتے ہوئے بھی پیرس اور دوسرے مضافات میں ٹینٹوں کے اندر اس وقت تک رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں جب تک کہ فرانس ان کے رہنے کے انتظامات نہیں کر لیتا۔ کلائیس کے جنگل کو اس لئے ختم کیا کہ ایک تو وہاں بیماریاں پھیلنے لگی تھیں، دوسرا ان پر برطانیہ کا دباؤ تھا اور تیسرا یہ ان کے لئے باعثِ شرمندگی تھا چونکہ فلاحی تنظیمیں اور میڈیا اِس بات کو خوب اُچھالتا رہتا تھا۔ اب یہ مہاجرین پھیل گئے ہیں اور بات دب گئی ہے۔


پاکستان میں آنے والے افغان مہاجرین
1979 میں افغانستان میں ہونے والی سوویت یونین کی براہ راست فوجی مداخلت نے زبردستی پاکستان کو اس جنگ کاحصہ بنا دیا۔ پاکستانیوں کو افغانیوں سے یہ محبت اس طرح مہنگی پڑی کہ پاکستان اتنے زیادہ مہاجرین کو نہ پناہ دینے کی صلاحیت رکھتا تھا اور نہ یورپ کی طرح سکیورٹی سکریننگ کر سکتا تھا۔ اقوام متحدہ کی امداد بھی بہت دیر بعد شروع ہوئی۔ چنانچہ پاکستان اس جنگ میں فریق بنتا چلا گیا۔ مغرب نے پاکستان کو سوویت یونین کی یلغار سے ڈرا رکھا تھا۔
بہرحال، پاکستان آنے والے مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد شاید پہلے کسی اور ملک نہیں گئی تھی۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی بانہیں کھول کر مہاجرین کو گلے لگایا بلکہ سنتِ رسولۖ کے مطابق بھائی کی طرح سلوک کیا۔ مہاجرین نہ صرف پورے پاکستان میں پھیل گئے بلکہ پاکستانی معاشرے کا پوری طرح حصہ بن گئے۔ باوجود اس کے کہ چھتیس سال بعد افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد واپس افغانستان بھیجی جا چکی ہے مگر افغانستان کے بُرے حالات کی وجہ سے یہ افغان چھپ چھپا کر بارڈر کراس کر کے واپس پاکستان آ جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اب بھی لگ بھگ پچاس لاکھ غیر ملکی مہاجرین آباد ہیں، جن میں دیگر ممالک کے علاوہ بڑی تعداد غیر قانونی طور پر رہائش پذیر بنگالی اور افغانی مہاجرین کی ہے۔ سرکاری طور پر باقی رہ جانے والے مہاجرین، جو کہ اقوام متحدہ کی زیرِ نگرانی ہیں، کی تعداد گیارہ لاکھ بتائی جاتی ہے۔
روہنگیا مسلمان مہاجرین کا مسئلہ بھی کافی پریشان کُن ہے۔ دیکھا جائے تو یہاں بھی دنیا نے مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کی دل جوئی نہیں کی اور برماکے مظالم پر اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ فلسطین کی پوری آبادی ہی بے گھر ہو کر رہ گئی ہے۔ انسانی ہمدردی کے اِس معاملے میں پاکستان کی مہاجرین کے لئے خدمات نہ صرف قابلِ رشک ہیں بلکہ دنیا میں شایدہی کوئی دوسرا ملک اتنی طویل المدتی اور کثیر الاعداد مہمانداری کرتا ہو۔لیکن اب بین الاقوامی اداروں کو بہرکیف افغانستان کے مہاجرین کو واپس ان کے ملک بھجوانے کے لئے پاکستان کی معاونت کرنا ہو گی کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کے لئے مشکلات اور چیلنجز میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ لہٰذا ان مہاجرین کی فوری واپسی کا کوئی حل تلاش کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے، بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن؟
آوارئہ غربت کو بھی سنا، کس رنگ میں ہیں کنعانِ وطن
وہ باغِ وطن، فردوسِ وطن وہ سروِ وطن، ریحانِ وطن
او دیس سے آنے والے بتا!

کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی سرمست نظارے ہوتے ہیں
کیا اب بھی سہانی راتوں کو وہ چاند ستارے ہوتے ہیں
ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے، کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں
او دیس سے آنے والا بتا!

شاداب شگفتہ پھولوں سے معمور ہیں گلزار اب، کہ نہیں؟
بازار میں مالن لاتی ہے، پھولوں کے گندھے ہاراب، کہ نہیں؟
اور شوق سے ٹوٹے پڑتے ہیں، نوعمر خریدار، اب ، کہ نہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

کیا ابھی کسی کے سینے میں باقی ہے ہماری چاہ بتا؟
کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے اب یاروں میں کوئی، آہ ! بتا؟
او دیس سے آنے والے بتا، ﷲ بتا، ﷲ بتا
او دیس سے آنے والے بتا!
معروف شاعر اختر شیرانی مرحوم کی نظم 'او دیس سے آنے والے بتا' سے اقتباس

*****

 
05
April

وطنِ عزیز میں 78واں یومِ پاکستان ملی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ یوں منٹو پارک لاہور میں 23مارچ 1940کو منظور ہونے والی قرارداد کی گونج 2018 کے پاکستان بھر میں سنائی دے رہی تھی کہ یہ مملکتِ خداداد اس قرارداد کے منظور ہونے کے ٹھیک سات برس بعد1947میں معرضِ وجود میں آ گئی تھی۔ یومِ پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں قومی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے لیکن سب سے بڑی قومی تقریب مسلح افواج کی شاندار پریڈ ہوتی ہے جو وفاقی دارالحکومت میں منعقد کی جاتی ہے۔ اس شاندار پریڈ میں دفاعی طاقت اور قومی اتحاد کا بھرپور مظاہرہ اور مستقبل کے باوقار اور روشن پاکستان کا نظارہ دیکھنے میں آیا جو ٹی وی سکرین کی وساطت سے دنیا بھر میں دیکھا گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی اس پریڈ میں پہلی مرتبہ اردن، متحدہ عرب امارات کے دستوں اور ترکی کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شرکت کی۔ صدرِ مملکت، وزیرِاعظم پاکستان اور مسلح افواج کے سربراہان نے سلامی کے چبوترے پر مسلح افواج سے سلامی لی۔ پاک فوج کے جوانوں کے قدموں کی دھمک، پاک نیوی کے دستوں میں شامل سپوتوں کے تمتماتے چہرے، پاک فضائیہ کے جے ایف 17طیار وں کی گھن گرج اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے نڈر کمانڈوز کا 'اﷲ ہو' کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مارچ پاسٹ دشمن پر ہیبت طاری کرنے کے لئے کافی تھا۔ یہ قومی پریڈ جہاں ایک قومی دن کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے وہاں بین الاقوامی سطح پر ایک پیغام بھی دیتی ہے کہ پاکستانی قوم اپنے دفاع سے غافل نہیں ہے۔ اگر پاکستانی قوم قائداعظم کی قیادت میں ایک پرچم تلے جمع ہو کر اپنے لئے الگ سرزمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے تو وہ الحمد ﷲ اس قابل بھی ہے کہ اس سرزمین کی طرف میلی آنکھ اٹھانے والوں سے نبرد آزما ہو سکے۔


یومِ پاکستان پریڈ میں شامل مسلح افواج کے دستوں اور پریڈ گرائونڈ میں موجود پاکستانی قوم کے ایک جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے صدرِمملکت ممنون حسین نے کہا کہ 23مارچ جیسا کوئی اور دن نہیں ہے کہ اس روز ہمارے بزرگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ غیرملکی حکمرانوں اور متعصب اکثریت کے غاصبانہ طرز عمل کو شکست دے کر اپنی قسمت کے مالک خود بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی یہ شاندار پریڈ ہمارے خوابوں ہی کی ایک حسین تعبیر ہے۔ انہوں نے امن کے قیام کے لئے افواجِ پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ افواجِ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد جیسی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی کے چیلنجوں کا مقابلہ پورے عزم اور ہمت سے کیا ہے جسے قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے ان کاوشوں اور اولوالعزمی کا مظاہرہ کرنے پر مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ایک نئے میڈل ''تمغۂ عزم'' کا اعلان کیا اور کہا کہ قوم کی قربانیوں سے ملک میں امن بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے بھارت کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی پالیسیوں کی بدولت خطے کا امن دائو پر لگ چکا ہے۔ انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ وہ کشمیریوں پر ظلم بند کرے۔


رواں برس اسلام آباد میں منعقدہ مسلح افواج کی پریڈ اس حوالے سے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ اس میں برادر ملک سری لنکا کے صدر میتھری پالاسِری سینا نے بطور خاص شرکت کی جس سے بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام گیا ہے کہ پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر آگے بڑھنے کا خواہاں ہے لہٰذا خطے کے وہ ممالک جو قبیح عزائم رکھتے ہیں، اور خطے کے امن کو پامال کرنے کے درپے رہتے ہیں، انہیں خطے میں بالخصوص اور دنیا میں بالعموم امن کے قیام کی خاطر اپنا منفی رویہ ترک کرتے ہوئے مثبت طرزِ فکر اختیار کرنا ہو گا۔ بین الاقوامی طاقتوں کو بھی اس بابت اپنا فعال کردار ادا کر کے منفی قوتوں کی سرکوبی کے لئے پاکستان سمیت خطے کے ان دیگر ممالک کی معاونت کرنی چاہئے جو امن کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان کی افواج اور اس کی قوم نے قیام امن کے لئے گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں جو قربانیاں دی ہیں آج اس کا ثمر ہے کہ پوری قوم نے ملک بھر میں یوم پاکستان کی تقریبات کو پرجوش انداز میں منایا ہے اور دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں ، پائندہ قوم ہیں۔
پاک افواج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

05
April

تحریر: سلمان عابد

کسی بھی ریاست کے قومی سکیورٹی بحران یا اس کو درپیش چیلنج کو سمجھنا ہو تو ہمیں ریاست کے مجموعی نظام کو سمجھنا ہوگا کہ یہ ریاستی نظام کیسے چل رہا ہے۔ کیونکہ قومی سکیورٹی کے بحران کا حل کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہوگا۔ بنیادی غلطی جو کی جاتی ہے وہ معاملات کو یکطرفہ نظر سے دیکھ کر حکمت عملی کو تیار کرنا ہوتا ہے۔ ایک دلیل دی جاتی ہے کہ اگر ہمیں سکیورٹی کے بحران کو سمجھنا ہے تو پہلے داخلی بحران کا احاطہ کرنا ہوگاکیونکہ داخلی کمزوریاں ہی خارجی کمزوریوں کو پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ لیکن ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم داخلی مسائل کو نظر انداز کرکے خارجی مسائل یا قومی سکیورٹی کے بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو مؤثر حکمت عملی نہیں۔مسئلہ معاملات کے فہم کا ہوتا ہے اور ان معاملات میں ہمیں جذباتی رنگ

اختیار کرنے کے بجائے عقل و دانش کے ساتھ مسئلے کو سمجھنا ہوتا ہے، تاکہ مستقبل کی طرف ایک مؤثر اور بہتر پیش قدمی کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

hamaredakhliokharji.jpg
پاکستان اس وقت داخلی اور خارجی سطح پر کئی طرح کے سنگین نوعیت پر مبنی مسائل کا شکار ہے۔کچھ مسائل کا تعلق خارجی نوعیت سے ہے جن میں ہماری غلطیوں سمیت کچھ ممالک کی پالیسیاں بھی جڑی ہوئی ہیں لیکن زیادہ مسائل براہ راست ہمارے داخلی مسائل یعنی ہماری ریاستی و حکومتی نالائقی، نااہلی، بدعنوانی اور کمزور سیاسی کمٹمنٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔عمومی طور پر یہ دلیل خود اپنے اندر وزن رکھتی ہے کہ اگر کوئی ریاست یا نظام اپنے داخلی مسائل کو قابو نہیں کر پاتا تو اسے خارجی محاذ پر زیادہ سنگین نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس لئے جب یہ منطق دی جاتی ہے کہ ہمیں بطور ریاست یا ملک خارجی سطح کے مسائل کا سامنا ہے تو اس امر کا بھی گہرائی سے تجزیہ کیا جانا چاہئے کہ ان خارجی معاملات یا مسائل میں ہمارے کون سے داخلی مسائل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔


یہ دلیل کافی حد تک محض جذباتیت پر مبنی ہوتی ہے کہ ہمارے مسائل کی وجہ محض خارجی مسائل ہیں یا کچھ ہمارے دشمن ممالک ہمیں ہر سطح پر کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ ہر ملک کا اپنا ایک ایجنڈا ہوتا ہے اور اس ایجنڈے یا اپنے مفادات کو بنیاد بنا کر وہ اپنے داخلی اور خارجی عمل کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہاں ہمیں اپنے قومی مفادات کے معاملات کو سمجھنے کا فہم ہونا چاہئے کیونکہ جب تک ہم اپنے داخلی معاملات کے فہم کا درست طور پر ادارک نہیں کریں گے، ہم انتشار اور عدم استحکام کی سیاست سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔بھارت، افغانستان،امریکہ یا کوئی اور ملک جو ہمیں عالمی سطح پر کمزور یا تنہا کرنے کی کوشش کررہا ہے اس سے ہم کیسے نمٹیں، یہ فہم بطور ریاست، حکومت، معاشرہ یا قوم ہمیں درکار ہے۔


اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ جو داخلی اور خارجی مسائل ہمیں درپیش ہیں اس سے ہم کیسے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ اگر ہم مسائل سے نمٹنے کے لئے درست سمت کا تعین ہی نہ کرسکیں تو پھر نتائج بھی ایسے ہی نکلیں گے جو ہمیں مزید مسائل میں الجھا دیں گے یا ہمیں کمزور کرنے کا سبب بنیں گے۔اس میں سب سے اہم اور بڑا کردار ہماری سیاسی قیادت کا ہوتا ہے کیونکہ سیاسی قیادت ہی بنیادی طور پر ایک ایسی سمت کی نہ صرف نشاندہی کرتی ہے بلکہ اس کی قیادت کرتی ہے جو قومی معاملات کی درست عکاسی کرتی ہو۔لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری داخلی سیاست اور قیادت سمیت اس سے وابستہ افراد او رادارے قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتیات پر مبنی سیاست اور فیصلوں کو تقویت دے رہے ہیں۔جب سیاست قومی مفاد سے نکل کر ذاتی مفاد میں چلی جاتی ہے تو پھر اس کا فائدہ خارجی سطح پر موجود ممالک کو ہوتا ہے جو ہماری کمزوریوں او رناکامیوں کو بنیاد بنا کر اپنے ایجنڈے کو تقویت دیتے ہیں۔


پاکستان کو اس وقت داخلی اور خارجی محاذ پر چند بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اول انتہا پسندی اوردہشت گردی سے نمٹنا۔ دوئم اتفاقِ رائے پر مبنی داخلہ اور خارجہ پالیسی، سوئم سول ملٹری تعلقات میں موجود بداعتمادی،چہارم حکمرانی کا بحران، پنجم معاشی بدحالی جو لوگوں کو تقسیم یا محروم کرنے کا سبب بن رہی ہے، ششم اداروں اور قانون کی حکمرانی کا کمزور نظام،ہفتم کمزور سیاسی نظام، ہشتم شفافیت، احتساب کا فقدان جیسے چیلنج سرِ فہرست ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہماری قومی سیاست ان حساس اور سنجیدہ نوعیت کے مسائل پر غور و فکر کرنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے غیر ضروری مباحث کا حصہ بن گئی ہے جو ہمیں حل سے زیادہ بگاڑ کی طرف لے جاتی ہے۔
داخلی اور خارجی بحران کا حل ایک بڑے قومی ایجنڈے سے جڑا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں سیاسی جماعتیں، سیاسی قیادتیں اور اہل دانش سمیت مختلف فریق آپس میں الزام تراشیوں پر مبنی سیاست میں جکڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کوئی کسی کی سیاسی حیثیت،حکومت کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور محاذ آرائی کا یہ عمل ہم میں کسی بڑے اتفاق رائے کو پیدا کرنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔لوگوں کو مضبوط او رمستحکم بنانے کے لئے ہماری حکومتیں اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ دنیا بھر میںمقامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرنے والے مقامی حکومتوں کے نظام کوپاکستان میں اپاہج نظام کی طرز پر چلایا جا رہا ہے۔یہ عمل ہماری حکمرانی کے بحران کو اور زیادہ سنگین کرتا ہے او رلوگ زیادہ بے بس نظر آتے ہیں۔ہمارے سیاسی، انتظامی اور قانونی نظام سمیت حکمرانی کے نظام پر جن اداروں نے نظام کو چلانا ہوتا ہے اس پر اعلیٰ عدلیہ کے ججزبھی ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ یہاں ادارے فعال نہیں او رجو مسائل سامنے آرہے ہیں اس کی وجہ اداروں کی غیر فعالیت اور ان کی عدم مختاری ہے۔


جہاں تک خارجی سطح کے مسائل کا تعلق ہے اس میں بھارت، افغانستان، ایران او رامریکہ کی جانب سے ہمیں جو سنگین مسائل دیکھنے کو مل رہے ہیں اس پر بھی قومی اتفاق رائے اشد ضروری ہے، اس کا فقدان ہے۔ہماری سیاسی قیادت کے درمیان جاری محاذ آرائی خود ان خارجی سطح کے معاملات کو خراب کرنے کا سبب بن رہی ہے۔سفارت کاری کے محاذ پر ہم اپنا مقدمہ عالمی دنیا میں اس انداز سے پیش نہیں کرسکے جو ہماری قومی ضرورت کے زمرے میں آتا ہو۔ ہمارے اپنے اندر ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو عملی طور پر وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو دیگر ممالک ہم پر الزامات لگاتے ہیں۔ یہ مسئلہ سمجھنا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ ہم عالمی دنیا میں دہشت گردی سے نمٹنے میں ایک بڑے کردار کے ساتھ کام کررہے ہیں، لیکن ہم پر ہی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔آج کی گلوبل دنیا میں ہر محاذ پر ڈپلومیسی کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کرریاستی او رحکومتی نظام اس پر بڑی سرمایہ کاری کرتا ہے، تاکہ وہ اپنے بیانیے کو دنیا کے سامنے زیادہ بہتر اور مربوط انداز میں پیش کرکے ریاستی ساکھ کو بہتر بنا سکے۔


یہ سوچ بھی ہمیں داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر ختم کرنا ہوگی کہ پاکستان میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مختلف امور پر خلیج یا بداعتمادی پائی جاتی ہے۔ اس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور اب وقت ہے کہ ہم سول ملٹری تعلقات کو مؤثر اور فعال کرنے سمیت اتفاق رائے سے آگے بڑھنے کے لئے نیشنل سکیورٹی کونسل جیسے ادارے پر اتفاق کریں۔ کیونکہ جس طرز کے ہمیں خارجی مسائل، اور دیگر ممالک سے تعلقات، یا ان کی مداخلتوں کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے وہ ایک آواز اور اتفاق رائے یا مشترکہ سوچ و حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس وقت بھارت اور افغانستان کی خفیہ انٹیلی جینس ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر پاکستان دشمنی یا ہمیں کمزور کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے، اس کے آگے بند باندھنا ہوگا۔بھارت ایک سے زیادہ مرتبہ پاکستان کو کمزور کرنے او رسی پیک منصوبے کو کمزور کرنے کا اعتراف کرچکا ہے، اس کھیل میں اسے افغانستان اور دوسرے ممالک کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔افغانستان کو ہمیں اپنے قریب لانا ہوگا او رایسی پالیسی سے گریز کرنا ہوگا جو افغانستان کو بھارت کے قریب لے جائے۔اسی طرح ہمیں خود آگے بڑھ کر علاقائی تعلقات میں اپنے دائرہ کار کو بڑھانا ہوگا، اور علاقائی ممالک کو یہ باور کروانا ہوگا کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی سے نمٹنا کسی ایک ریاست کے بس کی بات نہیں، اس میں مشترکہ حکمت عملی اور میکنزم بناکر ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگاکیونکہ خارجہ پالیسی میں دشمن بنانے کے بجائے دوست بنانے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مستیِٔ کردار
صوفی کی طریقت میں فقط مستیِ احوال
مُلّا کی شریعت میں فقط مستیِ گفتار
شاعر کی نوا مُردہ و افسردہ و بے ذوق
افکار میں سرمست، نہ خوابیدہ نہ بیدار
وہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ و پَے میں فقط ومستیِ کردار


ہمارے یہاں جومعاشرے کو مختلف امور پر تقسیم کرنے کا کھیل جاری ہے اس کو بھی ہمیں زیادہ گہرائی سے سمجھنا ہوگاکیونکہ معاشرے میں حد سے بڑھتی ہوئی تقسیم اور تضادات قوم کو یکجا کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔یہاں یہ مسئلہ نہیں کہ کون ملک کا وفادار ہے او رکون غدار، ہمیں اس طرح کی بحثوں میں الجھنے کے بجائے ایک بڑے قومی ایجنڈے کی تشکیل نو کرنی چاہئے۔لیکن اس کے لئے سب فریقین کو ایک دوسرے کے ادارے کی افادیت کو تسلیم کرکے آگے بڑھنا ہو گااور سکیورٹی مسائل پر سکیورٹی اداروں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی سے بھی ہمارے مسائل حل نہیں ہوںگے۔ اس وقت سیاست اور سیاست کے علاوہ مقابلہ بازی کی پالیسی ہے وہ کسی بھی طرح قومی مفاد میں نہیں ہے۔ آج جو دنیا میں سکیورٹی بحران ہے، اور گلوبل دنیا اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے، اس میں سکیورٹی اداروں کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے لیکن اگر ہم ان سکیورٹی اداروں کو تنقید کرکے آگے بڑھیںگے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔


پاکستان اس وقت مسائل او رامکانات کے درمیان کھڑا ہے۔ یہ نہیں کہ جو مسائل ہمیں داخلی اور خارجی سطح پر ہیں ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے، بلکہ اصل مسئلہ ہماری مضبوط سیاسی کمٹمنٹ، مشاورت پر مبنی فیصلوں، حکمت عملیوں اور مختلف فریقین کو یکجا کرنے سے جڑا ہوا ہے۔ ہمیں قومی مفاد کو مقدم رکھ کر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ جو غیر معمولی صورتحال ہوتی ہے اس میں فیصلے بھی غیر معمولی، مشکل اور کڑوے ہوتے ہیں، لیکن ان کو نظرانداز کرکے ہم بہتر نتائج بھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ ریاست کو مضبوط او رمستحکم کرنے کا جو سیاسی، سماجی، معاشی اور انصاف پر مبنی بیانیہ ہمیں درکار ہے، اسی کی طرف پیش رفت ہونی چاہئے۔ یہ سمجھنا کہ جس انداز سے ہم ریاست و حکومت کا موجودہ نظام چلارہے ہیں اس سے ہم اپنے داخلی اور خارجی بحران سے نمٹ سکیں گے،درست اندازِ فکر نہیں ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جو ہم نے بیس نکات پر مبنی نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا ہوا ہے، اس کو قومی نصاب کا درجہ ملنا چاہئے کیونکہ محض اس کا علاج انتظامی اقدامات سے نہیں ہوگا بلکہ قوم کی فکری بنیادوں پر بھی شعور کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔اس نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک مربوط پالیسی اور نگرانی کا نظام درکار ہے۔


اب وقت ہے کہ پاکستان کے داخلی اور خارجی مسائل کو بنیاد بنا کر ہم اپنے تمام تر معاملات کو نئے سرے سے جانچیں، سمجھیں، پرکھیں اور پھر ایک نئی سمت کا تعین کریں کہ ہمیں کیسے آگے بڑھنا ہے۔ لیکن یہ کام ایک مضبوط سیاسی نظام کے ساتھ جڑا ہوا ہے کیونکہ جب قیادت خود معاملات کو لیڈ کرتی نظر نہیں آئے گی تو قوم بھی تقسیم ہوگی اور ملک کے معاملات کو بھی نقصان ہوگا۔

مصنف ملک کے معروف تجزیہ نگار او رکالم نگار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں دہشت گردی سمیت پانچ کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
05
April

تحریر: شوکت نثار سلیمی

میں نے اس نوجوان سے کہا میں نے بیٹے کو پاکستان کے پرچم میں لپٹے ہوئے تابوت میں وصول کر لیا، یہ کہتے ہوئے میری رگوں میں دوڑنے والا خون جم سا گیا۔ یہ لمحات کتنے جاں گسل ہوتے ہیں جب شہادت کے بعد جوان بیٹوں کو والدین کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ایسے جان گداز وقت میں تو شاید فلک بھی ترساں و خیزاں ہوتا ہو گا۔

shaheed_kamuqam.jpg

میرے اکلوتے بیٹے کیپٹن ڈاکٹر اسامہ شہید کا پہلے سکردو، پھر 16دسمبر 2015 کو راولپنڈی میں اور پھر17دسمبر 2015 کو فیصل آباد میں گارڈ آف آنر اور جنازہ ہو چکا تو فوجی وردی میں ملبوس ایک نوجوان آفیسر نے آگے بڑھ کر کچھ کاغذات میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا کہ سر ان پر دستخط کر دیجئے۔ میں نے پوچھا اس میں کیا ہے؟ کہنے لگا! یہ آپ کے شہید بیٹے کا بکس ہے جس میں پاکستان آرمی کی وردی میں ملبوس تصویر، کیپٹن کے کندھوں پر سجنے والے ستارے، ٹوپی، میڈیکل کور کی چھڑی اور دیگر لوازمات ہیں۔ سر! یہ اس بات کی گواہی ہو گی کہ آپ نے اپنے شہید بیٹے کا جسد خاکی ہم سے وصول کر لیا ہے۔ یہ سن کر میں تحیر میں ڈوب گیا اور فکر و اندوہ کے پاتال میں اتر کر سوچتا رہ گیا کہ جس بیٹے کی ابھی جوانی کا سفر شروع ہوا تھا، جس کی عمر 26سال اور مدت ملازمت فقط اڑھائی سال تھی اور جس کی پیشانی پر سہرے کی صورت میں ابھی خوشیوں کا جھومر سجنا تھا وہ اتنی جلدی ہمیں چھوڑ گیا۔
روئے گُل سیرِ ندیدم و بہار آخر شد
(ہم نے جی بھر کے پھول کے چہرے کو دیکھا بھی نہیں تھا کہ بہار ختم ہو گئی۔)
میں نے اس نوجوان سے کہا میں نے بیٹے کو پاکستان کے پرچم میں لپٹے ہوئے تابوت میں وصول کر لیا، یہ کہتے ہوئے میری رگوں میں دوڑنے والا خون جم سا گیا۔ یہ لمحات کتنے جاں گسل ہوتے ہیں جب شہادت کے بعد جوان بیٹوں کو والدین کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ایسے جان گداز وقت میں تو شاید فلک بھی ترساں و خیزاں ہوتا ہو گا۔ ابھی تو کل کی بات لگتی ہے جب اسلام آباد میں اسامہ نے اپنے تعلیمی مدارج طے کئے تھے، ایسے لگتا ہے ابھی وہ آرمی میڈیکل کالج کی ڈیبیٹنگ ٹیم کے ممبر کی حیثیت سے کسی تقریری مقابلے میں شریک ہے۔ جیسے وہ چند دوستوں کے ساتھ قاسم کمپنی کے کیفے ٹیریا میں کسی علمی و ادبی بحث میں مصروف ہے۔ پتہ ہی نہیں چلا کب اس نے ایم بی بی ایس کر لیا اور کیپٹن کے ستارے وردی کی زینت بنا لئے۔ ایسے لگ رہا تھا ابھی اس کی انگلی پکڑ کر اسے چلنا سکھا رہا ہوں۔ بھاگتے وقت کا احساس اس وقت ہوا جب سرکاری ملازمت سے بیگم اور میری اپنی ریٹائرمنٹ کا وقت آ پہنچا۔ جب ہم نے اسلام آباد کی طویل رفاقت کے بعد بیٹے کے کہنے پر فیصل آباد جانے کا قصد کر لیا اور ایک آشیانہ بھی بنا لیا۔ خبر ہی نہ ہوئی کہ 2015کا سال پلک جھپکتے ہوئے گزر گیا۔ سال کے شروع میں ہمیں فیصل آباد لے آیا اور آٹھ دس مہینے بعد دنیا چھوڑ کر چلا گیا۔ شادی طے ہو رہی تھی کہ سہرے کے پھول اس کی تربت کی زینت بن گئے۔ دسمبر کے مہینے میں شاخوں کے دامن پھولوں سے خالی ہوتے ہیں مگر یہ کیسے ہوا کہ اس کی تربت پر پھولوں کے ڈھیر لگ گئے۔
شہید بیٹے نے 15دسمبر 2015 کو جان نثاری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے سیاچن محاذ پر شہادت کو گلے لگا لیا اور وردی کی حرمت پر قربان ہو گیا۔ وہ اب یہاں نہیں مگر میری خون روتی خراب آنکھیں اس کا راستہ تک رہی ہیں۔
یہ فقط ایک مثال ہے بے شمار ایسے خاندان ہیں جن کے فرزند وطنِ عزیز پر اپنی جان وار گئے یہ ملکی سلامتی کا تقاضا بھی ہے اور دین مبین کی سربلندی کے لئے کٹ مرنے کا شوق جنون بھی۔ یہ عشق الہٰی اور جذبہ حب الوطنی کا وہ شعلہ جوالہ ہے جو کبھی سرد نہیں ہوتا۔ وطن عزیز کے خلاف گھنائونی سازشوں میں مصروف اغیار کے مذموم ارادوں کو ناکام بنانے کی غرض سے پاکستان کی افواج ہمہ وقت چوکس ہیں اور اس کے جوان جان ہتھیلی پر رکھ کر ملکی سلامتی کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ شہادت کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
اور اﷲ جسے چاہتا ہے شہادت کے لئے منتخب کر لیتا ہے۔ انسان بسااوقات ناقدرشناسی زمانہ سے دل گرفتہ ہو جاتا ہے لیکن ہمارے حوصلے بلند رکھنے کے لئے اﷲ پاک نے شہید کا بلند مقام بیان کیا ہے۔ سورة البقرہ میں فرمان الہٰی ہے:
ترجمہ: اور جو اﷲ کی راہ میں مارے جائیں اُنہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں ۔
موت کے خیال سے انسان اعصاب شکن تصور کا شکار ہو جاتا ہے اس لئے شہیدوں کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا۔ اس سے جہاد کی روح کے متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ اہلِ ایمان کو یہ بات ذہن نشین کر لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جو خدا کی راہ میں جان دیتا ہے وہ حقیقت میں حیات ابدی پاتا ہے۔ وہ ایک ممتاز حیات کے ساتھ زندہ ہے۔ شہداء اپنے پروردگار کے مقرب ہیںاور وہ اس چیز سے خوش ہیں جو اﷲ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی یعنی درجات کی بلندی اور اپنا فضل۔
اصل معنی گواہ کے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو اپنے ایمان کی صداقت پر اپنے پورے طرز عمل سے گواہی دے۔ اﷲ کی راہ میں جان قربان کرنے والے کو بھی شہید اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ صدق دل سے جس چیز کو سچا سمجھتا ہے اُسے عزیز رکھتا ہے کہ اس کے لئے جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔
بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق نبی کریمۖ نے فرمایا جس کو راہ خدا میں زخم لگا۔ وہ روزقیامت ویسا ہی آئے گا جیسا زخم لگنے کے وقت تھا۔ اس کے خون میں خوشبو مشک کی ہو گی اور رنگ خون کا۔ ترمذی اور نسائی کی بیان کردہ ایک حدیث کے مطابق شہید کو قتل سے تکلیف نہیں ہوتی مگر ایسی جیسے کسی کو خراش لگے۔
شہیدوں کے بدن بھی مٹی کے اندر کسی گزند سے محفوظ رہتے ہیں۔ جنگ بدر کے بعد رسول اﷲۖ صفرا کے مقام سے گزر رہے تھے آپ کے صحابہ نے ماحول کو خوشبو میں رچا پایا تو اﷲ کے نبیۖ سے عرض کی یارسول اﷲۖیہ خوشبو کیسی ہے۔ آپۖ نے فرمایا کہ شہید عبیدہ بن حارث کی روح ہم سب کو خوش آمدید کہہ رہی ہے جو اس جگہ دفن ہیں۔ مسند احمد میں بھی رسول اﷲۖ کی حدیث مبارکہ ہے کہ جو شخص نیک عمل کر کے دنیا سے رخصت ہوتا ہے اسے اﷲ کے ہاں پُرکیف زندگی میسر آتی ہے۔ جس کے بعد وہ دنیا میں دوبارہ جانے کی تمنا نہیں کرتا لیکن شہید یہ آرزو کرتا ہے کہ بار بار دنیا میں بھیجا جائے اور پھر ہر بار شہید ہو تاکہ اس لذت وسرور سے لطف اندوز ہو سکے جو اسے وقتِ شہادت حاصل ہوتا ہے۔

 
05
April

تحریر: غزالہ یاسمین ، ازکی کاظمی


راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکر پڑیاں گرائونڈ ہمیشہ کی طرح ولولوں اور جذبوں کی بھرپور عکاسی کررہا تھا۔ افواج پاکستان کے جدید ہتھیاروں سے لیس چاق چوبند دستے بڑے وقار سے ایستادہ تھے۔ ان کے شانہ بشانہ دوست ممالک اردن اور متحدہ عرب امارات کے فوجی دستوں کی شرکت نے ان لمحات کو مزید یادگار بنا دیا تھا ۔ سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا پاکستان ڈے پریڈ میں ''گیسٹ آف آنر '' کے طور پر شریک ہوئے۔
یوم پاکستان پریڈ میں ''امن کانشان یہ ہمار ا پاکستان''
The Land of Peace
کی خوب جھلک پیش کی گئی اور عزم کیا گیا کہ پاکستان کے خلاف ریشہ روانیوں میں مصروف دہشت گردوں، انتہاء پسندوں اور سماج دشمن عناصر کو ہر صورت شکست دینا ہے ۔ پریڈ گرائونڈ میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان موجود تھے۔بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی پریڈ وینیو پہنچے ۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائرچیف مارشل مجاہد

pakamankanishan.jpg

انور خان چونکہ فلائی پاسٹ کی قیادت کررہے تھے، ان کی جگہ وائس چیف آف ائیر سٹاف ائیر وائس مارشل ارشد ملک نے اسٹیج پر ان کی نمائندگی کی۔ ان کے بعد چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور وزیر دفاع خرم دستگیر پریڈ وینیو پہنچے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے بعد سری لنکا کے صدر چبوترے پر تشریف لائے تو وزیر اعظم نے ان کا استقبال کیا۔ بگل بجا کر صدر مملکت ممنون حسین کی آمد کا اعلان ہو ا جو پریذیڈنٹ باڈی گارڈ کی روایتی بگھی میں سوار ہو کر تقریب میں پہنچے۔ وزیر اعظم اور مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔
صدر مملکت نے پریڈ کمانڈر بریگیڈئیر عامر امین کے ہمراہ پریڈ میں شامل 11بلوچ رجمنٹ(پانڈو بٹالین)،32آزاد کشمیر رجمنٹ(بہادر بٹالین)، 18سندھ رجمنٹ(تیری شان میری شان یک جان)، فرنٹیئرکور رجمنٹ (خیبرپختونخوا)، پاک بحریہ، پاک فضائیہ، پاکستان رینجرز(پنجاب)، پاکستان پولیس فورس، آرمڈ فورسز لیڈیز آفیسرز، بوائز سکائوٹس،گرلز گائیڈ، پاک آرمی نرسنگ سروسز اور سپیشل سروسز گروپ 4کے دستوں کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد مارچ پاسٹ کا آغاز پریڈ کمانڈر بریگیڈیئر عامر امین کی قیادت میں ہوا ، فوج کے تمام دستوں نے مارچ کے دوران مکمل ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ۔ پاکستان کا آخری پیدل دستہ کمانڈو بٹالین سپیشل سروسز گروپ کا تھا جو 'اﷲ ھُو' کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنے منفرد انداز میں سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا جس پر سامعین نے کھڑے ہو کر داد دی۔ اس کے بعد پاک فضائیہ کے شاہینوں کا فلائی پاسٹ شروع ہوا۔ جس کی قیادت ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان کر رہے تھے۔ ائیر چیف نے روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایف16 طیارے میں پریڈسکوائر کے اوپر شاندارورٹیکل رول کا مظاہر ہ کیا اوراپنے طیارے سے ریڈیو کمیونیکشن کے ذریعے پاکستانی قوم کے عزم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔بعدازاں جب وہ سلامی کے چبوترے پر پہنچے تو پریڈ گرائونڈ تالیوں سے گونج اٹھا۔

pakamankanishan1.jpg
اس موقع پر صدر مملکت ممنون حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشرق میں ہمارا ہمسایہ اپنی فوجی قوت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر جارحیت کے ذریعے بے گناہ شہریوں کے جان و مال کا نقصان کیا جا رہا ہے۔ اس کے غیر ذمہ درانہ طرز عمل سے خطے کا امن دائو پر لگارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور علاقائی تعمیر و ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہر قسم کی جارحیت، توسیع پسندی ، استحصالی عزائم اور دوسروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ۔ پاکستان اسی اصول پر کاربند ہے اور توقع رکھتا ہے کہ عالمی برادری بھی انہی مسلمہ اصولوں کی پاسداری کرے گی ۔


صدر مملکت نے مزید کہا کہ افغانستان میں بدامنی کے خاتمے اور افغان حکومت کی عمل داری کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان نے تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے اور ہم اس مقصد کے لئے اپنے دوستوں اور تمام شراکت داروں کے ساتھ مثبت کردار مستقبل میں بھی ادا کرتے رہیں گے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور جنگ و جدل نے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد جیسی کارروائیوں کے ذریعے اس چیلنج کا مقابلہ پورے عزم وہمت سے کیا۔ صدر مملکت نے اس موقع پر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمہ کے لئے دی جانے والی ان قربانیوں کے اعتراف میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ایک نئے میڈل '' تمغہ عزم '' کا اعلان بھی کیا ۔

 

تعبیر کا سفر

یومِ پاکستان پریڈ کے شائقین کے تاثرات پر مبنی ہلال کی نمائندہ خصوصی ازکیٰ کاظمی کی رپورٹ

اے صُبح ِ یومِ وطن تیری دِلکشی کو سلام!
آج ہم پاکستان کی تاریخ کا وہ دن منا رہے ہیں جو فکرِ اقبال کی اصل تصویر ہے۔۔۔ اسلام آبادشکر پڑیاں پریڈ گرائونڈ میں مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ نے جونہی اپنی جگہ لی اور پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کا عَلم بردار دستہ مارچ کرتے ہوئے سلامی کے چبوترے کی جانب گامزن ہوا تو حاضرین محفل سالمیت کے پرچم کی حُرمت و ناموس کی خاطر اپنی نشستوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
اس تقریب میںسول و فوجی افسران،ان کی فیملیز، اداکاروں، سکولوں کے بچوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے و الے لوگوں کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔مختلف سکولوں کے چند بچوں سے جب پوچھا گیا کہ آج کا دن ہمیں کیا پیغام دیتا ہے تو اس کے جواب میں، ہانیہ رضا جو اے پی ایس میں زیرتعلیم ہے، نے کہا کہ یہ دن ہمیں

Unity

کا میسج دیتا ہے۔ راسم رہبر جو طالب علم ہیں کا کہنا تھا کہ ہم یہ

Events

بہت انجوائے کرتے ہیں۔ خدا ہمارے وطن کو ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین! کثیرتعداد میں موجود اساتذہ میں سے ایک علی یوسف کا کہنا تھا کہ یہ دن ثمر ہے ان کاوشوں کا جو ہمارے رہنمائوں نے کیں۔ ہم پر اس مٹی کا قرض ہے اور یہ قرض ہمیں اس کو پُرامن اورخوشحال بنا کر اتارنا ہے۔ پاک فضائیہ سے تعلق رکھنے والے ایک آفیسرسکاڈرن لیڈر اقدس سجاد کی فیملی سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ وہ وطن کے لئے کس قدر محبانہ جذبہ رکھتے ہیں۔ آفیسر کی زوجہ اور بچے بے حد مُسکراتے چہروں کے ساتھ بری، بحری اور فضائی مظاہروں پر تالیوں کے ذریعے اظہارِ محبت کررہے تھے۔ ان معصوم بچوں کا کہنا تھا کہ ہم بڑے ہو کر پاکستانی فوجی بننا چاہتے ہیں، جیسے یہ آسمان پر اُڑ رہے ہیں، ایک دن ہم بھی ایسے ہی اُڑیں گے۔ آفیسر کی والدہ نے فخریہ انداز میں بتایا کہ ان کوآج بھی وہ دن یاد ہے جب اس قوم کے رہبر نے ہمیں غلامی سے آزاد کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ قائدِاعظم کی محنت اور کوشش تھی جس کی وجہ سے آج ہم ان آزاد فضا ئوںمیں سانس لے رہے ہیں۔
چند صفوں میں ریٹائرڈ فوجی افسران اور ان کی فیملیزبھی موجود تھیں۔ اِن میںسے ایک آفیسر لیفٹیننٹ کرنل سلیم رضا (ر) کے خیالات یہ تھے کہ اس وطن کی ناموس کی خاطرکل بھی ہماری جان حاضرتھی اور ہمیشہ رہے گی۔سروے آف پاکستان سے تعلق رکھنے والے اعجاز عباس صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کے والد عینی شاہد ہیں اُن تمام حالات و واقعات کے جو پاکستان کو حاصل کرنے کے دوران رونماہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اُس وقت قائد اعظم یہ بیڑا نہ اٹھاتے تو آج ہمارا سر اُٹھا کر جینا محال ہوتا۔
اگلی صفوں پر نظر ڈالی تو سفید کپڑوں میں ملبوس چند روشن چہروں پر نگاہ ٹھہرگئی اور کیوں نہ ٹھہرتی ، کہ یہ ہماری بری ، بحری اور فضائی افواج کے وہ فوجی جوان تھے جو اپنی خدمات وطنِ عزیز کو دیتے ہوئے کسی نہ کسی حادثے کی وجہ سے معذور ہو گئے۔ ان جوانوں کے جسم اتنی طاقت نہ رکھتے ہوں پر اِن کے جذبے آج بھی جوان ہیں۔ نعرئہ تکبیر کی صدا پر ان کی زبان جوش و جذبے سے اﷲ اکبر کی تکرار کرتی ہے۔ ان کی فیملیز ان کے شانہ بشانہ موجود تھیں اور ان کے دل بے حد مطمئن تھے۔
حاضرینِ محفل میں شہیدوں کی فیملیز بھی تھیں۔ ان بزرگ والدین سے بھی بات کرنے کا موقع ملا، ان والدین کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے لختِ جگر اِس دھرتی کے کام آئے۔ ایک والد جن کا اکلوتا بیٹاوطن کے کام آیا، اُن کا کہنا تھا کہ میرے اور بھی بیٹے ہوتے تو میں وطن پر قربان کرنے سے کبھی نہ گھبراتا۔ ایک شہید کی والدہ نے نم آنکھوں سے کہا کہ اولاد کا نعم البدل کوئی نہیں لیکن وطنِ عزیز کے لئے یہ سودا گھاٹے کا نہیں۔
عوام الناس کی جذبات سے بھرپور گفتگو سُن کر مجھے یہ احساس ہوا کہ ہمارے بزرگوں کی محنت، اقبال کے تفکر اور قائد کی رہنمائی سے ہمیں یہ وطنِ عزیز حاصل ہوا ہے۔ اس تقریب کا حصہ بننا میرے لئے بے پایاں مسرت کا باعث تھا۔ آئیں اس دن ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اس پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔پاکستان پائندہ باد!


صدر مملکت کے خطاب کے بعد مسلح افواج کے دستے باوقار اندا ز سے سلامی کے چبوترے کی طرف بڑھے۔ پاک فوج کے ٹرائی سروسز گروپ کے دستے نے اپنے مخصوص انداز میں پریڈ کرتے ہوئے صدر مملکت کو سلامی دی ۔اردن کے ملٹری بینڈ نے فضائوں میں جیوے جیوے پاکستان کی دھن بکھیر کر پاکستان سے اپنی دوستی کا اظہار بھر پور طریقے سے کیا اور پاکستانی عوام کے دل جیت لئے۔ اس کے بعد بکتر بند (اے پی سیز)، آرٹلری ، آرمی ائیر ڈیفنس، میزائل اور ٹریکنگ ریڈار سسٹم سے لیس ایف ایم ۔90 ، کور آف انجنیئرز اور کور آف سگنلزکے دستوں نے بھی مہمان خصوصی کو سلامی دی۔ پریڈ میں پاکستان کے جدید ترین نصر میزائل ، بغیر پائلٹ طیارے شہپراور براق سمیت دفاعی سامان حرب کا بھی مظاہرہ کیاگیا۔


آرمی ایوی ایشن اور بحریہ ایوی ایشن کے کوبرا ، ایم آئی 17، فینک اور پیوماہیلی کاپڑوں پر مشتمل دستوں نے 300 فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا شیر دل طیاروں کی فضائوں میں قوس قزح بکھیرتی فارمیشن نے شائقین سے بہت زیادہ داد و تحسین وصولی کی۔ ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر کے غیر معمولی فلائی کرتب وکمالات سے شرکائے تقریب محظوظ ہوئے۔ کمانڈوز کے 10 ہزار فٹ کی بلندی سے فری فال مظاہرے نے دیکھنے والوں کے جوش میں مزید اضافہ کیا۔ تینوں مسلح افواج کی چھاتہ بردار ٹیم میجر جنرل طاہر مسعود بھٹہ کی قیادت میں یکے بعد دیگرے سلامی کے چبوترے کے سامنے اتری ۔ اس ٹیم میں اُردن کے چھاتہ بردار بھی اپنے ملک کا جھنڈا اٹھائے فضا سے زمین پر اترے۔ ٹیم سے صدر مملکت نے فرداً فرداً مصافحہ کیا۔

pakamankanishan2.jpg
پاکستانی ثقافت کے سب رنگ بھی پریڈ کا نمایاں حصہ تھے جنہوں نے لوگوں سے خوب داد وصول کی ۔
پریڈ کے اختتام پر مختلف سکولوں کے بچوں نے ایک خوبصورت فلوٹ پر سوار ہو کر ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے لہراتے ہوئے فنکاروں کے ساتھ مل کر ملی نغمہ ''ہر ایک پاکستانی نے پکارا پاکستان۔ امن کا نشان یہ ہمارا پاکستان'' پیش کیا اور حاضرین کے جوش و جذبے میں اضافہ کیااور اپنی موجودگی کا احساس دلایا کہ پاکستان کی نوجوان نسل اپنے آباء کی طرح اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ جوش اور جذبے کا عزم دل میں لئے وفاقی وزرائ، پارلیمنٹ کے ارکان، غیر ملکی مندوبین، سفیروں اور ہائی کمشنرز، پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا کے ملکی اور غیر ملکی نمائندوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس طرح افواج پاکستان کی اس شاندار پریڈ نے حب الوطنی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ قومی ولولوں اور جذبوں کو بھی تازگی بخشی۔
(رپورٹ:غزالہ یاسمین)

 
05
April

تحریر: عزخ

ایک زبردست لہر ہمارے قومی بیانیے کو تقسیم کرنے کے لئے اٹھائی گئی۔ چوتھی اور پانچویں نہج کی مہم جوئی

(4th and 5th generation warfare)

سے دشمن ہمیں دنیا کی نظروں میں ناقابل اعتبار، قصور وار اور نالائق ریاست ثابت کرنے پرتُلا بیٹھا تھا۔ عین اُس وقت ریاست کے مرکزِ ثقل کی قوت نے کمزور پڑنے سے انکار کر دیا اور گُریز یت کی منفی طاقتوں کا سّدِباب کیا۔ پاک فوج بِلا کسی تخصیص وتمیز ، قوم کی پوری آبادی کی نمائندگی کرتی ہے جس میں گلگت سے گوادر، کیماڑی تا کشمیر، چترال تا چھاچھرو کے جوان اپنا تن،من اوردھن قربان کرنے اورخون کا آخری قطرہ نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔ فوج کا اپنے نظریئے پر عزم ِصمیم اور ہمت نہ ہارنے والا جذبہ پوری قوم میں سرایت کر گیا۔ رنگ، نسل، زبان، مسلک، عقیدے، مذہب اور تعصب سے پاک اس فوج نے نظریۂ پاکستان کی عملی تشریح کی۔وہ قومی ترانہ،ہر روز سویرے جس کو ہم گاتے ہیں، قوم نے فوج کے ساتھ مل کر اس ترانے کے الفاظ کو تعبیر دی۔

وَالّسَمَِآئِ وَ اَ لطَّارِقِ ۔ وَ مَاْ اَدْرٰک َ ماَاَ لطَّارِقُ ۔ سحر کے اُجالے کی خبر لئے ستارہ طلوع ہوچلا ۔ نوید ہو کہ شبِ تاریک کا ا ختتام ہے۔ گھپُ اندھیرا ستر ہزارسے زائد قیمتی جانوں کو نگل گیا۔آزمائش کے ان دس طویل سالوںمیں ہماری پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑی رہی اور مسلح افواج اور پولیس کے سات ہزار جوانوں نے اپنے لہو سے صحنِ خاکِ پاک میں گل و لالہ کی آبیاری کی۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ 1947 میں آزادی کی نقد قیمت کے بعد یہ سب سے گراں ادائیگی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس جنگ میںعظیم کامیابی کے وہ شادیانے بجائے جائیں کہ جن کی نغمگی سے آنے والی نسلیں سر شار ہوں۔زمانہ آگاہ ہو کہ مصیبت کا پہاڑ سر کر لیا گیا اور مصائب کا ایک سمندر عبور ہوا۔
یہ بہت عظیم واقعہ ہے کہ ہزار ہا میل علاقہ دہشت گردوں کے قبضے سے اس طرح آزاد کروایا گیا کہ آج ایک انچ پر بھی کسی تحریک ِ جاہلان کا ناپا ک وجود نہیں۔ گو کہ وہی جہل اب سرحد پار اپنے ٹھکانوں سے سازشوں کے ستیزہ کار ہیں مگر اس کا بھی ارتداد کیا جا ر ہا ہے۔ دشمن کی کمزوری عیاں ہے اور وہ اُس پار کے ملک میں بھی خود کو غیر محفوظ سمجھ چکا ہے۔۔۔ کافی ہوا، بس کافی ہوا۔ ایک وہ وقت تھا کہ جب ہر روز ملک کے طول و عرض میں دھماکوں اور غارت گری کا بازار گرم تھا مگر دشمن کی سکت اب صرف سرحد پار سے چھوٹے چھوٹے بزدلانہ حملے اور خفیہ زمینی سرنگوں تک سمٹ چکی ہے۔ جو گروہ کبھی اپنی مرضی مسلط کرنے کی طاقت رکھتے تھے اب کمزور اور منتشر ہو چکے ہیں، ا ن گروہوں کے سرغنے سر چھپائے پھر رہے ہیں جن کے ہاتھ ملک کے ازلی دشمنوںکے آگے بھیک کے لئے دراز ہیں۔ طالبان جو کبھی دوسروں کے سر قلم کیا کرتے تھے، اب سر جھکائے رحم کے طالب ہیں۔مگر یہ سب کیوں کر ہوا، آیئے ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔
یہ کشمکش دراصل بیانیے کی فتح و شکست ہے۔ دہشت اورسفاکیت ایک عرصہ سر اٹھائے رکھنے کے باوجود پنپ نہ پائی۔ دوسری طرف فوج اور قوم کا بیانیہ مشترک و دیرپا ثابت ہوا۔2004میں انڈیا نے اپنی نو ترتیب حکمتِ عملی کولڈ سٹارٹ کے نام سے وضع کی تو پاک فوج اور پاکستانی قوم میں خلیج پیدا کرنے کے لئے باقاعدہ سٹریٹجی بنائی۔ دشمن کو یقین تھا کہ آنے والے وقت میںوہ اپنے زبردست مالی وسائل سے گروہی اختلافات کو ہوا دے کر اس خلیج کو اتنا وسیع کر دے گا کہ جس کا پاٹنا ہمارے لئے ممکن نہ ہوگا۔ 2002 تا 2013سب کچھ دشمن کے منصوبے کے عین مطابق ہوتا نظر آتا تھا۔ بغاوتی مسلح گروہ روز بروز مستحکم اور زور آور ہوتے جا رہے تھے اور ریاستی ادارے کمزورپڑتے نظر آتے تھے ۔ پاکستان کی بنیادوں کو ان سازشوں سے حقیقی نقصان پہنچنے کا احتمال ہو چلا تھا۔صوبائی عصبیت،نسلی سیاست اور لسانی شناخت اپنے عروج پر تھیں، اور یہ عناصر وفاق اور وحدانیت کو روز بروز کمزور تر کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ کسی فردِ واحد کے قتل کے ردِّعمل میں پورا ملک مفلوج اور انتظامیہ لاچار ہونے لگی تھی۔ چنانچہ عوام خود کوبے دست وپا محسوس کرنے لگی تھی۔اللہ اللہ؛ کیا آزمائش تھی دنیا بھر کے ممالک ہماری مملکت اور اثاثوں کے بارے میں سنجیدگی سے فکر مند اور لائحہ عمل ترتیب دیتے دکھائی دیئے۔
ایک زبردست لہر ہمارے قومی بیانیے کو تقسیم کرنے کے لئے اٹھائی گئی۔ چوتھی اور پانچویں نہج کی مہم جوئی
(4th and 5th generation warfare)
سے دشمن ہمیں دنیا کی نظروں میں ناقابل اعتبار، قصور وار اور نالائق ریاست ثابت کرنے پرتُلا بیٹھا تھا۔ عین اُس وقت ریاست کے مرکزِ ثقل کی قوت نے کمزور پڑنے سے انکار کر دیا اور گُریز یت کی منفی طاقتوں کا سّدِباب کیا۔ پاک فوج بِلا کسی تخصیص وتمیز ، قوم کی پوری آبادی کی نمائندگی کرتی ہے جس میں گلگت سے گوادر، کیماڑی تا کشمیر، چترال تا چھاچھرو کے جوان اپنا تن،من اوردھن قربان کرنے اورخون کا آخری قطرہ نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔ فوج کا اپنے نظریئے پر عزم ِصمیم اور ہمت نہ ہارنے والا جذبہ پوری قوم میں سرایت کر گیا۔ رنگ، نسل، زبان، مسلک، عقیدے، مذہب اور تعصب سے پاک اس فوج نے نظریۂ پاکستان کی عملی تشریح کی۔وہ قومی ترانہ،ہر روز سویرے جس کو ہم گاتے ہیں، قوم نے فوج کے ساتھ مل کر اس ترانے کے الفاظ کو تعبیر دی۔
آج قوم کا بیانیہ بہت واضح ہے اور فوج اس کا عملی پیکر۔ پاکستانی قوم نے کبھی دہشت گردی کو تسلیم نہیں کیا۔ جب کبھی مسلح جتھوں نے دشمن کی مالی مدد سے اس قسم کی کوشش کی بھی تو عام آدمی نے اپنی غربت اور لا تعداد معاشرتی مسائل کے باوجود اس ایجنڈے کو مسترد کردیا۔ حد تو یہ ہے کہ ناعاقبت اندیش ذہنوں نے مقدس قرآنی آیات،ا حادیثِ اور اعلیٰ اسلامی روایات کو بھی آلودہ کرنے میںکوئی کسر نہ چھوڑی اور اپنے باطل نظریئے کو مذہبی لبادہ اور مسلکی رنگ دینے کی کوشش کی۔ کم علم اور ناسمجھ تو ایک طرف، مذہب کی اس غلط تشریح نے یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور انتہائی پڑھے لکھے مگر کچے اور ناپختہ ذہنوں کو بھی حصار میں لئے رکھنے کی سعی کی اور یوں یہ سرطان آہستہ آہستہ قومی وجود کو نوچنے لگا۔ زمینی حقائق سے نابلد، بین الاقوامی صورتحال سے نا واقف، دلیل اور برہان سے ناشناس بالخصوص نوجوا ن اور ناپختہ اذہان اس عفریت میں ایندھن بنا کر جھونکے گئے۔ کچھ صاحبانِ منبر اور واعظان نے اپنا سودا سیاسی شعبدہ گری کی منڈی میں خوب بیچا۔ ان مکار شعبدہ بازوں کو جب اور جہاں موقع ملا، انہوں نے قوم کو کچوکے لگانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔قتال، جہاد کا وہ مرحلہ ہے جس کی اجازت صرف اور صرف ریاست کی افواج کو میدانِ جنگ میں اپنے دفاع کے آخری حربے کے طور پر حاصل ہے۔ ان مذہب فروشوں نے قتال کو مملکتِ اسلامیہ کی سڑکوں اور بازاروں میں عام کیا۔طُرفہ یہ کہ اپنے اس گناہ کو حورُوغلمان کے لالچ سے چمکانے کی کوشش بھی کی۔ معصوم پاکستانی شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگنے اور تباہی کے اس راستے کو نشاةِثانیہ کا نشان قرار دینے پر مُصر یہ سفاک دراصل قرآنی آیات کو نہایت کم قیمت پر بیچنا چاہتے تھے ۔ان کے اس مکروہ دھندے کو جب عروج ملنے لگا تو مذہب کے سچے پیروکاروں اور علمائے حق کی آواز ڈوبتی محسوس ہونے لگی۔ حق کا گلا گھونٹا جانے لگا۔ عام ذہن متفکر، رنجیدہ اور انتشار کا شکار ہوا۔ مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے نے قوم کو یوں ڈھانپا کہ سحر کی تمام امیدیں معدوم ہوتی جارہی تھیں۔
مگر آفرین ہے اسلامی دنیا کی اس مضبوط فوج پر کہ باوجود تمام کوشش، یہ زہر اس میں سرایت نہ کر پایا۔ جب کہ ہم دیگر ممالک اور ان کی افواج کی تباہی کا حال دیکھتے رہے ہیں، جیسا کہ عراق، لیبیا، افغانستان اور شام کی اقوام و افواج کے ساتھ ہوا۔ پاکستان کی فوج آزمائش کی اس مشکل گھڑی میں''بنیان المرصوص'' بن کر کھڑی رہی۔ اللہ پر ایمان اور حُبِ ر سولۖ جس کا بنیادی اثاثہ اور ڈسپلن قوت ہے۔ وطن کی خدمت اور قربانی کی وہ عملی مثال پاک فوج نے پیش کی جس کی پوری قوم نے تائیدو وفا کی۔ دشمن کی ہزار کوششوں کے باوجود ایمانی طاقت سے بھر پور افواج نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کا قبلہ بھی ایک ہے اور مسلک بھی یکساں۔ یہ ایک قومی فوج ہے جس میں ہر چپے سے' ہر قریے سے' ہر گاؤں اور شہر کے لوگ جوق در جوق شہادت کا جذبہ لئے موجود ہیں۔
بیانیہ اب مسلمہ ہے۔ مذہبی رواداری' قوتِ برداشت' مسلکی گروہ بندی کا انکار، قومی مفاد کا تحفظ اور جذبۂ قربانی اس بیانیے کے بنیادی اصول ہیں۔ فوج اور پوری قوم ایک صفحے پر ہے۔ فوج کے ساتھ ساتھ اب پوری قوم نے مسلک فروش دروغ گو دلالوں اور مذہبی لبادے میں سیاست چمکانے والوں کو مسترد کر دیا ہے۔ جہاد صرف اور صرف ریاست کی فوج کے لئے جائز ہے۔ذاتی استعمار اور مفادی گروہ انارکسٹ، وطن فروش اور دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے ایجنٹ ہیں۔غیر ریاستی عناصر کو پوری قوم نے یک جان و یک زبان ہو کر مسترد کردیا ہے۔ پاکستانی قوم نے
4th
جنریشن حملے کو پسپا کیا اب
5th
جنریشن(سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے) حملے کے دفاع کا عہد لئے ڈٹی ہوئی ہے۔ ہمارا بیانیہ واضح ہے۔ ایک مضبوط پاکستان جو ہر قسم کے تعصبات سے پاک ہو، دراصل مضبوط عالم اسلام کا ضامن ہے۔ملک کی حفا ظت کے لئے تعینات ا فواج پر عوام کا یقین اور مستحکم پاکستان کا جغرافیہ ہی نظریاتی سرحدوں کا ضامن ہے۔ ذہنوں کو قبض کر لینے والے جغادری اور شعلہ بجاں سوداگر اب ا ن معصوم جسموں اور روحوں کی تجارت نہیں کر سکیں گے؛ کبھی بھی نہیں۔ نظریہ ٔپاکستان جیت گیا اور قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے ''دستار بند'' ہار گئے۔ا سلامی عظمت کا امین سبز و سفید رنگوں والا (ستارہ و ہلالی) پرچم سر بلند ہے اور پاک عوام سرفراز کہ پاک فوج سرفروش ہے۔ یہی ہماراقومی بیانیہ ہے اور'' متحد قوم'' اس بیانیے کی جیت۔ شاباش پاکستان

 
 
05
April

تحریر: خورشید ندیم

سماج کے لئے ایک نظامِ اقدار کی ضرورت ہوتی ہے، جس طرح ریاست کے لئے قانون کی۔ قانون خارجی سطح پر ایک قوتِ نافذہ کا تقاضاکرتا ہے اور سیاسیات کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ یہ قوت ریاست ہی کے پاس ہوتی ہے۔ سماج کے ہاتھ میں اخلا قی قوت ہوتی ہے جس کا ماخذ اس کا نظامِ اقدارہے۔ جب کوئی شخص اس نظام سے بغاوت کرتا ہے تو سماج اپنی اس اخلاقی قوت کی مدد سے اسے واپس نظام کے دائرے میں لے آتاہے یا پھر اسے اگل کے پھینک دیتا ہے۔ ایسا فرد معاشرے میں 'نِکُّو' بن کرجیتا ہے اوریوں معا شرتی حقوق سے محروم ہو جاتا ہے۔


سماج کی اس تشکیل کو ایک مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ والدین کا احترام ہماری ایک اہم سماجی قدر ہے۔ اگر کوئی فرد والدین کا احترام نہیں کرتا تو ریاست کے پاس کو ئی ایسا اختیار نہیں ہے کہ وہ اس پر کوئی سزانافذ کردے جیسے چوری یا قتل کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم جب کوئی فرد والدین کا احترام نہ کرے یا ان کے ساتھ بدتمیزی کا مرتکب ہو تو معاشرہ اس کے خلاف ایک ردِ عمل کا اظہار کرتا ہے۔ ایسے فرد کے بارے میں ایک رائے بنتی ہے جو پھیلتی چلی جاتی ہے۔ یہ رائے ایک بدنامی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس شہرت کی وجہ سے، ایسا فردتدریجاً ان معاشرتی حقوق سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے جس سے وہ بصورتِ دیگر فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ لوگ ایسے فرد کے ساتھ سماجی میل جول سے کتراتے اور اس کے ساتھ کوئی رشتہ قائم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ سماجی اجنبیت سے بڑی کوئی سزا نہیں ہو سکتی۔


ایک مضبوط نظامِ اقدار سماج کو بکھرنے سے روکتا ہے۔اسے فکری انتشار اور اخلاقی پراگندگی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اقدار معاشرے میں لوگوں کے حقوق و فرائض کا تعین کرتی ہیں اور یوں ایک خود کار سماجی بندوبست وجود میں آتا ہے جو معاشرے کے بہت سے سماجی و معاشی مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ شادی اور مرگ میں شرکت ہماری ایک اہم سماجی قدر ہے۔ اگر کسی گھر میں موت کا حادثہ پیش آ جائے تو خود کار سماجی نظام حرکت میں آجاتا ہے۔ سب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ میت کی تدفین سے لے کر مہمانوں کی تواضع تک، ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔


اس کے برخلاف جہاں نظامِ اقدار کمزور ہوتا ہے، وہاں ایک انتشار پیدا ہوجاتا ہے۔ ہر آدمی عدم تحفظ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یوں اجتماعی کے بجائے انفرادی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے بے نیاز ہونے لگتے ہیں۔ رشتے کمزور ہوتے ہیںاور یوں ایک معاشرہ جزیروں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ بظاہر مکان ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں مگر مکین ایک دوسرے سے بے خبرہوتے ہیں۔ ایسا معاشرہ اپنی اخلاقی قوت سے محروم ہو جاتا ہے اور پھر طرح طرح کے مسائل کا شکار ہو جاتاہے جس کا سب سے بڑا مظہرسماجی بدامنی ہے۔


نظامِ اقدار ایک تا ر یخی عمل کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے۔ کسی خطے میں بسنے والوں کے رسوم و رواج، ان کا مذہب، ان کی روایات اور پھر سماجی ارتقاء مل کر ایک نظام اقدارکو جنم دیتے ہیں۔ یہ نظامِ اقدار زیادہ تر مقامی اور داخلی عوامل سے وجود میں آتا ہے۔ تاہم دورِحاضر میں چونکہ دوسرے معاشروں سے تعامل اور رابطہ ناگزیر ہو چکا ہے، اس لئے خارجی عوامل کو اثر انداز ہونے سے روکا نہیں جا سکتا۔


پاکستان جس جغرافیائی خطے کا نام ہے، یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا مرکز ہے۔ موہنجو دڑو سے لے کر ٹیکسلا تک ان تہذیبوں کے آثار پھیلے ہوئے ہیں۔ بایں ہمہ اسلام نے بھی اس خطے کے مکینوں پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ آج پاکستان کی آبادی کی غیر معمولی تعداد جو کم و بیش 97 فی صد ہے، مسلمان ہے، لیکن اس کے ساتھ مقامی تہذیبی روایات کی بھی امین ہے۔


تاریخی تعامل اور مذہب کے اثرات سے یہاں جو تہذیب وجود میں آئی ہے، اس میں مذہبی و سماجی اعتبار سے تنوع کے احترام کو ایک اہم قدر کی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں تہذیبی و مذہبی تنوع کو ایک خوبی شمارکیا گیا ہے۔ سندھی، بلوچی، پختون، پنجابی،کشمیری، بلتستانی رنگوں سے مزین اس رنگا رنگی نے اس خطے کے حسن و جمال میں اضافہ کیا ہے۔اس طرح مذہبی تنوع سے بھی ان معاشرتی اقدار کو فروغ ملا ہے۔یہ اقدار انسانوں کے لئے محبت و الفت کے اوصاف پیدا کرنے کا باعث بنی ہیں۔ مسلمانوں کے اندر جو مسلکی تنوع ہے، اس کو بھی سماجی سطح پر قبولیتِ عامہ حاصل رہی اور اس کے مظاہرے ہم محرم اور ربیع الاوّل کی تقریبات میں بکثرت دیکھتے ہیں۔


بد قسمتی سے چار عشرے پہلے ہمارا یہ خطہ ایسی سیاسی و سماجی تبدیلیوں سے دو چار ہوا کہ ہم بطور معاشرہ ان تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ افغانستان میں سوویت یونین کی آمد اور مشرقِ وسطیٰ میں آنے والی بڑی سیاسی تبدیلیوں نے ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے میونخ کی عالمی کانفرنس میں اس افسوس ناک صورتِ حال کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1979 ء تک ہمیںیہی معلوم تھا کہ ہم مسلمان ہیں۔ اس کے بعد ہم شیعہ سنی شناخت کے بارے میں حساس ہونے لگے۔ اسی طرح جہاد کا پاکیزہ تصور جو دنیا میں ظلم کے خاتمے اور امن کی علامت ہے، اسے ایک ایسے تصور میں تبدیل کر دیا گیا جس نے عدم برداشت کو فروغ دیا۔


ہماری معاشرتی اقدار جب براہِ راست ان خارجی عوامل کی زد میں آئیں تو تنوع کی جگہ اختلاف اور باہمی احترام کی جگہ عدم برداشت نے لے لی۔ رویوں میں انتہا پسندی پیدا ہوئی اور اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ سماجی و مذہبی تنوع جو ہمارے تہذیبی حسن کا مظہر تھا، عدم برداشت کا عنوان بن گیا۔


آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے نظامِ اقدار کو زندہ کریں۔ ہم برداشت، رواداری اور باہم احترام کی ان قدروں کا احیا کریں جو چار دہائیاں پہلے ہماری پہچان تھیں۔ ہم مذہبی، سیاسی اختلاف کو سماجی ارتقا کے لئے ضروری سمجھیں اور اسے اپنی سماجی ترقی کے لئے استعمال کریں، تاکہ ہم ایک صحت مند معاشرہ بن سکیں۔ اس کے لئے مذہب کی حقیقی تعلیمات کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام قرآن و سنت کے جن ماخذات پر کھڑا ہے،ان میں انسان کی تکریم کو بطورِ قدر مستحکم کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مذہبی معاملات میں جزا و سزا کا اختیار اﷲ کے پاس ہے۔ ہمیں دوسروں کو بطور انسان مخاطب بنانا اور ان کی شخصی آزادی کا احترام کرنا ہے۔ اگرمذہب کے بارے میںخود اﷲ تعالیٰ نے انسان کو انتخاب کی آزادی دی ہے تو ہمیں بھی یہ حق نہیں کہ ہم دوسروں پر کوئی پابندی عائد کریں۔ رسالت مآبۖ کی سیرتِ مبارکہ میں اس کی بے پناہ شہادتیں موجود ہیں کہ کیسے آپۖ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کرتے تھے۔ مذہبی احترام کی یہ قدر مسیحیوں، ہندوئوں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں میںبھی پائی جاتی ہے جو پاکستان کے شہری ہیں۔ پاکستان کا آئین ریاست کے اسلامی تشخص کے باوجود،شہریوںکے حقوق میں مذہبی اعتبار سے کسی امتیاز کو روا نہیں رکھتا۔


نظامِ اقدارکی حفاظت سماجی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ایسے ادارے روایتی بھی ہیں اور جدید بھی۔ روایتی اداروں میں مکتب و مسجد، خاندان و چوپال شامل ہیں اور جدید ادرواں میں میڈیا بطور خاص اہم ہے۔ یہ محراب ومنبر کے ساتھ ٹی وی چینلز اور اخبارات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ ریاست ان مجرموں کو سزا دے سکتی ہے جو عدم برداشت کے رویے کو جرم میں بدل دیتے ہیں۔ تاہم عدم برداشت بطور کلچر اس وقت ختم ہو گا جب ہم معاشرتی سطح پر برداشت کوبطورقدر مستحکم کریں گے۔ یہ کام سماجی اداروں کا ہے۔ علمائ، اساتذہ، والدین، میڈیا، اگرسب اس پر اتفاق کریں کہ ہم نے معاشرے کو عدم براشت سے نکال کر باہمی احترام اور برداشت کا علمبردار بنانا ہے تو یہ حقیقی سماجی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے نظامِ اقدار کو زندہ کریں۔ ہم برداشت، رواداری اور باہم احترام کی ان قدروں کا احیا کریں جو چار دہائیاں پہلے ہماری پہچان تھیں۔ ہم مذہبی، سیاسی اختلاف کو سماجی ارتقا کے لئے ضروری سمجھیں اور اسے اپنی سماجی ترقی کے لئے استعمال کریں، تاکہ ہم ایک صحت مند معاشرہ بن سکیں۔

*****

 
05
April

تحریر: محمد کامران خان


گزشتہ کئی ماہ سے بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ہر دوسرے تیسرے دن بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی جاتی ہے جس سے سرحد سے ملحقہ دیہات میں مقیم معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں۔املاک کو نقصان پہنچتا ہے اور سرحدی گائوں میں رہنے والے جو کہ زیادہ تر غریب کاشتکار ہوتے ہیں ایک ہمہ وقت خوف اور نفسیاتی ہیجان میں مبتلا رہتے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سال 2017میں بھارت کی جانب سے پاکستانی سرحد کی 1800 سے زائد بار خلاف ورزی کی گئی جو کہ دونوں ممالک کی تاریخ میں، ایک سال میں ہونے والی مشترکہ سرحد کی، سب سے زیادہ خلاف ورزیاں ہیں۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 52 شہادتیں ہوئیں اور 175 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں بچے بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں۔خیر یہ تو وہ کارروائیاں ہیں جن کا ہر بار منہ توڑ جواب بھی دے دیا جاتا ہے اور موقع پر ہی حساب پاک کر دیا جاتا ہے۔
یہ کارروائیاں تو دشمن صرف اپنی حدود میں رہتے ہوئے ہی کرتا ہے کیونکہ اسے خود اپنے قدم پاک سر زمین پر رکھنے کی نہ تو جرأت ہے اور نہ ہی صلاحیت لیکن چونکہ نیت میں فتور ہے اور طبیعت میں اوچھا پن، اس لئے ڈھٹائی کی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ہندوستان اپنے ملک میں آئے ہوئے پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کی شرمناک اور گھٹیا حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ گزشتہ ماہ سے نئی دہلی میں قائم پاکستانی سفا رت خانے سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کا باہر نکلنا دشوار بنایا جا رہا ہے اور انہیں مختلف اور نت نئے طریقوں کے ذریعے ہراساں کرنے کا کوئی بہانہ انڈیا ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا۔ تازہ ترین شکایات کے مطابق پاکستانی سفارتکار جب نئی دہلی میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نکلتے ہیں تو کوئی بھی گاڑی ان کے آگے آ کر راستہ روک لیتی ہے۔نہ خود چلتی ہے اور نہ ہی راستہ دیتی ہے۔ سفارتکار نصف گھنٹے تک اپنی گاڑی میں محبوس رہتے ہیں۔ ایسے میں ان کی اہلیہ بھی ساتھ ہوں اور سکول جانے والے بچے بھی ساتھ ہوں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس اوچھی حرکت سے وہ کس پریشانی میں مبتلا ہو سکتے ہیں، اہلیہ کس مستقل خوف کا شکار ہو سکتی ہیں اور بچے نفسیاتی ٹراما کے مریض بن سکتے ہیں۔ پھر اسی محبوسیت کے دوران دو اور موٹر سائیکل سوار آئیں آپ کی گاڑی کے آگے موٹر سائیکل روکیں۔ ان دونوں سواروں نے ہیلمٹ پہن رکھے ہوں، ان کے چہرے چھپے ہوئے ہوں اور ان میں سے ایک سوار موٹر سائیکل پر بیٹھے بیٹھے آپ کی اور آپ کے بچوں کی وڈیو بنا نا شروع کر دے اور کمال ڈھٹائی کے ساتھ مختلف زاویوں سے تصویریں اتارنا شروع کر دیں تو دیار غیر میں رہتے ہوئے کون ہے جو اس حرکت سے پریشان نہ ہو گا۔پھر تنگ کرنے کے صرف یہی نہیںبلکہ اور بھی کئی بچگانہ اور اوچھے طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ آپ کی رہائش گاہ کے صدر دروازے کی گھنٹی کوئی بجا کر بھاگ جائے اور ایسا بار بار ہو تو یقینا یہ سراسیمگی کا موجب ہو گا۔آپ اپنی رہائشگاہ سے نکلیں اور سائے کی طرح آپ کا تعاقب شروع ہو جائے۔آپ سے آنے والے ملاقاتیوں کو بھی ہزیمت اٹھانا پڑے۔ آپ کے مہمانوں کی بغیر کسی شک و شبہ کے تلاشی لی جائے غیر ضروری پوچھ گچھ کی جائے۔ آپ کو موصول ہونے والی ڈاک کو کھول کر دیکھا جائے اور پھر ایسے سر بمہر کر دیاجائے کہ وصول کنندہ کو معلوم نہ ہو سکے۔آپ کے وہ ہندوستانی ملازمین یا خدمت کار جنہیں آپ ضرورت کے تحت کام کے لئے بلانا چاہیں انہیں سروسز دینے سے روک دیا جائے۔بلکہ اتنا ڈرایا جائے کہ وہ کام پر آنے سے ہی انکار کر دیں تاکہ آپ کی ضرورت پوری نہ ہو سکے۔ بغیر کسی شیڈول کے آپ کی گیس سپلائی منقطع کر دی جائے۔ خوف و ہراس کا یہ عالم ہو جائے کہ آپ اپنے بچوں کو سفارتخانے کے ڈرائیور کے ہمراہ بھی سکول بھیجنے سے خوفزدہ ہوجائیں۔ایک واقعے میں تو ایک پاکستانی قونصلرکو گاڑی سے با قاعدہ اتار کر ان کے ساتھ گالم گلوچ کیا گیا۔ان کا موبائل فون وقتی طور پر لے کر ان کو کسی سے رابطہ کرنے سے روکا گیا۔نوبت دست وگریباں ہونے تک پہنچ گئی اور یہ سب کچھ صرف اور صرف بغیر کسی وجہ کے ہراساں کرنے کی غرض سے کیا گیا۔ ان تمام حرکات کا مقصد صرف آپ کو ہراساںکرنا ہو تو یہ تمام ہتھکنڈے سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ 1961 کے ویانا کنونشن، جس پر تمام عالم اقوام نے دستخط کر رکھے ہیں، کے تحت کسی بھی ملک میں غیر ملکی سفیروں کے جان ومال اور عزت و تکریم کے تحفظ کی ذمہ داری میزبان ملک پر عائد ہو تی ہے۔ویانا کنونشن کا آرٹیکل 22کہتا ہے کہ کسی بھی ملک میں غیر ملکی سفارتخانے کو اور آرٹیکل 30 کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں کی رہائشگاہوں کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہو گا نہ تو کبھی ان مقامات کی تلاشی لی جا سکے گی اور نہ ہی یہاں سے کوئی دستاویز قبضے میں لی جا سکتی ہے۔ ویا نا کنونشن کا آرٹیکل 37 بہت واضح ہے جس کے مطابق غیر ملکی سفارتکاروں کے ساتھ مقیم ان کے اہلِ خانہ کو بھی وہی تحفظ حاصل ہو گا جس کے خودسفارتکارحقدار ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ ویا ناکنونشن کے آرٹیکل 24 کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں کی خط کتابت اورڈاک کی ترسیل کو بھی تحفظ حاصل ہے۔لیکن بھارت کی جانب سے ہر اوچھی حرکت ان متفقہ عالمی اصولوں کو بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ پائوں تلے روند رہی ہے۔

 

بھارت کی جانب سے ان بچگانہ اور اوچھی حرکات کی شکایات مودی سرکار سے بارہا کی گئی ہے۔پاکستانی ہائی کمشنر یہ معاملہ بھارت کی منسٹری آف ایکسٹرنل افیئرز کے نوٹس میں بارہا لا چکے ہیں۔ سیکرٹری کی سطح پر باقاعدہ ملاقاتیں

بھی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں موجود بھارتی ہائی کمشنر اور ان کے ڈپٹی کو متعدد بار دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کو ایک باقاعدہ احتجاجی مراسلہ بھی ارسال کیا گیا جس میںواضح کر دیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستانی سفارتکاروں کے اہل خانہ کا ہندوستان میں رہنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ شاید ڈھٹائی کی کوئی بھی انتہا نہیں ہوتی۔ پاکستان نے انڈیا میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کو صورتحال پر مشاورت کے لئے پاکستان بھی بلوا یا۔ لیکن یہ سطور لکھنے تک بھارت کی جانب سے اوچھے پن کا مظاہرہ جاری ہے اورگزشتہ کئی دنوں سے روزانہ کی بنیاد پر شکایات آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بھارتی اہلکاروں کی جانب سے ایسی اوچھی حرکات کی بہت سی شکایات ملتی رہی ہیں شاید بھارت نے یہ اپنا وتیرہ ہی بنا لیا ہے اور اس اوچھے پن کا مظاہرہ کرنے والی جمہوریہ سے کوئی خیر کی امید بھی نہیں رکھی جا سکتی۔یہ دنیا کی ''بڑی'' جمہوریہ کا چھوٹا پن ہی ہے کہ بھارت میں دستیاب مخصوص طبی سہولیات کے حصول کے لئے پاکستانی مریضوں کو ویزے دینے کا اجراء بھی معطل کر دیا۔یعنی دکھی انسانیت پر بھی سیاست کا موقع نہیں گنوایا جا رہا۔کہا جا رہا ہے جب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستان نے پکڑا، قید کیا، اور سزا سنائی ہے تب سے ان چھوٹی اور اوچھی حرکات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ 2016 کے مقابلے میں بھارت نے پاکستانیوں کے لئے ویزے دینے کی شرح اڑتیس فیصد تک کم کر دی جبکہ اسی عرصے میں پاکستان کی جانب سے بھارتی شہریوں کے لئے جاری کردہ ویزوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ میڈیکل بنیاد پر ویزے کے اجراء کے لئے بھارت نے شرط عائد کر دی کہ ایسے پاکستانی کے پاس وزیر خارجہ کا خط ہو گا تو ہی انہیں ویزہ ملے گا ورنہ بیمار مرتا ہے تو بے شک مرے۔یہ تو صرف انسانیت کی بات تھی بھارت نے تو رواں سال مذہب کے نام پر بھی سیاست کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے عرس پر جانے والے پاکستانی زائرین کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء کی خانقاہ پر جانے والے زائرین کو بھی ویزے کی سہولت سے محروم رکھا گیاجبکہ ان زیارتوں کے لئے ویزوں کا اجراء دو طرفہ مفاہمتی سمجھوتوں کا حصہ ہے۔ یعنی نہ انسانیت نہ مذ ہبی احترام اور نہ ہی انسانی ہمدردی۔بس ہر طرح کی اخلاقی و سفارتی حدود کو بالائے طاق رکھ کر اپنا چھوٹا پن ضرور دکھانا ہے۔

 

 
05
April

تحریر: طاہرہ حبیب جالب

1937کے الیکشن کے بعد تقریباً پورے ہندوستان پر کانگریس اور متعصب بنیئے کی حکومت قائم تھی۔ مسلم اقلیتی صوبوں میں کانگریسی حکومتوں کے خاتمے پر مسلم لیگ نے قائداعظم محمد علی جناح کی ہدایت پر 22دسمبر 1939کو ملک کے طول و عرض میں یومِ نجات منایا۔ اس وقت تک برصغیر میں مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کئی تجویزیں اورسکیمیں منظر عام پر آچکی تھیں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے 26 مارچ 1939کو مصطفی محل میرٹھ میں اپنے اجلاس کے دوران قائداعظم کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی کو یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ تمام دستوری تجاویز اور سکیموں کا جائزہ لینے کے بعد مجلس عاملہ کو رپورٹ پیش کرے۔ بعدازاں اتفاق رائے سے لیگ کا سالانہ اجلاس عام 22۔ 23 اور 24مارچ 1940کو منعقد ہونا طے پایا۔ 19مارچ کو خاکساروں نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا اور جلوس نکالا۔ پولیس سے ان کا تصادم ہوا اور گولی بھی چلی۔ سرکاری حکام کے مطابق پولیس فائرنگ سے82خاکسار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ اجلاس لاہور کے ایک عینی شاہد کے مطابق خاکساروں کے سفاکانہ قتل عام سے لاہور کی فضائیں سوگوار تھیں۔ بدمزگی اور بے کیفی کا یہ عالم تھا کہ لاہور میں وقت کاٹنا دشوار ہوگیا تھا۔ تاہم جب قائداعظم 21مارچ کو فرنٹیئر میل کے ذریعے لاہور پہنچے تو ریلوے اسٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ لوگوں کا جوش قابلِ دید تھا۔ قائدِاعظم زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ساری فضا گونج رہی تھی۔ دوسری طرف خاکسار مسلم لیگ کے اجلاس کے پرامن ماحول اور قائداعظم کی ذات کے لئے خطرے کا باعث بن رہے تھے اور یہ دونوں باتیں یکساں طور پر باعث اضطراب تھیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اس مخدوش فضا اور نازک صورتحال کے پیشِ نظر سب سے پہلے ہسپتال جاکر زخمی خاکساروں کی عیادت کی۔ قائداعظم محمد علی جناح جب جلسہ گاہ میں پہنچے تو انہوں نے فی البدیہہ تقریر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی تقریر تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ ان کا لہجہ کبھی سخت ہو جاتا تھا۔ کبھی نرم، کبھی ناقدانہ تو کبھی ہمدردانہ، کبھی گہرا اور انتہائی بارُعب ،تو کبھی بے حد مشفقانہ۔ taeesmarch.jpgان کی شخصیت کا کچھ ایسا اثر، دبدبہ اور رُعب تھا کہ اگرچہ حاضرین جلسہ کی ایک بہت قلیل تعداد کے سوا باقی سب ایسے لوگ تھے جو انگریزی سے قطعاً نابلد تھے، مگر قائداعظم کے سحر سے سب مسحور ہوکر رہ گئے اور ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق لوگوں کو مسخر کئے ہوئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق مسٹر جناح نے برجستہ خطبۂ صدارت ارشاد فرمایا، جو مسلسل ایک سو منٹ تک جاری رہا۔ اس دوران ایک لاکھ سے زیادہ افراد کے اجتماع پر سکوت طاری تھا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے اجتماعات میں یہ سب سے زیادہ نمائندہ اجتماع تھا جو قائداعظم کی خطابت سے مستفید ہوا۔ پنجاب، بنگال اور آسام کے مسلمان (وزراء اور مرکزی و صوبائی اسمبلیوں کے بیشتر مسلم ارکان) اس میں شریک ہوئے۔ اس اجتماع میں خواتین کی کثیر تعداد اور نیشنل گارڈز کی موجودگی بھی قابلِ ذکر تھی۔ قائداعظم نے ہندوئوں اور مسلمانوں کے جداگانہ قومیتی وجود کو حقیقی اور فطری قرار دیتے ہوئے فرمایا: ہندوئوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا کہ اسلام اور ہندوازم مذہب کے عام مفہوم میں ہی نہیں بلکہ واقعی دو جداگانہ اور مختلف اجتماعی نظام ہیں اور یہ محض خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک مشترکہ قوم بن سکیں گے۔ بالآخر وہ وقت آن پہنچا کہ شیرِ بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے تاریخی قرار داد پیش کرنے کے بعد اس کی حمایت میں تقریر بھی کی جس میں انہوں نے بنگال اسمبلی میں اپنی ایک تقریر کا حوالہ بھی دیا اور یہ ثابت کیا کہ فرزندانِ توحید کی آزادی کی صرف یہی ایک صورت ہے۔ چودھری خلیق الزماں نے اس قرار داد کی تائید کی۔ ان کی تائیدی تقریر کے بعد مولانا ظفر علی خاں، سرحد اسمبلی کے حزب اختلاف کے لیڈر سردار اورنگ زیب خاں اور سرعبداللہ ہارون نے تقاریر کیں۔ کم و بیش پورے برصغیر کی مسلمان قیادت نے اس پلیٹ فارم سے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے نئے عزم اور ولولے سے سفر آزادی شروع کرنے کا عہد کیا۔ اس تاریخی جلسے اور قرارداد کو اس لئے بھی اہم مقام حاصل ہے کہ یہ ایک اجتماعی سوچ کا نتیجہ تھا۔ اجتماعی طور پر تمام مسلمان ایک قوت اور ایک تحریک کا روپ دھارے ہوئے تھے۔ باہمی اختلافات اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ آج پھر وہی دن ہمارے لئے اہمیت اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس وقت ملک کو بے شمار اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ چند لمحوں کے لئے تو فطرت انسانی کے عین مطابق مایوسی یا فکر کی ایک لہر ابھرتی ہے مگر دوسرے ہی لمحے پاکستانی قوم کے روایتی جوش و جذبے اور پُرعزم جدوجہد پریقین دَر آتا ہے۔ بلاشبہ ہمارے سامنے آنے ولے چیلنجز ایک حقیقت ہیں اور حقیقتوں کو الفاظ یا نعروں کے زور پر نہ جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ہمیں آج پھر سے تحریک پاکستان کے جذبوں اور یقین کی اشد ضرورت ہے کہ پوری قوم کی منزل ایک ٹھہرے۔ ہمیں آپنے آپس کے اختلافات بھولنے ہوں گے۔ میرٹ اور صلاحیت کو موقع دینا ہو گا۔ تعصبات سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں نظم و ضبط لانا ہو گا۔ بلاشبہ ہم قائداعظم کے فرمودات کی روشنی میں اپنے عمل کے ذریعے ہی پاکستان کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لا کھڑا کر سکتے ہیں کہ کردار کے غازیوں نے ہی پاکستان بنایا تھا اور سیرت و کردار کے اعلیٰ مظاہر ہی ہمیں اوج ثریا سے ہمکنار کر دیں گے۔ ان شاء اﷲ!

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
اپنی تنظیم اس طور کیجئے کہ کسی پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ یہی آپ کا واحد اور بہترین تحفظ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی کے خلاف بدخواہی یا عناد رکھیںـ اپنے حقوق اور مفاد کے تحفظ کے لئے وہ طاقت پیدا کرلیجئے کہ آپ اپنی مدافعت کرسکیں۔ (قائدِاعظم ۔اجلاس مسلم لیگ ، لاہور 23 مارچ1940)

میں آپ کو مصروفِ عمل ہونے کی تاکید کرتا ہوں۔کام، کام اور بس کام۔ سکون کی خاطر ، صبر و برداشت اور انکساری کے ساتھ اپنی قوم کی سچی خدمت کرتے جائیں۔ (قائدِاعظم محمد علی جناح)

*****

''جھولی''

کئی دفعہ اﷲ کی طرف سے کوئی چیز انسان پر اُجاگر ہو جاتی ہے اور اﷲ ہمیں معلوم دنیا سے ہٹا کر لامعلوم کی دنیا سے علم عطا کرتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے انہیں اپنا نصیب بنانے کے لئے، میرے اور آپ کے پاس ایک جھولی ضرور ہونی چاہئے۔ جب تک ہمارے پاس جھولی نہیں ہوگی تب تک وہ نعمت جو اُترنے والی ہے، وہ اُترے گی نہیں۔ رحمت ہمیشہ وہیں اُترتی ہے جہاں جھولی ہو اور جتنی بڑی جھولی ہوگی، اتنی بڑی نعمت کا نزول ہوگا…

(اشفاق احمد۔ زاویہ)

*****

 
05
April

تحریر: عقیل یوسف زئی

یہ بات کافی خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے کہ 2016-17 کے دوران افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں جو کشیدگی پیدا ہوگئی تھی رواں برس اس میں نہ صرف نمایاں کمی آگئی ہے بلکہ بہتر تعلقات کی جانب اہم پیش رفت بھی جاری ہے۔ اعلیٰ ترین سفارتی اور عسکری وفود کے تبادلوں اور نتیجہ خیز بات چیت کا جوسلسلہ سال 2018 کے پہلے ہفتے سے چل نکلا تھا اس نے بداعتمادی کے ماحول کو کافی حد تک تبدیل کردیا ہے اور اب دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان رابطوں کی بحالی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے ۔ ماہِ فروری میں (ٹاپی) منصوبے کے افتتاح کے موقع پر وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی اور افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے درمیان متعدد دوسرے پڑوسی ممالک کے سربراہان کی موجودگی میں خلافِ توقع جس جذبۂ خیرسگالی کا مظاہرہ کیا گیا اس نے افغانستان کی حکومت کو پھر سے پاکستان کے قریب لانے کا راستہ ہموار کردیا اور اس کا عملی مظاہرہ کابل میں مارچ کے پہلے ہفتے میںمنعقدہ25 ممالک کی اس امن کانفرنس کے دوران دیکھنے کو ملا جس میں پاکستان کے وزیرِاعظم وفد کے ہمراہ شریک ہوئے اور انہوںنے واضح انداز میں پیغام دیا کہ پُرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے اور اس ضمن میں پاکستان تمام تر الزامات اور خدشات کے باوجود اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہی خیالات کا اظہار انہوں نے ٹاپی منصوبے کی افتتاحی تقریب کے دوران بھی کیا۔ کابل کانفرنس میں عالمی طاقتوں کے علاوہ پڑوسی ممالک کے سربراہان اور وفود نے بھی شرکت کی۔ اس تقریب سے اپنے خطاب میں ڈاکٹر اشرف غنی نے غیر متوقع طور پر بہت مثبت اور حقیقت پسندانہ مؤقف اپنایا۔ جس کے باعث تلخیوں میں مزید کمی واقع ہوگئی اور پاکستان نے نہ صرف ان کے مثبت بیان اورطرزِ عمل کا خیرمقدم کیا بلکہ یہ یقین دہانی کرائی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ہر کوشش کے دوران پاکستان اپنا بھرپور تعاون بھی فراہم کرے گا۔ جناب اشرف غنی نے کابل امن کانفرنس سے اپنے تفصیلی خطاب میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے روائتی مخالفت کے بجائے پاکستان سے افغانستان میں قیامِ امن کے لئے مدد طلب کی اور ساتھ ہی انہوںنے افغان طالبان کو پھر سے مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے ان کو مشورہ دیا کہ وہ ہتھیار پھینک کر سیاسی عمل کا حصہ بن جائیں اور جاری جنگ سے دستبردار ہو جائیں۔ جناب اشرف غنی نے کہا کہ ان کی شدید خواہش ہے کہ طالبان افغانستان کے سیاسی اور جمہوری عمل کا راستہ اپناکر امن کوششوں کے سلسلے میں مذاکرات کی میز پر آجائیں اور اس کام میں پاکستان دونوں فریقین کے ساتھ تعاون کرے تاکہ جاری جنگ کا خاتمہ ہو سکے اور خطے میں امن قائم ہو۔ کانفرنس کے دوران جب افغان صدر سے سوال کیا گیا کہ اس سے قبل کابل کے علاوہ واشنگٹن نے بھی اعلیٰ ترین سطح پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کرکے کھلی جنگ کا اعلان کیا تھا تو انہوںنے جواب دیا کہ وہ کابل پر مسلسل حملوں کا رد عمل تھا اور اب ان کے علاوہ امریکہ کی بھی خواہش ہے کہ مذاکرات کے سلسلے کا پھر سے آغاز ہو۔ ان کی طرح امریکی سینٹ کام
(Centcom)
کے سربراہ اور امریکی وزیرِ دفاع نے بھی پاکستان کے بارے میں یکے بعد دیگرے اچھے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں کے سلسلے میں اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کرے۔فریقین کے اعلیٰ ترین حکام نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں پر بھی کسی حد تک اطمینان کا اظہار کیا۔ اور اسی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کے بارے میں سخت رویہ رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بعد میں پاکستان کے بارے میں مثبت طرزِ عمل اپنایا۔جناب اشرف غنی نے امن کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا کہ وہ افغان سرزمین اپنے پڑوسیوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور دوسروں سے بھی ایسا کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

kabil_confrence.jpg
قبل ازیں نیویارک ٹائمز سمیت متعدد مؤقر امریکی اخبارات نے اپنی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کے بارے میں سخت اور یکطرفہ رویہ اپنانے سے گریز کرے تاکہ افغانستان میں امن کی کوششوں کو اس اہم ملک کے ذریعے کامیابی سے ہمکنار کیا جاسکے۔۔۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے ایڈیٹوریل (اداریہ) میں واضح انداز میں لکھا کہ پاکستان کو دیوار سے لگانے کی کوشش سے گریز کیا جائے ورنہ دوسری صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور جنگ زدہ افغانستان کے حالات مزید خراب ہوں گے۔ وال سٹریٹ جنرل اور گارڈین نے بھی امریکی انتظامیہ کو سخت رویے سے باز رہنے کے مشورے دیئے۔ ان تمام مثبت اشاروں نے نہ صرف امریکی حکومت کو پاکستان کے بارے میں از سرِ نو مثبت سوچ پر مجبور کیا بلکہ افغانستان کے طرزِ عمل میں بھی کافی مثبت اور غیر متوقع تبدیلی آنے لگی اور اس کا اظہار اشرف غنی نے کابل کانفرنس سے اپنے خطاب میں پاکستان کو دوستی کا ہاتھ بڑھانے اور طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کرکے کیا۔ افغان طالبان نے اس پیش کش کے جواب میں روایتی بیان جاری کرکے مؤقف اپنایا کہ وہ کابل حکومت کے بجائے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہیں گے۔ انہوںنے کہا کہ چونکہ امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے اس لئے اسی سے مذاکرت کئے جائیں گے۔ دوسری بات یہ کہی گئی کہ امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے اپنی فورسز واپس نہیںکرتے۔ اس طرزِ عمل کے جواب میں امریکہ نے مؤقف اپنایا کہ طالبان کو افغانستان کی آئینی حکومت کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ دوسری طرف ماہِ مارچ کے وسط میں امریکہ اور افغان حکام کا یہ دعویٰ سامنے آیا کہ اشرف غنی کی پیشکش کا طالبان نے سنجیدہ نوٹس لیا ہے اور یہ کہ بعض اہم طالبان کمانڈرز یا گروپ مذاکرات کے حامی ہیں۔ بہرحال مشاہدے میں آرہا ہے کہ ٹاپی منصوبے اور کابل کانفرنس کے بعد نہ صرف حملوں کی تعداد کم ہوگئی ہے بلکہ بعض ممالک کے درمیان اعتماد سازی بھی بڑھ گئی ہے۔


کابل کانفرنس کے دوسرے اہم شرکاء نے بھی افغان حکومت کی پیشکش کا خیرمقدم کرکے اپنی بھرپورمعاونت کی یقین دہانیاں کرائیں۔ جبکہ متعدد ممالک نے نہ صرف افغانستان کی تعمیرِ نو کے لئے امداد کے اعلانات کئے بلکہ بڑی تعداد اور مقدار میں عسکری ساز وسامان کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ جن ممالک نے فوجی امداد کا باقاعدہ اعلان اور آغاز کیا ان میں چین سرفہرست ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین نہ صرف افغانستان کے امن اور تعمیرِ نو میں غیرمعمولی دلچسپی کا مظاہرہ کررہا ہے بلکہ وہ افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔ چونکہ پاکستان دوسروں کے مقابلے میں چین کے زیادہ قریب ہے اور دونوں ممالک سی پیک منصوبے کے ذریعے سنٹرل ایشیا تک پہنچنے کا پلان اور فارمولا بھی بنا چکے ہیں۔ اس لئے دونوں کی کوشش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو تاکہ سی پیک کے مطلوبہ مقاصد کو حاصل کیا جاسکے۔ ان تبصرہ کاروں کے اس تجزیے کو زمینی حقائق اور ضروریات کے تناظر میں بڑا اہم اور درست قرار دیا جارہا ہے اور شایداسی کا نتیجہ ہے کہ افغانستان میں چین اور روس کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ چین افغانستان کو نہ صرف امداد دینے لگا ہے بلکہ متعدد بڑے منصوبوں کے ٹھیکے بھی اس ملک کے پاس ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال2014 کے بعد پراجیکٹس کی تعدادکے لحاظ سے چین، امریکہ کے ہم پلہ بن چکا ہے اور اس کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نے افغانستان میں اس کے مفادات اور کردار کو ناگزیر بنا دیا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ چین پُرامن اور مستحکم افغانستان کے قیام کو اپنے مفادات کے تناظر میں بہت اہمیت دینے لگا ہے۔


دوسری طرف کابل کانفرنس کے ذریعے عالمی برادری نے طالبان اور دیگر کو بھی واضح پیغام دیا کہ عالمی اور علاقائی قوتیں افغان حکومت کی پشت پر کھڑی ہیں۔ اس طرزِ عمل نے افغان حکومت کے اعتماد میں اضافہ کردیا ہے اور افغان حکمران ماضی کے برعکس اب ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حال ہی میں افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ افغانستان میں55 ہزار جنگجو لڑ رہے ہیں جن میں30 سے40 ہزار تک مقامی باشندے یا طالبان ہیں جبکہ باقی کا تعلق پڑوسی ممالک سے ہے۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں داعش کے تین ہزار جبکہ القاعدہ کے چار سو جنگجو بھی لڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں جن ممالک کے جنگجو لڑ رہے ہیں ان میں ایران، تاجکستان، پاکستان ، چیچنیا اور یہاں تک کہ چین بھی شامل ہے۔ حنیف اتمر کا شمار ان حکام میں ہوتا ہے جو کہ پاکستان کے بارے میں بہت سخت رویہ رکھتے ہیں۔ تاہم اب کے بار انہوںنے پاکستان کے حوالے سے کسی بھی قسم کے الزام سے گریز کیاجو اس بات کا ثبوت ہے کہ اب افغانستان کو بھی ادراک ہونے لگا ہے کہ پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کا رویہ اور طریقہ درست نہیں تھا۔ اس تناظر میں لگ یہ رہا ہے کہ صورتحال اور علاقائی تعلقات میں اب نمایاں تبدیلی آئے گی جوخطے کے لئے بالعموم اور پاکستان و افغانستان کے لئے بالخصوص ایک خوش آئند امر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter